لوقا 17
نوجوان (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
لوقا ۱۷ کی تشریح
وضاحت
یہ باب کئی مختلف باتوں پر مشتمل ہے، مگر سب کا ایک ہی مرکز ہے: خداوند یسوع مسیح۔ پہلے آپ اپنے شاگردوں کو خبردار کرتے ہیں کہ آزمائشیں آئیں گی، مگر جو کسی چھوٹے کو گناہ میں ڈالے اُس کے لئے حال بہت بُرا ہو گا۔ پھر معافی کی بات آتی ہے، نہ ایک بار، نہ دو بار، بلکہ ہر بار۔ رسول یہ سن کر کہتے ہیں، ”ہمارے ایمان کو بڑھا دیں۔“ خداوند جواب دیتے ہیں کہ ایمان کا سوال بڑائی کا نہیں بلکہ اصلیت کا ہے، رائی کے دانے جیسا چھوٹا ایمان بھی اگر حقیقی ہو تو کافی ہے۔
اِس کے بعد ایک تمثیل آتی ہے جو عجیب لگتی ہے: ایک غلام اپنا فرض ادا کرتا ہے اور اُس کا شکریہ نہیں ادا کیا جاتا۔ خداوند فرماتے ہیں کہ ہم خدا کے ساتھ ایسے ہی ہیں۔ پھر دس کوڑھیوں کی کہانی آتی ہے۔ سب شفا پاتے ہیں، مگر صرف ایک، ایک سامری، واپس آ کر شکر کرتا ہے۔ آخر میں فریسی پوچھتے ہیں کہ خدا کی بادشاہی کب آئے گی، اور خداوند فرماتے ہیں کہ وہ بادشاہی پہلے سے اُن کے درمیان ہے۔ مگر ابنِ آدم کا دن، یعنی آخری دن، اچانک اور بجلی کی طرح آئے گا، اور اُس سے پہلے دُکھ اور رد کئے جانے کا راستہ ضروری ہے۔
اِس کا کیا مطلب ہے؟
یہ باب دیکھنے میں بکھرا ہوا لگتا ہے، مگر اصل میں ایک ہی سوال سب کے نیچے چھپا ہے: کیا تم واقعی خدا پر بھروسا کرتے ہو، یا صرف اُس کی باتیں سنتے ہو؟ معافی کا حکم آسان نہیں۔ سات بار دن میں معاف کرنا، یہ انسانی طاقت سے باہر کی بات ہے۔ اِس لئے رسول کہتے ہیں، ”ہمارا ایمان بڑھا دیں۔“ اور خداوند کا جواب دلچسپ ہے، وہ یہ نہیں کہتے کہ تمہارا ایمان بڑا کر دوں گا، بلکہ یہ کہ تھوڑا سا سچا ایمان بھی کافی ہے۔ یہ بات اُن سب کے لئے سکون کی ہے جو سوچتے ہیں کہ اُن کا ایمان کمزور ہے۔
دس کوڑھیوں کی کہانی ایک آئینہ ہے۔ شفا پانا آسان ہے، شکر گزار ہونا مشکل۔ نو لوگ غائب ہو جاتے ہیں، صرف ایک، جو باہر کا آدمی تھا، واپس آتا ہے۔ یہ سوال ہر دور میں پوچھا جا سکتا ہے: جب خدا کچھ دیتا ہے، کیا ہم رُک کر شکر کرتے ہیں، یا آگے بڑھ جاتے ہیں؟
اور آخری حصہ، ابنِ آدم کے دن کا، سخت ہے۔ یہ خوفناک کہانی نہیں بنائی گئی تاکہ ہم ڈریں، بلکہ تاکہ ہم جاگتے رہیں۔ نوح اور لوط کے دنوں میں لوگ معمول کی زندگی میں مگن تھے، کھانا پینا، شادیاں، کاروبار۔ کچھ بھی غلط نہیں تھا ان کاموں میں، مگر وہ اُس دن کے لئے تیار نہیں تھے جو اچانک آیا۔
سلسلہ
یہ سارا باب مسیح کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ معافی کا حکم اُسی خدا کی طرف سے آتا ہے جو خود صلیب پر اپنے قاتلوں کے لئے معافی مانگے گا۔ شکر گزار سامری کی کہانی بتاتی ہے کہ نجات صرف اُن کے لئے نہیں جو صحیح نسل یا صحیح قوم سے ہیں، بلکہ اُن کے لئے جو ایمان سے خداوند کے پاس واپس آتے ہیں۔ ”تیرے ایمان نے تجھے بچا لیا ہے“ یہی الفاظ ہیں جو خداوند بار بار اپنی خدمت میں کہتے ہیں۔ اور ابنِ آدم کا جو ذکر ہے، وہ خداوند یسوع مسیح کا اپنا تعارف ہے، وہی جو دُکھ اُٹھائے گا اور رد کیا جائے گا، مگر پھر دوبارہ آئے گا، اچانک اور واضح طور پر۔ یہ وعدہ اور خبردار کرنا ایک ساتھ چلتے ہیں، کیونکہ خدا کا کلام ہمیشہ محبت اور سچائی کے ساتھ آتا ہے۔
تمہارے لئے
تم جس عمر میں ہو، وہاں معافی مانگنا اور معافی دینا سب سے مشکل کاموں میں سے ایک ہے۔ کوئی دوست بار بار تمہیں دھوکا دے، کوئی رشتہ دار بار بار غلطی کرے، اور تم سے کہا جائے کہ ہر بار معاف کرو۔ یہ انسانی حساب کے خلاف ہے۔ مگر یہی بات تمہیں یاد دلائے کہ تمہاری اپنی زندگی میں بھی خدا نے یہی کیا ہے، بار بار۔
شکر گزاری پر بھی سوچو۔ تم شاید کسی امتحان میں کامیاب ہوئے، کسی مشکل سے نکلے، کوئی رشتہ بچ گیا۔ کیا تم رُکتے ہو اور خدا کا شکر کرتے ہو، یا فوراً اگلی چیز کی طرف بڑھ جاتے ہو؟ نو لوگ بھول گئے۔ ایک یاد رکھا۔ تم کون بنو گے؟
اور آخری حصہ تمہیں یہ پوچھنے پر مجبور کرتا ہے: تمہاری زندگی کس چیز پر ٹکی ہے؟ اگر آج ابنِ آدم کا دن آئے، تمہیں کس چیز کو پیچھے چھوڑنا مشکل لگے گا؟ یہ سوال ڈرانے کے لئے نہیں، بلکہ یہ جانچنے کے لئے ہے کہ تمہارا دل کہاں بندھا ہے۔
بات کرو
اگر خدا تم سے کہے کہ کسی کو ساتویں بار معاف کرو جس نے آج ہی تمہارا دل توڑا ہو، تم کیا کرو گے، اور کیوں یہ اتنا مشکل ہے؟
دس میں سے نو لوگ شکر کرنا بھول گئے۔ تمہاری زندگی میں وہ کون سی نعمتیں ہیں جن کا شکر تم نے کبھی رُک کر ادا نہیں کیا؟
ساتھ دعا
اے خداوند، ہمارا ایمان چھوٹا ہے، مگر تُو نے کہا کہ چھوٹا ایمان بھی کافی ہے۔ ہمیں سکھا کہ ہم معاف کرنا سیکھیں جیسے تُو نے ہمیں معاف کیا، اور شکر گزار دل رکھیں جب تُو کچھ دے۔ ہمیں جاگتا رکھ، تاکہ ہماری زندگی کسی عارضی چیز سے اِس قدر نہ بندھ جائے کہ ہم تیرے آنے کے لئے تیار نہ رہیں۔ آمین۔
لوقا 17 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
لوقا 17 کس بارے میں ہے؟
لوقا 17 کیا کہتا ہے؟
لوقا 17 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
نوجوان لوقا 17 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
لوقا 17 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
خبردار رہو! اگر تیرا بھائی گناہ کرے تو اُسے ملامت کر، اور اگر وہ توبہ کرے تو اُسے معاف کر دے۔“ غور کر، یسوع نے خاموشی کا حکم نہیں دیا۔ ہم اکثر دو انتہاؤں میں جیتے ہیں، یا تو دل میں کڑواہٹ پالتے ہیں اور کچھ نہیں کہتے، یا غصے میں سب کچھ کہہ دیتے ہیں۔ یہاں تیسرا راستہ ہے: سچ بولو، مگر معافی ہاتھ میں تیار رکھو۔ کیا تُو اُس شخص سے بات کرنے کو تیار ہے جس سے تُو ناراض ہے؟
چھوٹے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور پرائمری عمر (7 تا 12 سال) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں