13 سال اور اس سے بڑے نوجوان کے لیے

امثال 20

نوجوان (13 سال اور اس سے بڑے) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی

بائبل

The Explanation

امثال کا یہ باب ایک ہی کہانی نہیں بلکہ زندگی کے بہت سے پہلوؤں پر بکھری ہوئی حکمت کی باتیں ہیں، جیسے کوئی تجربہ کار شخص اپنی زندگی بھر کی سمجھ آپ کے سامنے رکھ رہا ہو۔ شراب نوشی کے خطرے سے بات شروع ہوتی ہے، پھر بادشاہ کے غصے کا ذکر آتا ہے، اور جھگڑے سے دور رہنے کی عزت بیان ہوتی ہے جبکہ احمق ہر وقت لڑنے کو تیار رہتا ہے۔ کاہل آدمی وقت پر ہل نہیں چلاتا اور فصل کے وقت خالی ہاتھ رہ جاتا ہے۔ پھر ایک گہری بات آتی ہے: انسان کے دل کا منصوبہ گہرے پانی کی طرح ہے، یعنی ہمارے اپنے اصل ارادے ہمیں خود بھی صاف نظر نہیں آتے۔ بہت سے لوگ وفاداری کا دعویٰ کرتے ہیں مگر حقیقی قابلِ اعتماد شخص ملنا مشکل ہے۔ باب میں ایماندار اور بددیانت کاروبار کا ذکر بار بار آتا ہے، نوجوان کے کردار کا اندازہ اس کے عمل سے لگانے کی بات، نیند سے محبت نہ رکھنے کی نصیحت، سمجھ دار باتوں کی قیمت سونے سے بڑھ کر بتائی جاتی ہے۔ دھوکے سے کمائی روٹی میٹھی لگتی ہے مگر انجام کڑوا ہوتا ہے۔ انتقام نہ لینے اور رب کے انتظار میں رہنے کی بات آتی ہے، اور یہ حیران کن سچائی کہ رب ہی انسان کے قدم مقرر کرتا ہے۔ آخر میں باب یہ کہتے ہوئے ختم ہوتا ہے کہ انسان کی روح خود رب کا چراغ ہے، جو انسان کے باطن کی گہرائی تک سب کچھ جانچ لیتا ہے۔

What Does This Mean?

ان سب الگ الگ باتوں کے پیچھے ایک سوال چھپا ہے: کیا تم واقعی اپنے آپ کو جانتے ہو؟ آیت 9 یہ سوال سیدھا پوچھتی ہے، کون کہہ سکتا ہے کہ میں نے اپنے دل کو پاک صاف کر رکھا ہے؟ کوئی نہیں کہہ سکتا۔ یہ بات اس دنیا کے خلاف جاتی ہے جو ہر وقت کہتی ہے کہ اپنے دل کی سنو، جو محسوس کرو وہی سچ ہے۔ امثال کہتا ہے کہ دل گہرا پانی ہے، دھندلا ہے، ہم اپنے آپ کو اتنی آسانی سے دھوکہ دے سکتے ہیں جتنا ہم سوچتے بھی نہیں۔ وہ گاہک جو سودا کرتے وقت شکایت کرتا ہے مگر بعد میں اسی سودے پر فخر کرتا ہے، یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے اس بڑی حقیقت کی کہ انسان جو کہتا ہے اور جو اصل میں محسوس کرتا ہے، ان میں فرق ہوتا ہے۔ یہ باب تمہیں شرمندہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ ایماندار بنانے کے لیے یہ بات کہتا ہے۔ ساتھ ہی یہ صبر کی حکمت بھی سکھاتا ہے، فضول جھگڑے سے دور رہنا، غصے کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دینا، انتقام کی بجائے رب کا انتظار کرنا۔ یہ سب آسان نہیں۔ جب کوئی تمہیں تکلیف دے تو فوراً جواب دینا کہیں زیادہ آسان لگتا ہے۔

The Common Thread

آیت 27 کہتی ہے کہ انسان کی روح رب کا چراغ ہے جو باطن کی تہہ تک سب کچھ کی تحقیق کرتا ہے۔ یہ بات ڈرانے والی بھی لگ سکتی ہے مگر دراصل یہ راحت کی بات ہے۔ ہم اپنے دل کو مکمل طور پر نہیں دیکھ سکتے، مگر خداوند دیکھ سکتا ہے، اور وہ صرف سزا دینے کے لیے نہیں بلکہ شفا دینے کے لیے دیکھتا ہے۔ خداوند یسوع مسیح وہی ہے جس نے آیت 22 کا مطالبہ خود پورا کر دکھایا، انتقام نہیں لیا بلکہ باپ کے انتظار میں رہا، یہاں تک کہ صلیب پر بھی۔ وہ وہی بادشاہ ہے جس کا تذکرہ آیت 28 میں ہے، جس کا تخت شفقت اور وفا سے مستحکم ہوتا ہے، کیونکہ یہی صفات اس میں مکمل طور پر پائی جاتی ہیں۔ جہاں ہم خود نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے اپنا دل پاک کر رکھا ہے، وہاں خوشخبری یہ ہے کہ کسی اور نے یہ کام ہمارے لیے مکمل کر دیا۔

For You

پہلی بات، اپنے بارے میں ایماندار بنو۔ تم اکثر سوچو گے کہ تمہارے ارادے نیک ہیں، حالانکہ وہ ملے جلے ہوتے ہیں۔ یہ شرم کی بات نہیں، یہ انسان ہونے کی علامت ہے۔ مگر اس کے لیے عاجزی چاہیے کہ کبھی کبھار خدا اور دوسروں کو اپنے دل میں جھانکنے دو، نہ کہ ہمیشہ اپنا دفاع کرتے رہو۔ دوسری بات، انتقام اور جھگڑے کے بارے میں سوچو۔ سوشل میڈیا پر یا سکول میں روز تمہیں یہ لالچ آتا ہے کہ جب کوئی تمہیں نیچا دکھائے تو فوراً جواب دو۔ آیت 22 کچھ مختلف کہتی ہے، یہ نہ کہو کہ میں بدلہ لوں گا، رب کے انتظار میں رہو۔ اس کے لیے فوراً مکا مارنے سے کہیں زیادہ طاقت چاہیے۔ تیسری بات، اپنے الفاظ کو سنجیدگی سے لو، غیبت کرنے والا نہ بنو اور جلدی میں ایسے وعدے نہ کرو جنہیں پورا نہ کر سکو۔ راست بازی کا مطلب کامل ہونا نہیں بلکہ خدا اور دوسروں کے سامنے سچا رہنا ہے۔

Talk About It

اگر خدا تمہارے دل کی گہرائی تک سب کچھ دیکھ سکتا ہے، تو کیا یہ بات تمہیں خوفزدہ کرتی ہے یا راحت دیتی ہے؟ کیوں؟

زندگی میں ایسا کوئی موقع یاد کرو جب تمہیں انتقام لینے کا موقع ملا مگر تم نے صبر کیا، یا جب تم نے صبر نہیں کیا۔ اس تجربے نے تمہیں کیا سکھایا؟

Praying Together

خداوند، تو میرے دل کو مجھ سے بہتر جانتا ہے۔ میں اکثر اپنے آپ کو دھوکہ دیتا ہوں، اپنے ارادوں کو نیک سمجھتا ہوں حالانکہ وہ ملے جلے ہیں۔ مجھے ایماندار بننے میں مدد دے۔ جب کوئی مجھے تکلیف دے اور دل بدلہ لینے کو کہے، تو مجھے صبر دے اور تیرے انتظار میں رہنا سکھا۔ تو نے یسوع مسیح میں ہمیں وہ راستہ دکھایا جو انتقام سے نہیں بلکہ محبت اور سچائی سے چلتا ہے۔ میرے دل کو صاف کر، آمین۔

یہ بائبل کہانی شیئر کریں

دوسرے والدین یا اساتذہ کے لیے جنہیں یہ مددگار لگ سکتا ہے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

امثال 20 کے بارے میں سوالات

ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔

امثال 20 کس بارے میں ہے؟
امثال کا یہ باب ایک ہی کہانی نہیں بلکہ زندگی کے بہت سے پہلوؤں پر بکھری ہوئی حکمت کی باتیں ہیں، جیسے کوئی تجربہ کار شخص اپنی زندگی بھر کی سمجھ آپ کے سامنے رکھ رہا ہو۔ شراب نوشی کے خطرے سے بات شروع ہوتی ہے، پھر بادشاہ کے غصے کا ذکر آتا ہے، اور جھگڑے سے دور رہنے کی عزت بیان ہوتی ہے جبکہ احمق ہر وقت لڑنے کو تیار رہتا ہے۔ کاہل آدمی وقت پر ہل نہیں چلاتا اور فصل کے وقت خالی ہاتھ رہ جاتا ہے۔ پھر ایک گہری بات آتی ہے: انسان کے دل کا منصوبہ گہرے پانی کی طرح ہے، یعنی ہمارے اپنے اصل ارادے ہمیں خود بھی صاف نظر نہیں آتے۔ بہت سے لوگ وفاداری کا دعویٰ کرتے ہیں مگر حقیقی قابلِ اعتماد شخص ملنا مشکل ہے۔ باب میں ایماندار اور بددیانت کاروبار کا ذکر بار بار آتا ہے، نوجوان کے کردار کا اندازہ اس کے عمل سے لگانے کی بات، نیند سے محبت نہ رکھنے کی نصیحت، سمجھ دار باتوں کی قیمت سونے سے بڑھ کر بتائی جاتی ہے۔ دھوکے سے کمائی روٹی میٹھی لگتی ہے مگر انجام کڑوا ہوتا ہے۔ انتقام نہ لینے اور رب کے انتظار میں رہنے کی بات آتی ہے، اور یہ حیران کن سچائی کہ رب ہی انسان کے قدم مقرر کرتا ہے۔ آخر میں باب یہ کہتے ہوئے ختم ہوتا ہے کہ انسان کی روح خود رب کا چراغ ہے، جو انسان کے باطن کی گہرائی تک سب کچھ جانچ لیتا ہے۔
امثال 20 کیا کہتا ہے؟
ان سب الگ الگ باتوں کے پیچھے ایک سوال چھپا ہے: کیا تم واقعی اپنے آپ کو جانتے ہو؟ آیت 9 یہ سوال سیدھا پوچھتی ہے، کون کہہ سکتا ہے کہ میں نے اپنے دل کو پاک صاف کر رکھا ہے؟ کوئی نہیں کہہ سکتا۔ یہ بات اس دنیا کے خلاف جاتی ہے جو ہر وقت کہتی ہے کہ اپنے دل کی سنو، جو محسوس کرو وہی سچ ہے۔ امثال کہتا ہے کہ دل گہرا پانی ہے، دھندلا ہے، ہم اپنے آپ کو اتنی آسانی سے دھوکہ دے سکتے ہیں جتنا ہم سوچتے بھی نہیں۔ وہ گاہک جو سودا کرتے وقت شکایت کرتا ہے مگر بعد میں اسی سودے پر فخر کرتا ہے، یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے اس بڑی حقیقت کی کہ انسان جو کہتا ہے اور جو اصل میں محسوس کرتا ہے، ان میں فرق ہوتا ہے۔ یہ باب تمہیں شرمندہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ ایماندار بنانے کے لیے یہ بات کہتا ہے۔ ساتھ ہی یہ صبر کی حکمت بھی سکھاتا ہے، فضول جھگڑے سے دور رہنا، غصے کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دینا، انتقام کی بجائے رب کا انتظار کرنا۔ یہ سب آسان نہیں۔ جب کوئی تمہیں تکلیف دے تو فوراً جواب دینا کہیں زیادہ آسان لگتا ہے۔
امثال 20 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
آیت 27 کہتی ہے کہ انسان کی روح رب کا چراغ ہے جو باطن کی تہہ تک سب کچھ کی تحقیق کرتا ہے۔ یہ بات ڈرانے والی بھی لگ سکتی ہے مگر دراصل یہ راحت کی بات ہے۔ ہم اپنے دل کو مکمل طور پر نہیں دیکھ سکتے، مگر خداوند دیکھ سکتا ہے، اور وہ صرف سزا دینے کے لیے نہیں بلکہ شفا دینے کے لیے دیکھتا ہے۔ خداوند یسوع مسیح وہی ہے جس نے آیت 22 کا مطالبہ خود پورا کر دکھایا، انتقام نہیں لیا بلکہ باپ کے انتظار میں رہا، یہاں تک کہ صلیب پر بھی۔ وہ وہی بادشاہ ہے جس کا تذکرہ آیت 28 میں ہے، جس کا تخت شفقت اور وفا سے مستحکم ہوتا ہے، کیونکہ یہی صفات اس میں مکمل طور پر پائی جاتی ہیں۔ جہاں ہم خود نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے اپنا دل پاک کر رکھا ہے، وہاں خوشخبری یہ ہے کہ کسی اور نے یہ کام ہمارے لیے مکمل کر دیا۔
نوجوان امثال 20 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
پہلی بات، اپنے بارے میں ایماندار بنو۔ تم اکثر سوچو گے کہ تمہارے ارادے نیک ہیں، حالانکہ وہ ملے جلے ہوتے ہیں۔ یہ شرم کی بات نہیں، یہ انسان ہونے کی علامت ہے۔ مگر اس کے لیے عاجزی چاہیے کہ کبھی کبھار خدا اور دوسروں کو اپنے دل میں جھانکنے دو، نہ کہ ہمیشہ اپنا دفاع کرتے رہو۔ دوسری بات، انتقام اور جھگڑے کے بارے میں سوچو۔ سوشل میڈیا پر یا سکول میں روز تمہیں یہ لالچ آتا ہے کہ جب کوئی تمہیں نیچا دکھائے تو فوراً جواب دو۔ آیت 22 کچھ مختلف کہتی ہے، یہ نہ کہو کہ میں بدلہ لوں گا، رب کے انتظار میں رہو۔ اس کے لیے فوراً مکا مارنے سے کہیں زیادہ طاقت چاہیے۔ تیسری بات، اپنے الفاظ کو سنجیدگی سے لو، غیبت کرنے والا نہ بنو اور جلدی میں ایسے وعدے نہ کرو جنہیں پورا نہ کر سکو۔ راست بازی کا مطلب کامل ہونا نہیں بلکہ خدا اور دوسروں کے سامنے سچا رہنا ہے۔
امثال 20 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
اگر خدا تمہارے دل کی گہرائی تک سب کچھ دیکھ سکتا ہے، تو کیا یہ بات تمہیں خوفزدہ کرتی ہے یا راحت دیتی ہے؟ کیوں؟

چھوٹے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟

ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3-5 سال) اور ابتدائی عمر (6-12) کے لیے بھی خاص نسخے موجود ہیں۔

بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں