۱-توارِیخ 25
نوجوان (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
The Explanation
یہ باب پہلی نظر میں محض ایک فہرست لگتا ہے، ناموں اور گروہوں کی ایک لمبی لسٹ۔ مگر جب آپ غور سے پڑھیں تو اس کے پیچھے ایک گہری بات چھپی ہے۔ داؤد بادشاہ نے، جو خود ایک شاعر اور موسیقار تھا، اپنی زندگی کے آخری دنوں میں خداوند کی عبادت کے لئے ایک باقاعدہ نظام قائم کیا۔ اُس نے آسف، ہیمان اور یدوتون کے خاندانوں کو الگ کیا تاکہ وہ سرود، ستار اور جھانجھ بجائیں۔ یہ لفظ غور طلب ہے: "نبوّت کی روح میں۔" یعنی یہ محض سُر تال نہیں تھی، یہ ایک روحانی خدمت تھی جو خدا کی طرف سے آتی تھی اور خدا کی طرف لے جاتی تھی۔
ہیمان کے چودہ بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں، اور خدا نے خود اُس سے وعدہ کیا تھا کہ اُس کی طاقت کو بڑھائے گا۔ کُل ملا کر دو سو اٹھاسی تربیت یافتہ گلوکار اور موسیقار تھے، اور سب کے سب "ماہر" کہلاتے ہیں۔ یہ کوئی شوقیہ گروہ نہ تھا۔ پھر ان سب کو قرعہ کے ذریعے چوبیس گروہوں میں تقسیم کیا گیا، ہر گروہ میں بارہ آدمی، اور اس تقسیم میں جوان، بوڑھے، اُستاد اور شاگرد سب کے ساتھ ایک ہی سلوک ہوا۔ کسی کو خاندانی رشتے یا تجربے کی بنیاد پر اونچا درجہ نہیں دیا گیا۔
What Does This Mean?
یہاں تین باتیں ہمیں کچھ بتا رہی ہیں جو آج بھی اہم ہیں۔ پہلی یہ کہ عبادت خدا کے لئے کوئی سرسری کام نہیں تھا۔ اسرائیل کی موسیقی محض جذباتی ماحول بنانے کے لئے نہیں تھی، یہ ایک نبوّتی خدمت تھی، یعنی خدا کی طرف سے سُنی اور کہی جانے والی بات۔ خدا کے لوگ جب گاتے تھے تو وہ خدا کی طرف سے کچھ سنتے اور بولتے تھے۔ عبادت میں سنجیدگی اور مہارت دونوں کی ضرورت تھی۔
دوسری بات، یہ نظام بہت منظم تھا۔ خدا افراتفری سے راضی نہیں ہوتا۔ اُس کی عبادت میں ترتیب، تربیت اور ذمہ داری کی ضرورت ہے۔ یہ محض "جو دل چاہے کرو" کا معاملہ نہیں تھا۔
تیسری اور شاید سب سے چبھتی ہوئی بات یہ ہے کہ قرعہ ڈالا گیا اور جوان اور بوڑھے، اُستاد اور شاگرد کے درمیان کوئی فرق نہ رکھا گیا۔ سوچیں کہ اس دور میں عمر اور تجربے کی بہت قدر تھی، جیسے آج بھی ہے۔ مگر خدا کے گھر میں ایک نوجوان موسیقار کو وہی عزت ملی جو ایک بزرگ استاد کو ملی۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا کے نزدیک ہماری قدر ہمارے تجربے یا عمر سے نہیں بلکہ ہماری وفاداری اور بلاوے سے طے ہوتی ہے۔
The Common Thread
یہ باب بظاہر پرانے عہد کی عبادت گاہ کی تفصیل ہے، مگر اس کے پیچھے ایک بڑی کہانی چل رہی ہے۔ خدا اپنی مخلوق سے تعلق رکھنا چاہتا ہے، اور یہ تعلق محض قربانی اور رسموں سے نہیں بلکہ گیت اور موسیقی سے بھی ظاہر ہوتا ہے، کیونکہ خدا خود خوبصورتی اور ہم آہنگی کا خالق ہے۔ ہیمان کو "غیب بین" کہا گیا ہے، یعنی وہ خدا کی باتوں کو دیکھ اور سن سکتا تھا۔ موسیقی اور نبوّت کا یہ ملاپ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خدا کی حقیقت کو صرف عقل سے نہیں، دل اور حواس سے بھی چکھا جا سکتا ہے۔
آگے چل کر، انجیل میں ہم دیکھتے ہیں کہ خداوند یسوع مسیح خود عبادت کا مرکز بن گئے۔ وہ نہ صرف نبوّت کرنے والے تھے بلکہ خود کلامِ خدا تھے۔ اور مکاشفہ کی کتاب میں ہم پڑھتے ہیں کہ آسمان میں بھی گیت گائے جاتے ہیں، ہر قبیلے اور زبان سے لوگ خدا کے تخت کے سامنے جمع ہو کر گاتے ہیں۔ یہ باب اُس آسمانی عبادت کی ایک زمینی جھلک تھی۔ آسف، ہیمان اور یدوتون کے موسیقار اُس دن کی تیاری کر رہے تھے جب ہر قوم، ہر عمر کے لوگ، خداوند کے سامنے ایک ساتھ گائیں گے، بغیر کسی درجہ بندی کے۔
For You
آپ شاید سوچیں کہ آپ کے پاس کوئی خاص "ہنر" نہیں ہے جو خدا کے کام آئے۔ مگر یہ باب دکھاتا ہے کہ خدا عام ہنر کو بھی مقدس مقصد دے دیتا ہے۔ سرود بجانا کوئی مقدس فعل نہیں لگتا، مگر جب یہ خدا کی خدمت کے لئے وقف ہو جاتا ہے تو نبوّت بن جاتا ہے۔ آپ کی صلاحیت، خواہ وہ موسیقی ہو، لکھنا ہو، بات کرنا ہو یا کچھ اور، اگر خدا کے لئے وقف ہو، تو وہ بھی معمولی نہیں رہتی۔
مگر اس کے ساتھ ایک سخت سوال بھی جڑا ہے۔ آپ کی نسل کو ہر وقت اپنی صلاحیت دکھانے، خود کو ممتاز ثابت کرنے کا دباؤ ملتا ہے۔ یہاں تربیت اور مہارت کی قدر ضرور کی گئی، مگر آخر میں قرعہ ڈالا گیا۔ یعنی نتیجہ خدا کے ہاتھ میں تھا، انسانی مقابلے یا میرٹ کی جنگ میں نہیں۔ کیا آپ اپنی خدمت اور اپنے مقام کو خدا کے ہاتھ میں چھوڑنے کو تیار ہیں، بغیر یہ ثابت کیے کہ آپ سب سے بہتر ہیں؟ یہ سوال آپ کی عبادت، دوستی اور مستقبل کے فیصلوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
Talk About It
اگر خدا کی عبادت میں جوان اور بوڑھے، اُستاد اور شاگرد کے ساتھ ایک جیسا سلوک ہوا، تو ہمارے چرچوں اور دلوں میں کہاں ابھی بھی درجہ بندی موجود ہے؟
آپ کی زندگی میں کون سی چیز ہے جو "معمولی" لگتی ہے مگر خدا کے لئے وقف ہو کر کچھ بڑا بن سکتی ہے؟
Praying Together
اے خداوند، تُو نے سُروں اور تال کو بھی اپنی خدمت کا ذریعہ بنایا۔ ہمیں سکھا کہ ہماری چھوٹی چھوٹی صلاحیتیں بھی تیری عبادت بن سکتی ہیں۔ ہمیں غرور سے، اور دوسروں کو کم سمجھنے سے بچا۔ ہمیں یہ ایمان دے کہ ہمارا مقام تیرے ہاتھ میں محفوظ ہے۔ آمین۔
۱-توارِیخ 25 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
۱-توارِیخ 25 کس بارے میں ہے؟
۱-توارِیخ 25 کیا کہتا ہے؟
۱-توارِیخ 25 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
نوجوان ۱-توارِیخ 25 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
۱-توارِیخ 25 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
نواں قرعہ متنیاہ کے نام نکلا۔ اُس کے بیٹے اور بھائی مل کر 12 افراد تھے۔“ بس اتنا ہی۔ نہ کوئی گیت کا بول، نہ کوئی کہانی۔ صرف نام اور گنتی۔ مگر یہ نام خدا کی کتاب میں لکھا گیا، کیونکہ وہ ہیکل میں گاتا تھا۔ تُو بھی سوچتا ہے کہ تیری خدمت کسی کو نظر نہیں آتی؟ آسمان پر تیری باری بھی لکھی ہوئی ہے۔
سولھواں قرعہ حننیاہ اور اُس کے بیٹوں اور بھائیوں پر پڑا۔ وہ 12 افراد تھے۔“
بس اِتنا ہی۔ نہ کوئی قصہ، نہ کوئی گیت جو محفوظ رہا۔ چوبیس گروہوں میں سے سولھویں نمبر پر گانے والا ایک خاندان۔ مگر خدا نے اُن کا نام لکھوا دیا۔
تیری خدمت بھی کسی کو یاد نہ رہے، پھر بھی وہ لکھی جا چکی ہے۔ حننیاہ کے نام کا مطلب ہے: ”رب مہربان ہے۔
اکیسواں پرچہ ہوتیر کے نام نکلا، اُس کے بیٹوں اور بھائیوں سمیت بارہ آدمی۔ نہ پہلا نمبر، نہ آخری۔ بس ایک باری جو کسی کو یاد نہیں رہی۔ مگر خدا نے اُس کا نام اپنے کلام میں لکھوا دیا۔ تُو بھی شاید اُس جگہ کھڑا ہے جہاں کوئی تالی نہیں بجاتا۔ پھر بھی تیری باری آسمان کے رجسٹر میں درج ہے۔ گاتا رہ۔
چھوٹے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور پرائمری عمر (7 تا 12 سال) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں