7 سے 12 سال کے بچے کے لیے

واعظ 5

پرائمری عمر (7 تا 12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی

بائبل

The Explanation

سوچو، تم خدا کے گھر میں داخل ہو رہے ہو۔ اُستاد کہتا ہے، "اپنے قدموں کا خیال رکھ، اور سننے کے لئے تیار رہ۔" یعنی جلدی سے اندر مت گھسو۔ رُک کر سوچو کہ تم کس کے پاس جا رہے ہو۔ خدا آسمان پر ہے، بہت بڑا، بہت پاک۔ اور تم زمین پر چھوٹے سے ہو۔ اِس لئے حکیم کہتا ہے کہ باتیں کم کرو، اور جو وعدہ کرو وہ پورا کرو۔ اگر تم نے خدا سے کوئی مَنت مانی ہو، تو اُسے پورا کرنے میں دیر نہ کرو۔ یہ بھی کہا گیا کہ اگر منہ سے کوئی غلط بات نکل جائے تو یہ نہ کہو کہ "میں تو بھول گیا تھا۔" اپنے الفاظ کا خیال رکھو۔

پھر حکیم باہر نکل کر ملک کو دیکھتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ کچھ لوگ غریبوں پر ظلم کرتے ہیں، اُن کا حق مار لیتے ہیں۔ وہ حیران نہیں ہوتا، کیونکہ ایک ملازم دوسرے کی نگرانی کرتا ہے، اور اُن سب کے اوپر اور بھی لوگ بیٹھے ہیں۔ پھر وہ اُس آدمی کی بات کرتا ہے جو پیسے سے پیار کرتا ہے۔ جتنے زیادہ پیسے، اُتنی ہی زیادہ بےچینی۔ اُس کے گھر میں دولت آتی ہے، مگر اُس کے ساتھ ہی اُسے کھانے والے بھی بڑھ جاتے ہیں۔ وہ رات کو جاگتا رہتا ہے، پیسے گنتا رہتا ہے، جبکہ محنتی مزدور، چاہے اُس کے پاس کم ہو یا زیادہ، میٹھی نیند سوتا ہے۔

حکیم ایک بہت دُکھ بھری بات بھی بتاتا ہے۔ ایک آدمی نے ساری زندگی پیسہ جمع کیا، مگر مصیبت آئی اور سب کچھ ختم ہو گیا۔ اُس کے بیٹے کے ہاتھ خالی رہ گئے۔ حکیم کہتا ہے، جیسے انسان ننگے ہاتھ آیا تھا، ویسے ہی ننگے ہاتھ چلا جائے گا۔ کچھ بھی ساتھ نہیں لے جا سکتا۔

مگر پھر ایک روشن بات آتی ہے۔ حکیم کہتا ہے، انسان کے لئے سب سے اچھی چیز یہ ہے کہ وہ کھائے، پیئے، اور اپنی محنت کے پھل سے خوش ہو۔ اور جب خدا کسی کو یہ توفیق دیتا ہے کہ وہ اپنی چیزوں سے خوشی منائے، تو یہ خود خدا کی بخشش ہے۔

What Does This Mean?

اِس باب کا مطلب یہ ہے کہ پیسہ کبھی دل کو بھر نہیں سکتا۔ جتنا زیادہ ملے، اُتنی ہی زیادہ بھوک بڑھتی جاتی ہے۔ جیسے کوئی پیاسا سمندر کا پانی پیئے، وہ اور پیاسا ہو جائے گا۔ حکیم چاہتا ہے کہ ہم سمجھیں کہ اصل خوشی خدا کی طرف سے آتی ہے، پیسے کے ڈھیر سے نہیں۔ اور خدا کے سامنے بولتے وقت، وعدہ کرتے وقت، احتیاط رکھنی چاہیے۔ کیونکہ خدا سچا ہے، اور وہ چاہتا ہے کہ ہم بھی سچے ہوں۔

The Common Thread

جب حکیم کہتا ہے کہ کھانا، پینا، اور محنت کا پھل خدا کی بخشش ہے، تو وہ ہمیں سکھاتا ہے کہ روزمرہ کی چھوٹی چیزیں بھی خدا کے ہاتھ سے آتی ہیں۔ خداوند یسوع مسیح نے بھی سکھایا کہ ہمارا آسمانی باپ ہمیں روزانہ روٹی دیتا ہے، اور ہمیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ باب ہمیں یسوع مسیح کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو کہتے ہیں کہ زندگی پیسے کے ڈھیر سے نہیں بلکہ خدا کے ساتھ رشتے سے پُر ہوتی ہے۔

For You

جب تم خدا سے دعا کرو، جلدی جلدی الفاظ مت پھینکو۔ رُک کر سوچو کہ تم کس سے بات کر رہے ہو۔ اور اگر تم نے کسی سے وعدہ کیا ہے، چھوٹا سا بھی، تو اُسے پورا کرو۔ اور جب تمہیں کوئی چیز ملے، ایک کھلونا، ایک روٹی کا ٹکڑا، تو اُس پر خوش ہونا سیکھو، بجائے اِس کے کہ ہمیشہ اور مانگتے رہو۔

Talk About It

کیا تم نے کبھی کسی سے وعدہ کیا اور اُسے پورا کرنا بھول گئے؟ اب کیا کرو گے؟

کیا تمہیں لگتا ہے کہ زیادہ پیسے یا زیادہ کھلونے ہمیشہ زیادہ خوشی دیتے ہیں؟ کیوں یا کیوں نہیں؟

Praying Together

اے خدا، ہمیں سکھا کہ ہم تیرے سامنے سوچ سمجھ کر بولیں۔ ہمیں مدد دے کہ ہم اپنے وعدے پورے کریں۔ اور جو کچھ تُو نے ہمیں دیا ہے، اُس پر خوش رہنا سکھا۔ آمین۔

یہ بائبل کہانی شیئر کریں

دوسرے والدین یا اساتذہ کے لیے جنہیں یہ مددگار لگ سکتا ہے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

واعظ 5 کے بارے میں سوالات

ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔

واعظ 5 کس بارے میں ہے؟
سوچو، تم خدا کے گھر میں داخل ہو رہے ہو۔ اُستاد کہتا ہے، "اپنے قدموں کا خیال رکھ، اور سننے کے لئے تیار رہ۔" یعنی جلدی سے اندر مت گھسو۔ رُک کر سوچو کہ تم کس کے پاس جا رہے ہو۔ خدا آسمان پر ہے، بہت بڑا، بہت پاک۔ اور تم زمین پر چھوٹے سے ہو۔ اِس لئے حکیم کہتا ہے کہ باتیں کم کرو، اور جو وعدہ کرو وہ پورا کرو۔ اگر تم نے خدا سے کوئی مَنت مانی ہو، تو اُسے پورا کرنے میں دیر نہ کرو۔ یہ بھی کہا گیا کہ اگر منہ سے کوئی غلط بات نکل جائے تو یہ نہ کہو کہ "میں تو بھول گیا تھا۔" اپنے الفاظ کا خیال رکھو۔
واعظ 5 کیا کہتا ہے؟
پھر حکیم باہر نکل کر ملک کو دیکھتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ کچھ لوگ غریبوں پر ظلم کرتے ہیں، اُن کا حق مار لیتے ہیں۔ وہ حیران نہیں ہوتا، کیونکہ ایک ملازم دوسرے کی نگرانی کرتا ہے، اور اُن سب کے اوپر اور بھی لوگ بیٹھے ہیں۔ پھر وہ اُس آدمی کی بات کرتا ہے جو پیسے سے پیار کرتا ہے۔ جتنے زیادہ پیسے، اُتنی ہی زیادہ بےچینی۔ اُس کے گھر میں دولت آتی ہے، مگر اُس کے ساتھ ہی اُسے کھانے والے بھی بڑھ جاتے ہیں۔ وہ رات کو جاگتا رہتا ہے، پیسے گنتا رہتا ہے، جبکہ محنتی مزدور، چاہے اُس کے پاس کم ہو یا زیادہ، میٹھی نیند سوتا ہے۔
واعظ 5 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
حکیم ایک بہت دُکھ بھری بات بھی بتاتا ہے۔ ایک آدمی نے ساری زندگی پیسہ جمع کیا، مگر مصیبت آئی اور سب کچھ ختم ہو گیا۔ اُس کے بیٹے کے ہاتھ خالی رہ گئے۔ حکیم کہتا ہے، جیسے انسان ننگے ہاتھ آیا تھا، ویسے ہی ننگے ہاتھ چلا جائے گا۔ کچھ بھی ساتھ نہیں لے جا سکتا۔
بچے واعظ 5 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
مگر پھر ایک روشن بات آتی ہے۔ حکیم کہتا ہے، انسان کے لئے سب سے اچھی چیز یہ ہے کہ وہ کھائے، پیئے، اور اپنی محنت کے پھل سے خوش ہو۔ اور جب خدا کسی کو یہ توفیق دیتا ہے کہ وہ اپنی چیزوں سے خوشی منائے، تو یہ خود خدا کی بخشش ہے۔
واعظ 5 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
اِس باب کا مطلب یہ ہے کہ پیسہ کبھی دل کو بھر نہیں سکتا۔ جتنا زیادہ ملے، اُتنی ہی زیادہ بھوک بڑھتی جاتی ہے۔ جیسے کوئی پیاسا سمندر کا پانی پیئے، وہ اور پیاسا ہو جائے گا۔ حکیم چاہتا ہے کہ ہم سمجھیں کہ اصل خوشی خدا کی طرف سے آتی ہے، پیسے کے ڈھیر سے نہیں۔ اور خدا کے سامنے بولتے وقت، وعدہ کرتے وقت، احتیاط رکھنی چاہیے۔ کیونکہ خدا سچا ہے، اور وہ چاہتا ہے کہ ہم بھی سچے ہوں۔

دوسروں نے کیا پایا

بصیرت ادارتی کو آیت 11

جتنا مال بڑھتا ہے اُتنے ہی لوگ بھی بڑھ جاتے ہیں جو اُسے کھا جاتے ہیں۔ تو پھر مالک کو کیا فائدہ ہے؟ وہ صرف اپنی آنکھوں سے اِس کا مشاہدہ کر سکتا ہے۔" غور کرو، مالک سب سے زیادہ رکھتا ہے مگر کھاتا سب سے کم ہے۔ وہ صرف دیکھتا رہ جاتا ہے۔ تم جس چیز کے پیچھے بھاگ رہے ہو، کیا وہ واقعی تمہارے ہاتھ آئے گی، یا تم بس اُس کے محافظ بن کر رہ جاؤ گے؟

بصیرت ادارتی کو آیت 13

واعظ کہتا ہے: ”مَیں نے سورج تلے ایک سخت مصیبت دیکھی ہے، دولت جسے مالک نے محفوظ رکھا، لیکن وہ اُسی کے نقصان کا باعث بنی۔“ غور کر، جس چیز کو اُس نے حفاظت سے رکھا، وہی اُسے زخم دے گئی۔ کبھی ہم بھی کسی چیز کو اِتنی مضبوطی سے تھام لیتے ہیں کہ ہاتھ کھولنا بھول جاتے ہیں۔ آج اپنے دل سے پوچھ: میں کیا بچا رہا ہوں جو دراصل مجھے کھا رہا ہے؟

بصیرت ادارتی کو آیت 16

جس طرح انسان آیا اُسی طرح چلا جاتا ہے۔" پیدا ہوتے وقت تمہاری مٹھی خالی تھی، اور آخر میں بھی خالی ہو گی۔ سلیمان یہ ہمیں مایوس کرنے کے لیے نہیں کہتا بلکہ آزاد کرنے کے لیے۔ جس چیز کو تم اِتنی سختی سے پکڑے ہوئے ہو، وہ تمہارے ساتھ نہیں جائے گی۔ تو کیوں نہ آج ہی اُسے کھول کر خدا کے ہاتھ میں رکھ دو، اور جو اُس نے دیا ہے اُس کا شکر کرتے ہوئے جیو؟

کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟

ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور نوجوانوں (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔

بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں

For parents and teachers: 7 سے 12 سال کے ان بچوں کے لیے تحریر کردہ جو خود پڑھ سکتے ہیں۔ خاندانی عبادت اور اسکول میں بائبل کے اسباق کے لیے بہترین۔ This explanation is generated automatically by language models. While we strive for theological soundness, the software can make mistakes.

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network