۲-تِھسّلُنیکیوں 3
پرائمری عمر (7 تا 12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
تشریح
پولس رسول اپنا خط ختم کرنے والا ہے۔ اُس نے تھسلُنیکے شہر کی چھوٹی سی کلیسیا کو بہت کچھ لکھا ہے، اور اب آخری صفحے پر وہ ایک عجیب بات کرتا ہے: وہ خود مدد مانگتا ہے۔ "ہمارے لئے دعا کریں،" وہ لکھتا ہے۔ رسول، جو دوسروں کو سکھاتا ہے، اُن سے کہتا ہے کہ میرے لیے دعا کرو۔ اور جانتے ہو وہ کیا مانگتا ہے؟ یہ نہیں کہ اُس کا سفر آسان ہو جائے یا اُس کے پاس پیسے آ جائیں۔ وہ چاہتا ہے کہ "خداوند کا پیغام جلدی سے پھیل جائے اور عزت پائے۔"
پھر وہ سچ بولتا ہے، بغیر کسی لپیٹ کے: "سب تو ایمان نہیں رکھتے۔" ایسے لوگ ہیں جو اُسے نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ پولس یہ چھپاتا نہیں۔ لیکن اگلا جملہ اُس کے خوف سے بڑا ہے: "لیکن خداوند وفادار ہے۔" لوگ بےوفا ہو سکتے ہیں، خداوند نہیں۔
اِس کے بعد پولس ایک مسئلے کی طرف آتا ہے جو اِس کلیسیا میں چل رہا تھا۔ کچھ لوگوں نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ شاید اُنہوں نے سوچا: مسیح تو جلد واپس آ رہے ہیں، تو محنت کیوں کریں؟ وہ سارا دن فارغ گھومتے، دوسروں کا کھانا کھاتے، اور "دوسروں کے کاموں میں خواہ مخواہ دخل" دیتے تھے، یعنی ہر کسی کے معاملے میں ٹانگ اڑاتے تھے۔
پولس اُن پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنی مثال دیتا ہے۔ جب وہ اُن کے شہر میں تھا، اُس نے مفت کا کھانا نہیں کھایا۔ دن کو خیمے سیتا اور رات کو تعلیم دیتا رہا۔ حالانکہ اُس کا حق بنتا تھا کہ کلیسیا اُس کی مدد کرے، اُس نے وہ حق استعمال نہ کیا، تاکہ ایک اچھا نمونہ بن جائے۔ پھر وہ وہ سخت جملہ دہراتا ہے جو اُس نے پہلے بھی کہا تھا: "جو کام نہیں کرنا چاہتا وہ کھانا بھی نہ کھائے۔"
غور کرو: وہ یہ نہیں کہتا کہ جو کام نہیں کر سکتا۔ بیمار، بوڑھے اور بےبس لوگ اِس میں شامل نہیں۔ بات اُن کی ہے جو کام کرنا نہیں چاہتے۔
آخر میں پولس اپنے ہاتھ سے سلام لکھتا ہے، جیسے آج کوئی ای میل کے نیچے اپنا نام خود لکھے، تاکہ سب جان لیں کہ خط واقعی اُسی کا ہے۔
اِس کا مطلب کیا ہے؟
اِس باب میں دو باتیں ساتھ ساتھ چلتی ہیں، اور دونوں کی ضرورت ہے۔
پہلی: خدا وفادار ہے۔ وہ تمہیں مضبوط کرتا اور بچاتا ہے۔ یہ اُس کا کام ہے، تمہاری کوشش کا انعام نہیں۔
دوسری: ایمان روزمرہ کے کاموں میں دکھائی دیتا ہے۔ عجیب لگتا ہے نا، کہ ایک روحانی خط کے آخر میں بات کھانے، کام اور محنت کی ہو رہی ہے؟ لیکن پولس کے نزدیک یہ الگ الگ چیزیں نہیں۔ جو مسیح پر بھروسا رکھتا ہے وہ صبح اٹھ کر اپنا کام بھی ایمانداری سے کرتا ہے۔
اور آیت 14 اور 15 میں کچھ بہت نازک بات ہے۔ پولس کہتا ہے: جو نہ سنے، اُس سے فاصلہ رکھو "تاکہ اُسے شرم آئے۔" یہ سخت لگتا ہے۔ لیکن فوراً وہ کہتا ہے: "اُسے دشمن مت سمجھنا بلکہ اُسے بھائی جان کر سمجھانا۔" مقصد سزا نہیں، واپس لانا ہے۔ ایمانداری سے کہوں تو یہ آسان نہیں۔ کسی کو ٹوکنا اور ساتھ ہی اُس سے محبت کرنا، اِس میں توازن رکھنا کلیسیا کے لیے آج بھی مشکل ہے۔ بائبل یہاں ہمیں کوئی آسان نسخہ نہیں دیتی۔
سنہری دھاگا
آیت 5 میں پولس ایک خوبصورت دعا کرتا ہے: خداوند تمہارے دلوں کو "اللہ کی محبت اور مسیح کی ثابت قدمی کی طرف مائل" کرے۔
ثابت قدمی کا مطلب ہے: ڈٹے رہنا، ہار نہ ماننا۔ مسیح نے یہی کیا۔ جب لوگ اُن کے خلاف ہوئے، جب صلیب سامنے آئی، وہ پیچھے نہ ہٹے۔ وہ آخر تک وفادار رہے۔ اور اِسی لیے پولس آیت 3 میں یقین سے لکھ سکتا ہے: "خداوند وفادار ہے۔"
خدا نے شروع سے وعدہ کیا کہ وہ اپنے لوگوں کو نہیں چھوڑے گا۔ یسوع مسیح میں اُس نے وہ وعدہ پورا کر دکھایا۔ اِس لیے باب کا آخری لفظ "فضل" ہے، یعنی خدا کی وہ مہربانی جو ہم کماتے نہیں، وہ ہمیں مفت ملتی ہے۔ کام کرو، ہاں، لیکن خدا کی محبت خریدنے کے لیے نہیں۔ وہ پہلے ہی تمہاری ہے۔
تمہارے لیے
آیت 13 تمہارے لیے ہے: "بھلائی کرنے سے کبھی ہمت نہ ہاریں۔"
بھلائی کرنا اکثر تھکا دیتا ہے، خاص کر جب کوئی نوٹس نہ کرے۔ تم گھر کا کوئی کام کرتے ہو اور شکریہ کوئی نہیں کہتا۔ تم کلاس میں اُس بچے کے ساتھ بیٹھتے ہو جس کے ساتھ کوئی نہیں بیٹھتا، اور دوسرے ہنستے ہیں۔ اندر سے آواز آتی ہے: چھوڑو، کیا فائدہ؟
پولس کہتا ہے: مت چھوڑو۔
اور دوسری بات: اپنا کام خود کرو۔ اپنا ہوم ورک، اپنا کمرہ، اپنا حصہ۔ سننے میں بہت عام لگتا ہے، لیکن بائبل اِسے ایمان کا حصہ کہتی ہے۔ اور جو "دوسروں کے کاموں میں خواہ مخواہ دخل" دینے والی عادت ہے، ہر بات پر رائے دینا اور ہر جھگڑے میں کودنا، اُس سے بچو۔
مل کر بات کریں
پولس نے یہ نہیں لکھا کہ "دوسرے کو دشمن سمجھو"۔ کسی کو غلطی پر ٹوکنا اور پھر بھی اُس سے محبت رکھنا، عملی طور پر یہ کیسے ممکن ہے؟
"بھلائی کرنے سے کبھی ہمت نہ ہاریں۔" تمہاری زندگی میں وہ کون سی بھلائی ہے جو کرتے کرتے تم تھک جاتے ہو؟
مل کر دعا
خداوند یسوع، آپ وفادار ہیں، تب بھی جب ہم نہیں ہوتے۔ ہمارے دلوں کو خدا کی محبت اور آپ کی ثابت قدمی کی طرف مائل کیجیے۔ ہمیں طاقت دیجیے کہ ہم اپنا کام ایمانداری سے کریں اور بھلائی کرنے سے ہمت نہ ہاریں۔ اپنی سلامتی ہمیں ہر وقت اور ہر طرح سے بخشیے۔ آمین۔
۲-تِھسّلُنیکیوں 3 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
۲-تِھسّلُنیکیوں 3 کس بارے میں ہے؟
۲-تِھسّلُنیکیوں 3 کیا کہتا ہے؟
۲-تِھسّلُنیکیوں 3 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
بچے ۲-تِھسّلُنیکیوں 3 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
۲-تِھسّلُنیکیوں 3 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
پولس تھسلُنیکیوں کو کوئی نیا حکم نہیں دے رہا، وہ صرف یاد دلا رہا ہے: "ہم آپ کے درمیان بےقاعدہ زندگی نہ گزارتے تھے۔" اُس کی تعلیم اُس کے ہاتھوں کی محنت سے سچی ثابت ہوئی۔ سوچیں، اگر آپ کے گھر والے آپ کے ایمان کو آپ کے الفاظ سے نہیں بلکہ آپ کے روزمرہ کے رویّے سے پہچانیں، تو وہ کیا سیکھیں گے؟
تھسلُنیکے کے کچھ لوگ سمجھے کہ خداوند جلد آ رہا ہے، تو کام چھوڑ کر دوسروں کے معاملات میں دخل دینے لگے۔ پولس اُنہیں لکھتا ہے کہ ”سکون سے کام کر کے اپنی روٹی کمائیں۔“ ایمان کی گہرائی ہمیشہ شور میں نظر نہیں آتی۔ کبھی وہ خاموشی سے روز صبح اُٹھ کر اپنا کام ایمانداری سے کرنے میں چھپی ہوتی ہے۔ آپ کی محنت بھی خدا کی نظر میں عبادت ہے۔
پولس یہ نہیں کہتا کہ جو کام نہیں کر سکتا، بلکہ ”جو کام نہیں کرنا چاہتا“۔ فرق بڑا ہے۔ کلیسیا میں کچھ لوگ خداوند کی آمد کے انتظار میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ گئے تھے اور دوسروں کی محنت کھا رہے تھے۔ روحانیت کبھی سستی کا پردہ نہ بنے۔ آج تیری محنت، تیرا پسینہ بھی خدا کی عبادت ہے۔
پولس یہ بات اُس کلیسیا سے کہہ رہا ہے جہاں کچھ لوگ کام چھوڑ کر دوسروں کے سہارے جی رہے تھے۔ باقی بہن بھائی تھک چکے تھے۔ اُنہی سے وہ کہتا ہے، "لیکن آپ، بھائیو، نیک کام کرنے میں ہمت نہ ہاریں۔" تھکن اکثر بدی سے نہیں، بلکہ ناشکری سے آتی ہے۔ کیا آپ نے بھی کسی کی بےقدری کی وجہ سے بھلائی کرنا چھوڑ دیا ہے؟ خدا آپ کی ہر خاموش نیکی دیکھ رہا ہے۔
کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور نوجوانوں (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں