3 سے 6 سال کے بچے کے لیے

نوحہ 2

چھوٹے اور اسکول سے پہلے کے بچے (3 تا 6 سال) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی

بائبل

وضاحت

ایک شہر تھا۔ اُس کا نام یروشلم تھا۔ پہلے یہ شہر بہت خوبصورت تھا۔ اُس کی دیواریں بلند تھیں۔ اُس کے دروازے مضبوط تھے۔ لیکن ایک دن سب کچھ ٹوٹ گیا۔ دیواریں گر گئیں۔ دروازے زمین میں دھنس گئے۔ اب شہر میں خاک اور دھول تھی۔ رات کو شہر بہت خاموش تھا۔ پہلے وہاں گانے ہوتے تھے۔ اب کوئی گانا نہیں تھا۔ بزرگ لوگ خاموشی سے زمین پر بیٹھے تھے۔ اُنہوں نے اپنے سروں پر خاک ڈال لی تھی۔ اُن کے چہروں پر کوئی مسکراہٹ نہ تھی۔ گلیوں میں چھوٹے چھوٹے بچے پھر رہے تھے۔ وہ بہت کمزور تھے۔ وہ بہت بھوکے تھے۔ وہ اپنی ماؤں سے پوچھتے تھے، "روٹی کہاں ہے؟" لیکن روٹی نہیں تھی۔ کوئی روٹی نہیں تھی۔ بچے ماں کی گود میں لیٹ جاتے۔ آہستہ آہستہ کمزور ہوتے جاتے۔ یہ دیکھ کر لکھنے والے کا دل پھٹ گیا۔ اُس نے کہا، "میری آنکھیں رو رو کر تھک گئی ہیں۔" اُس نے کہا، "میری قوم کے لئے میرا دل بےحال ہے۔"

اس کا کیا مطلب ہے؟

یہ کہانی بہت دکھ کی ہے۔ لیکن یہ سچی کہانی ہے۔ کبھی کبھی زندگی میں بہت دکھ آتا ہے۔ گھر ٹوٹ جاتا ہے۔ لوگ بھوکے ہوتے ہیں۔ آنسو رکنے کا نام نہیں لیتے۔ لکھنے والا یہ دکھ چھپاتا نہیں۔ وہ کھلے دل سے روتا ہے۔ وہ اپنے آنسو خدا سے نہیں چھپاتا۔ وہ جانتا ہے، رونا خدا کے سامنے لے جانا چاہیے۔

مشترکہ رشتہ

لکھنے والے نے کہا، "اُٹھ، اپنے دل کی ہر بات پانی کی طرح رب کے حضور اُنڈیل دے۔" یہ بہت اچھی بات ہے۔ اپنے ہاتھ خدا کی طرف اُٹھاؤ۔ بچوں کے لئے دعا کرو، وہ کہتا ہے۔ خدا سنتا ہے۔ بہت بعد میں، یسوع بھی آیا۔ یسوع بھی روتا تھا۔ یسوع بھوکوں کو روٹی دیتا تھا۔ یسوع نے کہا، چھوٹے بچوں کو میرے پاس آنے دو۔ خدا اپنے لوگوں کے آنسو دیکھتا ہے۔ وہ کبھی منہ نہیں پھیرتا۔ وہ ہمیشہ سنتا ہے۔

تمہارے لئے

جب تم بہت اداس ہو، تم کیا کرتے ہو؟ تم اپنی ماں کے پاس جاتے ہو، نا؟ تم اُسے بتاتے ہو، "مجھے بھوک لگی ہے۔" یا تم کہتے ہو، "مجھے ڈر لگتا ہے۔" خدا سے بھی ایسے ہی بات کرو۔ اُسے بتاؤ جو تمہارے دل میں ہے۔ تم خدا سے کہو، "میری مدد کر۔" خدا سنتا ہے۔ وہ کبھی منہ نہیں پھیرتا۔

بات کرو

کہانی میں بچے کیا مانگ رہے تھے؟ جب تم اداس ہوتے ہو تو تم خدا سے کیا کہو گے؟

چلو دعا کریں

پیارے خدا، کبھی کبھی میں بہت اداس ہوتا ہوں۔ میرا دل بھی روتا ہے۔ تُو میرے آنسو دیکھتا ہے۔ تُو کبھی مجھ سے منہ نہیں پھیرتا۔ تُو مجھے کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ میرے پاس آ، اور مجھے تھام لے۔ آمین۔

یہ بائبل کہانی شیئر کریں

دوسرے والدین یا اساتذہ کے لیے جنہیں یہ مددگار لگ سکتا ہے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

نوحہ 2 کے بارے میں سوالات

ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔

نوحہ 2 کس بارے میں ہے؟
ایک شہر تھا۔ اُس کا نام یروشلم تھا۔ پہلے یہ شہر بہت خوبصورت تھا۔ اُس کی دیواریں بلند تھیں۔ اُس کے دروازے مضبوط تھے۔ لیکن ایک دن سب کچھ ٹوٹ گیا۔ دیواریں گر گئیں۔ دروازے زمین میں دھنس گئے۔ اب شہر میں خاک اور دھول تھی۔ رات کو شہر بہت خاموش تھا۔ پہلے وہاں گانے ہوتے تھے۔ اب کوئی گانا نہیں تھا۔ بزرگ لوگ خاموشی سے زمین پر بیٹھے تھے۔ اُنہوں نے اپنے سروں پر خاک ڈال لی تھی۔ اُن کے چہروں پر کوئی مسکراہٹ نہ تھی۔ گلیوں میں چھوٹے چھوٹے بچے پھر رہے تھے۔ وہ بہت کمزور تھے۔ وہ بہت بھوکے تھے۔ وہ اپنی ماؤں سے پوچھتے تھے، "روٹی کہاں ہے؟" لیکن روٹی نہیں تھی۔ کوئی روٹی نہیں تھی۔ بچے ماں کی گود میں لیٹ جاتے۔ آہستہ آہستہ کمزور ہوتے جاتے۔ یہ دیکھ کر لکھنے والے کا دل پھٹ گیا۔ اُس نے کہا، "میری آنکھیں رو رو کر تھک گئی ہیں۔" اُس نے کہا، "میری قوم کے لئے میرا دل بےحال ہے۔"
نوحہ 2 کیا کہتا ہے؟
یہ کہانی بہت دکھ کی ہے۔ لیکن یہ سچی کہانی ہے۔ کبھی کبھی زندگی میں بہت دکھ آتا ہے۔ گھر ٹوٹ جاتا ہے۔ لوگ بھوکے ہوتے ہیں۔ آنسو رکنے کا نام نہیں لیتے۔ لکھنے والا یہ دکھ چھپاتا نہیں۔ وہ کھلے دل سے روتا ہے۔ وہ اپنے آنسو خدا سے نہیں چھپاتا۔ وہ جانتا ہے، رونا خدا کے سامنے لے جانا چاہیے۔
نوحہ 2 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
لکھنے والے نے کہا، "اُٹھ، اپنے دل کی ہر بات پانی کی طرح رب کے حضور اُنڈیل دے۔" یہ بہت اچھی بات ہے۔ اپنے ہاتھ خدا کی طرف اُٹھاؤ۔ بچوں کے لئے دعا کرو، وہ کہتا ہے۔ خدا سنتا ہے۔ بہت بعد میں، یسوع بھی آیا۔ یسوع بھی روتا تھا۔ یسوع بھوکوں کو روٹی دیتا تھا۔ یسوع نے کہا، چھوٹے بچوں کو میرے پاس آنے دو۔ خدا اپنے لوگوں کے آنسو دیکھتا ہے۔ وہ کبھی منہ نہیں پھیرتا۔ وہ ہمیشہ سنتا ہے۔
چھوٹے بچے نوحہ 2 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
جب تم بہت اداس ہو، تم کیا کرتے ہو؟ تم اپنی ماں کے پاس جاتے ہو، نا؟ تم اُسے بتاتے ہو، "مجھے بھوک لگی ہے۔" یا تم کہتے ہو، "مجھے ڈر لگتا ہے۔" خدا سے بھی ایسے ہی بات کرو۔ اُسے بتاؤ جو تمہارے دل میں ہے۔ تم خدا سے کہو، "میری مدد کر۔" خدا سنتا ہے۔ وہ کبھی منہ نہیں پھیرتا۔
نوحہ 2 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
پیارے خدا، کبھی کبھی میں بہت اداس ہوتا ہوں۔ میرا دل بھی روتا ہے۔ تُو میرے آنسو دیکھتا ہے۔ تُو کبھی مجھ سے منہ نہیں پھیرتا۔ تُو مجھے کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ میرے پاس آ، اور مجھے تھام لے۔ آمین۔

دوسروں نے کیا پایا

بصیرت ادارتی کو آیت 10

شہر کے بزرگ جو کبھی پھاٹک پر بیٹھ کر فیصلے سناتے تھے، اب زمین پر خاموش بیٹھے ہیں: "صیون بیٹی کے بزرگ خاموشی سے زمین پر بیٹھ گئے ہیں۔" جن کے پاس ہر سوال کا جواب تھا، اُن کے پاس اب لفظ نہیں رہے۔ کبھی کبھی غم اِتنا گہرا ہوتا ہے کہ تشریح کرنا بےادبی لگتی ہے۔ کیا تُو بھی کسی کے دُکھ کے پاس چپ چاپ بیٹھ سکتا ہے، بغیر کچھ سمجھائے؟

بصیرت ادارتی کو آیت 17

یروشلم کی دیواریں گرتے وقت ماتم کرنے والے کو ایک بات سمجھ آئی: ”جو کچھ اُس نے فرمایا تھا اُسے اُس نے پورا کیا، وہ کچھ جس کا حکم اُس نے قدیم زمانے میں دیا تھا۔“ صدیوں سے خدا خبردار کر رہا تھا، اور لوگ سمجھتے رہے کہ یہ محض باتیں ہیں۔ سوچ، کیا خدا کی کوئی بات تُو بھی سالوں سے شور سمجھ کر نظرانداز کر رہا ہے؟ مگر یاد رکھ، جو اپنی تنبیہ پوری کرتا ہے وہ اپنے رحم کے وعدے بھی ضرور پورے کرے گا۔

بصیرت ادارتی کو آیت 16

یروشلم کے دشمن اُس کی راکھ کے سامنے کھڑے ہو کر کہتے ہیں، ”ہم نے اُسے ہڑپ کر لیا ہے۔ لو، یہ وہی دن ہے جس کے انتظار میں ہم رہے۔“ کتنا کڑوا ہے کہ کوئی برسوں سے تیری تباہی کا دن گِنتا رہا ہو۔ لیکن غور کر: شہر اُن کے ہاتھ سے نہیں گرا تھا۔ جو تجھ پر ہنستے ہیں، وہ تیری کہانی کے مالک نہیں۔ تیرا معاملہ اُس کے ساتھ ہے جو توڑتا بھی ہے اور بحال بھی کرتا ہے۔

ذرا بڑے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟

ہمارے پاس ابتدائی عمر (7 تا 12) اور نوعمروں (12 اور اس سے اوپر) کے لیے بھی خاص نسخے موجود ہیں۔

بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں

For parents and teachers: خاص طور پر 3 سے 6 سال کے بچوں کو بلند آواز سے پڑھ کر سنانے کے لیے لکھی گئی۔ اسے اپنے بچے کے ساتھ گفتگو کے آغاز کے طور پر استعمال کریں، واحد ذریعے کے طور پر نہیں۔ This explanation is generated automatically by language models. While we strive for theological soundness, the software can make mistakes.

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network