اِستِثنا 16
پرائمری عمر (7 تا 12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
وضاحت
استثنا کی اس تیئسویں باب میں موسیٰ نبی اسرائیلی قوم کو تین بڑے تہواروں کے بارے میں بتا رہے ہیں جو انہیں ہر سال منانے تھے۔ پہلا تہوار فسح کی عید تھی، ابیب کے مہینے میں، جب وہ اُس رات کو یاد کرتے جب خدا انہیں مصر کی غلامی سے رات کے وقت نکال لایا تھا۔ اُس رات جلدی میں نکلنا پڑا تھا، اس لیے وہ سات دن تک بےخمیری روٹی کھاتے، یعنی ایسی روٹی جس میں خمیر یا خمیری مادہ نہیں ملایا جاتا، تاکہ وہ جلدی اور مصیبت کا وہ دن کبھی نہ بھولیں۔
دوسرا تہوار فصل کی کٹائی کی عید تھی، جو فصل کاٹنے کے سات ہفتے بعد آتی۔ اس میں ہر شخص خدا کو اُتنا دیتا جتنا اُس کی برکت کے مطابق مناسب تھا، نہ کم نہ زیادہ سے زیادہ۔
تیسرا تہوار جھونپڑیوں کی عید تھی، اناج گاہنے اور انگور کا رس نکالنے کے بعد، جو سات دن تک چلتی۔ ہر تہوار میں یہ بات بار بار دہرائی گئی ہے کہ خوشی صرف اپنے گھر والوں کے ساتھ نہیں منانی، بلکہ غلام، لونڈی، لاوی، پردیسی، یتیم اور بیوہ سب کو ساتھ لینا ہے۔ کوئی بھی خالی ہاتھ خدا کے حضور نہ آئے، لیکن ہر ایک اپنی برکت کے مطابق دے۔
باب کے آخر میں موسیٰ ایک بالکل الگ موضوع پر بات کرتے ہیں: انصاف۔ ہر شہر میں قاضی اور نگہبان مقرر کیے جائیں جو رشوت نہ لیں اور کسی کی طرف داری نہ کریں۔ اور خدا کی قربان گاہ کے پاس کوئی لکڑی کا کھمبا یا پوجا کا پتھر نہ رکھا جائے، کیونکہ خدا اِن چیزوں سے نفرت رکھتا ہے۔
اِس کا کیا مطلب ہے؟
یہ تہوار صرف رسمیں نہیں تھیں۔ ہر تہوار کا مقصد یہ تھا کہ اسرائیلی قوم یاد رکھے کہ وہ کبھی غلام تھی اور خدا نے انہیں آزاد کیا۔ یاد رکھنا اس لیے ضروری تھا کہ انسان بہت جلدی بھول جاتا ہے کہ اُسے کیا دیا گیا ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس خوشی میں غریب، پردیسی اور یتیم بھی شامل تھے۔ خدا نہیں چاہتا تھا کہ اُس کی عید صرف اُن کی خوشی ہو جن کے پاس بہت کچھ ہے۔
انصاف کا حکم بھی اسی جڑ سے نکلتا ہے۔ جو قوم خود غلام رہی ہو، اُسے معلوم ہونا چاہیے کہ ناانصافی کیسا درد دیتی ہے۔ اِس لیے رشوت اور جانب داری کی صاف منع کی گئی ہے، کیونکہ رشوت سچائی کو موڑ دیتی ہے۔
سانجھا دھاگا
اِن تہواروں کے پیچھے ایک بڑا وعدہ چھپا ہے، وہ عہد جو خدا نے اپنی قوم سے باندھا تھا، یعنی وہ اُن کا خدا ہوگا اور وہ اُس کی قوم ہوں گے۔ فسح کی عید خاص طور پر آگے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ صدیوں بعد خداوند یسوع مسیح خود عین اُسی وقت مصلوب ہوئے جب فسح کا برّہ ذبح ہوتا تھا۔ وہ اُس حقیقی برّے بن گئے جو انسان کو گناہ کی غلامی سے آزاد کرتا ہے، جیسے اسرائیل مصر کی غلامی سے آزاد ہوا تھا۔ اِس لیے یہ باب صرف پرانی رسموں کی فہرست نہیں، یہ اُس نجات کی طرف اشارہ ہے جو بعد میں مکمل طور پر ظاہر ہوئی۔
تمہارے لئے
کیا تم کبھی اُس دن کو یاد رکھنے کی کوشش کرتے ہو جب خدا نے تمہاری زندگی میں کچھ اچھا کیا؟ یہ تہوار سکھاتے ہیں کہ شکرگزاری کوئی بس دل کی بات نہیں، اُسے وقت نکال کر منانا چاہیے۔ اور یہ بھی سوچو کہ تمہاری خوشی میں کون شامل ہے۔ کیا تم اپنی خوشی صرف اپنے قریبی دوستوں تک محدود رکھتے ہو، یا اُس بچے کو بھی بلاتے ہو جسے کوئی نہیں بلاتا؟ اور انصاف کی بات بھی روزمرہ زندگی میں آتی ہے، جب کسی کھیل میں دھوکا نہ دینا، یا کسی کی طرف داری نہ کرنا صرف اِس لیے کہ وہ تمہارا دوست ہے۔
بات کرنے کے لئے
کیا تمہیں یاد ہے کہ خدا نے تمہاری زندگی میں کوئی خاص کام کیا ہو؟ اُسے یاد رکھنے کے لئے تم کیا کر سکتے ہو؟
انصاف کے بارے میں یہ حکم کہتا ہے کہ رشوت مت لینا اور جانب داری مت دکھانا۔ کیا کسی دوست کی طرف داری کرنا واقعی اتنا برا ہے؟ اس پر سوچو۔
دعا
اے خدا، تُو نے اپنی قوم کو غلامی سے آزاد کیا اور چاہا کہ وہ ہمیشہ اِسے یاد رکھیں۔ ہمیں بھی سکھا کہ ہم تیری بھلائی کو نہ بھولیں۔ ہمیں ایسا دل دے جو اپنی خوشی دوسروں کے ساتھ بانٹے اور جو ہمیشہ سچائی اور انصاف کی راہ پر چلے۔ آمین۔
اِستِثنا 16 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
اِستِثنا 16 کس بارے میں ہے؟
اِستِثنا 16 کیا کہتا ہے؟
اِستِثنا 16 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
بچے اِستِثنا 16 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
اِستِثنا 16 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور نوجوانوں (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں