واعظ 9
متن
واعظ اپنے مشاہدے کا نتیجہ یوں نکالتا ہے: راست باز اور بےدین، پاک اور ناپاک، قربانی چڑھانے والا اور نہ چڑھانے والا، سب کے نصیب میں ایک ہی انجام ہے، یعنی موت۔ اِس تلخ حقیقت کے بیچ سے وہ ایک عجیب حکم نکالتا ہے: جا، خوشی سے روٹی کھا، مَے پی، اپنے جیون ساتھی سے محبت کر، اور جو کام ہاتھ میں ہے اُسے پورے جوش سے کر۔ آخر میں وہ دو تصویریں دکھاتا ہے: جال میں پھنسی مچھلی، اور وہ غریب دانش مند جس نے پورا شہر بچا لیا مگر جسے کسی نے یاد نہ رکھا۔
مرکزی بات
”زندہ کُتے کا حال مُردہ شیر سے بہتر ہے۔“ یہ فقرہ کسی مذہبی کتاب میں نہیں ہونا چاہیے تھا، لیکن ہے۔ واعظ ہمیں تسلی نہیں دیتا؛ وہ ہمیں اُس دیوار تک لے جاتا ہے جس سے آگے ہمارا علم نہیں جاتا۔ اور دیوار کے سامنے کھڑے ہو کر وہ خدا کے بارے میں دو باتیں کہتا ہے۔ پہلی: ”راست باز اور دانش مند اور جو کچھ وہ کریں اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔“ دوسری: ”اللہ کافی دیر سے تیرے کاموں سے خوش ہے۔“ یعنی زندگی کا حساب ہمارے ہاتھ میں نہیں، مگر وہ ہاتھ خالی یا سرد نہیں جس میں ہم ہیں۔ ایمان یہاں سمجھ کا نتیجہ نہیں، بلکہ سمجھ کے خاتمے پر ملنے والی روٹی اور مَے ہے۔
سلسلۂ نجات
واعظ کہتا ہے کہ سب کا ایک ہی انجام ہے، اور موت کے پیچھے ”نہ کوئی کام ہے، نہ منصوبہ، نہ علم اور نہ حکمت۔“ یہ کوئی ناقص عقیدہ نہیں؛ یہ اُس دور کی دیانت دار خاموشی ہے، اُس وقت کی جب قبر کے پیچھے کی روشنی ابھی نہیں کھلی تھی۔ اور یہی خاموشی مسیح کے جی اُٹھنے کو اِتنا دھماکے دار بناتی ہے۔ خداوند یسوع مسیح موت کے اُس مشترکہ انجام میں خود اُترے، وہاں جہاں راست باز اور بےدین ایک ہی مٹی میں ملتے ہیں، اور وہاں سے واپس آئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اُنہوں نے بھی روٹی اور پیالے کو ہی اپنی یادگار بنایا۔ واعظ کی خوشی کی دعوت انجیل میں منسوخ نہیں ہوتی، بلکہ اپنی جڑ پا لیتی ہے۔
آئینہ
ہم زندگی کو ایک انصاف پسند مشین سمجھنا چاہتے ہیں: محنت کرو تو ترقی، دیانت داری برتو تو عزت، دعا کرو تو تحفظ۔ واعظ یہ مشین توڑ دیتا ہے: ”یقینی بات نہیں کہ مقابلے میں سب سے تیز دوڑنے والا جیت جائے۔“ آپ کے دفتر میں کم قابل آدمی ترقی پا گیا۔ آپ کے پڑوسی کی رپورٹ صاف آئی، آپ کی نہیں۔ اور وہ غریب دانش مند جس نے شہر بچایا مگر جسے کوئی یاد نہ رکھا، شاید وہ آپ ہیں: برسوں کی خدمت، کوئی شکریہ نہیں۔ واعظ آپ سے یہ نہیں کہتا کہ ناانصافی کو خوبصورت سمجھیں۔ وہ کہتا ہے: جو دن بخشے گئے ہیں، اُنہیں کھو نہ دیں۔
آج شام میز پر بیٹھ کر، فون ایک طرف رکھ کر، کھانے کا پہلا لقمہ آہستہ کھائیں اور اونچی آواز میں کہیں: ”یہ دن تیری بخشش ہے۔“
پس منظر
واعظ کی آواز یروشلیم کے کسی تجربہ کار، دولت مند اور مایوس دانش مند کی ہے، غالباً اسرائیل کی سلطنت کے زوال کے بعد کے دور کی، جب بڑی سلطنتیں چھوٹے شہروں کو نگل رہی تھیں۔ چودھویں آیت کا وہ ”طاقت ور بادشاہ“ جو مٹی کے بُرج کھڑے کرتا ہے، کوئی تمثیل نہیں تھی؛ ہر گاؤں والا جانتا تھا کہ محاصرے کا مطلب بھوک اور غلامی ہے۔ سفید کپڑے اور سر پر تیل اُس معاشرے میں سوگ کا نہیں بلکہ عید کا لباس تھا، مہمان بننے کی تیاری۔ یعنی جب واعظ کہتا ہے ”تیرے کپڑے ہر وقت سفید ہوں،“ تو وہ کہہ رہا ہے: روزمرہ کو تہوار کی طرح جیو، کیونکہ روزمرہ ہی وہ سب ہے جو تمہارے پاس ہے۔
سوال
پھر راست بازی کا کیا فائدہ، اگر ”راست باز اور بےدین کے، نیک اور بد کے“ نصیب میں ایک ہی انجام ہے؟ واعظ اِس سوال کو جلدی سے حل نہیں کرتا، اور ہمیں بھی حق نہیں کہ کریں۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ نیکی بےمعنی ہے؛ وہ کہتا ہے کہ نیکی کا صلہ اِس دنیا کے اندر گنا نہیں جا سکتا۔ اور آخری آیت میں وہ ایک اَور دروازہ کھولتا ہے: ”ایک ہی گناہ گار بہت کچھ جو اچھا ہے تباہ کرتا ہے۔“ تو گناہ بےاثر نہیں، وہ بہت بااثر ہے، صرف ہمارے حساب کی کتاب میں فٹ نہیں آتا۔ یہ سوال کھلا رہتا ہے، اور شاید یہ کھلا پن ہی ہمیں خدا کے سامنے جھکائے رکھتا ہے، سودے بازی سے دور۔
مرکزی کردار
اِس باب کا اصل کردار وہ غریب دانش مند ہے، جس کا نام تک ہمیں نہیں ملتا۔ اُس نے شہر بچایا، اور ”بعد میں کسی نے بھی غریب کو یاد نہ کیا۔“ وہ ہمیں انسان کی حالت کا نقشہ دکھاتا ہے: قابلیت ہو تب بھی توجہ حیثیت کے پیچھے جاتی ہے، اور یادداشت ناشکری ہوتی ہے۔ مگر غور کریں: اُس نے پھر بھی کیا۔ اُس نے شکریے کا انتظار نہیں کیا۔ اُس کی حکمت خاموش تھی، ”آرام سے سنی جائیں“ والی باتیں، حکمرانوں کے ”زوردار اعلانات“ کے مقابل۔ اور اِس گمنام آدمی کی صورت میں ہمیں ایک جھلک ملتی ہے اُس کی جو ہمارے شہر کو بچانے آیا اور جسے اُس کے اپنوں نے نہ پہچانا۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کی زندگی میں کون سی چیز آپ نے صرف اِس لیے کرنی چھوڑ دی کہ اُس کا کوئی صلہ یا شکریہ نہیں ملا؟ کیا وہ اب بھی کرنے لائق ہے؟
”اللہ کافی دیر سے تیرے کاموں سے خوش ہے“ — اِس فقرے کو آپ اپنے آج کے دن پر لاگو کریں تو کیا بدلتا ہے، اور آپ کے اندر کیا مزاحمت کرتا ہے؟
Ecclesiastes 9 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
واعظ 9 کا کیا مطلب ہے؟
واعظ 9 کس بارے میں ہے؟
واعظ 9 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
واعظ 9 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
واعظ 9 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Ecclesiastes 9 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، تُو نے میرے کام کو قبول کیا ہے، یہ جان کر دل ہلکا ہو جاتا ہے۔ مجھے سکھا کہ روز کی سادہ روٹی خوشی سے کھاؤں، چھوٹی چھوٹی نعمتوں میں تیرا ہاتھ پہچانوں، اور فکر کے بوجھ تلے آج کی خوشی ضائع نہ کروں۔
خداوند، تیرا شکر کہ تُو ہمیں سچائی دکھاتا ہے کہ راست باز اور بےدین، پاک اور ناپاک، سب کا ایک ہی انجام ہوتا ہے۔ اِس سے میرا بھروسا اپنے کاموں پر نہیں بلکہ تیرے فضل پر ٹھہرتا ہے۔ شکر کہ آج کا دن، ہر سانس اور تیری قربت تیری ہی بخشش ہے۔
جو بھی کام کرنا ہے اُسے پوری طاقت سے کر، کیونکہ پاتال میں جہاں تُو جا رہا ہے نہ کام ہے، نہ منصوبہ، نہ علم اور نہ حکمت۔" یہ اداسی کی نہیں، جاگنے کی آواز ہے۔ آج جو ہاتھ میں ہے، وہی تیرا حصہ ہے۔ وہ معافی جو تُو ٹالتا رہا، وہ فون جو تُو نہیں کرتا، وہ شکرگزاری جو دل میں ہی رہ گئی۔ کل کا انتظار مت کر۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں