کُلسِیوں 2
نوجوان (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
The Explanation
پولس رسول یہ خط ایسے لوگوں کو لکھ رہے ہیں جنہیں اُس نے کبھی ملاقات میں نہیں دیکھا، مگر اُن کی فکر اُسے بےچین کر رہی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اُس کی جاں فشانی کا مقصد یہ ہے کہ کلسّے کے ایمان دار محبت میں جڑے رہیں اور اُس ٹھوس اعتماد تک پہنچیں جو اللہ کے راز، یعنی خود مسیح، کو جاننے سے ملتا ہے۔ اُس کی تشویش کی وجہ صاف ہے۔ کچھ لوگ میٹھی میٹھی باتوں سے، فلسفیانہ دلائل سے، اور مذہبی رسموں سے کلسّیوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے تھے کہ عیسیٰ مسیح پر ایمان لانا کافی نہیں۔ اُنہیں مزید کچھ کرنا ہوگا، کچھ کھانے پینے کے اصول، کچھ عیدیں، کچھ ختنہ جیسی رسمیں، فرشتوں کی تعظیم، جسم کو سخت دباؤ میں رکھنے والے طریقے۔ گویا مسیح ایک شروعات ہے مگر مکمل نہیں۔
پولس اِس سوچ کو بالکل رد کرتا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ مسیح میں الوہیت کی ساری معموری مجسم ہو کر سکونت کرتی ہے، اور جو مسیح میں ہیں وہ اُسی معموری میں شریک کر دیے گئے ہیں۔ کچھ کم نہیں رہ گیا۔ وہ صلیب کی طرف اشارہ کرتا ہے، جہاں ہمارا قرض منسوخ کر دیا گیا اور طاقتوں کو رُسوا کیا گیا، اور کہتا ہے کہ جو رسمیں اور احکام لوگ مسیح پر مسلط کر رہے تھے وہ صرف سائے تھے، جبکہ حقیقت خود مسیح میں مل چکی ہے۔
What Does This Mean?
یہ باب دراصل ایک سوال کے گرد گھومتا ہے، جو ہر دور میں پوچھا جاتا رہا ہے۔ کیا خدا تک پہنچنے کے لیے ایمان کے ساتھ کچھ اور بھی چاہیے؟ کچھ اضافی قوانین، کچھ خاص تجربات، کچھ مذہبی کارکردگی؟ پولس کا جواب واضح ہے۔ نہیں۔ جو مسیح میں ہے، اُس میں کچھ کمی نہیں۔ یہ بات صرف پہلی صدی کے کلسّیوں کے لیے نہیں تھی۔ یہ آج بھی اُتنی ہی کاٹ دار ہے۔ ہم ایسی دنیا میں رہتے ہیں جو مسلسل یہ سکھاتی ہے کہ تمہاری قدر تمہاری کارکردگی سے، تمہاری شکل سے، تمہارے حاصلات سے ثابت ہوتی ہے۔ مذہبی زبان میں بھی یہ جال آ سکتا ہے۔ گویا خدا کی قربت کچھ اور محنت، کچھ اور پرہیز، کچھ اور "روحانی" کارناموں سے کمائی جاتی ہے۔ پولس کہتا ہے کہ یہ سب سایہ ہے۔ اصل چیز مسیح ہے، اور وہ پہلے ہی دی جا چکی ہے۔
The Common Thread
یہ باب پوری بائبل کی کہانی کے مرکز، یعنی مسیح کی صلیب اور قیامت، سے سیدھا جوڑا ہوا ہے۔ پولس لکھتا ہے کہ بپتسمے میں ہمیں مسیح کے ساتھ دفنایا گیا اور ایمان سے زندہ کیا گیا، اُسی قدرت سے جس نے مسیح کو مُردوں میں سے اُٹھایا۔ یہ کوئی علامتی بات نہیں، یہ ایک حقیقی تبدیلی کا بیان ہے۔ پرانی زندگی، گناہ کی مُردہ حالت، ختم ہو گئی۔ نئی زندگی، خدا کے ساتھ زندہ رشتہ، شروع ہو گئی۔ صلیب پر جو ہوا وہ کوئی نامکمل واقعہ نہیں تھا جسے اب ہمیں اپنی کوششوں سے مکمل کرنا ہے۔ وہ ایک فتح تھی۔ حکمرانوں اور اختیار والوں کا اسلحہ چھین لیا گیا، اُنہیں سب کے سامنے رُسوا کیا گیا۔ یہ وہی خدا ہے جو ابتدا سے وعدہ کر رہا تھا کہ وہ خود آ کر انسان کو گناہ اور موت کی گرفت سے آزاد کرے گا۔ کلسّیوں کا باب دو اُس وعدے کی تکمیل کا اعلان ہے۔ خدا نے کچھ ادھورا نہیں چھوڑا۔
For You
تم شاید کبھی "کیلنڈر کی عیدیں" یا "ختنہ" جیسی چیزوں سے پریشان نہ ہو، مگر وہی جال آج بھی موجود ہے، صرف نئی شکل میں۔ کبھی یہ خیال آتا ہے کہ خدا مجھ سے اُس وقت زیادہ خوش ہوگا جب میری زندگی زیادہ "ٹھیک" لگے گی، جب میں فلاں غلطی سے پاک ہو جاؤں، جب میری عبادت زیادہ گہری، میری قربانی زیادہ نظر آنے والی ہو۔ یہ سوچ خطرناک ہے کیونکہ یہ خاموشی سے مسیح کی جگہ تمہاری اپنی کارکردگی کو بٹھا دیتی ہے۔ پولس کی بات یہ ہے کہ تمہاری بنیاد پہلے سے مکمل ہے۔ تم نے مسیح کو خداوند کے طور پر قبول کیا، اب اُس میں جڑ پکڑو، اُس پر اپنی زندگی تعمیر کرو۔ یہ ایک بار کا فیصلہ نہیں، یہ روزانہ کی جڑ ہے، جیسے درخت مسلسل زمین سے پانی کھینچتا ہے۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ زندگی میں نظم و ضبط بےمعنی ہے۔ پولس خود کلسّیوں کی منظم زندگی دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ نظم شکرگزاری سے پیدا ہو، خوف یا دکھاوے سے نہیں۔ جب کوئی تمہیں یہ باور کرانے کی کوشش کرے کہ تمہاری روحانیت ناکافی ہے جب تک تم فلاں مذہبی کارنامہ نہ دکھاؤ، یاد رکھو، وہ شخص شاید نیک نیتی سے بات کر رہا ہو، مگر اُس کی بات کا سرچشمہ مسیح نہیں۔
Talk About It
تمہاری زندگی میں وہ کون سا "سایہ" ہے جسے تم غلطی سے اصل حقیقت سمجھ بیٹھے ہو، یعنی کوئی کارکردگی یا شبیہ جسے تم اپنی خدا کے سامنے قدر کی بنیاد بنا لیتے ہو؟
پولس کہتا ہے کہ کلسّیوں کے پاس مسیح میں کچھ کم نہیں تھا۔ سچی بات یہ ہے، کیا تم واقعی اپنے دل کی گہرائی میں یہ مانتے ہو کہ تمہارے پاس بھی کچھ کم نہیں؟
Praying Together
اے خداوند، ہم اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ آپ میں ہمارے پاس سب کچھ ہے۔ ہم دوسری چیزوں سے اپنی قدر ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ہمیں سکھائیں کہ ہم مسیح میں جڑ پکڑیں، اُس پر اپنی زندگی تعمیر کریں، اور شکرگزاری سے بھر جائیں۔ ہمیں اُن جھوٹی باتوں سے بچائیں جو میٹھی لگتی ہیں مگر جن کا سرچشمہ آپ نہیں۔ آمین۔
کُلسِیوں 2 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
کُلسِیوں 2 کس بارے میں ہے؟
کُلسِیوں 2 کیا کہتا ہے؟
کُلسِیوں 2 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
نوجوان کُلسِیوں 2 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
کُلسِیوں 2 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
ختنہ ایک چھوٹا سا نشان تھا، انسانی ہاتھوں کا کیا ہوا، جسم کے ایک حصے پر۔ لیکن پولس لکھتا ہے کہ مسیح میں "پرانی فطرت کا جسم اُتارا جاتا ہے"۔ تھوڑا سا نہیں، پورا۔ اور یہ کام تیرے ہاتھوں کا نہیں۔ تُو خود کو سدھارنے کی کتنی کوششیں کر چکا ہے؟ جو تُو کاٹ نہ سکا، مسیح نے اُتار دیا۔ اب اُس پرانی زندگی کو دوبارہ پہننے کی کیا ضرورت ہے؟
پولس زنجیروں میں تھا، پھر بھی اُس کی جدوجہد اُن لوگوں کے لئے تھی جن کے چہرے اُس نے کبھی نہیں دیکھے تھے: ”ہاں اُن سب کے لئے بھی جنہوں نے مجھے ذاتی طور پر کبھی نہیں دیکھا۔“ سوچیں، کوئی آپ کے نام سے واقف نہ ہوتے ہوئے بھی آپ کے لئے گھٹنے ٹیک رہا ہو۔ آج آپ کس کے لئے ایسی محنت کر رہے ہیں جس سے آپ کو کچھ نہیں ملے گا؟
آپ تو اپنے گناہوں اور اپنی نامختون پرانی فطرت کے سبب سے مُردہ تھے، لیکن اب اللہ نے آپ کو مسیح کے ساتھ زندہ کر دیا ہے۔" غور کریں، پولس یہ نہیں کہتا کہ آپ بیمار تھے یا کمزور۔ مُردہ تھے۔ مُردہ آدمی اپنی مدد نہیں کر سکتا، وہ صرف زندہ کیا جا سکتا ہے۔ اِسی لیے آپ کی نئی زندگی آپ کی کوشش کا انعام نہیں بلکہ اللہ کا خالص تحفہ ہے۔ اور اُس نے آدھے نہیں، "تمام گناہوں" کو معاف کیا۔ وہ ایک گناہ بھی جو آج تک آپ کو رات کو جگاتا ہے۔
درخت کی جڑیں کوئی نہیں دیکھتا، لیکن طوفان میں وہی اُسے تھامے رکھتی ہیں۔ پولس لکھتا ہے، ”آپ اُس میں جڑ پکڑیں اور اُس پر تعمیر ہوتے جائیں۔“ نیچے کی طرف گہرائی، اوپر کی طرف بلندی، اور اِس سب کا پھل شکرگزاری۔ ذرا ٹھہر کر سوچیں، آپ کی زندگی کا کوئی حصہ ایسا تو نہیں جو مسیح کے بجائے کہیں اور جڑ پکڑ رہا ہے؟
چھوٹے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور پرائمری عمر (7 تا 12 سال) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں