کُلسِیوں 4
نوجوان (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
اقتباس کی تشریح
پولس رسول جیل کی کوٹھری میں بیٹھا اپنا خط ختم کر رہا ہے۔ یہ باب کسی عظیم الہیاتی بحث پر نہیں بلکہ زندگی کے روزمرہ پہلوؤں پر مشتمل ہے۔ وہ مالکوں سے کہتا ہے کہ اپنے غلاموں کے ساتھ انصاف سے پیش آئیں، کیونکہ آسمان پر ان کا بھی ایک مالک ہے۔ پھر وہ دعا کی بات کرتا ہے، جاگتے رہنے اور شکرگزار رہنے کی۔ وہ اپنے لیے دعا مانگنے کو کہتا ہے، تاکہ مسیح کا پیغام صاف اور بےخوف طریقے سے بیان کیا جا سکے، حالانکہ وہ اسی پیغام کی وجہ سے قید میں ہے۔ پھر وہ کولسیوں کو سکھاتا ہے کہ غیرایماندار لوگوں کے ساتھ دانش مندی سے اور مہربان، پُرلطف گفتگو کے ساتھ پیش آئیں۔
اس کے بعد باب اچانک ذاتی ہو جاتا ہے۔ نام پر نام آتے ہیں۔ تُخِکُس، اُنیسمس، ارسترخس، مرقس، عیسیٰ یُوستس، اِپَفراس، لوقا، دیماس، نُمفاس، ارخپس۔ ہر ایک کا اپنا کردار ہے، اپنی کہانی ہے۔ کوئی قید میں ساتھی ہے، کوئی خط لے جانے والا قاصد، کوئی وہ جو رات دن دعا میں لڑتا ہے۔ آخر میں پولس خود اپنے ہاتھ سے لکھتا ہے، اپنی زنجیروں کا ذکر کرتا ہے، اور دعا کرتا ہے کہ خدا کا فضل ان پر رہے۔
اس کا کیا مطلب ہے؟
یہ باب پہلی نظر میں معمولی لگتا ہے، ایک فہرست جیسا۔ مگر یہیں اصل بات چھپی ہے۔ ایمان کوئی الگ تھلگ، تجریدی چیز نہیں ہے جو صرف اتوار کو یا کسی مقدس لمحے میں سامنے آتی ہو۔ یہ اس بات میں ظاہر ہوتا ہے کہ تم اپنے ماتحت کے ساتھ کیسے پیش آتے ہو، تم کس طرح بات کرتے ہو جب کوئی تمہارے عقیدے پر سوال اٹھائے، اور تم کن لوگوں کے نام یاد رکھتے ہو۔
غور کرو کہ پولس یہاں کیا نہیں کہتا۔ وہ غلامی کے نظام کو یکسر ختم کرنے کا حکم نہیں دیتا، لیکن وہ اس کے اندر ایک زلزلہ لے آتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ مالک اور غلام کا ایک ہی آسمانی مالک ہے۔ اس دور کے معاشرے میں یہ بات چونکا دینے والی تھی۔ طاقت کا رشتہ اچانک برابری کے سائے میں آ جاتا ہے۔ یہی مسیحیت کا طریقہ ہے، نظام کو راتوں رات نہیں توڑتی، مگر دلوں کو بدل کر اندر سے نظام کو بدلتی ہے۔
اور پھر وہ گفتگو کی بات کرتا ہے، کہ تمہاری بات چیت میں نمک ہو، مزہ ہو، مگر مہربانی بھی۔ یہ سخت اپنی جگہ برقرار ہے کیونکہ ہم اکثر دو انتہاؤں میں پھنس جاتے ہیں، یا تو اتنے نرم ہو جاتے ہیں کہ کچھ کہتے ہی نہیں، یا اتنے تیز ہو جاتے ہیں کہ سامنے والا سنتا ہی نہیں۔
مشترکہ دھاگہ
پولس قید میں ہے کیونکہ اس نے "مسیح کا راز" کھولا ہے، وہ راز جو کولسیوں کے پہلے ابواب میں بیان ہوا، کہ خدا خود انسان بن کر آیا، صلیب پر مرا اور جی اٹھا، اور اب اپنے لوگوں کو نئی زندگی دیتا ہے۔ یہ آخری باب اسی راز کا عملی نتیجہ دکھاتا ہے۔ اگر مسیح واقعی وہ ہے جو پہلے ابواب کہتے ہیں، تو یہ اثر ہر رشتے میں، ہر بات چیت میں، اور یہاں تک کہ خط کی فہرست میں بھی نظر آئے گا۔
اور اس مختصر جملے پر رک جاؤ، "میری زنجیریں مت بھولنا۔" یہ کوئی جذباتی اپیل نہیں۔ یہ اس بات کی گواہی ہے کہ خوشخبری کبھی سستی نہیں ملتی۔ خود مسیح نے صلیب اٹھائی، اور جو اس کا پیغام لے کر چلتے ہیں وہ اکثر اپنی زنجیریں اٹھاتے ہیں، چاہے وہ لوہے کی ہوں یا کسی اور شکل کی۔ یہی خدا کا وعدہ نہیں کہ راستہ آسان ہوگا، بلکہ یہ کہ وہ خود اس راستے پر ساتھ چلتا ہے۔
تمہارے لیے
تم شاید سوچو کہ یہ فہرستِ ناموں تمہارے لیے کیا معنی رکھتی ہے۔ مگر ذرا رک کر سوچو، پولس ہر نام کے ساتھ ایک تفصیل جوڑتا ہے، "وفادار بھائی"، "میرے ساتھ قید میں"، "دل کا سکون دینے والا۔" یہ محض رسمی سلام نہیں، یہ ایک ایسی کمیونٹی کی تصویر ہے جس میں لوگ ایک دوسرے کو حقیقتاً جانتے ہیں۔ آج کے دور میں جہاں "کنکشن" اکثر اسکرین کے ذریعے ہوتا ہے اور سطحی رہ جاتا ہے، یہ باب پوچھتا ہے، کیا تمہاری زندگی میں ایسے لوگ ہیں جو تمہارا نام لے کر تمہارے لیے دعا کرتے ہیں جیسے اِپَفراس نے کیا؟
اور وہ آخری، تیز جملہ ارخپس کے لیے، "خبردار کہ آپ وہ خدمت تکمیل تک پہنچائیں جو آپ کو سونپی گئی ہے۔" یہ نرم نصیحت نہیں، یہ ایک للکار ہے۔ شاید ارخپس تھکنے لگا تھا، یا کسی وجہ سے پیچھے ہٹنے لگا تھا۔ ہر ایک کے پاس ایک "ذمہ داری" ہے جو خداوند نے سونپی ہے، چھوٹی ہو یا بڑی۔ سوال یہ نہیں کہ تمہارے حصے میں کیا آیا، سوال یہ ہے کہ کیا تم اسے تکمیل تک پہنچاؤ گے، جب حالات آسان نہ ہوں، جب کوئی دیکھ نہ رہا ہو۔
بات چیت کے لیے
جب کوئی تمہارے ایمان پر سوال اٹھاتا ہے یا مذاق اڑاتا ہے، تمہارا ردعمل عموماً کیا ہوتا ہے، خاموشی، غصہ، یا کچھ اور؟ پولس کی نصیحت "مہربان مگر پُرلطف گفتگو" اس ردعمل کو کیسے بدل سکتی ہے؟
تمہاری زندگی میں کون ایسا شخص ہے جو تمہارے لیے مسلسل دعا کرتا ہے، اور کیا کوئی ایسا ہے جس کے لیے تم اسی طرح دعا کرتے ہو؟
دعائے مشترکہ
اے خداوند، ہماری زبان کو ایسی بنا کہ اس میں نمک ہو اور مہربانی بھی۔ ہمیں ایسے لوگ دے جو ہمارا نام لے کر ہمارے لیے دعا کریں، اور ہمیں ایسا دل دے کہ ہم بھی دوسروں کے لیے وفادار رہیں۔ جو ذمہ داری تُو نے ہمیں سونپی ہے، اسے تکمیل تک پہنچانے کی ہمت دے، چاہے راستہ مشکل ہو۔ آمین۔
کُلسِیوں 4 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
کُلسِیوں 4 کس بارے میں ہے؟
کُلسِیوں 4 کیا کہتا ہے؟
کُلسِیوں 4 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
نوجوان کُلسِیوں 4 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
کُلسِیوں 4 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
مرقس وہی نوجوان تھا جو کام ادھورا چھوڑ کر لوٹ گیا تھا، اور اُسی کے سبب سے پولس اور برنباس ایک دوسرے سے الگ ہو گئے۔ لیکن اب پولس زنجیروں میں سے لکھتا ہے، ”اگر وہ آپ کے پاس آئے تو اُسے خوش آمدید کہیں۔“ ایک ناکامی کسی کی پوری کہانی نہیں ہوتی۔ کیا آپ کے دل میں بھی کوئی دروازہ بند ہے جسے مسیح دوبارہ کھولنا چاہتا ہے؟
اُنیسمُس وہی بھاگا ہوا غلام تھا جس کے بارے میں پولس نے فلیمون کو خط لکھا۔ لیکن یہاں اُس کا تعارف یوں ہوتا ہے: "وفادار اور پیارا بھائی جو آپ ہی میں سے ایک ہے۔" نہ چوری کا ذکر، نہ فرار کا۔ مسیح نے اُس کا ماضی مٹا کر اُسے کلیسیا کے دل میں بٹھا دیا۔ آپ اپنے آپ کو کس نام سے پکارتے ہیں؟ خدا کے پاس آپ کے لیے نیا نام ہے۔
پولس یہ بات قید سے لکھ رہا ہے، اور پھر بھی اُس کی فکر یہ ہے کہ آپ کی زبان کیسی ہو: ”آپ کی گفتگو ہمیشہ مہربان اور نمکین ہو تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ ہر ایک کو کیا جواب دینا ہے۔“ نمک تھوڑا سا ڈالا جاتا ہے، مگر پورے کھانے کا ذائقہ بدل دیتا ہے۔ اور غور کریں، ”ہر ایک کو“، یعنی ایک ہی رٹا رٹایا جواب سب کے لیے نہیں۔ کیا آپ سامنے والے کو اِتنا سنتے ہیں کہ اُس کے لیے الگ جواب رکھ سکیں؟
پولس زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا، اور جب اُس نے دوسروں سے دعا مانگی تو رہائی کے لیے نہیں مانگی۔ اُس نے لکھا، ”دعا کریں کہ مَیں اُسے یوں صاف صاف بیان کروں جس طرح مجھے کرنا چاہئے۔“ اُس کی سب سے بڑی فکر یہ تھی کہ مسیح لوگوں کو صاف نظر آئے۔ آپ اپنی تنگی میں کس چیز کے لیے دعا مانگ رہے ہیں؟
چھوٹے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور پرائمری عمر (7 تا 12 سال) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں