۱-تیمُتھیُس 5
چھوٹے اور اسکول سے پہلے کے بچے (3 تا 6 سال) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
The Explanation
ایک بڑھیا تھی۔ اُس کا نام مریم تھا۔ اُس کا شوہر مر چکا تھا۔ اُس کے پاس کوئی نہیں تھا۔ گھر چھوٹا سا تھا۔ اور بہت خاموش۔ مریم اکیلی بیٹھتی۔ کھانا کم ہوتا۔ دل اُداس ہوتا۔ مگر مریم نے خدا سے باتیں کیں۔ صبح بھی۔ رات بھی۔ "اے خدا، میری مدد کریں۔" وہ ایسے ہی دعا کرتی رہی۔
What Does This Mean?
خدا نے مریم کی بات سن لی۔ خدا نے کلیسیا کے لوگوں سے کہا: مریم کی مدد کرو۔ اگر مریم کے بچے یا پوتے ہوتے، تو وہ مدد کرتے۔ گھر والوں کو گھر والوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ یہ اچھی بات ہے۔ پولوس رسول نے یہ بھی کہا: بزرگوں سے پیار سے بات کرو۔ جیسے وہ آپ کے اپنے ابا امی ہوں۔ جوانوں سے ایسے بات کرو جیسے وہ آپ کے بھائی بہن ہوں۔ کوئی سختی نہیں۔ کوئی چیخنا نہیں۔ صرف پیار۔
The Common Thread
خدا اپنے لوگوں کو کبھی بھول نہیں جاتا۔ مریم اکیلی تھی، مگر خدا نے اُسے اکیلا نہ چھوڑا۔ خدا نے کلیسیا کے لوگوں کو بھیجا۔ وہ روٹی لے کر آئے۔ وہ پانی لے کر آئے۔ وہ مریم کے پاس بیٹھے اور اُس کی باتیں سُنیں۔ خداوند یسوع بھی ایسے ہی تھے۔ وہ غریبوں کے پاس جاتے تھے۔ وہ اکیلوں کے پاس بیٹھتے تھے۔ وہ اُنہیں پیار کرتے تھے۔ اب خداوند یسوع چاہتے ہیں کہ ہم بھی ایسا کریں۔
For You
کیا تمہارے گھر میں کوئی دادی ہیں؟ یا نانی؟ کیا وہ کبھی اکیلی بیٹھتی ہیں؟ تم اُن کے پاس جا سکتے ہو۔ اُن کا ہاتھ پکڑ سکتے ہو۔ اُنہیں ایک پھول دے سکتے ہو۔ یا ایک تصویر بنا کر دو۔ اُن سے پوچھو: "آپ ٹھیک ہیں؟" یہ چھوٹی سی بات، خدا کو بہت پسند آتی ہے۔ جیسے مریم کے پاس لوگ آئے، ویسے تم بھی کسی کے پاس جاؤ۔
Talk About It
کیا تمہارے گھر میں کوئی بزرگ ہیں جن کے پاس تم بیٹھ سکتے ہو؟ مریم اکیلی تھی، تمہارے خیال میں اُسے کیسا لگتا تھا؟
Praying Together
اے خدا، آپ کا شکریہ۔ آپ اکیلوں کو نہیں بھولتے۔ مجھے بھی سکھائیں کہ میں بزرگوں سے پیار کروں۔ میری دادی اور نانی کو برکت دیں۔ یسوع کے نام میں، آمین۔
۱-تیمُتھیُس 5 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
۱-تیمُتھیُس 5 کس بارے میں ہے؟
۱-تیمُتھیُس 5 کیا کہتا ہے؟
۱-تیمُتھیُس 5 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
چھوٹے بچے ۱-تیمُتھیُس 5 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
۱-تیمُتھیُس 5 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
پولس جوان بیواؤں کو کوئی بڑا روحانی کارنامہ نہیں سونپتا۔ وہ کہتا ہے: ”مَیں چاہتا ہوں کہ جوان بیوائیں شادی کریں، بچوں کو جنم دیں اور اپنے گھر کو سنبھالیں۔“ روز کا سادہ، وفادار کام بھی خدا کی نظر میں گواہی ہے۔ سوچ کر دیکھ، تیری زندگی کا کون سا حصہ ہے جہاں دشمن انگلی اٹھا سکتا ہے؟ وہیں سے وفاداری شروع کر۔
کسی پر جلدی سے ہاتھ نہ رکھنا۔“ پولس تیمُتھیُس کو خدمت میں ذمہ داری سونپنے کے بارے میں ٹھہراؤ سکھا رہا ہے، کیونکہ جس شخص کو تُو آگے بڑھاتا ہے، اُس کے کام کسی نہ کسی طرح تجھ سے بھی جُڑ جاتے ہیں۔ آج بھی ہم کتنی جلدی کسی کی میٹھی باتوں سے متاثر ہو کر اُسے اپنے دل اور گھر کی چابی تھما دیتے ہیں۔ تھوڑا ٹھہر جا۔ وقت ہر دل کا اصل رنگ کھول دیتا ہے۔
پولس ایک بہت عملی بات کہتا ہے: "جماعت پر بوجھ نہ ڈالا جائے تاکہ وہ اُن بیواؤں کی مدد کر سکے جو واقعی ضرورت مند ہیں۔" یعنی جو ذمہ داری تیرے اپنے گھر کی ہے، اُسے کلیسیا کے کندھوں پر مت ڈال۔ سوچ ذرا، تیرے رشتہ داروں میں کون اکیلا رہ گیا ہے؟ اُس کی خبر لینا بھی خدا کی خدمت ہے، اور شاید سب سے مشکل والی۔
پولس تیمُتھیُس کو کلیسیا چلانے کا کوئی سرد ضابطہ نہیں دیتا، بلکہ ایک گھرانہ تھما دیتا ہے: "عمر رسیدہ عورتوں سے ماؤں کا سا اور جوان عورتوں سے پوری پاکیزگی کے ساتھ بہنوں کا سا۔" غور کریں، بہن کہنے کے ساتھ ہی وہ پاکیزگی کی شرط لگا دیتا ہے۔ کیونکہ رشتے کا نام لینا آسان ہے، اُس کی حرمت نبھانا مشکل۔ جس عورت کو آپ کلیسیا میں بہن کہتے ہیں، کیا آپ کی نظر بھی اُسے بہن ہی سمجھتی ہے؟
ذرا بڑے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟
ہمارے پاس ابتدائی عمر (7 تا 12) اور نوعمروں (12 اور اس سے اوپر) کے لیے بھی خاص نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں