حزقی ایل 40
نوجوان (13 سال اور اس سے بڑے) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
The Explanation
عزرا کی طرح یہ کتاب بھی جلاوطنی میں لکھی گئی ہے۔ حزقی نبی بابل میں قید ہے، اور یہ باب اُس وقت آتا ہے جب یروشلم کی تباہی کو چودہ سال گزر چکے ہیں۔ شہر ملبے کا ڈھیر ہے، ہیکل جل چکی ہے، قوم بکھری ہوئی ہے۔ ایسے میں خدا کا ہاتھ حزقی ایل پر آتا ہے اور وہ اُسے رویا میں ایک بہت بلند پہاڑ پر لے جاتا ہے۔ وہاں سے اُسے کچھ ایسا نظر آتا ہے جیسے کوئی شہر ہو، اور وہ دراصل ایک ہیکل ہے، مگر ایسی ہیکل جو ابھی کہیں موجود نہیں۔
ایک آدمی، جس کا رنگ پیتل جیسا چمکدار ہے، ہاتھ میں کتان کی رسّی اور فیتہ لئے حزقی ایل کا راہنما بنتا ہے۔ وہ اُس سے کہتا ہے، غور سے دیکھ، غور سے سن، کیونکہ تجھے یہ دکھانے کے لئے لایا گیا ہے کہ تُو یہ سب کچھ اسرائیل کو سنا دے۔ اِس کے بعد باب کا بیشتر حصہ ایک لمبی، سخت اور بار بار دہرائی جانے والی پیمائش پر مشتمل ہے۔ مشرقی دروازہ، شمالی دروازہ، جنوبی دروازہ، ہر ایک کی گزرگاہ، ہر ایک کے پہرے داروں کے کمرے، برآمدے، ستون، سیڑھیاں، کھڑکیاں، کھجور کے درختوں کی نقش و نگاری۔ سب کچھ فٹ اور انچ میں ناپا جاتا ہے۔ پھر اندرونی صحن، پھر قربانی کے جانور ذبح کرنے کی میزیں، پھر امام زادوں کے کمرے، اور آخر میں اندرونی صحن کی پیمائش، جہاں قربان گاہ ہیکل کی عمارت کے بالکل سامنے کھڑی ہے۔ باب کا اختتام ہیکل کی عمارت تک پہنچنے سے پہلے ہی ہو جاتا ہے۔ ہم دروازے پر ہیں، اندر نہیں گئے۔
What Does This Mean?
سچ بتائیں تو یہ باب پڑھتے ہوئے بوریت ہونا فطری بات ہے۔ اتنی پیمائشیں، اتنے فٹ اور انچ، اِن کا کیا مطلب؟ لیکن ذرا رُکیں اور سوچیں کہ یہ رویا کس کو دی جا رہی ہے۔ ایک قوم کو جس کا سب کچھ چھن چکا ہے۔ جن کی ہیکل راکھ ہے، جن کا شہر کھنڈر ہے، جن کے لئے خدا کی موجودگی کا احساس ایک یادِ ماضی بن چکا ہے۔ ایسے لوگوں کو خدا کیا دیتا ہے؟ ملبہ نہیں، بلکہ ایک نقشہ۔ ایک ایسی درستگی اور ترتیب کہ ہر پتھر اپنی جگہ پر ہے، ہر دروازہ متوازن ہے، کچھ بھی بے ترتیب یا نامکمل نہیں۔ یہ پیمائش دراصل ایک وعدہ ہے: جو کچھ تباہ ہوا ہے، خدا اُسے دوبارہ، اور مکمل درستگی سے، تعمیر کرے گا۔ افراتفری کے دور میں یہ صفائی اور نظم خود ایک پیغام ہے۔
اور غور کریں کہ ہر دروازے پر کھجور کے درخت کندہ ہیں۔ یہ کوئی بے مقصد سجاوٹ نہیں۔ یہ زندگی کی علامت ہے، اُس باغِ عدن کی یاد جہاں خدا اور انسان ساتھ چلتے تھے۔ خدا صرف ایک عمارت واپس نہیں لا رہا، وہ اُس تعلق کو واپس لانے کا وعدہ کر رہا ہے جو گناہ اور تباہی نے توڑ دیا تھا۔
The Common Thread
یہ باب دراصل ایک سوال چھوڑ جاتا ہے: کیا خدا واقعی اپنے لوگوں کے درمیان دوبارہ رہے گا؟ پرانے عہد نامے میں ہیکل وہ جگہ تھی جہاں خدا کی موجودگی زمین پر ٹھہرتی تھی۔ حزقی ایل کی یہ رویا اُس امید کا اظہار ہے کہ یہ موجودگی واپس آئے گی، اور اِس بار مکمل ترتیب اور پاکیزگی کے ساتھ۔
لیکن انجیل ہمیں آگے لے جاتی ہے۔ خداوند یسوع مسیح نے اپنے بارے میں فرمایا کہ وہ خود وہ ہیکل ہیں جسے گرایا جائے گا اور تین دن میں کھڑا کیا جائے گا۔ اُن میں خدا کی موجودگی گوشت اور خون میں ہمارے درمیان آ گئی، بغیر پتھر اور دیواروں کے۔ اور جب ہم اُن پر ایمان لاتے ہیں تو پولس رسول کہتے ہیں کہ ہمارا جسم خود خدا کے روح کا مسکن بن جاتا ہے۔ حزقی ایل کی درستگی سے ناپی گئی ہیکل اُس حقیقت کا سایہ تھی جو مسیح میں پوری ہوئی۔ خدا اب کسی ایک عمارت میں محدود نہیں، وہ اپنے لوگوں کے دلوں میں بستا ہے۔
For You
شاید آپ کی زندگی بھی کبھی حزقی ایل کے یروشلم جیسی محسوس ہوتی ہو، ٹوٹی ہوئی، بے ترتیب، جہاں کچھ بھی ٹھیک جگہ پر نہیں لگتا۔ رشتے بگڑے ہوں، ایمان ڈگمگا رہا ہو، مستقبل دھندلا ہو۔ یہ باب کہتا ہے کہ خدا افراتفری کے بیچ نقشہ بنانے والا ہے۔ وہ تفصیل سے فکر کرتا ہے، اُس کے وعدے دھندلے نہیں بلکہ فٹ اور انچ کی طرح ٹھوس ہیں۔
مگر یہ باب یہ بھی سکھاتا ہے کہ خدا کے کاموں کو سمجھنے کے لئے صبر چاہیے۔ حزقی ایل کو پورا باب صرف دروازوں اور صحنوں میں گزارنا پڑا، اُس نے ابھی ہیکل کے اندر جھانکا بھی نہیں۔ ایمان کی زندگی ایسی ہی ہے۔ کبھی خدا کا کام سست، تفصیلی اور غیر رومانوی لگتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا آپ اُس راہنما کے پیچھے چلنے کو تیار ہیں جو کہتا ہے، غور سے دیکھ، غور سے سن، چاہے ابھی منزل نظر نہ آئے۔
Talk About It
کیا آپ کی زندگی میں ایسی کوئی جگہ ہے جو ملبے کی طرح لگتی ہے؟ اِس باب کی روشنی میں اُس کے بارے میں کیسے سوچ سکتے ہیں؟
خدا کی موجودگی اب کسی عمارت میں نہیں بلکہ مسیح میں اور اُن پر ایمان لانے والوں میں ہے۔ کیا آپ کی روزمرہ زندگی اِس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے؟
Praying Together
اے خداوند، کبھی کبھار میری زندگی بھی ٹوٹے ہوئے یروشلم جیسی لگتی ہے، بکھری اور بے ترتیب۔ مجھے یہ یاد دلا کہ تُو تفصیل سے فکر کرنے والا خدا ہے، جس کے وعدے مضبوط اور سچے ہیں۔ اور شکریہ کہ تُو نے مجھے کسی دور دراز ہیکل میں ڈھونڈنے کی بجائے خود مسیح میں میرے قریب آ کر بس گیا۔ مجھے صبر دے کہ جب تیرا کام سمجھ نہ آئے تب بھی میں غور سے دیکھوں اور سنوں۔ آمین۔
حزقی ایل 40 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
حزقی ایل 40 کس بارے میں ہے؟
حزقی ایل 40 کیا کہتا ہے؟
حزقی ایل 40 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
نوجوان حزقی ایل 40 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
حزقی ایل 40 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
جلاوطنی کے پچیسویں سال میں، جب ہیکل ملبے کا ڈھیر تھا، حزقی ایل ایک آدمی کو دیکھتا ہے "جس کا حلیہ پیتل کا سا تھا۔ وہ ہاتھ میں کتان کی ڈوری اور پیمائش کا سرکنڈا تھامے دروازے میں کھڑا تھا۔" ناپنے والا وہیں آتا ہے جہاں تعمیر کا ارادہ ہو۔ تمہاری زندگی کے جس کھنڈر کو تم چھوڑ چکے ہو، خدا وہاں فیتہ لے کر کھڑا ہے۔
چاروں طرف برآمدے تھے جو ساڑھے 12 میٹر لمبے اور ڈھائی میٹر چوڑے تھے۔“ جلاوطنی میں بیٹھے لوگوں کو خدا خواب نہیں دکھا رہا تھا بلکہ ناپ تول کر ایک حقیقی گھر دکھا رہا تھا۔ جہاں پیمائش ہوتی ہے وہاں تعمیر کا ارادہ ہوتا ہے۔ کیا تُو مانے گا کہ تیری ٹوٹی ہوئی زندگی کا ہر گوشہ بھی اُس کے ہاتھ میں ناپا جا چکا ہے؟
چھوٹے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3-5 سال) اور ابتدائی عمر (6-12) کے لیے بھی خاص نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں