یسعیاہ 25
متن
یسعیاہ 25 ایک گیت سے شروع ہوتا ہے: "اے رب، تُو میرا خدا ہے، مَیں تیری تعظیم اور تیرے نام کی تعریف کروں گا۔" گانے والا اُس شہر کو دیکھ رہا ہے جو ملبے کا ڈھیر بن گیا، وہ قلعہ بند محل جو کبھی ناقابلِ تسخیر لگتا تھا۔ پھر منظر بدلتا ہے: اُسی کوہِ صیون پر، جہاں کبھی بھوک اور محاصرہ تھا، رب الافواج تمام اقوام کے لئے ضیافت سجاتا ہے، ماتم کا نقاب اُتارتا ہے، موت کو نگل جاتا ہے اور ہر چہرے کے آنسو پونچھ دیتا ہے۔ باب کا اختتام اچانک سخت ہے: موآب کو گوبر میں بھوسے کی طرح روندا جائے گا۔
اصل بات
پہلے سنّے والوں کے لئے یہ محض شاعری نہیں تھی۔ وہ لوگ جانتے تھے کہ اسور کی فوجیں کیا کرتی ہیں: مٹی کے ڈھلوان، منڈھے ہوئے دروازے، جلی ہوئی فصلیں، شہر کی دیوار پر لٹکے سر۔ اُن کے تجربے میں طاقت کا مطلب تھا اونچی دیواریں اور غیرملکی بادشاہ کا محل۔ یسعیاہ اِس پورے نظام کو اُلٹ دیتا ہے۔ خدا کی عظمت اُس میں ظاہر ہوتی ہے کہ وہ "پست حالوں کے لئے قلعہ اور مصیبت زدہ غریبوں کے لئے پناہ گاہ" بنتا ہے۔ یعنی: اصل قلعہ اینٹوں کا نہیں، بلکہ خدا کی ذات ہے۔ اور زبردستوں کی "گرج" بادل کے سائے کی طرح ٹھنڈی کر دی جاتی ہے، بغیر جنگ کے، محض اُس کی موجودگی سے۔
سلسلۂ نجات
تصور کریں: صیون ایک معمولی پہاڑی ہے، اردگرد کے سلطنتی شہروں کے مقابلے میں چھوٹی، اور اُس پر ایک ہیکل۔ یسعیاہ اِسی معمولی پہاڑی کو دنیا کی سب سے بڑی دعوت کی جگہ بناتا ہے، جہاں "بہترین قسم کی قدیم اور صاف شفاف مَے" اور "لذیذترین کھانا" تمام اقوام کے لئے رکھا ہے۔ قدیم مشرق میں دعوت کا مطلب صلح تھا؛ ایک ساتھ روٹی توڑنا عہد کی مہر تھی۔ اور یہ دعوت اسرائیل کے لئے نہیں، بلکہ اُن قوموں کے لئے ہے جن سے وہ ڈرتے تھے۔ صدیوں بعد ایک آدمی اُسی شہر کے قریب روٹی توڑ کر کہے گا: یہ میرا بدن ہے۔ مسیح کی میز اِسی پہاڑ کی ضیافت کا پہلا لقمہ ہے۔
آئینہ
ہم اپنی دیواریں بھی بناتے ہیں: بچت کا اکاؤنٹ، بیمہ، نوکری کی سیکیورٹی، وہ رشتے جن پر ہم بھروسا کرتے ہیں کہ ہمیں گرنے نہ دیں گے۔ یہ بُری چیزیں نہیں، مگر یسعیاہ 25 ایک ناخوشگوار سوال پوچھتا ہے: جس دن یہ سب ملبے کا ڈھیر بن جائے، تب کیا بچے گا؟ تشخیص کی رپورٹ، کمپنی کی برطرفی، وہ فون کال جو رات دو بجے آتی ہے۔ اِس متن کی تسلی سستی نہیں؛ یہ اُس کے لئے ہے جو واقعی "پست حال" ہے اور جس کے پاس اب کوئی قلعہ نہیں رہا۔ خدا اُن کا پناہ گاہ بنتا ہے، نہ کہ اُن کا جو ابھی اپنی دیوار اونچی کر رہے ہیں۔
آج ایک کاغذ پر اُس شخص کا نام لکھیں جس کے آنسو آپ نے پونچھتے دیکھے ہیں یا خود بہائے ہیں، اور اُس نام کے سامنے آیت 9 بلند آواز میں پڑھیں: "یہی ہمارا خدا ہے جس کی نجات کے انتظار میں ہم رہے۔"
ایک باریک نکتہ
آیت 8 کا عبرانی لفظ ہے بِلَّع، یعنی "نگل لینا"، وہی لفظ جو کھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اردو ترجمہ اِسے خوب پکڑتا ہے: "موت الٰہی فتح کا لقمہ ہو کر ابد تک نیست و نابود رہے گی۔" کنعان کے پڑوسیوں کے قصوں میں موت خود ایک دیوتا تھا، ایک کھاؤ منہ جو ہر جاندار کو ہڑپ کر لیتا ہے؛ قبر کے بارے میں لوگ اِسی زبان میں سوچتے تھے۔ یسعیاہ اُس تصویر کو اُلٹ دیتا ہے: نگلنے والا خود نگلا جاتا ہے۔ اور آیت 7 کا "نقاب" وہی چادر ہے جو ماتم میں چہرے پر ڈالی جاتی تھی۔ تصور کریں: خدا جھک کر جنازے کی چادر اُتار دیتا ہے۔
کلام سے کلام کی روشنی
پولس رسول قبروں کے سامنے یہی آیت اُٹھاتا ہے: "موت فتح کا لقمہ ہو گئی" (1 کرنتھیوں 15)۔ اُس کے لئے یسعیاہ کی یہ سطر مسیح کے جی اُٹھنے میں جزوی طور پر پوری ہو چکی ہے، مگر ابھی مکمل نہیں؛ ہم ابھی دفناتے ہیں۔ اور بائبل کا آخری باب اِسی آیت کو گونج بناتا ہے، جہاں خدا ہر آنکھ سے آنسو پونچھتا ہے اور موت نہیں رہتی (مکاشفہ 21)۔ یعنی یسعیاہ کا یہ گیت پورے صحیفے کے آخری منظر کا خاکہ ہے۔ جو بات ایک محاصرہ زدہ چھوٹے سے ملک کے نبی نے گائی، وہ دنیا کی آخری امید کا لفظ بن گئی۔
مشکل سوال
پھر موآب کیوں؟ اگر آیت 6 میں "تمام اقوام" مدعو ہیں، تو آیت 10 میں ایک قوم گوبر میں روندی کیوں جاتی ہے؟ اِس کا آسان جواب دینا بےایمانی ہو گی۔ موآب اردن کے پار کا وہ پڑوسی تھا جو یروشلم کی مصیبت پر تالیاں بجاتا تھا؛ نبی اُس کے لئے تیراکی کی تصویر استعمال کرتا ہے، ہاتھ پاؤں مارنا مگر غرور کے گڑھے میں ڈوبنا۔ متن یہ نہیں کہتا کہ موآب نسل کی وجہ سے رد ہوا، بلکہ "اُس کا غرور" دبایا جاتا ہے۔ شاید یہی جواب ہے: دعوت سب کے لئے کھلی ہے، مگر اُس میز پر بیٹھنے کے لئے ہاتھ خالی کرنے پڑتے ہیں۔ جو اپنی اونچی دیوار نہیں چھوڑتا، وہ اُسی کے ملبے تلے رہ جاتا ہے۔ یہ سوچ ہمیں چین نہیں دیتی، اور شاید دینی بھی نہیں چاہئے۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کی زندگی کی وہ کون سی "بلند اور قلعہ بند دیوار" ہے جس پر آپ خدا سے زیادہ بھروسا کرتے ہیں؟
اگر خدا واقعی ہر چہرے کے آنسو پونچھنے والا ہے، تو اِس ہفتے کس کے آنسو پونچھنے کے لئے وہ آپ کو بھیج رہا ہے؟
Isaiah 25 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یسعیاہ 25 کا کیا مطلب ہے؟
یسعیاہ 25 کس بارے میں ہے؟
یسعیاہ 25 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یسعیاہ 25 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یسعیاہ 25 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Isaiah 25 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، تُو اونچی دیواریں گرا کر خاک میں ملا دیتا ہے۔ میرے دل میں بھی ایسے قلعے ہیں جو میں نے اپنی حفاظت کے لیے بنائے ہیں، غرور، ضد اور خوف کے۔ اِن کو گرا دے، تاکہ میں کھلے دل سے صرف تجھ پر بھروسا کرنا سیکھوں۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
