لوقا 15
نوجوان (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
تشریح
لوقا 15 ایک ایسے منظر سے شروع ہوتا ہے جو بہت کچھ کہہ دیتا ہے۔ ٹیکس لینے والے اور گناہ گار خداوند یسوع کے گرد جمع ہو رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں معاشرہ گندا سمجھتا تھا، جن سے شریف لوگ فاصلہ رکھتے تھے۔ اور دوسری طرف فریسی اور شریعت کے عالِم ناک بھوں چڑھا کر بڑبڑا رہے ہیں: "یہ آدمی گناہ گاروں کو خوش آمدید کہہ کر اُن کے ساتھ کھانا کھاتا ہے۔"
اُس زمانے میں کسی کے ساتھ کھانا کھانا محض پیٹ بھرنے کا معاملہ نہیں تھا۔ یہ قبولیت کا اعلان تھا۔ اور یہی وہ چیز ہے جو مذہبی طبقے کو تکلیف دے رہی ہے۔ اُن کے نزدیک خدا کا آدمی ایسے لوگوں سے دور رہتا ہے۔ خداوند یسوع اِس بڑبڑاہٹ کا جواب لیکچر سے نہیں، تین کہانیوں سے دیتے ہیں۔
پہلی کہانی ایک چرواہے کی ہے جس کی سَو بھیڑوں میں سے ایک گم ہو جاتی ہے۔ وہ ننانوے کو کھلے میدان میں چھوڑ کر اُس ایک کے پیچھے نکل جاتا ہے۔ جب مل جاتی ہے، وہ اُسے ڈانٹتا نہیں، کندھوں پر اُٹھا لیتا ہے، اور گھر پہنچ کر پڑوسیوں کو خوشی میں شریک کرتا ہے۔ خداوند یسوع اضافہ کرتے ہیں کہ آسمان پر بھی ایسی ہی خوشی منائی جاتی ہے جب ایک گناہ گار توبہ کرتا ہے۔
دوسری کہانی ایک عورت کی ہے جس کے دس سِکوں میں سے ایک گم ہو جاتا ہے۔ وہ چراغ جلاتی ہے، جھاڑو دیتی ہے، اور اُس وقت تک تلاش کرتی رہتی ہے جب تک سِکہ مل نہ جائے۔ پھر وہ بھی سہیلیوں کو بلا کر جشن مناتی ہے۔
تیسری کہانی سب سے لمبی اور سب سے چبھنے والی ہے۔ ایک باپ کے دو بیٹے ہیں۔ چھوٹا بیٹا میراث کا حصہ مانگتا ہے، جو دراصل یہ کہنے کے برابر ہے: "کاش آپ مر جاتے۔" وہ سب کچھ لے کر دُور دیس چلا جاتا ہے اور عیاشی میں سب کچھ اُڑا دیتا ہے۔ جب پیسے ختم ہوتے ہیں، قحط پڑ جاتا ہے، اور وہ اُس مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں ایک یہودی نوجوان کبھی پہنچنا نہیں چاہتا: سؤر چَرانا، اور سؤروں کی خوراک کی طرف للچائی نظروں سے دیکھنا۔
پھر وہ "ہوش میں" آتا ہے۔ وہ فیصلہ کرتا ہے کہ لوٹ جاؤں گا، بیٹا کہلانے کے قابل نہیں رہا، مزدور بن کر رہ لوں گا۔ لیکن جب وہ ابھی دُور ہی ہے، باپ اُسے دیکھ لیتا ہے۔ اور یہاں کہانی پلٹ جاتی ہے۔ باپ بھاگتا ہے۔ گلے لگاتا ہے۔ بوسہ دیتا ہے۔ بیٹے کی تیار کی ہوئی تقریر ادھوری رہ جاتی ہے، کیونکہ باپ نوکروں کو حکم دے رہا ہے: بہترین لباس، انگوٹھی، جوتے، اور موٹا تازہ بچھڑا۔
مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ بڑا بیٹا کھیت سے لوٹتا ہے، موسیقی سنتا ہے، اور جب پتا چلتا ہے کہ چھوٹے بھائی کی واپسی کی خوشی میں یہ سب ہو رہا ہے تو غصے سے اندر جانے سے انکار کر دیتا ہے۔ باپ اُس کے پاس بھی نکل کر آتا ہے۔ بڑا بیٹا شکایتوں کا پٹارا کھول دیتا ہے: میں نے اِتنے سال محنت کی، کبھی نافرمانی نہیں کی، اور آپ نے مجھے ایک بکرا تک نہیں دیا۔ باپ کا جواب نرم مگر گہرا ہے: "بیٹا، آپ تو ہر وقت میرے پاس رہے ہیں، اور جو کچھ میرا ہے وہ آپ ہی کا ہے۔"
اِس کا مطلب کیا ہے؟
یہ باب اکثر "کھوئے ہوئے بیٹے" کی کہانی کہلاتا ہے، مگر اصل موضوع کھوئے ہوؤں سے زیادہ ڈھونڈنے والے کا ہے۔ چرواہا، عورت، اور باپ، تینوں میں ایک ہی جذبہ ہے: تلاش کرنے کی بےتابی اور ملنے کی بےپناہ خوشی۔ خداوند یسوع فریسیوں کے اِس اعتراض کا جواب دے رہے ہیں کہ "یہ آدمی گناہ گاروں کے ساتھ بیٹھتا ہے۔" وہ کہہ رہے ہیں: ہاں، کیونکہ خدا ایسا ہی ہے۔
مگر تیسری کہانی میں ایک ایسا موڑ ہے جو باقی دو میں نہیں۔ یہاں ایک دوسرا بیٹا بھی ہے جو کھویا ہوا ہے، مگر گھر کے اندر۔ اُس کا گناہ عیاشی نہیں، خودراستی ہے۔ وہ باپ کے ساتھ رہ کر بھی باپ کو نہیں جانتا۔ وہ اپنے آپ کو بیٹا نہیں، مزدور سمجھتا ہے: "میں نے اِتنے سال آپ کی خدمت کی۔" فریسی یہی بڑا بھائی ہیں۔ اور کہانی جان بوجھ کر ادھوری چھوڑی گئی ہے، کیونکہ وہ کھلا سوال اُن کے سامنے، اور ہمارے سامنے، رکھا گیا ہے: کیا تم اندر آؤ گے؟
مشترکہ دھاگہ
یہ باب پوری بائبل کی کہانی کا مرکز ہے۔ خدا انسان کو کھو کر خاموش نہیں بیٹھا۔ پیدائش کے باغ سے لے کر صلیب تک، وہ ڈھونڈنے والا خدا ہے۔ خداوند یسوع خود وہ چرواہا ہیں جو اپنی جان بھیڑوں کے لیے دیتے ہیں۔ صلیب اِس تمثیل کی اصل قیمت ہے۔ باپ کا بھاگ کر گلے لگانا اُس وقت ممکن ہوا جب بیٹے نے ہماری جگہ خود پر باپ سے جدائی کا بوجھ اُٹھایا۔ آسمان پر ایک گناہ گار کی توبہ پر جو خوشی ہوتی ہے، وہ اِسی لیے ہوتی ہے کہ خداوند یسوع نے قیمت چکا دی۔
آپ کے لیے
یہ باب دو طرح کے لوگوں سے بات کرتا ہے، اور ش
لوقا 15 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
لوقا 15 کس بارے میں ہے؟
لوقا 15 کیا کہتا ہے؟
لوقا 15 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
نوجوان لوقا 15 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
لوقا 15 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
Reading Luke 15 about the prodigal son, I only noticed it this time: the father runs. An old man running through the village, robe lifted, dignity abandoned. That is not a story about repentance. That is a story about how we are sought.
چھوٹے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور پرائمری عمر (7 تا 12 سال) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں