حزقی ایل 35
نوجوان (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
The Explanation
خدا حزقی ایل نبی سے کہتا ہے کہ وہ سعیر کے پہاڑی علاقے کی طرف رُخ کرے۔ سعیر ادوم کا علاقہ تھا، وہ قوم جو اسرائیل کی سگی رشتہ دار تھی، عیسو کی نسل سے۔ مگر یہ رشتہ داری محبت میں نہیں، نفرت میں بدل چکی تھی۔ جب اسرائیل پر آفت آئی، جب یروشلم تباہ ہوا اور لوگ مارے گئے، تو ادوم نے ترس نہیں کھایا۔ اُلٹا اُس نے تلوار اُٹھائی اور اسرائیل پر ٹوٹ پڑا، اُن کی بربادی کا تماشا دیکھ کر خوش ہوا، اور اُن کی زمین پر قبضہ کرنے کا خواب دیکھا۔
خدا یہ سب دیکھ چکا تھا۔ وہ ادوم سے کہتا ہے کہ تُو نے قتل و غارت سے نفرت نہ کی، اِس لئے اب قتل و غارت ہمیشہ تیرا پیچھا کرے گی۔ تیرے پہاڑ لاشوں سے بھر جائیں گے، تیرے شہر ملبے کا ڈھیر بن جائیں گے، اور تُو خود ابد تک ویران رہے گا۔ خدا نے ادوم کی وہ باتیں بھی سن لی تھیں جو اُس نے فخر سے، طنز سے، کینے سے کہی تھیں، کہ اسرائیل کی زمین اب ہمارا نوالہ ہے۔ خدا کہتا ہے، میں نے یہ کفر سن لیا ہے۔ جو کچھ تُو نے دوسروں کے ساتھ کیا، وہی اب تیرے ساتھ کیا جائے گا۔
What Does This Mean?
یہ باب صرف ایک پرانی قوم کی تاریخ نہیں ہے۔ یہ اُس چیز کو بے نقاب کرتا ہے جو انسانی دل میں بڑی آسانی سے جگہ بنا لیتی ہے، یعنی دوسرے کی بربادی پر خوشی منانا۔ ادوم نے خود کسی پر حملہ کرنے کی زحمت بھی نہیں کی تھی، صرف انتظار کیا کہ اسرائیل گرے تو وہ مزے لے۔ یہ ایک ایسی نفرت ہے جو ہاتھ گندا کیے بغیر بھی دل کو پوری طرح کالا کر دیتی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ خدا نے یہ سب "سن لیا" تھا۔ جو باتیں پہاڑوں کے پیچھے، بند کمروں میں، دل کے اندر ہی اندر کہی گئیں، وہ بھی خدا کے کانوں تک پہنچیں۔ خدا بہرا نہیں ہے۔ وہ ہماری طنزیہ مسکراہٹوں، ہمارے دل میں چھپی اُس چپکی خوشی کو بھی جانتا ہے جو ہمیں تب ہوتی ہے جب کوئی ہم سے زیادہ کامیاب شخص ناکام ہو جاتا ہے، جب کوئی جسے ہم ناپسند کرتے ہیں رُسوا ہوتا ہے۔ یہ باب ہمیں بتاتا ہے کہ خدا کے نزدیک یہ معمولی بات نہیں۔ انصاف کا خدا اُن لوگوں کے لئے بھی کھڑا ہوتا ہے جن پر ظلم ہوا، اور وہ اُن سے بھی حساب لیتا ہے جنہوں نے اُس ظلم پر تالیاں بجائیں۔
The Common Thread
پوری بائبل میں یہ سلسلہ چلتا ہے کہ خدا مظلوم کا دفاع کرتا ہے اور ظالم سے حساب لیتا ہے۔ یہ کوئی بے رحم ضد نہیں بلکہ انصاف کی وہ بنیاد ہے جس پر یہ پوری دنیا کھڑی ہے۔ اگر خدا ظلم کو نظرانداز کر دے، تو انصاف کا کوئی مطلب نہیں رہتا۔
مگر یہیں سے ایک گہری بات نکلتی ہے۔ صلیب پر، یسوع مسیح نے وہ راستہ اختیار کیا جو ادوم کے بالکل مخالف تھا۔ جب اُس پر ظلم ہوا، جب وہ خود بے گناہ ہوتے ہوئے مصلوب کیا گیا، تو اُس نے بدلہ نہیں مانگا بلکہ کہا، "اے باپ، اِنہیں معاف کر دے۔" وہ ہمارا دشمن بھی نہیں تھا، پھر بھی ہم نے اُس سے دشمنی کی، اور اُس نے پھر بھی اپنی جان دے دی۔ خدا کا انصاف اور خدا کی رحمت دونوں صلیب پر ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔ یسوع نے وہ سزا اپنے اوپر لے لی جو ہمارے گناہوں، ہماری نفرتوں، ہمارے دلوں کی اُس خاموش بدخواہی کی وجہ سے ہم پر آنی چاہیے تھی۔
یہ باب ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خدا کا انصاف حقیقی ہے، مگر یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ ہم سب کو بھی اُسی انصاف کی ضرورت ہے جو ادوم پر آیا۔ فرق صرف یہ ہے کہ یسوع نے اپنے آپ کو پیش کر کے ہمیں وہ راستہ دیا جو ادوم نے کبھی نہیں چنا، توبہ اور معافی کا راستہ۔
For You
شاید تمہارے دل میں بھی کوئی ادوم چھپا بیٹھا ہے۔ وہ لمحہ جب کسی کلاس فیلو کی ناکامی پر تم نے دل ہی دل میں مسکراہٹ محسوس کی۔ وہ گروپ چیٹ جہاں کسی کی ذلت پر سب نے مل کر مزہ لیا۔ وہ خیال جو سوشل میڈیا پر کسی کے گرنے پر دل میں آیا، "اچھا ہوا، اِس کا یہی حق تھا۔" یہ احساسات آج بھی بڑی آسانی سے پیدا ہوتے ہیں، خاص کر اُن لوگوں کے خلاف جن سے ہمیں رشتے داری کی طرح کوئی پرانی رقابت یا حسد ہو۔
یہ باب تم سے پوچھتا ہے کہ کیا تمہارا دل کسی کی بربادی کا تماشائی بن گیا ہے۔ خدا وہ باتیں سنتا ہے جو تم کبھی زبان پر نہیں لاتے، صرف دل میں رکھتے ہو۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ اگر تمہارے ساتھ ظلم ہوا ہے، اگر کسی نے تمہیں دھوکا دیا یا نیچا دکھایا ہے، تو خدا اُس بات کو بھی بھولتا نہیں۔ تمہیں خود بدلہ لینے کی ضرورت نہیں، کیونکہ انصاف کا مالک کوئی اور ہے۔
Talk About It
کیا تمہیں کبھی کسی کی ناکامی یا بربادی پر ایک چپکی سی خوشی محسوس ہوئی ہے؟ اُس وقت تمہارے دل میں کیا چل رہا تھا؟
اگر خدا تمہاری سب باتیں، حتیٰ کہ دل میں کہی گئی باتیں بھی سن سکتا ہے، تو یہ بات تمہاری دوستیوں اور رقابتوں کو کیسے بدلتی ہے؟
Praying Together
اے خداوند، تُو وہ سب کچھ سنتا ہے جو میرے دل میں چھپا ہوتا ہے، وہ خوشی بھی جو کسی اور کی تکلیف پر پیدا ہوتی ہے۔ مجھے معاف کر اُن لمحوں کے لئے جب میرا دل ادوم جیسا بن گیا۔ مجھے وہ دل دے جو یسوع مسیح کے صلیب کی طرح معاف کرنا جانتا ہو، نہ کہ بدلہ لینا۔ تیرا انصاف حق ہے، اور تیری رحمت میری اُمید ہے۔ آمین۔
حزقی ایل 35 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
حزقی ایل 35 کس بارے میں ہے؟
حزقی ایل 35 کیا کہتا ہے؟
حزقی ایل 35 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
نوجوان حزقی ایل 35 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
حزقی ایل 35 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
چھوٹے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور پرائمری عمر (7 تا 12 سال) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں