۲-کُرِنتِھیوں 10
متن
پولس اُس طعنے کو سامنے رکھ کر بات شروع کرتے ہیں جو کرنتھس میں اُن کے بارے میں گردش کر رہا تھا: خط زوردار، مگر آدمی کمزور۔ وہ اِس الزام کا جواب اپنی شخصیت کا دفاع کر کے نہیں بلکہ ”مسیح کی حلیمی اور نرمی کے نام“ میں اپیل کر کے دیتے ہیں، اور ساتھ ہی یاد دلاتے ہیں کہ اُن کے ہتھیار دنیاوی نہیں بلکہ ”اللہ کی طرف سے قلعے ڈھا دینے کی قوت“ رکھتے ہیں۔ باب کا دوسرا حصہ فخر کے سوال پر آتا ہے: نہ اپنی سفارش، نہ دوسروں سے موازنہ، بلکہ وہ حد جو اللہ نے مقرر کی ہے، اور وہ تصدیق جو صرف خداوند دے سکتا ہے۔
مرکزی بات
یہاں اختیار کی ایک نئی تعریف سامنے آتی ہے۔ پولس مانتے ہیں کہ اُنہیں اختیار ملا ہے، مگر فوراً اُس کی سمت بتاتے ہیں: ”اُس نے ہمیں آپ کو ڈھا دینے کا نہیں بلکہ آپ کی روحانی تعمیر کرنے کا اختیار دیا ہے۔“ یہ جملہ یرمیاہ نبی کی بلاہٹ کی گونج ہے، جہاں خدا نے اُسے ایک ہی سانس میں اُکھاڑنے اور ڈھانے اور بنانے اور لگانے پر مقرر کیا تھا۔ فرق یہ ہے کہ انجیل کے خادم کے ہاتھ میں ڈھانے کا کام اب لوگوں پر نہیں، بلکہ اُن ”غلط خیالات کے ڈھانچوں“ پر چلتا ہے جو خدا کی پہچان کے سامنے دیوار بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایمان کی جنگ انسانوں کے خلاف نہیں، انسانوں کی قید کرنے والی سوچ کے خلاف ہے۔
سنہری دھاگا
باب کا اختتامی اقتباس، ”فخر کرنے والا خداوند ہی پر فخر کرے“، یرمیاہ کی اُس بات سے آیا ہے جہاں خدا دانائی، طاقت اور دولت، یعنی انسان کے تینوں بڑے سہاروں کو ایک ساتھ رد کر دیتے ہیں اور صرف اپنی پہچان کو فخر کا جائز سبب ٹھہراتے ہیں۔ پولس یہی آیت کرنتھیوں کو پہلے بھی سنا چکے تھے، اور اب دوبارہ اُسی کیل پر ہتھوڑا مارتے ہیں۔ یہ محض اخلاقی نصیحت نہیں؛ یہ نجات کے پورے منطق کا خلاصہ ہے۔ جو شخص صلیب پر ٹنگے ہوئے مسیح سے بچایا گیا ہے، اُس کے پاس خود پر فخر کرنے کی کوئی بنیاد باقی نہیں رہتی۔ عہدِعتیق کا وعدہ اور انجیل کا تجربہ یہاں ایک ہی نتیجے پر پہنچتے ہیں۔
آئینہ
آیت 12 میں وہ آئینہ ہے جس سے ہم عموماً نظر چُرا لیتے ہیں: ”اپنا موازنہ اپنے آپ سے کرتے ہیں۔“ ہم اپنی کارکردگی کا پیمانہ خود بناتے ہیں اور پھر اُسی پیمانے پر خود کو پاس کر دیتے ہیں۔ استاد اپنے ساتھی استاد سے، ماں دوسری ماں سے، کلیسیا کا خادم ساتھ والی کلیسیا کی حاضری سے، اور ہر بار ناپنے کا فیتہ ایسا چنا جاتا ہے جس میں ہم بہتر نکلیں۔ پولس اِسے دانائی نہیں، بےسمجھی کہتے ہیں۔ آج ایک چھوٹا کام کریں: اپنے موبائل کے نوٹس میں اُس ایک شخص کا نام لکھیں جس سے آپ خاموشی سے اپنا موازنہ کرتے ہیں، اور اُس نام کے نیچے یہ جملہ لکھ کر بلند آواز میں پڑھیں: ”فخر کرنے والا خداوند ہی پر فخر کرے۔“
ایک باریکی
آیت 5 کا لفظ ”اونچی چیز“ معمولی نہیں۔ یونانی میں یہ قلعہ بندی کی اصطلاح ہے، وہ بلند مورچہ جو شہر کی دیوار سے اوپر اُٹھ کر حملہ آور پر نظر رکھتا ہے۔ پولس محاصرے کی تصویر کھینچ رہے ہیں: قلعے، مورچے، گرائی ہوئی دیواریں، اور آخر میں قیدی۔ مگر دیکھیے قیدی کون ہے: ”ہم ہر خیال کو قید کر کے مسیح کے تابع کر دیتے ہیں۔“ جنگ کا انجام کسی شخص کی شکست نہیں بلکہ ایک خیال کی گرفتاری ہے، اور وہ خیال بھی مارا نہیں جاتا، صرف صحیح مالک کے حوالے کیا جاتا ہے۔ یسعیاہ کی زبان میں خداوند کا دن ہر اونچی اور بلند چیز کے خلاف آتا ہے؛ یہاں وہی دن انسان کے ذہن کے اندر طلوع ہوتا ہے۔
سامعین کا تعارف
کرنتھس یونانی خطابت کا شہر تھا، جہاں مقرر کی جسمانی موجودگی، آواز کی گرج اور الفاظ کی چمک سے اُس کے پیغام کا وزن ناپا جاتا تھا۔ اِس ماحول میں ”پولس کے خط زوردار اور زبردست ہیں، لیکن جب وہ خود حاضر ہوتا ہے تو وہ کمزور“ ایک تباہ کن تبصرہ تھا۔ شاگرد اپنے اُستاد کی عزت سے اپنی عزت بناتے تھے، اِس لیے کمزور پولس کے پیروکار ہونا شرم کی بات بنتی جا رہی تھی۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ نئے آنے والے خادم سفارشی خطوط اور فصاحت کے ساتھ آئے ہیں۔ پولس اُن کے میدان میں اُتر کر مقابلہ کرنے سے انکار کرتے ہیں؛ وہ معیار ہی بدل دیتے ہیں۔
مرکزی کردار
پولس اِس باب میں زخمی بھی ہیں اور حیرت انگیز حد تک آزاد بھی۔ وہ اپنی کمزوری کے طعنے کو جھٹلاتے نہیں، نہ ہی اُس پر معذرت کرتے ہیں؛ وہ اُسے اُسی مسیح کی حلیمی اور نرمی سے جوڑ دیتے ہیں جس نے خود فرمایا تھا کہ وہ حلیم اور دل کا فروتن ہے۔ یہی پولس کا سب سے گہرا دفاع ہے: اگر مالک نرم دل تھا، تو خادم کی نرمی عیب کیسے ہوئی۔ ساتھ ہی وہ ڈرپوک نہیں؛ آیت 11 میں صاف کہتے ہیں کہ جو خط میں لکھا ہے وہی روبرو کریں گے۔ نرمی اور دلیری یہاں ایک ہی آدمی میں بستی ہیں، کیونکہ دونوں کا سرچشمہ خود پر اعتماد نہیں بلکہ خداوند کی تصدیق ہے۔
غور و فکر
آپ کی زندگی میں وہ کون سا ”اونچا مورچہ“ ہے، یعنی کوئی ایسی سوچ یا دلیل، جو خدا کی پہچان کے سامنے دیوار بنی ہوئی ہے اور جسے آپ نے اب تک گرانے کے بجائے سجا رکھا ہے؟
اگر آپ کے اختیار کا واحد جائز مقصد ”روحانی تعمیر“ ہے، تو گھر، کام یا کلیسیا میں آپ کے الفاظ پچھلے ہفتے کیا کر رہے تھے: بنا رہے تھے یا ڈھا رہے تھے؟
2 Corinthians 10 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
۲-کُرِنتِھیوں 10 کا کیا مطلب ہے؟
۲-کُرِنتِھیوں 10 کس بارے میں ہے؟
۲-کُرِنتِھیوں 10 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
۲-کُرِنتِھیوں 10 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
۲-کُرِنتِھیوں 10 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی 2 Corinthians 10 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
پولس کے پاس اختیار تھا اور وہ جانتا تھا کہ وہ کب استعمال کرنا ہے۔ وہ کہتا ہے: ”ہم ہر نافرمانی کی سزا دینے کے لئے تیار ہیں، لیکن پہلے لازم ہے کہ آپ کی فرمانبرداری تکمیل تک پہنچے۔“ پہلے اپنی جماعت کی پختگی، اُس کے بعد سختی۔ یہی ترتیب ہمارے گھروں میں بھی چاہئے۔ دوسرے کی غلطی پر اُنگلی اُٹھانے سے پہلے پوچھ: کیا میری اپنی فرمانبرداری مکمل ہے؟
خداوند، تیرا شکر ہے کہ پولس کی باتیں اور اُس کے کام ایک جیسے تھے، کہ جو کچھ اُس نے خطوں میں لکھا وہی اُس نے حاضر ہو کر بھی کیا۔ شکر کہ تُو ہمیں بھی ایسی ہی سچائی بخشتا ہے کہ ہمارے لفظ اور ہمارے اعمال ایک دوسرے کی گواہی دیں۔
اے باپ، مجھے دوسروں کی محنت پر فخر کرنے سے بچا۔ میں چاہتا ہوں کہ میرا ایمان بڑھے، تاکہ تیرا کام میری زندگی کے ذریعے آگے پھیلے۔ جہاں تُو نے مجھے رکھا ہے، وہیں وفاداری سے کام کرنے کی توفیق دے، بغیر دکھاوے کے، صرف تیرے نام کی خاطر۔
پولس کو اپنا دفاع کرنا پڑا کہ ہم حد سے آگے نہیں بڑھ رہے، "کیونکہ ہم مسیح کی خوش خبری لے کر آپ تک پہنچے ہی تھے۔" یعنی جو حق اُس نے مانگا وہ محنت سے کمایا تھا۔ سوچیں، کوئی تو تھا جو آپ تک پہنچا۔ کسی نے فاصلہ طے کیا، تکلیف اٹھائی، تاکہ آپ یسوع کو جانیں۔ اُس کا نام شاید آپ بھول چکے ہوں، مگر خدا نہیں بھولا۔ اور اب کون آپ کے ذریعے کسی تک پہنچے گا؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
