13 سال اور اس سے بڑے نوجوان کے لیے

متی 25

نوجوان (13 سال اور اس سے بڑے) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی

بائبل

تفسیر

متی 25 باب میں خداوند یسوع مسیح تین کہانیاں سناتے ہیں، اور تینوں کا تعلق ایک ہی سوال سے ہے: جب وہ واپس آئیں گے تو ہم کس حال میں ملیں گے؟

پہلی کہانی دس کنواریوں کی ہے جو دُولھے کا انتظار کر رہی ہیں۔ پانچ نے اضافی تیل ساتھ رکھا، پانچ نے نہیں رکھا۔ دُولھے کو آنے میں دیر لگی، سب سو گئیں، یہ کوئی گناہ نہیں تھا۔ مسئلہ یہ نہیں کہ وہ سوئیں، مسئلہ یہ تھا کہ جب آواز آئی تو ناسمجھ کنواریوں کے پاس تیل نہیں تھا۔ وہ دکان گئیں، اور جب تک واپس آئیں دروازہ بند ہو چکا تھا۔ دُولھے کا جواب سخت ہے: ”مَیں تم کو نہیں جانتا۔“

دوسری کہانی اُس آدمی کی ہے جس نے سفر پر جاتے وقت اپنے تین نوکروں کو پیسے سونپے، ایک کو پانچ ہزار، دوسرے کو دو ہزار، تیسرے کو ایک ہزار سِکے۔ پہلے دو نے اپنا سرمایہ بڑھایا۔ تیسرے نے خوف کے باعث اپنا حصہ زمین میں دبا دیا۔ جب مالک لوٹا تو پہلے دونوں کی تعریف کی، لیکن تیسرے کو ”شریر اور سُست نوکر“ کہہ کر باہر اندھیرے میں پھینک دیا۔

تیسری کہانی سب سے زیادہ کھلی ہوئی ہے۔ ابنِ آدم اپنے جلال میں آئے گا اور تمام قوموں کو اپنے سامنے جمع کر کے بھیڑوں کو بکریوں سے الگ کرے گا۔ دہنے ہاتھ والوں سے کہے گا کہ تم نے مجھے بھوکا، پیاسا، اجنبی، ننگا، بیمار اور قیدی حالت میں دیکھ کر میری خدمت کی۔ وہ حیران ہوں گے، ”ہم نے آپ کو کب دیکھا؟“ اور جواب ملے گا کہ جو کچھ تم نے سب سے چھوٹے بھائیوں کے لئے کیا وہ مجھی کے لئے کیا۔ بائیں ہاتھ والوں کے ساتھ بالکل الٹ ہوتا ہے۔

اِس کا کیا مطلب ہے؟

تینوں کہانیاں ایک ہی سچائی کی مختلف تصویریں ہیں: وقت محدود ہے، اور جو کچھ ہم اِس وقت میں کرتے ہیں اُس کی قیمت ہے۔ کنواریوں کی کہانی بتاتی ہے کہ ایمان کوئی ایسی چیز نہیں جو آخری لمحے میں ادھار لی جا سکے۔ تیل کسی اور سے نہیں مانگا جا سکتا، یہ ہر ایک کا اپنا رشتہ ہے، اپنی تیاری۔ نوکروں کی کہانی بتاتی ہے کہ خدا نے ہمیں جو کچھ دیا ہے، وہ محض محفوظ رکھنے کے لئے نہیں دیا، بلکہ استعمال کرنے کے لئے دیا ہے۔ خوف اُس نوکر کو مفلوج کر گیا، اُس نے مالک کو سخت سمجھ کر کچھ نہ کیا، اور یہی اُس کی غلطی تھی۔

اور تیسری کہانی سب سے زیادہ بے چین کر دینے والی ہے، کیونکہ یہ بتاتی ہے کہ خدا کو پہچاننے کا امتحان بڑے بڑے مذہبی اعلانات میں نہیں، بلکہ اُن لوگوں میں چھپا ہے جن کو ہم نظرانداز کرنے کے عادی ہیں۔ بھوکا، اجنبی، بیمار، قیدی۔ یہ وہ لوگ ہیں جن سے ہم اکثر نظریں چرا لیتے ہیں۔ یسوع کہتے ہیں کہ وہ خود اُن میں چھپے ہوئے ہیں۔

مشترکہ کڑی

یہ پورا باب اُس بڑی کہانی کا حصہ ہے جو پوری بائبل میں چلتی ہے: خدا آ رہا ہے، اور وہ ضرور آئے گا۔ یہ وعدہ نیا نہیں، یہ ہر نبی کی پکار تھی، اور یسوع مسیح نے خود اِسے اپنی زبان سے دہرایا۔ لیکن یہاں ایک نیا موڑ ہے: بادشاہ خود کہتا ہے کہ وہ اپنے ”سب سے چھوٹے بھائیوں“ کے ساتھ خود کو جوڑتا ہے۔ یہی وہ مسیح ہے جو خود بھوکا رہا، پیاسا ہوا، صلیب پر ننگا لٹکایا گیا، قیدی کی طرح پکڑا گیا۔ وہ جانتا ہے کہ تکلیف کیسی ہوتی ہے، کیونکہ وہ خود اُس میں سے گزرا۔ اِسی لئے جب وہ کہتا ہے کہ جو کچھ تم نے چھوٹوں کے ساتھ کیا وہ میرے ساتھ کیا، تو یہ کوئی اخلاقی نصیحت نہیں، یہ اُس کی اپنی زندگی کا اعلان ہے۔

تمہارے لئے

تم ابھی اُس عمر میں ہو جہاں زندگی کے بڑے فیصلے، رشتے، مستقبل، سب کچھ غیر یقینی لگتا ہے۔ ایسے میں یہ باب آسان جواب نہیں دیتا، بلکہ ایک سوال چھوڑ جاتا ہے: تمہارے پاس جو وقت، صلاحیت، توجہ ہے، وہ کس کے لئے استعمال ہو رہی ہے؟ یہ ضروری نہیں کہ تم کوئی بڑا کام کرو۔ شاید یہ اُس کلاس فیلو کو دیکھنا ہو جسے کوئی نہیں دیکھتا، یا اُس رشتہ دار سے ملنے جانا جو بیمار ہے اور جسے سب بھول چکے ہیں۔ تیسرا نوکر خوف کی وجہ سے کچھ نہ کر سکا۔ شاید تمہارا بھی خوف یہی ہے، ناکافی ہونے کا، غلط کرنے کا۔ لیکن یسوع یہاں بزدلی کو نہیں، بلکہ عمل کو پسند فرماتے ہیں، چاہے وہ چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔

بات چیت کے لئے

اگر یسوع آج تمہاری زندگی میں آ کر پوچھیں کہ تم نے اپنا وقت، صلاحیت اور توجہ کس پر خرچ کی، تو تمہارا جواب کیا ہوگا؟

کیا کوئی ایسا شخص ہے جسے تم نے کبھی نظرانداز کیا، اور اب اِس باب کو پڑھ کر تمہیں احساس ہو رہا ہے کہ وہ شخص یسوع کی صورت تھا؟

ساتھ دعا

اے خداوند یسوع مسیح، ہمیں خوف سے نہیں بلکہ بھروسے سے جینا سکھا۔ ہمیں اُن لوگوں کو دیکھنے کی آنکھ دے جنہیں دنیا نظرانداز کرتی ہے، اور ہمارے دل کو اتنا بیدار رکھ کہ جب تو آئے تو ہم غافل نہ پائے جائیں۔ آمین۔

یہ بائبل کہانی شیئر کریں

دوسرے والدین یا اساتذہ کے لیے جنہیں یہ مددگار لگ سکتا ہے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

متی 25 کے بارے میں سوالات

ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔

متی 25 کس بارے میں ہے؟
متی 25 باب میں خداوند یسوع مسیح تین کہانیاں سناتے ہیں، اور تینوں کا تعلق ایک ہی سوال سے ہے: جب وہ واپس آئیں گے تو ہم کس حال میں ملیں گے؟
متی 25 کیا کہتا ہے؟
دوسری کہانی اُس آدمی کی ہے جس نے سفر پر جاتے وقت اپنے تین نوکروں کو پیسے سونپے، ایک کو پانچ ہزار، دوسرے کو دو ہزار، تیسرے کو ایک ہزار سِکے۔ پہلے دو نے اپنا سرمایہ بڑھایا۔ تیسرے نے خوف کے باعث اپنا حصہ زمین میں دبا دیا۔ جب مالک لوٹا تو پہلے دونوں کی تعریف کی، لیکن تیسرے کو ”شریر اور سُست نوکر“ کہہ کر باہر اندھیرے میں پھینک دیا۔
متی 25 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
تینوں کہانیاں ایک ہی سچائی کی مختلف تصویریں ہیں: وقت محدود ہے، اور جو کچھ ہم اِس وقت میں کرتے ہیں اُس کی قیمت ہے۔ کنواریوں کی کہانی بتاتی ہے کہ ایمان کوئی ایسی چیز نہیں جو آخری لمحے میں ادھار لی جا سکے۔ تیل کسی اور سے نہیں مانگا جا سکتا، یہ ہر ایک کا اپنا رشتہ ہے، اپنی تیاری۔ نوکروں کی کہانی بتاتی ہے کہ خدا نے ہمیں جو کچھ دیا ہے، وہ محض محفوظ رکھنے کے لئے نہیں دیا، بلکہ استعمال کرنے کے لئے دیا ہے۔ خوف اُس نوکر کو مفلوج کر گیا، اُس نے مالک کو سخت سمجھ کر کچھ نہ کیا، اور یہی اُس کی غلطی تھی۔
نوجوان متی 25 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
یہ پورا باب اُس بڑی کہانی کا حصہ ہے جو پوری بائبل میں چلتی ہے: خدا آ رہا ہے، اور وہ ضرور آئے گا۔ یہ وعدہ نیا نہیں، یہ ہر نبی کی پکار تھی، اور یسوع مسیح نے خود اِسے اپنی زبان سے دہرایا۔ لیکن یہاں ایک نیا موڑ ہے: بادشاہ خود کہتا ہے کہ وہ اپنے ”سب سے چھوٹے بھائیوں“ کے ساتھ خود کو جوڑتا ہے۔ یہی وہ مسیح ہے جو خود بھوکا رہا، پیاسا ہوا، صلیب پر ننگا لٹکایا گیا، قیدی کی طرح پکڑا گیا۔ وہ جانتا ہے کہ تکلیف کیسی ہوتی ہے، کیونکہ وہ خود اُس میں سے گزرا۔ اِسی لئے جب وہ کہتا ہے کہ جو کچھ تم نے چھوٹوں کے ساتھ کیا وہ میرے ساتھ کیا، تو یہ کوئی اخلاقی نصیحت نہیں، یہ اُس کی اپنی زندگی کا اعلان ہے۔
متی 25 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
اگر یسوع آج تمہاری زندگی میں آ کر پوچھیں کہ تم نے اپنا وقت، صلاحیت اور توجہ کس پر خرچ کی، تو تمہارا جواب کیا ہوگا؟

دوسروں نے کیا پایا

بصیرت ادارتی کو آیت 27

مالک نے اُس نوکر سے یہ نہیں کہا کہ تُو نے پانچ توڑے کیوں نہ کمائے۔ اُس نے کہا، ”کیوں نہ تُو نے میرے پیسے بینک میں جمع کرائے؟ پھر واپسی پر مجھے کم از کم وہ رقم سود سمیت مل جاتی۔“ یعنی تھوڑا سا قدم بھی کافی تھا۔ ڈر نے اُسے بڑا نہیں، صفر بنا دیا۔ آج تُو جو کر سکتا ہے، وہ چھوٹا سہی، مگر کر۔ مٹی میں دبا دینا ہی اصل نقصان ہے۔

چھوٹے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟

ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3-5 سال) اور ابتدائی عمر (6-12) کے لیے بھی خاص نسخے موجود ہیں۔

بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں