3 سے 5 سال کے بچے کے لیے

احبار 22

چھوٹے بچے اور اسکول سے پہلے کے بچے (3-5 سال) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی

بائبل

The Explanation

ایک دن خداوند نے موسیٰ سے بات کی۔ خداوند نے کہا، ہارون اور اُس کے بیٹوں کو بتاؤ۔ اُن کے پاس خاص کھانا تھا۔ بہت خاص۔ یہ کھانا خدا کے لئے مخصوص تھا۔ اِس لئے ہارون کے بیٹوں کو پہلے ہاتھ دھونے تھے۔ پاک صاف ہونا تھا۔ اگر ہاتھ گندے ہوتے تو وہ خاص کھانا نہیں کھا سکتے تھے۔ پہلے نہانا، پھر انتظار کرنا، پھر کھانا۔

پھر خداوند نے ایک اور بات کہی۔ لوگ جانور لے کر آتے تھے۔ بھیڑ، بکری، بیل۔ یہ جانور خداوند کو دیا جاتا تھا۔ لیکن ہر جانور نہیں چلتا تھا۔ جانور کو تندرست ہونا تھا۔ پورا پورا۔ اندھا نہیں، لنگڑا نہیں، زخمی نہیں۔ ایک صاف ستھرا، خوبصورت جانور۔ ایسا جانور جو بہترین ہو۔

What Does This Mean؟

سوچو، اگر تم کسی کو تحفہ دو، کیسا تحفہ دو گے؟ ٹوٹا ہوا کھلونا؟ یا اچھا، نیا کھلونا؟ بالکل، اچھا کھلونا۔ اسرائیلی لوگ بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ جب وہ خداوند کو جانور دیتے تھے، تو بہترین جانور دیتے تھے۔ کوئی کمزور یا بیمار جانور نہیں۔ کیونکہ خداوند خاص ہے۔ اُسے بہترین چیز دینی تھی۔ اور خوشی سے دینی تھی، منہ بنا کر نہیں۔

The Common Thread

بہت دن بعد، ایک اور لیلہ آیا۔ ایک چھوٹا سا میمنا۔ بالکل بےعیب۔ بالکل صاف۔ یہ میمنا یسوع تھے۔ خدا کے بیٹے۔ وہ بھی بالکل پاک تھے، بالکل اچھے۔ جیسے وہ جانور بےعیب ہوتا تھا، یسوع بھی ایسے ہی تھے۔ کوئی داغ نہیں، کوئی خرابی نہیں۔ اور یسوع نے خود کو خوشی سے دیا۔ محبت سے دیا۔ یہ کہانی ہمیں یسوع کی طرف لے جاتی ہے۔

For You

تم بھی خداوند کو کچھ دے سکتے ہو۔ کیا؟ اپنا دل۔ اپنی خوشی۔ اپنی دعا۔ جب تم دعا کرو، پورے دل سے کرو۔ جب تم خداوند کے گیت گاؤ، خوشی سے گاؤ۔ منہ بنا کر نہیں، جیسے مجبوری ہو۔ خداوند کو تمہاری سب سے اچھی چیز پسند ہے۔ تمہاری مسکراہٹ، تمہاری محبت۔

Talk About It – تم خداوند کو کیا دینا چاہو گے؟ – یسوع کیسے بالکل اچھے اور بےعیب تھے؟

Praying Together

پیارے خداوند، میں آپ کو اپنا دل دیتا ہوں۔ خوشی سے، منہ بنا کر نہیں۔ شکریہ کہ یسوع بالکل اچھے تھے۔ مجھے بھی آپ سے محبت کرنا سکھائیں۔ آمین۔

یہ بائبل کہانی شیئر کریں

دوسرے والدین یا اساتذہ کے لیے جنہیں یہ مددگار لگ سکتا ہے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

احبار 22 کے بارے میں سوالات

ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔

احبار 22 کس بارے میں ہے؟
ایک دن خداوند نے موسیٰ سے بات کی۔ خداوند نے کہا، ہارون اور اُس کے بیٹوں کو بتاؤ۔ اُن کے پاس خاص کھانا تھا۔ بہت خاص۔ یہ کھانا خدا کے لئے مخصوص تھا۔ اِس لئے ہارون کے بیٹوں کو پہلے ہاتھ دھونے تھے۔ پاک صاف ہونا تھا۔ اگر ہاتھ گندے ہوتے تو وہ خاص کھانا نہیں کھا سکتے تھے۔ پہلے نہانا، پھر انتظار کرنا، پھر کھانا۔
احبار 22 کیا کہتا ہے؟
پھر خداوند نے ایک اور بات کہی۔ لوگ جانور لے کر آتے تھے۔ بھیڑ، بکری، بیل۔ یہ جانور خداوند کو دیا جاتا تھا۔ لیکن ہر جانور نہیں چلتا تھا۔ جانور کو تندرست ہونا تھا۔ پورا پورا۔ اندھا نہیں، لنگڑا نہیں، زخمی نہیں۔ ایک صاف ستھرا، خوبصورت جانور۔ ایسا جانور جو بہترین ہو۔
احبار 22 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
سوچو، اگر تم کسی کو تحفہ دو، کیسا تحفہ دو گے؟ ٹوٹا ہوا کھلونا؟ یا اچھا، نیا کھلونا؟ بالکل، اچھا کھلونا۔ اسرائیلی لوگ بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ جب وہ خداوند کو جانور دیتے تھے، تو بہترین جانور دیتے تھے۔ کوئی کمزور یا بیمار جانور نہیں۔ کیونکہ خداوند خاص ہے۔ اُسے بہترین چیز دینی تھی۔ اور خوشی سے دینی تھی، منہ بنا کر نہیں۔
چھوٹے بچے احبار 22 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
بہت دن بعد، ایک اور لیلہ آیا۔ ایک چھوٹا سا میمنا۔ بالکل بےعیب۔ بالکل صاف۔ یہ میمنا یسوع تھے۔ خدا کے بیٹے۔ وہ بھی بالکل پاک تھے، بالکل اچھے۔ جیسے وہ جانور بےعیب ہوتا تھا، یسوع بھی ایسے ہی تھے۔ کوئی داغ نہیں، کوئی خرابی نہیں۔ اور یسوع نے خود کو خوشی سے دیا۔ محبت سے دیا۔ یہ کہانی ہمیں یسوع کی طرف لے جاتی ہے۔
احبار 22 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
تم بھی خداوند کو کچھ دے سکتے ہو۔ کیا؟ اپنا دل۔ اپنی خوشی۔ اپنی دعا۔ جب تم دعا کرو، پورے دل سے کرو۔ جب تم خداوند کے گیت گاؤ، خوشی سے گاؤ۔ منہ بنا کر نہیں، جیسے مجبوری ہو۔ خداوند کو تمہاری سب سے اچھی چیز پسند ہے۔ تمہاری مسکراہٹ، تمہاری محبت۔

دوسروں نے کیا پایا

بصیرت ادارتی کو آیت 30

شکرگزاری کی قربانی کے بارے میں حکم تھا، ”اُسے اُسی دن کھا لیا جائے۔ اُس میں سے کچھ بھی اگلی صبح تک باقی نہ رہے۔“ ایک آدمی اکیلا پورا جانور ایک دن میں نہیں کھا سکتا تھا، اِس لیے اُسے پڑوسیوں اور غریبوں کو بلانا پڑتا تھا۔ شکر کو ذخیرہ نہیں کیا جا سکتا، اُسے بانٹنا پڑتا ہے۔ آج جس چیز کے لیے تُو خدا کا شکر کرتا ہے، کیا کوئی اَور بھی اُس میں شریک ہو رہا ہے؟

بصیرت ادارتی کو آیت 29

شکرگزاری کی قربانی بھی بےعیب ہونی تھی۔ یعنی خدا کا شکر ادا کرنا بھی لاپروائی سے نہیں ہو سکتا تھا۔ "جب تم رب کو شکرگزاری کی قربانی پیش کرو تو اُسے یوں پیش کرنا کہ تم منظور ہو جاؤ۔" سوچ: کیا میرا شکر بچا کھچا ہے، تھکے ہوئے دل کی ایک رسمی دعا؟ یا میں اپنا بہترین وقت اور توجہ اُس کے حضور لاتا ہوں جس نے مجھے سب کچھ دیا؟

ذرا بڑے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟

ہمارے پاس ابتدائی عمر (6-12) اور نوجوانوں (13 سال اور اس سے بڑے) کے لیے بھی خاص نسخے موجود ہیں۔

بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں