ملاکی 1
چھوٹے اور اسکول سے پہلے کے بچے (3 تا 6 سال) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
وضاحت
بہت پہلے ایک آدمی رہتا تھا۔ اُس کا نام ملاکی تھا۔
ایک دن خدا نے ملاکی سے بات کی۔ خدا نے کہا: ”جاؤ، میری باتیں لوگوں کو سناؤ۔“
ملاکی نے خوب غور سے سُنا۔ پھر وہ لوگوں کے پاس گیا۔
خدا کی پہلی بات بہت ہی پیاری تھی۔ خدا نے کہا: ”تم مجھے پیارے ہو۔“
سوچو ذرا! خدا خود یہ کہتا ہے۔ تم مجھے پیارے ہو۔
لیکن لوگوں نے مُنہ بنا لیا۔ وہ بولے: ”کہاں؟ ہمیں تو کچھ نظر نہیں آتا۔“
اب چلو، خدا کے گھر کے اندر چلیں۔
وہاں ایک بڑی سی قربان گاہ تھی۔ اُس پر آگ جلتی تھی۔ دھواں اُوپر، اُوپر، آسمان کی طرف اُٹھتا تھا۔ خوشبو ہر طرف پھیل جاتی تھی۔
لوگ وہاں تحفے لاتے تھے۔ اپنے ریوڑ سے ایک بھیڑ یا مینڈھا۔ یہ خدا کے لیے تحفہ تھا۔
اور اب دھیان سے سنو۔ کیونکہ کچھ ہوا۔
ایک آدمی اپنے ریوڑ کے پاس گیا۔ وہاں ایک موٹا، مضبوط مینڈھا تھا۔ بہت اچھا، بہت خوبصورت۔
اور وہاں ایک اور جانور بھی تھا۔ وہ بیمار تھا۔ وہ لنگڑاتا تھا۔ اُس کی آنکھیں دیکھ نہیں سکتی تھیں۔
آدمی نے سوچا۔ پھر اُس نے کہا: ”اچھا مینڈھا میں اپنے پاس رکھوں گا۔ بیمار جانور خدا کو دے دوں گا۔ کوئی بات نہیں۔“
اور وہ بیمار جانور کو قربان گاہ پر لے گیا۔
اِس کا مطلب کیا ہے؟
خدا نے یہ سب دیکھا۔ اور خدا کو دُکھ ہوا۔
خدا نے ملاکی سے کہا: ”ذرا سوچو۔ اگر تم بادشاہ کو ایسا تحفہ دیتے، تو کیا بادشاہ خوش ہوتا؟ نہیں۔ ہرگز نہیں!“
پھر خدا نے کہا: ”میں بڑا بادشاہ ہوں۔“
خدا بڑا بادشاہ ہے۔ اور وہ ہمارا باپ بھی ہے۔ وہ ہم سے محبت کرتا ہے۔
اُس کے لیے بچا ہوا، ٹُوٹا ہوا تحفہ اچھا نہیں لگتا۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم اپنا سب سے اچھا دیں۔
سنہری ڈور
خدا نے ایک اور بات بھی کہی۔ ایک بہت خوشی والی بات۔
خدا نے کہا: ”پوری دنیا میں میرا نام عظیم ہے۔“
مشرق میں، جہاں سورج نکلتا ہے۔ مغرب میں، جہاں سورج چھپ جاتا ہے۔ ہر جگہ! یہاں بھی، تمہارے گھر میں بھی۔
اور جانتے ہو، خدا نے کیا کیا؟
خدا نے کبھی بچا ہوا تحفہ نہیں دیا۔ اُس نے اپنا سب سے اچھا دیا۔ اُس نے خداوند یسوع مسیح کو بھیجا۔
خدا نے کچھ بھی اپنے پاس نہیں رکھا۔ اُس نے سب دے دیا۔ تمہارے لیے۔
تیرے لیے
تُو بھی خدا کو تحفے دے سکتا ہے۔
جب تُو گاتا ہے، تو خوب زور سے گا۔ جب تُو دعا کرتا ہے، تو دل سے کر۔
اور جب تُو بسکٹ بانٹتا ہے، تو ٹُوٹا ہوا ٹکڑا نہ دے۔ سب سے اچھا والا دے۔
بتا ذرا، تُو خدا کو آج کیا دے سکتا ہے؟
بات چیت
تیری سب سے پسندیدہ چیز کون سی ہے؟ کیا تُو وہ کسی کو دے سکتا ہے؟
خدا نے کہا: ”تم مجھے پیارے ہو۔“ یہ سُن کر تجھے کیسا لگتا ہے؟
مل کر دعا
پیارے خدا، تُو بڑا بادشاہ ہے۔
اور میں تجھے پیارا ہوں۔ شکریہ!
میں تجھے سب سے اچھا دینا چاہتا ہوں۔
تُو مجھے سکھا دے۔ آمین۔
ملاکی 1 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
ملاکی 1 کس بارے میں ہے؟
ملاکی 1 کیا کہتا ہے؟
ملاکی 1 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
چھوٹے بچے ملاکی 1 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
ملاکی 1 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
تم کہتے ہو، ’ہائے، کتنی زحمت ہے!‘ اور حقارت سے ناک چڑھاتے ہو۔“ قربانی اب بھی پیش ہو رہی تھی، ہاتھ اب بھی اُٹھ رہے تھے، مگر دل تھک چکا تھا۔ خدا نے بیمار جانور سے پہلے وہ آہ سنی جو اُسے دیتے وقت نکلی تھی۔ ذرا سوچ، تیری دعا اور تیری عبادت کس لہجے میں ہوتی ہے؟ وہ تیرے وقت سے زیادہ تیری خوشی کا بھوکا ہے۔
ذیل میں رب کا وہ کلام ہے جو اُس نے ملاکی کی معرفت اسرائیل پر نازل کیا۔“
جلاوطنی سے لوٹی ہوئی ایک تھکی ہاری قوم، ادھوری ہیکل، ماند پڑتا ایمان۔ اور پھر بھی خدا خاموش نہیں رہتا۔ وہ ایک آدمی کو چنتا ہے اور اُس کے ذریعے بولتا ہے۔ سوچ، تیری مایوسی خدا کو تجھ سے بولنے سے نہیں روکتی۔ سوال یہ ہے کہ کیا تُو آج سننے کو تیار ہے؟
تم میری قربان گاہ پر ناپاک روٹی چڑھاتے ہو۔ تم پوچھتے ہو، ’ہم نے کس طرح تجھے ناپاک کیا ہے؟‘“ سب سے دُکھ کی بات یہ ہے کہ اُنہیں خبر ہی نہ تھی۔ بےدلی چپکے سے آتی ہے۔ دن کا بچا ہوا وقت، تھکی ہوئی دعا، آدھے دل کی عبادت۔ خدا ناراض نہیں، بس پوچھ رہا ہے کہ کیا اُس کی میز تیرے لیے واقعی قیمتی ہے؟
مَیں نے یعقوب کو پیار کیا جبکہ عیسَو سے نفرت کی۔“ یہ سخت الفاظ ایک سوال کے جواب میں آتے ہیں: ”تُو نے کس طرح ہم سے محبت کا اظہار کیا؟“ اسرائیل بھول چکا تھا کہ وہ کیوں زندہ بچا۔ یعقوب عیسَو سے بہتر نہیں تھا، صرف چنا گیا تھا۔ آج بھی جب دل شک کرتا ہے، ٹھہر کر دیکھ کہ تُو کہاں سے بچایا گیا۔ محبت کمائی نہیں گئی، دی گئی ہے۔
ذرا بڑے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟
ہمارے پاس ابتدائی عمر (7 تا 12) اور نوعمروں (12 اور اس سے اوپر) کے لیے بھی خاص نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں