یرمیاہ 6
نوجوان (13 سال اور اس سے بڑے) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
The Explanation
یہ باب ایک جنگ کی وارننگ سے شروع ہوتا ہے۔ خداوند یروشلم کے باشندوں کو کہتے ہیں کہ وہ شہر چھوڑ کر بھاگ جائیں، کیونکہ شمال سے ایک فوج آ رہی ہے جو صیون بیٹی، یعنی یروشلم، کو تباہ کر دے گی۔ یہ شہر جو "من موہن اور نازک" ہے، اب چرواہوں کے ریوڑ کی طرح چرا لیا جائے گا، حملہ آور اُس کے چاروں طرف خیمہ زن ہو کر اُسے نگل جائیں گے۔
مگر جنگ کی یہ تصویر صرف سیاسی نہیں ہے۔ خداوند صاف کہتے ہیں کہ شہر کو سزا اِس لئے ملنی ہے کہ اُس میں "ظلم ہی ظلم پایا جاتا ہے"۔ بدی وہاں کنوئیں کے تازہ پانی کی طرح لگاتار نکلتی رہتی ہے، رُکتی نہیں۔ خدا نے تربیت دینے کی کوشش کی، مگر قوم نے قبول نہ کی۔
پھر ایک بہت تلخ سچائی سامنے آتی ہے: نبی اور امام، یعنی وہ لوگ جن کا کام سچ بولنا تھا، جھوٹ بولتے ہیں۔ وہ قوم کے زخم پر ہلکی سی پٹی لگا کر کہتے ہیں "سب ٹھیک ہے، سلامتی آ گئی ہے"، حالانکہ حقیقت میں کوئی سلامتی نہیں تھی۔ یہ جھوٹا سکون، یہ منہ چھپانے کی عادت، خدا کی نظر میں بےشرمی ہے۔
خداوند قوم کو بار بار موقع دیتے ہیں: "قدیم راہوں کی تفتیش کر کے پتا کرو کہ اُن میں سے کون سی اچھی ہے، پھر اُس پر چلو۔" پہرے دار مقرر کیے گئے، نرسنگے کی آواز بجائی گئی، مگر قوم نے کہا: "نہیں، ہم توجہ نہیں دیں گے۔" اِس انکار کی سزا ٹل نہیں سکتی۔
باب کے آخر میں ایک تصویر ہے جو دل میں اُتر جاتی ہے۔ یرمیاہ کو دھات جانچنے والے کا کام دیا جاتا ہے۔ جیسے آگ میں سیسہ پگھلا کر چاندی الگ کی جاتی ہے، ویسے ہی قوم کو پرکھا جاتا ہے۔ مگر نتیجہ افسوسناک ہے: چاندی نکلتی ہی نہیں۔ سب سیسہ ہی رہ گیا۔ اِس لئے اُنہیں "ردی چاندی" کہا جاتا ہے، ایسی چیز جسے رد کر دیا جاتا ہے۔
What Does This Mean?
یہ باب ہمیں ایک ایسی قوم دکھاتا ہے جو خدا کی بات سُن سکتی تھی، مگر سننا نہیں چاہتی تھی۔ آیت 10 میں یرمیاہ خود کہتا ہے: "اُن کے کان نامختون ہیں، وہ سن ہی نہیں سکتے۔" یہ جسمانی بہرا پن نہیں، یہ دل کی وہ حالت ہے جہاں سچائی سنائی تو دیتی ہے مگر قبول نہیں ہوتی۔
سب سے زیادہ چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ جھوٹے سکون کا خطرہ کھلی بدی سے بھی زیادہ سنگین دکھایا گیا ہے۔ اصلی بیماری چھپا کر "سب ٹھیک ہے" کہنا، دراصل بیماری کو مزید خطرناک بنا دیتا ہے۔ خدا کو یہ جھوٹا سکون قبول نہیں، اور نہ اُنہیں مذہبی رسمیں، خوشبو، قربانیاں پسند ہیں، جب دل بدل نہیں رہا۔ آیت 20 یہی کہتی ہے: خدا کو ظاہری مذہبی کارکردگی نہیں، دل کی سچائی درکار ہے۔
The Common Thread
یہ باب انصاف اور رحم کی وہ کشمکش دکھاتا ہے جو پوری بائبل میں چلتی ہے۔ خدا صبر کرتا ہے، تربیت دیتا ہے، پہرے دار کھڑے کرتا ہے، مگر جب انسان مستقل انکار کرتا رہے تو نتیجہ سامنے آتا ہے۔ یہی وہ کشمکش ہے جو صلیب پر مکمل ہوتی ہے۔ یسوع مسیح میں وہی سچا "پہرے دار" کھڑا ہوا جس نے سچائی پکار کر بتائی، اور وہی سچی دھات جانچنے والا بھی، جس نے اپنے آپ کو آگ میں سے گزار کر ہمارے لئے سزا اٹھا لی۔
جہاں یرمیاہ کے زمانے کی قوم "ردی چاندی" ثابت ہوئی، وہاں انجیل کی خوشخبری یہ ہے کہ خدا انسان کو نئے سرے سے پگھلا کر خالص کرنے کا وعدہ رکھتا ہے، نہ صرف سزا سے بلکہ نئے دل سے۔ یسوع نے کہا کہ وہی راہ ہے، وہی حق ہے۔ جو باتیں یرمیاہ میں "قدیم راستے" کہلائی گئیں، وہ آخرکار اُس مسیح میں پوری ہوتی ہیں جو کہتا ہے میرے پاس آؤ اور تمہاری جان کو سکون ملے گا۔
For You
تمہاری زندگی میں بھی ایسی آوازیں ہیں جو کہتی ہیں "سب ٹھیک ہے" جبکہ اندر سے کچھ ٹوٹا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا پر مسکراتی تصویر، دوستوں کے سامنے "میں ٹھیک ہوں" کہنا، جبکہ رات کو تنہائی اور خوف کچلتا ہے۔ یہ باب تمہیں پوچھتا ہے: کیا تم اپنے آپ پر ہلکی پٹی لگا کر زخم چھپا رہے ہو؟
یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ سچ سننا مشکل کیوں ہوتا ہے۔ شاید اِس لئے کہ سچ ہمیں بدلنے کا تقاضا کرتا ہے، اور بدلنا تکلیف دہ ہے۔ مگر خدا وہ باتیں اِس لئے نہیں کہتا کہ تمہیں ڈرائے، بلکہ اِس لئے کہ تمہاری جان کو سکون ملے۔ سوال یہ ہے کہ کیا تم اُس سکون کی طلب رکھتے ہو، یا صرف عارضی سکون سے مطمئن ہو جاتے ہو۔
Talk About It
تمہاری زندگی میں کون سی جگہیں ہیں جہاں تم "سب ٹھیک ہے" کہتے ہو، حالانکہ حقیقت میں نہیں ہے؟
یرمیاہ کی قوم نے سچائی سننے سے انکار کیا۔ تم اپنی زندگی میں خدا کی آواز سننے سے کب کترا جاتے ہو؟
Praying Together
اے خداوند، ہمارے دل کو کھول دے تاکہ ہم تیری آواز سے منہ نہ پھیریں۔ ہمیں جھوٹے سکون سے بچا اور ہمیں وہ سچی راہ دکھا جس پر چل کر ہماری جان کو حقیقی سکون ملے۔ ہمیں اپنے آگے پگھلا دے تاکہ ہم خالص ہو کر تیرے سامنے کھڑے ہو سکیں۔ آمین۔
یرمیاہ 6 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
یرمیاہ 6 کس بارے میں ہے؟
یرمیاہ 6 کیا کہتا ہے؟
یرمیاہ 6 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
نوجوان یرمیاہ 6 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
یرمیاہ 6 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
یرمیاہ سے پہلے صفائی کی بھٹی کا ذکر ہے۔ دھونکنی پوری طاقت سے چلتی رہی، آگ تیز سے تیز ہوتی گئی، مگر میل جدا نہ ہوا۔ آخر میں یہ فیصلہ: "اُنہیں ’ردی چاندی‘ کہا جائے گا، کیونکہ رب نے اُنہیں رد کر دیا ہے۔"
افسوس کی بات بھٹی نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اتنی تپش کے بعد بھی دل ویسا ہی رہا۔ تیری زندگی کی آگ بھی تجھے خالص کرنے آئی ہے۔ کیا تُو اُسے اپنا کام کرنے دے گا؟
درختوں کو کاٹ ڈالو اور یروشلم کے خلاف مٹی کے ڈھیر لگاؤ۔ یہ شہر ظلم سے بھرا ہوا ہے۔“ وجہ قربانیوں کی کمی نہیں تھی، بلکہ وہ ظلم جو گلیوں میں معمول بن گیا تھا۔ خدا اُس شہر کو نہیں بچاتا جو اپنے کمزوروں کو کچلتا ہے، چاہے وہاں ہیکل ہی ہو۔ ذرا سوچ، تیرے گھر اور محلے میں کون دبا ہوا ہے، اور تُو خاموش ہے؟
مَیں خوبصورت اور نازک صیون بیٹی کو تباہ کروں گا۔“ غور کر کہ خدا عدالت کے لمحے میں بھی اُسے کن ناموں سے پکارتا ہے: بیٹی، خوبصورت، نازک۔ محبت مری نہیں، مگر نازک ہونا حفاظت کی ضمانت نہیں بنتا۔ کیا تُو بھی یہ سوچ کر بےفکر ہے کہ تیری خوبیاں تجھے سنبھال لیں گی؟ خدا تجھے پیار سے پکارتا ہے اور اِسی پیار میں سچائی بھی بولتا ہے۔
سبا سے بخور منگوانا مہنگا تھا، دُوردراز ملک کا مسالا اَور بھی مہنگا۔ مگر خدا فرماتا ہے، "تمہاری بھسم ہونے والی قربانیاں مجھے پسند نہیں۔" وجہ اِس سے پہلی آیت میں ہے: اُنہوں نے اُس کی بات سننے سے انکار کیا تھا۔ سوچ، کہیں تُو بھی خدا کو وہ کچھ تو نہیں دے رہا جو دینا تجھے آسان لگتا ہے، اور وہی روک رہا ہے جو وہ مانگتا ہے، یعنی تیرا سننے والا دل؟
چھوٹے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3-5 سال) اور ابتدائی عمر (6-12) کے لیے بھی خاص نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں