نحمیاہ 2
نوجوان (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
اُس کی وضاحت
چار مہینے گزر چکے تھے۔ نحمیاہ نے یروشلم کی بربادی کی خبر سنی تھی، رویا تھا، دعا کی تھی، لیکن ابھی تک خاموش رہا تھا۔ پھر ایک دن، جب وہ شہنشاہ ارتخشستا کو مَے پلا رہا تھا، اُس کے چہرے پر وہ اُداسی نظر آ گئی جو وہ چار مہینوں سے دبائے ہوئے تھا۔ شہنشاہ نے پوچھ لیا: تم اِتنے غمگین کیوں ہو؟ یہ سوال معمولی نہیں تھا۔ ایک بادشاہ کے سامنے اُداس دکھائی دینا خطرناک ہو سکتا تھا، اور نحمیاہ خود لکھتا ہے کہ وہ سخت گھبرا گیا۔
لیکن اُس نے سچ بتا دیا۔ اُس نے کہا کہ جس شہر میں اُس کے باپ دادا دفن ہیں وہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ اِس ایک جملے میں پورا درد سمٹا ہوا ہے۔ اور جب شہنشاہ نے پوچھا کہ وہ کیا چاہتا ہے، تو نحمیاہ نے پہلے خاموشی سے آسمان کے خدا سے دعا کی، پھر جواب دیا۔ یہ لمحہ چند سیکنڈوں کا تھا، مگر اُس میں سارا اعتماد خدا پر تھا، نہ اپنی ہوشیاری پر۔
اِس کے بعد سب کچھ تیزی سے ہوا۔ شہنشاہ نے سفر کی اجازت دی، خطوط دیے، لکڑی کا انتظام کیا، حتیٰ کہ فوجی افسر اور گھڑسوار بھی ساتھ بھیجے۔ نحمیاہ خود کہتا ہے، اللہ کا شفیق ہاتھ مجھ پر تھا۔ جب وہ یروشلم پہنچا تو تین دن انتظار کیا، پھر رات کے اندھیرے میں، صرف چند آدمیوں کے ساتھ، فصیل کا معائنہ کرنے نکلا۔ کسی کو نہیں بتایا کہ کیا کر رہا ہے۔ ملبے کی کثرت کی وجہ سے جانور کو راستہ بھی نہ ملا۔ یہ ایک آدمی کی تصویر ہے جو تاریکی میں، خاموشی سے، ایک ٹوٹے ہوئے شہر کی حقیقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، بغیر کسی جوش و خروش کے، بس نوٹ کر رہا ہے کہ نقصان کتنا بڑا ہے۔
جب اُس نے سب دیکھ لیا تو یروشلم کے رہنماؤں سے کھل کر بات کی۔ اُس نے اُنہیں مصیبت یاد دلائی، اپنی گواہی سنائی کہ خدا کا ہاتھ اُس پر کیسے رہا، اور بادشاہ کا وعدہ بتایا۔ لوگوں نے کہا: آئیں، ہم تعمیر کا کام شروع کریں۔ لیکن ہر بار جب کوئی اچھا کام شروع ہوتا ہے، مخالفت بھی جاگ اُٹھتی ہے۔ سنبلّط، طوبیاہ اور جشم نے مذاق اُڑایا اور دھمکی دی۔ نحمیاہ نے اُن کے سامنے کوئی لڑائی نہیں کی، بس صاف کہا: آسمان کا خدا ہمیں کامیابی دے گا، اور تمہارا اِس شہر میں کوئی حصہ نہیں۔
اِس کا کیا مطلب ہے؟
یہ باب دکھاتا ہے کہ خدا کا کام کبھی جذباتی طوفان سے شروع نہیں ہوتا، بلکہ صبر، دعا اور سچائی سے۔ نحمیاہ چار مہینے خاموش رہا۔ اُس نے فوراً کچھ نہیں کیا۔ اُس نے پہلے دعا کی، پھر بولا۔ اُس نے پہلے حقیقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، پھر لوگوں کو بلایا۔ یہ تیز نتیجہ نکالنے والی دنیا کے لئے ایک عجیب سبق ہے۔ آج ہم فوراً رد عمل دینے کے عادی ہیں، لیکن نحمیاہ ہمیں دکھاتا ہے کہ خدا کا کام دیر سے، مگر گہرائی سے پکتا ہے۔
یہ باب یہ بھی دکھاتا ہے کہ خدا کا شفیق ہاتھ کسی انسان کے خوف یا کمزوری کو ختم نہیں کرتا، بلکہ اُس کے ساتھ چلتا ہے۔ نحمیاہ گھبرایا تھا، پھر بھی بولا۔ ایمان بے خوفی نہیں ہے، ایمان اُس خوف کے ساتھ خدا پر بھروسا کرنا ہے۔
مشترکہ لڑی
پوری کتاب نحمیاہ ایک ٹوٹی ہوئی فصیل کے بارے میں ہے، اُس فصیل کے بارے میں جو خدا کے لوگوں کو حفاظت اور عزت دیتی تھی۔ یہ کہانی صدیوں بعد ایک اور تعمیر کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ جب خدا کا گھر، اُس کے لوگوں کے دل، ٹوٹے ہوئے تھے، تو خدا نے کسی اور کو بھیجا، نہ صرف دیواریں بنانے کے لئے بلکہ رشتہ بحال کرنے کے لئے۔ خداوند یسوع مسیح نے کہا کہ وہ خود مندر ہے جسے گرایا جائے گا اور تین دن میں کھڑا کیا جائے گا۔ نحمیاہ نے ملبے کے درمیان چل کر نقصان دیکھا۔ خداوند یسوع مسیح نے صلیب پر انسان کی سب سے گہری ٹوٹی ہوئی حالت کو اپنے اوپر لیا۔ نحمیاہ کا اعتماد تھا کہ آسمان کا خدا کامیابی دے گا۔ یہی وعدہ ہر اُس شخص کے لئے قائم ہے جو اپنی زندگی کی ٹوٹی ہوئی دیواروں کو خدا کے سامنے لاتا ہے۔
تمہارے لئے
تمہاری زندگی میں بھی کوئی نہ کوئی ملبہ ہو سکتا ہے، ایک رشتہ جو ٹوٹ گیا، ایک خواب جو راکھ ہو گیا، ایک شرمندگی جسے تم چھپاتے ہو۔ نحمیاہ کی مثال یہ سکھاتی ہے کہ سب سے پہلا قدم فوراً کچھ کر گزرنا نہیں، بلکہ خاموشی سے خدا کے سامنے حقیقت رکھنا ہے۔ کبھی کبھار خدا چار مہینے، یا چار سال، خاموش رہنے دیتا ہے، اِس سے پہلے کہ وہ دروازہ کھولے۔ یہ انتظار بیکار نہیں، یہ تیاری ہے۔
اور جب موقع آئے، ڈر کے باوجود بولنا سیکھو۔ نحمیاہ گھبرایا تھا، مگر پھر بھی سچ بولا۔ یہی وہ ہمت ہے جو تمہیں چاہیے جب کلاس میں، دوستوں کے بیچ، یا اپنے خاندان میں سچ بولنا مشکل ہو۔
آپس میں بات کریں
کیا کبھی تم نے کسی مشکل بات کو خدا کے سامنے رکھنے کے لئے، بولنے سے پہلے، جان بوجھ کر انتظار کیا ہے؟ اُس انتظار کا کیا اثر ہوا؟
نحمیاہ نے مذاق اور دھمکی کے سامنے سیدھا جواب دیا۔ اُس کی طرح تم کس بات پر ڈٹے رہنا چاہتے ہو، چاہے کوئی تمہارا مذاق اُڑائے؟
ساتھ دعا کریں
اے آسمان کے خدا، ہماری زندگی میں بھی ملبہ اور راکھ ہے، ایسی جگہیں جو ہم چھپاتے ہیں کیونکہ اُن کا سامنا کرنا مشکل لگتا ہے۔ ہمیں نحمیاہ جیسی ہمت دے، پہلے تیرے سامنے سچ رکھنے کی، پھر لوگوں کے سامنے بولنے کی۔ جب کوئی ہمارا مذاق اُڑائے یا ہمیں روکنے کی کوشش کرے، ہمیں یاد رہے کہ تیرا ہاتھ ہم پر شفیق ہے۔ آمین۔
نحمیاہ 2 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
نحمیاہ 2 کس بارے میں ہے؟
نحمیاہ 2 کیا کہتا ہے؟
نحمیاہ 2 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
نوجوان نحمیاہ 2 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
نحمیاہ 2 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
نحمیاہ نے لوگوں کو ڈانٹ کر یا منصوبہ دکھا کر کام شروع نہیں کیا۔ اُس نے بس یہ سنایا کہ "میرے خدا کا شفیق ہاتھ کس طرح مجھ پر رہا ہے۔" اور ٹوٹے ہوئے دلوں میں ہمت جاگ اٹھی: "آئیں، ہم تعمیر کا کام شروع کریں!" آپ کی زندگی میں بھی خدا کی مہربانی کی کوئی کہانی ہے۔ سنائیں۔ شاید کوئی اُسے سن کر دوبارہ اٹھ کھڑا ہو۔
بادشاہ کا سوال بہت عملی تھا: "تیرا سفر کتنی دیر کا ہو گا؟ تُو کب واپس آئے گا؟" اور نحمیاہ کے پاس جواب تیار تھا، اُس نے وقت بتا دیا۔ چار مہینے کی دعا اور رونے کے دوران وہ صرف آہیں نہیں بھر رہا تھا، وہ سوچ بھی رہا تھا۔ تُو جس بوجھ کے لیے دعا کر رہا ہے، کیا اُس کے لیے کوئی قدم بھی تیار ہے؟ خدا اکثر دروازہ اُسی کے لیے کھولتا ہے جو اندر جانے کو تیار ہو۔
دیوار کی پہلی اینٹ ابھی رکھی بھی نہیں گئی تھی کہ مذاق شروع ہو گیا۔ "یہ تم کیا کر رہے ہو؟ کیا تم بادشاہ سے سرکش ہونا چاہتے ہو؟" پہلے ہنسی، پھر نیت پر الزام۔ دشمن اکثر آپ کے کام پر نہیں، آپ کے دل پر حملہ کرتا ہے۔ نحمیاہ نے صفائی پیش نہیں کی، اُس نے آسمان کے خدا کی طرف دیکھا۔ آپ کس کو جواب دینے میں وقت ضائع کر رہے ہیں؟
چھوٹے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور پرائمری عمر (7 تا 12 سال) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں