صفنیاہ 1
نوجوان (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
صفنیاہ باب 1
تفسیر
یہ کتاب ایک بادشاہ کے دور میں لکھی گئی جس کا نام یوسیاہ تھا۔ وہ ایک ایسا بادشاہ تھا جس نے یہوداہ میں دین کی اصلاح کی کوشش کی، مگر برسوں کی بت پرستی، سطحی مذہب اور دلی بےاعتنائی اتنی گہری تھی کہ اصلاح کے باوجود قوم کی جڑیں سڑی ہوئی تھیں۔ صفنیاہ اسی پس منظر میں بولتا ہے، اور اُس کا لہجہ نرم نہیں۔
خدا کا کلام یہاں ایک اعلان سے شروع ہوتا ہے جو خوفناک حد تک وسیع ہے: زمین پر سے سب کچھ مٹا دیا جائے گا، انسان، حیوان، پرندے، مچھلیاں۔ یہ الفاظ تخلیق کی کہانی کو الٹا چلاتے ہیں، جیسے وہ ترتیب جو خدا نے پیدائش میں قائم کی تھی، اب واپس کھینچی جا رہی ہو۔ پھر توجہ خاص طور پر یہوداہ اور یروشلم پر مرکوز ہوتی ہے۔ وہاں کے لوگ بعل دیوتا کی پوجا کرتے تھے، چھتوں پر چڑھ کر ستاروں اور سورج چاند کو سجدہ کرتے تھے، اور سب سے زیادہ عجیب بات یہ کہ وہ رب کی قَسم بھی کھاتے اور ملکوم دیوتا کی قَسم بھی۔ یعنی وہ دونوں طرف پاؤں رکھے ہوئے تھے۔ نہ پورا ایمان، نہ پوری بےایمانی، بلکہ ایک آدھا مذہب جو خدا کو دوسرے دیوتاؤں کے ساتھ ایک خانے میں رکھ دیتا ہے۔
آیت 12 میں ایک تصویر ہے جو دل میں اتر جاتی ہے: خدا چراغ لے کر یروشلم کے کونے کونے میں اُن لوگوں کو ڈھونڈے گا جو آرام سے بیٹھے ہیں اور دل میں سوچتے ہیں کہ رب کچھ نہیں کرے گا، نہ اچھا نہ برا۔ یہ لوگ خدا کے وجود سے انکار نہیں کرتے، وہ صرف اُسے غیر متعلق سمجھتے ہیں۔ اُن کے نزدیک خدا ایک ایسی حقیقت ہے جو کبھی مداخلت نہیں کرے گی۔ صفنیاہ کہتا ہے، تم غلط ہو۔
اس کے بعد کا بیان اور بھی تاریک ہو جاتا ہے۔ رب کا دن قریب ہے، وہ دن جس میں خون خاک کی طرح بہایا جائے گا اور نعشیں گوبر کی طرح پھینکی جائیں گی۔ سونا چاندی کچھ کام نہیں آئے گی۔ یہ الفاظ نرم کرنے کے لیے نہیں لکھے گئے۔
اس کا کیا مطلب ہے؟
یہ باب پڑھ کر بےچینی ہونا فطری ہے، اور شاید یہی مقصد ہے۔ صفنیاہ کسی خیالی خوف کی بات نہیں کر رہا۔ وہ ایک حقیقی مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے: جب دین محض عادت بن جائے، جب خدا کو زندگی کے ایک خانے میں رکھ دیا جائے اور باقی زندگی کہیں اور سے چلائی جائے، تو یہ لاتعلقی خود ایک قسم کی بغاوت ہے۔ یہوداہ کے لوگ خدا کو مکمل طور پر رد نہیں کرتے تھے، وہ اُسے صرف ایک آپشن کے طور پر رکھتے تھے۔ یہی چیز صفنیاہ کو سب سے زیادہ پریشان کرتی ہے۔
خدا کا غضب یہاں بےقاعدہ غصہ نہیں ہے۔ یہ اُس کی مقدس محبت کا دوسرا رخ ہے۔ ایک خدا جو انصاف کی پرواہ نہیں کرتا، وہ محبت کرنے والا خدا بھی نہیں ہو سکتا۔ جب ظلم، فریب اور بےحسی معاشرے کی جڑوں میں سرایت کر جائیں، تو ایک مقدس خدا اُس پر خاموش نہیں رہ سکتا۔ یہ باب ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اخلاقی کائنات میں لاپرواہی کی کوئی قیمت نہیں ہوتی، کسی نہ کسی دن حساب ہوتا ہے۔
سلسلہ
یہ باب "رب کے دن" کی بات کرتا ہے، وہ دن جب خدا آخرکار مداخلت کرے گا اور حساب لے گا۔ پرانے عہد نامے میں یہ خیال بار بار آتا ہے، اور نئے عہد نامے میں یہ خیال یسوع مسیح کی واپسی میں پوری طرح ظاہر ہوتا ہے۔ صفنیاہ کی تاریکی اُس آخری دن کی ایک جھلک ہے جس کا ذکر انجیل میں بھی ملتا ہے، جب ہر پوشیدہ چیز ظاہر ہو گی۔
مگر یہاں ایک گہری سچائی چھپی ہے۔ صفنیاہ کا خدا وہی خدا ہے جس نے بعد میں اپنے بیٹے کو بھیجا تاکہ وہ خود اُس غضب کو اپنے اوپر اٹھائے۔ صلیب پر یسوع مسیح نے وہی چیز برداشت کی جس کا ذکر یہاں کیا گیا ہے، خدا سے علیحدگی، تاریکی، سزا۔ صفنیاہ کا پیغام اُس وقت تک ادھورا ہے جب تک ہم صلیب تک نہ پہنچیں، جہاں انصاف اور رحم ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔
تمہارے لیے
تم شاید براہ راست بت پرستی نہیں کرتے، مگر یہ سوچنا آسان ہے کہ خدا دور کہیں بیٹھا ہے اور تمہاری روزمرہ زندگی سے کوئی سروکار نہیں رکھتا۔ یہ بالکل وہی رویہ ہے جس کی بات آیت 12 میں کی گئی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ تم چرچ جاتے ہو یا دعا کرتے ہو، سوال یہ ہے کہ کیا تمہاری اصل زندگی، تمہارے فیصلے، تمہارے رشتے، تمہارا وقت، خدا کے ساتھ حقیقی تعلق میں ہیں یا صرف ایک الگ خانے میں رکھے ہوئے ہیں۔ یہ باب تمہیں دعوت دیتا ہے کہ خود سے پوچھو، کیا میں نے خدا کو صرف ہفتہ وار رسم بنا دیا ہے، یا وہ واقعی میری زندگی کے مرکز میں ہے۔
بات کرو
کیا تمہاری زندگی میں کوئی ایسا حصہ ہے جسے تم نے شعوری یا غیر شعوری طور پر خدا کی نظر سے چھپا رکھا ہے؟
یہ سوچ کہ "خدا کچھ نہیں کرے گا، نہ اچھا نہ برا" آج کے دور میں کن شکلوں میں نظر آتی ہے؟
دعا
اے خدا، ہم اقرار کرتے ہیں کہ ہم اکثر تجھے دور اور غیر متعلق سمجھ لیتے ہیں۔ ہمیں معاف کر اور ہمارے دل کو بیدار کر۔ ہمیں یاد دلا کہ تیرا انصاف اور تیری محبت الگ چیزیں نہیں ہیں۔ ہمیں یسوع مسیح کی طرف دیکھنے میں مدد دے، جس نے صلیب پر ہمارے لیے وہ سزا اٹھائی جس کے ہم مستحق تھے۔ آمین۔
صفنیاہ 1 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
صفنیاہ 1 کس بارے میں ہے؟
صفنیاہ 1 کیا کہتا ہے؟
صفنیاہ 1 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
نوجوان صفنیاہ 1 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
صفنیاہ 1 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
نرسنگا پھونکنے اور جنگ کے نعرے لگانے کا دن ہو گا جب قلعہ بند شہروں اور بڑے بُرجوں پر حملہ ہو گا۔“ صفنیاہ اُن دیواروں کا ذکر کرتا ہے جن پر یروشلم کو سب سے زیادہ بھروسا تھا۔ جو چیز تجھے سب سے زیادہ محفوظ محسوس کراتی ہے، شاید وہی تیرا سب سے بڑا خطرہ ہو۔ بینک کا کھاتہ، تعلقات، صحت، سب برج ہیں۔ خدا اُنہیں گرا کر تجھے تباہ نہیں کرنا چاہتا، بلکہ یہ دکھانا چاہتا ہے کہ اصل پناہ کہاں ہے۔
رب کچھ نہیں کرے گا، نہ اچھا اور نہ بُرا۔“ یہ اعلانِ بےدینی نہیں، دل کی خاموش سرگوشی ہے۔ ایسا شخص دعا تو کرتا ہے، مگر توقع کوئی نہیں رکھتا۔ خدا اُسے مَے کی طرح دیکھتا ہے جو مدت سے تلچھٹ پر بےحرکت پڑی ہے، آرام دہ مگر باسی۔ اور وہ چراغ لے کر کونے کونے میں ایسے دلوں کو ڈھونڈتا ہے۔ کیا وہ آج تیرے دل میں کچھ کرنے کی اُمید پائے گا؟
صفنیاہ کا نام لکھتے وقت روح القدس چار پشتوں تک پیچھے گیا: "کوشی کا بیٹا، جدلیاہ کا پوتا، امریاہ کا پڑپوتا اور حِزقیاہ کا پڑپڑپوتا۔" اِس شجرے میں دیندار بادشاہ بھی ہے اور وہ نسلیں بھی جو خدا سے دُور ہٹ گئیں۔ پھر بھی کلام اُسی گھرانے کے ایک بیٹے پر نازل ہوا۔
تیرے خاندان کی کہانی میں جو داغ ہیں، وہ خدا کو تجھ سے بولنے سے نہیں روکتے۔
صفنیاہ اُن لوگوں کا ذکر نہیں کر رہا جو رب کے خلاف بغاوت کے نعرے لگاتے ہیں، بلکہ اُن کا جو خاموشی سے پیچھے ہٹ گئے، "جو نہ رب کو تلاش کرتے، نہ اُس کی مرضی دریافت کرتے ہیں۔" کوئی شور نہیں، بس دلچسپی ختم ہو گئی۔ سوچ کر بتا، آخری بار تُو نے کب کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے اُس سے پوچھا تھا؟ دوری اکثر انکار سے نہیں، لاپروائی سے شروع ہوتی ہے۔
چھوٹے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور پرائمری عمر (7 تا 12 سال) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں