۱-کُرِنتِھیوں 3
نوجوان (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
پہلا کرنتھیوں 3
اصل مطلب
پولس رسول کرنتھس کی کلیسیا کو ایک ایسی بات کہہ رہے ہیں جو سننے میں سخت لگتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں تمہیں روحانی لوگوں کی طرح گہری باتیں نہیں سکھا سکا، کیونکہ تم ابھی تک مسیح میں چھوٹے بچے ہو۔ دودھ پلایا، ٹھوس غذا نہیں دی، کیونکہ تم اس کے قابل نہیں تھے۔ اور پھر ایک اور سخت جملہ آتا ہے، ابھی تک نہیں ہو۔ یعنی وقت گزر گیا ہے، مگر یہ لوگ روحانی طور پر بڑے نہیں ہوئے۔
اس کی نشانی کیا ہے؟ حسد اور جھگڑا۔ گروہ بندی۔ کوئی کہتا ہے میں پولس کا پیروکار ہوں، کوئی کہتا ہے میں اپلّوس کا۔ یہ لوگ اپنے پسندیدہ لیڈروں کے نام پر ٹیمیں بنا رہے تھے، جیسے آج کوئی کسی مشہور مبلغ یا چرچ کے مقرر کے پیچھے بلائنڈ فالوونگ کرتا ہے۔ پولس اس پوری سوچ کو رد کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، اپلّوس کیا حیثیت رکھتا ہے، اور پولس کیا؟ دونوں محض نوکر ہیں۔ میں نے پودا لگایا، اپلّوس نے پانی دیا، مگر اُگانے والا اللہ تھا۔ نہ لگانے والے کی عظمت ہے نہ پانی دینے والے کی، خدا ہی سب کچھ ہے۔
پھر پولس تصویر بدلتے ہیں۔ کرنتھس کی کلیسیا کو وہ عمارت کہتے ہیں جس کی بنیاد رکھی جا چکی ہے، اور وہ بنیاد عیسیٰ مسیح ہیں۔ اس کے علاوہ کوئی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی۔ اب سوال یہ ہے کہ اس بنیاد پر لوگ کیا تعمیر کر رہے ہیں۔ سونا، چاندی، قیمتی پتھر، یا لکڑی، سوکھی گھاس، بھوسا۔ ایک دن آگ آئے گی، اور وہ آگ ہر کام کی حقیقت کھول دے گی۔ جو کام ٹکے گا اسے اجر ملے گا، جو کام جل جائے گا اس کا نقصان ہوگا، مگر وہ شخص خود بچ جائے گا، اگرچہ جلتے جلتے۔
آخر میں پولس ایک اور گہری بات کہتے ہیں۔ تم خود اللہ کا گھر ہو، اور اللہ کا روح تم میں رہتا ہے۔ اس لیے جو اس گھر کو تباہ کرنے کی کوشش کرے، خدا اسے تباہ کرے گا۔ اور آخر میں ایک آزادی کی بات آتی ہے۔ کسی انسان کے بارے میں شیخی نہ مارو، کیونکہ سب کچھ تمہارا ہے، تم مسیح کے ہو اور مسیح خدا کا ہے۔
اِس کا کیا مطلب ہے؟
یہ باب دراصل ایک آئینہ ہے۔ کرنتھس کے مسیحی روحانی طور پر بالغ نظر آنا چاہتے تھے، مگر ان کا رویہ بتاتا تھا کہ وہ ابھی تک بچے ہیں۔ یہ بات آج بھی سچ ہے۔ ایمان میں پختگی کا تعلق اس بات سے نہیں کہ آپ کتنی بائبل کی آیات یاد کر چکے ہیں یا کتنے تھیولوجیکل الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ آپ دوسروں سے کیسے پیش آتے ہیں۔ حسد، مقابلہ بازی، اپنے پسندیدہ گروہ یا شخصیت کے پیچھے کھڑے ہو کر دوسروں کو نیچا دکھانا، یہ سب بتاتا ہے کہ ابھی اندر کچھ کچا ہے۔
اور یہ بات صرف کرنتھس کی نہیں۔ آج کے دور میں بھی نوجوان اکثر اپنی شناخت کسی مبلغ، کسی چینل، کسی مخصوص گروہ سے جوڑ لیتے ہیں، جیسے وہی حق کا آخری معیار ہو۔ پولس کہتے ہیں، رک جاؤ۔ یہ سب لوگ نوکر ہیں۔ اصل کام کرنے والا خدا ہے۔
سلسلہ
اس باب کا مرکز ایک ہی جملے میں چھپا ہے، بنیاد رکھی جا چکی ہے اور وہ ہے عیسیٰ مسیح۔ پوری بائبل کی کہانی اسی بنیاد کی طرف چلتی ہے۔ آدم اور حوا کے بعد سے انسان اپنی بنیاد خود بنانے کی کوشش کرتا رہا، اپنی عقل پر، اپنی محنت پر، اپنے مذہبی نظام پر۔ مگر خدا نے مسیح کو بھیجا تاکہ وہی بنیاد بنے جس پر باقی سب کچھ ٹکے۔ یہی وجہ ہے کہ پولس کہتے ہیں، سب کچھ تمہارا ہے، مگر تم مسیح کے ہو اور مسیح خدا کا ہے۔ یہ ایک سلسلہ ہے جو خدا سے شروع ہوتا ہے، مسیح میں گزرتا ہے، اور ہم تک پہنچتا ہے۔ ہماری شناخت گروہوں میں نہیں، مسیح میں ہے۔
آپ کے لیے
تیرہ چودہ سال کی عمر سے آگے، آپ کی زندگی میں یہ سوال بہت حقیقی ہو جاتا ہے، میں کس کے ساتھ کھڑا ہوں، کس کی بات مانوں، کس کا لیبل لگاؤں اپنے اوپر۔ شاید یہ کسی مشہور مقرر کا نام ہو، شاید کسی خاص فرقے کا، شاید کسی سوشل میڈیا شخصیت کا۔ پولس آپ سے پوچھتے ہیں، تم کس کی عمارت بنا رہے ہو۔ سونا چاندی، یا سوکھی گھاس؟
یہ سوال اس بات کا نہیں کہ آپ کتنے مشہور ہیں یا کتنا بڑا کام کرتے ہیں۔ یہ سوال اس بات کا ہے کہ آپ کے دل کی نیت کیا ہے، آپ کی محبت کہاں سے آتی ہے، آپ اپنے حسد اور مقابلے کے جذبات کا کیا کرتے ہیں۔ ایک دن سب کچھ آگ میں کھلے گا۔ یہ ڈرانے کی بات نہیں، بلکہ ایک دعوت ہے کہ ابھی سے سچائی سے جینا شروع کریں۔ اور یاد رکھیں، آپ خود خدا کا گھر ہیں۔ یہ کوئی چھوٹی بات نہیں۔ آپ کا جسم، آپ کی زندگی، آپ کی سوچ، یہ سب اُس جگہ ہیں جہاں خدا کا روح رہتا ہے۔
بات کریں
کیا آپ کبھی کسی خاص شخص، گروہ، یا اسٹائل کے پیچھے اپنی شناخت بنا بیٹھے ہیں، اس حد تک کہ کسی اختلاف پر آپ کا رد عمل غصے یا حسد میں بدل جائے؟
جب آپ سوچتے ہیں کہ آپ اللہ کا گھر ہیں اور اُس کا روح آپ میں رہتا ہے، اس سے آپ کی روزمرہ زندگی پر کیا فرق پڑنا چاہیے؟
دعا
اے خدا، ہمیں معاف کر دے جب ہم انسانوں کے پیچھے چلتے ہیں اور اپنی بنیاد بھول جاتے ہیں۔ ہمیں یاد دلا کہ عیسیٰ مسیح ہی وہ بنیاد ہے جس پر ہماری زندگی ٹکی ہے۔ ہمیں سکھا کہ ہم اپنی زندگی میں ایسا کچھ بنائیں جو تیری آگ کے سامنے ٹک سکے۔ آمین۔
۱-کُرِنتِھیوں 3 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
۱-کُرِنتِھیوں 3 کس بارے میں ہے؟
۱-کُرِنتِھیوں 3 کیا کہتا ہے؟
۱-کُرِنتِھیوں 3 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
نوجوان ۱-کُرِنتِھیوں 3 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
۱-کُرِنتِھیوں 3 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
پولس خود کو "دانش مند ٹھیکے دار" کہتا ہے، مگر فوراً یاد دلاتا ہے کہ یہ سب "اللہ کے اُس فضل کے مطابق جو مجھے بخشا گیا" ہوا۔ بنیاد اُس نے رکھی، تعمیر کوئی اَور کر رہا ہے۔ اور پھر یہ چبھتی ہوئی بات: "ہر ایک دھیان رکھے کہ کس طرح عمارت بنا رہا ہے۔" سوال یہ نہیں کہ تُو کتنا کام کر رہا ہے، بلکہ کس طرح۔ کیا تیری زندگی اُس بنیاد کے قابل ہے جو تجھے مفت میں ملی؟
غرض نہ لگانے والا کچھ ہے، نہ پانی دینے والا بلکہ صرف اللہ جو اُگنے دیتا ہے۔“
کُرِنتھس کی جماعت اِس بات پر بٹ گئی تھی کہ کون بڑا ہے، پولس یا اپلّوس۔ پولس اُن کے سامنے ایک کھیت رکھتا ہے۔ بیج ڈالنے والا مٹی کے اندر جھانک نہیں سکتا، پانی دینے والا جڑ کو حکم نہیں دے سکتا کہ بڑھ۔
تُو بھی جہاں محنت کر رہا ہے، وہاں شاید پھل نظر نہ آئے۔ تیرا کام لگانا اور پانی دینا ہے۔ اُگانا تیرے ہاتھ میں کبھی تھا ہی نہیں۔ کیا یہ بات تجھے بوجھ سے آزاد کرتی ہے، یا تیری انا کو چُبھتی ہے؟
چھوٹے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور پرائمری عمر (7 تا 12 سال) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں