اِستِثنا 8
ابتدائی عمر (6-12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
استثنا باب 8 کی تشریح
اصل وضاحت
موسیٰ نبی اسرائیلی قوم کے سامنے کھڑے ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جب چالیس سال کا سفر ختم ہونے کو ہے۔ لوگ ریگستان سے نکل کر اُس ملک کے دروازے پر پہنچ چکے ہیں جس کا وعدہ رب نے اُن کے باپ دادا سے کیا تھا۔ لیکن موسیٰ جانتے ہیں کہ یہ لمحہ خطرناک بھی ہے۔ اِس لیے وہ پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں۔
وہ یاد دلاتے ہیں کہ ریگستان میں کیا ہوا۔ رب نے اُن کو بھوکا رہنے دیا، پھر اُنہیں وہ خوراک کھلائی جسے مَن کہتے ہیں، ایسی چیز جس سے پہلے کوئی واقف نہ تھا۔ اُن کے کپڑے چالیس سال تک نہ گھسے، نہ پاؤں سوجے۔ یہ سب اِس لیے ہوا تاکہ لوگ سیکھیں کہ انسان کی زندگی صرف روٹی پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ ہر اُس بات پر جو رب کے منہ سے نکلتی ہے۔
اب موسیٰ آگے کی بات کرتے ہیں۔ وہ ملک جس میں وہ داخل ہونے والے ہیں، وہاں نہریں ہیں، چشمے ہیں، انگور اور انجیر اور شہد ہے۔ کمی کسی چیز کی نہیں ہو گی۔ لیکن ٹھیک یہیں موسیٰ ایک گہری فکر ظاہر کرتے ہیں۔ جب پیٹ بھرا ہو گا، گھر شاندار ہوں گے، ریوڑ اور سونا چاندی بڑھ جائیں گے، تو کیا لوگ رب کو بھول جائیں گے؟ کیا وہ سوچنے لگیں گے کہ یہ سب کچھ ہم نے اپنی ہی طاقت سے حاصل کیا ہے؟
اِس کا کیا مطلب ہے؟
یہ باب ایک عجیب سچائی بتاتا ہے۔ بھوک اور مشکل میں انسان کو خدا یاد آتا ہے۔ لیکن آسائش اور کامیابی میں خدا کو بھولنا بہت آسان ہو جاتا ہے۔ موسیٰ کہتے ہیں کہ ریگستان کی مشکلات دراصل ایک تربیت تھی، جیسے باپ اپنے بیٹے کی تربیت کرتا ہے۔ خدا نے اسرائیلیوں کو عاجز کیا، یعنی اُن کی حیثیت چھوٹی کر دی، تاکہ وہ سیکھیں کہ وہ خود کفیل نہیں ہیں۔
یہ بات تھوڑی مشکل ہے اور ایمانداری سے کہنی چاہیے۔ متن یہ نہیں کہتا کہ بھوک اور تکلیف اچھی چیزیں ہیں۔ بلکہ یہ کہتا ہے کہ خدا نے اُن حالات کو استعمال کیا تاکہ لوگ سمجھیں کہ وہ اُس پر منحصر ہیں۔ ہم شاید پوچھیں، کیا خدا کو واقعی ہمیں آزمانے کی ضرورت ہے؟ اِس کا سیدھا جواب متن میں نہیں ملتا۔ لیکن یہ ضرور نظر آتا ہے کہ خدا کبھی اسرائیلیوں کو اکیلا نہیں چھوڑتا، نہ بھوک میں، نہ کامیابی میں۔
وہی ایک کڑی
یہ باب خدا کے اُس عہد کی بات کرتا ہے جو اُس نے باپ دادا سے کیا تھا، یعنی ایک پکا وعدہ جو خدا نے اپنی طرف سے باندھا اور جسے وہ نہیں توڑتا۔ موسیٰ یاد دلاتے ہیں کہ یہ خدا آج بھی اُسی عہد پر قائم ہے۔
بہت بعد میں، جب یسوع مسیح ریگستان میں چالیس دن بھوکے رہے، شیطان نے اُنہیں کہا کہ پتھروں کو روٹی بنا دیں۔ یسوع نے جواب میں یہی الفاظ دہرائے کہ انسان صرف روٹی سے نہیں جیتا بلکہ ہر اُس بات سے جو خدا کے منہ سے نکلتی ہے۔ یعنی جو بات موسیٰ نے اسرائیلیوں کو سکھائی، یسوع نے اُسے اپنی زندگی میں پورا دکھایا۔ جہاں اسرائیل اکثر ناکام ہوئے، وہاں یسوع نے خدا پر مکمل بھروسا رکھا۔
تمہارے لیے
تم شاید سوچو کہ یہ سب بہت پرانی بات ہے، صحرا اور مَن اور بھیڑ بکریاں۔ لیکن سوال وہی رہتا ہے۔ جب تمہاری زندگی میں سب کچھ ٹھیک چل رہا ہو، نئے کپڑے، اچھا کھانا، دوستوں کا ساتھ، تو کیا تم خدا کا شکر کرنا یاد رکھتے ہو؟ یا پھر یہ خیال آتا ہے کہ یہ سب تو میں نے خود حاصل کیا ہے؟ اور جب مشکل وقت آئے، کوئی امتحان خراب ہو جائے یا دوستی ٹوٹ جائے، تو کیا تم خدا کی طرف دیکھتے ہو یا اکیلے لڑتے رہتے ہو؟ یہ باب کہتا ہے کہ دونوں حالتوں میں، بھوک میں اور بھرپوری میں، خدا کو یاد رکھنا ضروری ہے۔
بات کرنے کے لیے
کیا تمہیں کوئی ایسا وقت یاد ہے جب مشکل حالات نے تمہیں خدا کے قریب کیا؟
کیوں خیال رکھنا مشکل ہو جاتا ہے جب سب کچھ اچھا چل رہا ہو؟
ساتھ مل کر دعا
اے خداوند خدا، جب ہمارے پاس سب کچھ ہو تو ہمیں اپنی یاد دلا۔ جب ہمیں کمی محسوس ہو تو ہمیں سکھا کہ ہم صرف روٹی سے نہیں بلکہ تیری ہر بات سے جیتے ہیں۔ ہمیں اپنے وعدوں پر بھروسا کرنا سکھا۔ آمین۔
اِستِثنا 8 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
اِستِثنا 8 کس بارے میں ہے؟
اِستِثنا 8 کیا کہتا ہے؟
اِستِثنا 8 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
بچے اِستِثنا 8 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
اِستِثنا 8 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3-5 سال) اور نوجوانوں (13 سال اور اس سے اوپر) کے لیے الگ نسخے بھی ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں