12 سال اور اس سے زائد عمر کے نوجوان کے لیے

رومیوں 9

نوجوان (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی

بائبل

رومیوں 9 کی تفسیر

وضاحت

پولس رسول اِس باب کو ایک ایسے درد سے شروع کرتا ہے جو جھوٹا نہیں، بناوٹی نہیں۔ وہ کہتا ہے کہ میرے دل میں اپنی قوم، اپنے یہودی بھائیوں کے لئے مسلسل غم ہے۔ حد یہ ہے کہ وہ کہتا ہے، کاش مَیں خود ملعون ہو جاؤں، مسیح سے جدا ہو جاؤں، بس میری قوم نجات پا جائے۔ یہ کوئی مذہبی جملہ نہیں ہے جو اچھا لگتا ہو۔ یہ ایک آدمی کی چیخ ہے جو اپنے لوگوں سے محبت کرتا ہے اور دیکھتا ہے کہ وہ خدا کے وعدوں کے اتنے قریب ہو کر بھی اُن سے دور ہیں۔

پھر پولس ایک مشکل سوال اُٹھاتا ہے۔ اگر اسرائیل کو خدا نے چنا تھا، اُنہیں فرزند بنایا، اُن سے عہد باندھا، اور پھر بھی زیادہ تر اُس نجات سے محروم رہ گئے جو مسیح میں آئی، تو کیا خدا کا وعدہ ناکام ہو گیا؟ پولس کا جواب صاف ہے: نہیں۔ کیونکہ ابراہیم کی جسمانی اولاد ہونا ہی کافی نہیں تھا۔ اسحاق چنا گیا، اسماعیل نہیں۔ یعقوب چنا گیا، عیسَو نہیں، اور یہ چناؤ اُن کے پیدا ہونے سے پہلے ہی ہو چکا تھا، نہ اُن کے نیک یا بُرے کاموں کی بنیاد پر بلکہ خدا کے اپنے ارادے اور بُلاوے کی بنیاد پر۔

یہیں سے پولس اُس زمین میں قدم رکھتا ہے جہاں بہت سے لوگ ٹھوکر کھاتے ہیں۔ وہ فرعون کی مثال دیتا ہے، کمہار اور مٹی کی مثال دیتا ہے۔ وہ پوچھتا ہے، کیا کمہار کو حق نہیں کہ ایک ہی گارے سے کچھ برتن عزت کے لئے اور کچھ ذلت کے لئے بنائے؟ یہ الفاظ بھاری ہیں، اور پولس اُنہیں ہلکا کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ یہ سوال آسان ہے۔ وہ یہ کہتا ہے کہ انسان کی حیثیت نہیں کہ اپنے بنانے والے سے بحث کرے۔

آخر میں پولس اُس چیز کی طرف آتا ہے جو اصل میں ہوئی: غیریہودی، جو راست بازی ڈھونڈ بھی نہیں رہے تھے، ایمان کے ذریعے اُسے پا گئے۔ اور اسرائیل، جو شریعت کی پیروی میں لگے رہے، اُس راست بازی سے محروم رہ گئے، کیونکہ وہ اعمال پر انحصار کرتے رہے، ایمان پر نہیں۔ وہ اُس پتھر سے ٹھوکر کھا گئے جو خدا نے صیون میں رکھا تھا۔

اِس کا کیا مطلب ہے؟

یہ باب اُس سوال کا سامنا کرتا ہے جو ہر سنجیدہ ایمان والے کے دل میں کبھی نہ کبھی اُٹھتا ہے: کیا خدا منصف ہے؟ اگر وہ کسی پر رحم کرتا ہے اور کسی کو سخت کر دیتا ہے، تو پھر انسان کی ذمہ داری کہاں رہی؟ پولس اِس سوال کو ٹالتا نہیں، وہ اُسے سیدھا اُٹھاتا ہے اور پھر جواب دیتا ہے کہ خدا کی حاکمیت اور انسان کا جوابدہ ہونا دونوں سچ ہیں، چاہے ہم اُن دونوں کو مکمل طور پر سمجھ نہ سکیں۔ یہ باب سکون دینے کے لئے نہیں لکھا گیا، یہ سچائی کے سامنے جھکنے کے لئے لکھا گیا ہے۔

یہاں ایک اور بات صاف ہوتی ہے۔ خدا کے وعدے کبھی نسل، خاندان یا مذہبی پس منظر پر مبنی نہیں تھے۔ وہ ہمیشہ اُس کے اپنے ارادے اور رحم پر مبنی تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ غیریہودی جو کچھ تلاش نہیں کر رہے تھے، راست بازی پا گئے، اور وہ لوگ جو شریعت پر محنت کرتے رہے، اُس راست بازی سے محروم رہ گئے جو صرف ایمان سے ملتی ہے۔

سلسلہ

یہ پورا باب اُس پتھر پر آ کر رُکتا ہے جو صیون میں رکھا گیا، یعنی خود مسیح۔ وہی پتھر ہے جس پر لوگ ٹھوکر کھاتے ہیں یا جس پر وہ کھڑے ہو کر نجات پاتے ہیں۔ پولس کا سارا استدلال، ابراہیم سے لے کر فرعون تک، کمہار سے لے کر یسعیاہ نبی کی پیش گوئیوں تک، اِسی ایک نکتے پر آ کر ختم ہوتا ہے: خدا کا وعدہ کبھی خون یا نسل کی بنیاد پر نہیں تھا، وہ ہمیشہ ایمان کی بنیاد پر تھا، اور وہ ایمان مسیح میں مکمل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہودی اور غیریہودی دونوں، بغیر کسی فرق کے، صرف اُسی پتھر پر کھڑے ہو کر شرمندہ نہیں ہوتے۔

تمہارے لئے

تم شاید یہ سوچو کہ اگر خدا پہلے سے کچھ لوگوں کو چنتا ہے تو میری کوشش کا کیا فائدہ۔ یہ سوال جائز ہے، اور پولس اُسے جھوٹلاتا نہیں۔ لیکن دیکھو کہاں اُس کا استدلال ختم ہوتا ہے: ایمان پر۔ نہ نسل پر، نہ کارکردگی پر، نہ اِس پر کہ تم کتنے "اچھے" ہو۔ اگر تمہارا ایمان مسیح پر ہے، تو تم اُسی وعدے کے وارث ہو جو ابراہیم کو ملا تھا۔ یہ بات تمہیں اُس دباؤ سے آزاد کرتی ہے جو کہتا ہے کہ تمہیں خدا کے سامنے اپنے آپ کو ثابت کرنا ہے۔ تمہیں ثابت نہیں کرنا، صرف اُس پتھر پر کھڑا ہونا ہے۔

بات کرو

اگر خدا کی حاکمیت اور انسان کی آزادی دونوں سچ ہیں، تو تم اپنی زندگی کے اُن فیصلوں کو کیسے دیکھتے ہو جن میں تمہیں لگتا ہے کہ کچھ تمہارے بس میں نہیں تھا؟

پولس کہتا ہے کہ غیریہودی بغیر تلاش کے راست بازی پا گئے، جبکہ اسرائیل محنت کے باوجود محروم رہ گیا۔ کیا تمہاری زندگی میں کوئی جگہ ہے جہاں تم خدا کی قبولیت کمانے کی کوشش کر رہے ہو؟

دعا

اے خداوند، تیرے راستے ہم سے اونچے ہیں اور ہم اُنہیں ہمیشہ سمجھ نہیں پاتے۔ ہمیں اتنی عاجزی دے کہ ہم تیرے سامنے بحث کرنے کے بجائے تیری رحمت پر بھروسا کریں۔ ہمیں اُس پتھر پر مضبوطی سے کھڑا رکھ جو تُو نے صیون میں رکھا، تاکہ ہم کبھی شرمندہ نہ ہوں۔ آمین۔

یہ بائبل کہانی شیئر کریں

دوسرے والدین یا اساتذہ کے لیے جنہیں یہ مددگار لگ سکتا ہے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

رومیوں 9 کے بارے میں سوالات

ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔

رومیوں 9 کس بارے میں ہے؟
پولس رسول اِس باب کو ایک ایسے درد سے شروع کرتا ہے جو جھوٹا نہیں، بناوٹی نہیں۔ وہ کہتا ہے کہ میرے دل میں اپنی قوم، اپنے یہودی بھائیوں کے لئے مسلسل غم ہے۔ حد یہ ہے کہ وہ کہتا ہے، کاش مَیں خود ملعون ہو جاؤں، مسیح سے جدا ہو جاؤں، بس میری قوم نجات پا جائے۔ یہ کوئی مذہبی جملہ نہیں ہے جو اچھا لگتا ہو۔ یہ ایک آدمی کی چیخ ہے جو اپنے لوگوں سے محبت کرتا ہے اور دیکھتا ہے کہ وہ خدا کے وعدوں کے اتنے قریب ہو کر بھی اُن سے دور ہیں۔
رومیوں 9 کیا کہتا ہے؟
یہیں سے پولس اُس زمین میں قدم رکھتا ہے جہاں بہت سے لوگ ٹھوکر کھاتے ہیں۔ وہ فرعون کی مثال دیتا ہے، کمہار اور مٹی کی مثال دیتا ہے۔ وہ پوچھتا ہے، کیا کمہار کو حق نہیں کہ ایک ہی گارے سے کچھ برتن عزت کے لئے اور کچھ ذلت کے لئے بنائے؟ یہ الفاظ بھاری ہیں، اور پولس اُنہیں ہلکا کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ یہ سوال آسان ہے۔ وہ یہ کہتا ہے کہ انسان کی حیثیت نہیں کہ اپنے بنانے والے سے بحث کرے۔
رومیوں 9 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یہ باب اُس سوال کا سامنا کرتا ہے جو ہر سنجیدہ ایمان والے کے دل میں کبھی نہ کبھی اُٹھتا ہے: کیا خدا منصف ہے؟ اگر وہ کسی پر رحم کرتا ہے اور کسی کو سخت کر دیتا ہے، تو پھر انسان کی ذمہ داری کہاں رہی؟ پولس اِس سوال کو ٹالتا نہیں، وہ اُسے سیدھا اُٹھاتا ہے اور پھر جواب دیتا ہے کہ خدا کی حاکمیت اور انسان کا جوابدہ ہونا دونوں سچ ہیں، چاہے ہم اُن دونوں کو مکمل طور پر سمجھ نہ سکیں۔ یہ باب سکون دینے کے لئے نہیں لکھا گیا، یہ سچائی کے سامنے جھکنے کے لئے لکھا گیا ہے۔
نوجوان رومیوں 9 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
یہ پورا باب اُس پتھر پر آ کر رُکتا ہے جو صیون میں رکھا گیا، یعنی خود مسیح۔ وہی پتھر ہے جس پر لوگ ٹھوکر کھاتے ہیں یا جس پر وہ کھڑے ہو کر نجات پاتے ہیں۔ پولس کا سارا استدلال، ابراہیم سے لے کر فرعون تک، کمہار سے لے کر یسعیاہ نبی کی پیش گوئیوں تک، اِسی ایک نکتے پر آ کر ختم ہوتا ہے: خدا کا وعدہ کبھی خون یا نسل کی بنیاد پر نہیں تھا، وہ ہمیشہ ایمان کی بنیاد پر تھا، اور وہ ایمان مسیح میں مکمل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہودی اور غیریہودی دونوں، بغیر کسی فرق کے، صرف اُسی پتھر پر کھڑے ہو کر شرمندہ نہیں ہوتے۔
رومیوں 9 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
اگر خدا کی حاکمیت اور انسان کی آزادی دونوں سچ ہیں، تو تم اپنی زندگی کے اُن فیصلوں کو کیسے دیکھتے ہو جن میں تمہیں لگتا ہے کہ کچھ تمہارے بس میں نہیں تھا؟

چھوٹے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟

ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور پرائمری عمر (7 تا 12 سال) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔

بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں

For parents and teachers: نوجوانوں اور نوعمر افراد کے لیے تحریر کردہ۔ یوتھ گروپ، تصدیقی کلاس، یا ذاتی بائبل مطالعے کے لیے بہترین۔ This explanation is generated automatically by language models. While we strive for theological soundness, the software can make mistakes.

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network