نحمیاہ 12
چھوٹے اور اسکول سے پہلے کے بچے (3 تا 6 سال) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
وضاحت
یروشلم میں ایک بڑی دیوار بنی تھی۔ بہت اونچی، بہت مضبوط۔ لوگوں نے بڑی محنت سے اُسے بنایا تھا۔ اب وہ دیوار تیار تھی۔
اُس دن سب لوگ جمع ہوئے۔ امام، لاوی، بچے، بڑے، سب۔ کچھ لوگوں کے ہاتھ میں جھانجھ تھے۔ کچھ کے ہاتھ میں ستار۔ کچھ کے پاس تُرم، وہ لمبی چمکیلی پھونکنے والی چیز۔
دو ٹولیاں بنیں۔ ایک ٹولی دیوار پر چڑھی اور ایک طرف چل پڑی۔ دوسری ٹولی دوسری طرف چل پڑی۔ عزرا سب سے آگے آگے چل رہا تھا۔ وہ لوگوں کو راہ دکھا رہا تھا۔
سب گاتے گاتے چلے۔ تُرم بجتے رہے۔ جھانجھ بجتے رہے۔ آواز اتنی بلند ہوئی کہ دور دور تک سنائی دی۔
اِس کا کیا مطلب ہے؟
لوگ خوش تھے۔ بہت خوش۔ کیوں؟ کیونکہ خدا نے اُن کی مدد کی تھی۔ دیوار بن گئی تھی۔ شہر پھر سے محفوظ تھا۔
اِس لیے سب نے مل کر شکر ادا کیا۔ گانے گائے۔ باجے بجائے۔ خدا کا شکر کرنا بھی خوشی کی طرح ہوتا ہے۔ جیسے جب تمہیں کوئی اچھا تحفہ ملے، اور تم خوشی سے اُچھلو۔ ایسے ہی لوگ اُچھل رہے تھے، گا رہے تھے۔
قربانیاں بھی چڑھائی گئیں۔ جانور۔ یہ اُن کا خاص طریقہ تھا خدا کو "شکریہ" کہنے کا۔
مشترک لڑی
یاد ہے داؤد بادشاہ کون تھا؟ وہی جس نے پہلے یہ گانے اور باجے ترتیب دیے تھے۔ اب اُس کے بہت بعد، یہ لوگ وہی گانے گا رہے تھے۔
خدا نے اپنے لوگوں کو کبھی نہیں بھلایا۔ وہ ہمیشہ ساتھ رہا۔ جیسے وہ داؤد کے ساتھ تھا، ویسے ہی اِن لوگوں کے ساتھ تھا۔ خدا اپنے لوگوں سے پیار کرتا رہتا ہے، سال پر سال، نسل پر نسل۔
اور بعد میں، خداوند یسوع مسیح آئے۔ وہ بھی خدا کے گھر میں گئے۔ وہ بھی خدا کا شکر کرتے تھے۔ خدا کی خوشی ہمیشہ سے لوگوں کے دلوں میں رہی ہے۔
تمہارے لیے
کیا تم نے کبھی کسی چیز پر بہت خوشی منائی؟ شاید ناچے ہو، شاید تالیاں بجائی ہوں۔
خدا کو بھی شکریہ کہا جا سکتا ہے۔ نہ صرف باتوں سے، بلکہ ناچ کر، گا کر، تالی بجا کر بھی۔
آج تم بھی خدا کو "شکریہ" کہہ سکتے ہو۔ چھوٹی سی بات کے لیے بھی۔
بات کرو
تمہیں کس بات پر بہت خوشی ہوتی ہے؟
کیا تم بھی خدا کو شکریہ کہہ سکتے ہو؟
دعا
پیارے خدا، آپ کا شکریہ۔ آپ ہمارے ساتھ ہیں۔ ہم آپ سے خوش ہیں۔ ہمیں بھی گانا آتا ہے۔ آمین۔
نحمیاہ 12 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
نحمیاہ 12 کس بارے میں ہے؟
نحمیاہ 12 کیا کہتا ہے؟
نحمیاہ 12 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
چھوٹے بچے نحمیاہ 12 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
نحمیاہ 12 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہو کر مردِ خدا داؤد کی ہدایت کے مطابق حمد و ثنا کے گیت گاتے تھے“۔ حمد اکیلے نہیں گائی جاتی تھی۔ ایک گروہ گاتا، دوسرا جواب دیتا، اور دونوں کو دوسرے کی آواز سننی پڑتی تھی۔ خدا نے عبادت کو ہی ایسے ترتیب دیا کہ ہم ایک دوسرے کے بغیر پوری نہ ہو۔ کیا آپ کے پاس کوئی ایسا ہے جس کے ساتھ مل کر آپ گاتے ہیں؟ یا آپ نے تنہا گانا سیکھ لیا ہے؟
امریاہ، ملّوک، حطّوش" ان تین ناموں کے ساتھ کوئی کہانی درج نہیں، نہ کوئی معجزہ، نہ کوئی قربانی کا ذکر۔ صرف نام۔ لیکن خدا نے انہیں اپنی کتاب میں لکھوا دیا، کیونکہ وہ لوٹ آئے تھے اور اُس کے گھر کی خدمت کرتے رہے۔ تیری وفاداری بھی شاید کسی کو نظر نہ آئے۔ پھر بھی وہ اُسے لکھ رہا ہے۔
حارِم کے خاندان کا عدنا، مرایوت کے خاندان کا خِلقی۔" بس دو نام، نہ کوئی کہانی، نہ کوئی کارنامہ۔ پھر بھی خدا نے انہیں اپنے کلام میں لکھوا دیا۔ تیری خدمت شاید کسی کو نظر نہ آئے، تیرا نام کسی تختی پر نہ ہو۔ مگر جو فہرست آسمان پر لکھی جا رہی ہے، اُس میں کوئی نام بھولا نہیں جاتا۔
فصیل تو مکمل ہو چکی تھی، پتھر اپنی جگہ جم چکے تھے، مگر کام ابھی ادھورا تھا۔ لاویوں کو اُن کی بستیوں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر بلایا گیا تاکہ "وہ خوشی مناتے ہوئے شکرگزاری کے گیت گائیں اور جھانجھ، ستار اور سرود بجائیں۔" سوچیں، آپ کی زندگی میں بھی کوئی دیوار پوری ہوئی ہے؟ کیا آپ نے شکر کا گیت گانے والوں کو بلایا، یا خاموشی سے آگے بڑھ گئے؟
ذرا بڑے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟
ہمارے پاس ابتدائی عمر (7 تا 12) اور نوعمروں (12 اور اس سے اوپر) کے لیے بھی خاص نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں