کُلسِیوں 2
متن
پولس رسول اُن ایمان داروں کے لئے تڑپتا ہے جن کے چہرے اُس نے کبھی نہیں دیکھے، اور دعا کرتا ہے کہ وہ ایک ہی راز میں جم جائیں: ”راز کیا ہے؟ مسیح خود۔“ اِس کے بعد وہ کلسے کی جماعت کو اُن خوش نما تعلیموں سے خبردار کرتا ہے جو فلسفے، فرشتوں کی پوجا، پرہیزوں اور مذہبی دنوں کے ذریعے مسیح میں کچھ ”اضافہ“ کرنا چاہتی ہیں۔ اُس کا جواب صلیب ہے: وہاں قرض کی رسید منسوخ ہوئی اور دنیا کی قوتیں رُسوا ہو کر فتح کے جلوس میں پیچھے چلائی گئیں۔
اصل بات
سوچیں: قید میں بیٹھا ایک بوڑھا آدمی، ہاتھ میں زنجیر، اور اُس کے ذہن میں لِکس کی وادی کا ایک چھوٹا سا شہر جہاں وہ کبھی نہیں گیا۔ وہ ”جاں فشانی“ کر رہا ہے، کُشتی لڑ رہا ہے، اُن لوگوں کے لئے جن سے ”ملاقات نہیں ہوئی۔“ کیوں؟ کیونکہ اُس کو خطرہ نظر آ رہا ہے، اور خطرہ کھلی مخالفت نہیں بلکہ ”بظاہر صحیح اور میٹھے میٹھے الفاظ“ ہیں۔ یہی اِس باب کا دل ہے: مسیح ناکافی نہیں ہے۔ ”مسیح میں الوہیت کی ساری معموری مجسم ہو کر سکونت کرتی ہے۔“ ساری۔ کچھ باقی نہیں بچا جسے کہیں اَور سے لانا پڑے۔ اور اِس سے بھی حیرت انگیز بات آگے ہے: ”آپ کو … اُس کی معموری میں شریک کر دیا گیا ہے۔“ خدا کی پوری بھرپوری مسیح میں، اور آپ مسیح میں۔ حساب پورا ہو چکا۔
سلسلۂ کلام
آیت 14 پر ٹھہریں۔ ایک رسید، ایک دستاویز جس پر ہمارے قرض کی شرائط لکھی تھیں، ہمارے خلاف گواہی دیتی ہوئی۔ پولس اُسے پھاڑتا نہیں دکھاتا؛ وہ کہتا ہے خدا نے ”اُسے کیلوں سے صلیب پر جڑ دیا۔“ جو کیل مسیح کے ہاتھوں میں گئے، وہی ہمارے قرض نامے میں گئے۔ اور پھر منظر بدل جاتا ہے: رومی سلطنت کا فتح کا جلوس، جہاں جیتنے والا سردار شہر میں داخل ہوتا ہے اور شکست خوردہ بادشاہ ننگے، بےہتھیار، زنجیروں میں اُس کے پیچھے چلتے ہیں۔ پولس کہتا ہے یہی صلیب پر ہوا۔ جو تختہ رومیوں کے لئے انتہائی رُسوائی کا آلہ تھا، وہاں ”سب کے سامنے“ رُسوائی اُن قوتوں کی ہوئی جو انسان کو ڈراتی اور غلام بناتی ہیں۔ پرانے عہد کے تمام سائے، ختنہ، سبت، ہلال کی عید، اِسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے تھے: ”یہ حقیقت خود مسیح میں پائی جاتی ہے۔“
آئینہ
اب اُس کمرے سے نکل کر اپنے کمرے میں آئیں۔ ہمارے اندر ایک آواز ہے جو مانتی ہی نہیں کہ مفت معافی کافی ہے۔ وہ آواز کہتی ہے: کچھ اَور کرو، کچھ اَور چھوڑو، ”اِسے ہاتھ نہ لگانا، وہ نہ چکھنا، یہ نہ چھونا۔“ ہم روزے، پرہیز، روحانی کارکردگی، دوسروں سے زیادہ سنجیدہ دکھائی دینے کی کوشش کو اپنی سلامتی کی بنیاد بنا لیتے ہیں، اور پولس اُس پر ایک تلخ سچائی چپکا دیتا ہے: ایسے قاعدے ”حکمت پر مبنی تو لگتے ہیں، لیکن یہ بےکار ہیں۔“ کیونکہ خود کو سخت رکھنے میں بھی ایک خفیہ فخر پلتا ہے۔ کیا آپ اپنی روحانی حالت کو اپنی عبادت کی ترتیب، اپنی مالی سخاوت یا اپنے گھر کے نظم سے ناپتے ہیں؟ آج ہی بیٹھ کر ایک جملہ کاغذ پر لکھیں: ”میرے قرض کی رسید صلیب پر جڑی ہوئی ہے،“ اور اُسے بلند آواز میں اپنے نام کے ساتھ پڑھیں۔
ایک باریک نکتہ
آیت 19 میں ایک عجیب تصویر ہے۔ پولس اُن استادوں کے بارے میں نہیں کہتا کہ وہ بدعت پھیلاتے ہیں، بلکہ کہتا ہے ”اُنہوں نے مسیح کے ساتھ لگے رہنا چھوڑ دیا۔“ یہ کسی عدالتی فیصلے کی زبان نہیں، جسم کی زبان ہے: ایک عضو جو ”جوڑوں اور پٹھوں“ سے کٹ گیا۔ ایسا عضو مرتا نہیں، سُن ہو جاتا ہے۔ اور جو چیز اُنہیں کاٹتی ہے وہ گناہ کا کوئی بڑا اسکینڈل نہیں بلکہ ”ظاہری فروتنی“ اور رویاؤں کی تفصیلیں ہیں، یعنی وہ روحانیت جو خود پر مرکوز ہو جائے۔ پولس اِسے ذہن کے ”پھول“ جانے سے تعبیر کرتا ہے، سوجن، نہ کہ نشوونما۔ سچی ترقی کہیں اَور سے آتی ہے: ”یوں پورا بدن اللہ کی مدد سے ترقی کرتا جاتا ہے۔“
پس منظر
کلسے ایک ڈھلتا ہوا شہر تھا، لودیکیہ کے سائے میں، وادئ لِکس میں، جہاں یہودی، یونانی اور مقامی فریجیائی مذہبی روایتیں آپس میں گھلی ہوئی تھیں۔ فرشتوں سے حفاظت مانگنا، ستاروں اور ”اِس دنیا کی قوتوں“ سے ڈرنا، خاص دنوں اور کھانوں کے قاعدے: یہ سب اُس ماحول کی عام ہوا تھی۔ جماعت پولس نے قائم نہیں کی تھی؛ غالباً اِپَفراس نے۔ اور پولس قید سے لکھ رہا ہے، جسمانی طور پر غیر حاضر مگر ”روح میں مَیں آپ کے ساتھ ہوں۔“ ایک قیدی اُن لوگوں کو آزادی کا اعلان بھیج رہا ہے جو آزاد ہیں مگر خوف کے پابند ہیں۔ اِس تناقض کو محسوس کیجئے، اِسی میں خط کا زور ہے۔
پہلے سننے والے
جب یہ خط اُس چھوٹے سے مجمع میں پڑھا گیا، تو سننے والوں میں غلام بھی تھے اور ایسے لوگ بھی جن کے پڑوسی اُنہیں طعنے دیتے تھے کہ تم نہ سبت مناتے ہو، نہ ہلال کی عید، نہ کسی مندر کے قاعدے، پھر تمہاری حفاظت کون کرے گا؟ اُن کے لئے ”حکمرانوں اور اختیار والوں“ کا ذکر کوئی مجرد الٰہیات نہیں تھا؛ یہ اُن دیوتاؤں، تعویذوں اور رومی طاقت کا نام تھا جن سے وہ بچپن سے ڈرتے آئے تھے۔ اور اُنہوں نے سنا کہ وہ سب بےہتھیار کر دیئے گئے، قیدی بنا دیئے گئے، جلوس میں پیچھے چلائے گئے۔ اُنہیں یہ بھی سنائی دیا کہ اُن کا بپتسمہ ایک قبر تھا اور ایک قیامت۔ اِس لئے حکم صاف تھا: ”اب اُس میں زندگی گزاریں۔“
غور و فکر کے سوالات
آپ کی زندگی میں وہ کون سا قاعدہ یا پرہیز ہے جسے آپ چپکے سے مسیح کی معموری میں ”اضافہ“ سمجھتے ہیں؟
اگر آپ کے قرض کی رسید واقعی منسوخ ہو چکی ہے، تو آج آپ کس ڈر یا شرم کو زنجیر پہنا کر جلوس کے پیچھے ڈال سکتے ہیں؟
Colossians 2 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
کُلسِیوں 2 کا کیا مطلب ہے؟
کُلسِیوں 2 کس بارے میں ہے؟
کُلسِیوں 2 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
کُلسِیوں 2 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
کُلسِیوں 2 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Colossians 2 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
پولس قید میں ہے، کُلسّے سے میلوں دور، اور اُن میں سے بیشتر لوگوں کو اُس نے کبھی دیکھا بھی نہیں۔ پھر بھی وہ کہتا ہے، "مَیں روح میں آپ کے ساتھ ہوں۔" اور جو چیز اُسے خوش کرتی ہے وہ اُن کی ترتیب اور مسیح پر مضبوط ایمان ہے۔ سوچیں، کوئی آپ سے دور رہ کر بھی آپ کے ایمان کی فکر کرے۔ کیا آج کسی کا دل آپ کی مضبوطی دیکھ کر خوش ہوتا ہے؟
چنانچہ جس طرح آپ نے مسیح عیسیٰ کو خداوند کے طور پر قبول کیا اُسی طرح اُس میں زندگی بھی گزاریں۔“ جس دن آپ نے اُسے قبول کیا، آپ کے پاس دینے کو کچھ نہ تھا، صرف خالی ہاتھ اور بھروسا۔ آج بھی راستہ وہی ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ اب کچھ بن کر دکھانا ہے، مگر مسیح آج بھی اُسی عاجز دل کو چاہتا ہے جو پہلے دن اُس کے پاس آیا تھا۔
پولس اُن لوگوں کو لکھ رہا ہے جنہیں کہا جا رہا تھا کہ مسیح کافی نہیں، کچھ اَور بھی چاہئے۔ اُس کا جواب یہ ہے: "اور آپ کو مسیح میں یہ معموری حاصل ہے۔" سوچیں، آج بھی آپ کسی رسم، کسی کامیابی یا کسی کی منظوری سے اپنے اندر کا خلا بھرنا چاہتے ہیں۔ لیکن جو آپ ڈھونڈ رہے ہیں وہ آپ کو پہلے ہی دیا جا چکا ہے۔ آپ ادھورے نہیں، مسیح میں مکمل ہیں۔
پولس خبردار کرتا ہے، ”میں یہ اِس لئے کہہ رہا ہوں تاکہ کوئی آپ کو بظاہر معقول دلیلوں سے دھوکا نہ دے۔“ غور کریں، دھوکا بدصورت نہیں آتا، وہ خوبصورت اور معقول لگنے والی باتوں میں آتا ہے۔ اِسی لئے پولس نے پہلے مسیح کی بات کی جس میں حکمت کے تمام خزانے پوشیدہ ہیں۔ جو اُسے جانتا ہے، وہ ہر چمکتی ہوئی بات کے پیچھے نہیں بھاگتا۔ آپ کس کی آواز سب سے زیادہ سنتے ہیں؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
