۲-کُرِنتِھیوں 4:7
متن
کُرِنتھس کے خط میں پولس رسول ایک ایسی تصویر کھینچتے ہیں جو اُن کے سننے والوں کے گھر کے ہر کونے میں پڑی تھی: مٹی کا سادہ برتن، جو دو پیسے میں ملتا تھا اور گر کر ٹوٹ جائے تو کوئی اُسے جوڑنے کی زحمت نہ کرتا۔ وہ کہتے ہیں کہ مسیح کے چہرے سے چمکنے والا جو جلال آیت ۶ میں ہمارے دلوں میں ڈالا گیا، وہی بےبہا خزانہ ایسے ہی ناکارہ برتنوں میں رکھا گیا ہے۔ اور یہ کوئی حادثہ یا بدانتظامی نہیں؛ یہ خدا کا سوچا سمجھا فیصلہ ہے، ”تاکہ ظاہر ہو کہ یہ زبردست قوت ہماری طرف سے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ہے۔“ خزانے کی قیمت اور برتن کی بےقیمتی کا یہ فرق ہی پولس کی پوری دلیل کی جان ہے۔
مرکزی نکتہ
یہاں خدا کے بارے میں ایک ایسی بات کہی جا رہی ہے جو ہمارے عام مذہبی حساب کو اُلٹ دیتی ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ خدا اپنی بہترین چیز بہترین ظرف میں رکھے گا: مضبوط ایمان والا، صحت مند، پُراعتماد، کامیاب۔ پولس کہتے ہیں: نہیں، وہ جان بوجھ کر کمزور ظرف چنتا ہے، اور وجہ بھی بتا دیتے ہیں۔ اگر برتن شاندار ہوتا تو لوگ برتن کی تعریف کرتے اور خزانہ نظروں سے اوجھل رہتا۔ مٹی کی سادگی ہی وہ شفاف شیشہ ہے جس میں سے قوت کا اصل سرچشمہ دکھائی دیتا ہے۔ یہاں انسان کی کمزوری گناہ کی سزا نہیں بلکہ انجیل کے پیغام کا حصہ ہے؛ خدا کا فضل صرف ہماری ناتوانی کے باوجود کام نہیں کرتا، وہ اُس ناتوانی کو اپنی گواہی کا ذریعہ بنا لیتا ہے۔
نجات کی بڑی کہانی میں اِس کا مقام
یہ مٹی والا اصول پولس کی ایجاد نہیں، یہ خدا کا پرانا طریقہ ہے۔ انسان کی تخلیق ہی زمین کی مٹی سے ہوئی، اور اُس خاک میں خدا نے اپنا دم پھونکا؛ شروع سے ہی قیمتی چیز ناپائیدار ظرف میں رکھی گئی۔ پھر وہی نمونہ مسیح میں اپنی انتہا کو پہنچا: جلال کا خداوند ایک ایسے بدن میں آیا جو تھکتا تھا، بھوکا ہوتا تھا، کوڑے کھا سکتا تھا، اور آخرکار ٹوٹ گیا۔ صلیب پر برتن چِکنا چُور ہوا اور خزانہ پوری دنیا پر بہہ گیا۔ اِسی لئے پولس چند آیتوں بعد لکھتے ہیں، ”ہر وقت ہم اپنے بدن میں عیسیٰ کی موت لئے پھرتے ہیں تاکہ عیسیٰ کی زندگی بھی ہمارے بدن میں ظاہر ہو جائے۔“ مسیح کا راستہ اور اُس کے گواہوں کا راستہ ایک ہی شکل رکھتے ہیں: کمزوری سے ہو کر قوت تک۔
آئینہ
آپ اپنے کون سے حصے کو چھپاتے ہیں؟ وہ دوا جو آپ روز لیتے ہیں اور کلیسیا میں کسی کو نہیں بتاتے۔ وہ بیٹا جس سے مہینوں سے بات نہیں ہوئی، جبکہ آپ دوسروں کے بچوں کے لئے دعا کرتے ہیں۔ وہ مہینے کا آخری ہفتہ جب حساب پورا نہیں ہوتا۔ ہم ایمان کو ایک ایسی نمائش بنا لیتے ہیں جس میں برتن کو چمکانا اصل کام بن جاتا ہے، اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ لوگ خزانہ کیوں نہیں دیکھتے۔ پولس کہہ رہے ہیں کہ آپ کی دراڑیں وہ جگہ ہیں جہاں سے روشنی باہر آتی ہے، بشرطیکہ آپ اُن پر پلستر نہ کریں۔ آج ہی کسی ایک قابلِ اعتماد شخص کو، چاہے پیغام کے ذریعے، وہ ایک کمزوری بتا دیجئے جسے آپ اب تک کلیسیا سے چھپاتے آئے ہیں، اور ساتھ یہ بھی لکھیے کہ خدا اُس کے باوجود آپ کو تھامے ہوئے ہے۔
مشکل سوال
اگر خدا جان بوجھ کر مٹی کے برتن چنتا ہے، تو کیا وہ ہمیں توڑتا بھی ہے؟ پولس اگلی آیتوں میں دباؤ، اُلجھن، ایذا اور زمین پر گرنے کی بات کرتے ہیں، مگر وہ کہیں نہیں لکھتے کہ یہ سب خدا نے بھیجا۔ وہ صرف یہ کہتے ہیں کہ اِن سب کے بیچ برتن ختم نہیں ہوتا۔ یہ فرق اہم ہے اور ہمیں اُسے مٹانا نہیں چاہئے۔ جو شخص کینسر کے بستر پر ہے یا جس کا کاروبار ڈوب گیا، اُسے یہ کہنا کہ ”خدا تمہیں مٹی ثابت کر رہا ہے“ ظلم ہے۔ آیت مصیبت کی وضاحت نہیں کرتی، وہ صرف ایک وعدہ دیتی ہے: ٹوٹ پھوٹ کے باوجود قوت باقی رہے گی، کیونکہ وہ کبھی آپ کی تھی ہی نہیں۔ باقی سوال کھلا رہتا ہے، اور پولس اُسے کھلا ہی چھوڑتے ہیں۔
کلام کی گواہی
آیت ۶ اِس تصویر کی چابی ہے: ”جس خدا نے فرمایا، ’اندھیرے میں سے روشنی چمکے،‘ اُس نے ہمارے دلوں میں اپنی روشنی چمکنے دی۔“ پولس پیدائش کے پہلے باب کو جان بوجھ کر یاد دلا رہے ہیں؛ جو خدا خالی اندھیرے میں سے روشنی بنا سکتا ہے، اُسے کسی عمدہ خام مال کی ضرورت نہیں۔ دوسری گونج آیت ۱۶ میں سنائی دیتی ہے: ”بےشک ظاہری طور پر ہم ختم ہو رہے ہیں، لیکن اندر ہی اندر روز بہ روز ہماری تجدید ہوتی جا رہی ہے۔“ برتن گھِس رہا ہے اور خزانہ بڑھ رہا ہے، ایک ہی وقت میں، ایک ہی شخص میں۔ یہی وہ دوہری سچائی ہے جسے ہمارا دل الگ الگ کرنا چاہتا ہے مگر پولس جوڑے رکھتے ہیں۔
پس منظر
کُرِنتھس ایک بندرگاہی شہر تھا جہاں کامیابی ہی عزت کا پیمانہ تھی اور خطیبوں کی قدر اُن کی آواز، رُعب اور سفارشی خطوط سے ہوتی تھی۔ وہاں کچھ لوگ پولس کے خلاف یہ کہہ رہے تھے کہ اُن کی شخصیت کمزور ہے، جسم پر مار کے نشان ہیں، جیل جا چکے ہیں؛ ایسا آدمی خدا کا نمائندہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اِسی لئے وہ باب کے شروع میں لکھتے ہیں کہ ”ہمیں اپنی سفارش کی ضرورت بھی نہیں۔“ مٹی کا برتن اُس دور میں تیل، اناج یا دستاویزیں رکھنے کا سستا ظرف تھا، ٹوٹنے پر کوڑے پر پھینک دیا جاتا تھا۔ پولس اپنے مخالفوں کا طعنہ اُٹھا کر اُسے اپنی سب سے مضبوط دلیل بنا دیتے ہیں: ہاں، میں سستا برتن ہوں، اور یہی ثبوت ہے کہ روشنی میری نہیں۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کی زندگی میں وہ کون سی ”دراڑ“ ہے جسے آپ خدا کی گواہی کے بجائے شرمندگی سمجھتے رہے ہیں، اور کیا بدلے گا اگر آپ اُسے ظرف کا حصہ مان لیں؟
جب لوگ آپ کی خدمت کو سراہتے ہیں، تو کیا وہ برتن کی تعریف کر رہے ہوتے ہیں یا خزانے کی؟ آپ یہ فرق عملی طور پر کیسے واضح کر سکتے ہیں؟
2 Corinthians 4:7 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
۲-کُرِنتِھیوں 4:7 کا کیا مطلب ہے؟
۲-کُرِنتِھیوں 4:7 کس بارے میں ہے؟
۲-کُرِنتِھیوں 4:7 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
۲-کُرِنتِھیوں 4:7 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
۲-کُرِنتِھیوں 4:7 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی 2 Corinthians 4 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، مجھ میں بھی وہی ایمان کی روح ڈال دے کہ جب دل کمزور ہو تب بھی زبان خاموش نہ رہے۔ میں مانتا ہوں، اِس لئے بولتا ہوں۔ جو تُو نے میری زندگی میں کیا ہے، اُسے چھپانے کے بجائے لوگوں کے سامنے کہنے کی ہمت عطا کر۔
اے باپ، میرا جسم تھکتا ہے اور دن بھر کی مشقت مجھے کمزور کر دیتی ہے، مگر تُو میرے اندر کچھ نیا کرتا رہتا ہے۔ ہمت ہارنے سے بچا لے۔ ہر صبح مجھے اپنی تازگی سے بھر دے، تاکہ جو نظر آتا ہے اُس سے زیادہ اُس پر بھروسا رکھوں جو تُو خاموشی سے میرے دل میں کر رہا ہے۔
پولس یہ بات آرام کی کرسی پر بیٹھ کر نہیں لکھ رہا تھا۔ اُس کا بدن زخموں سے چُور تھا، اور پھر بھی وہ کہتا ہے: ”ہم دکھائی دینے والی چیزوں پر غور نہیں کرتے بلکہ اُن پر جو دکھائی نہیں دیتیں۔“ جو نظر آتا ہے وہ شور مچاتا ہے، جو نظر نہیں آتا وہ خاموشی سے ٹھہرا رہتا ہے۔ آج تیری نظر کس پر جمی ہے؟ جو گزر جائے گا، یا جو ہمیشہ قائم رہے گا؟
کیونکہ گو ہم زندہ ہیں توبھی ہمیں یسوع کی خاطر مسلسل موت کے حوالے کیا جاتا ہے تاکہ اُس کی زندگی ہمارے فانی بدن میں ظاہر ہو جائے۔“ غور کریں، پولس یہ نہیں کہتا کہ زندگی ہماری کامیابی میں چمکتی ہے، بلکہ اُسی فانی بدن میں جو تھکتا ہے، دُکھتا ہے اور ٹوٹتا ہے۔ آپ کی وہ جگہ جو سب سے کمزور لگتی ہے، شاید وہیں سے لوگ مسیح کو دیکھ رہے ہوں۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں