6 تا 12 سال کے بچے کے لیے

واعظ 7

ابتدائی عمر (6-12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی

بائبل

The Explanation

واعظ، یعنی اِس کتاب کا مصنف، اِس باب میں زندگی اور موت، حکمت اور حماقت کے بارے میں کچھ عجیب باتیں کہتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ماتم کرنے والوں کے گھر جانا ضیافت کے گھر جانے سے بہتر ہے، کیونکہ موت کو یاد رکھنا ہمیں سنجیدہ اور حقیقت پسند بنا دیتا ہے۔ غصے میں جلدی نہ کرنے، پرانے زمانے کو بہتر سمجھ کر شکایت نہ کرنے، اور حکمت کی قدر کرنے کی نصیحت بھی ملتی ہے۔ واعظ یہ بھی مانتا ہے کہ دنیا میں کچھ باتیں سمجھ سے باہر ہیں، مثلاً راست باز لوگ تباہ ہو جاتے ہیں جبکہ بےدین لمبی عمر پاتے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ نہ حد سے زیادہ نیک بننے کی کوشش کر، نہ حد سے زیادہ بُرا، بلکہ اللہ کا خوف مانتے ہوئے زندگی گزار۔ آخر میں واعظ اقرار کرتا ہے کہ اُس نے حکمت کو بہت ڈھونڈا مگر پوری طرح نہ پا سکا۔ اُسے یہ معلوم ہوا کہ اللہ نے انسان کو دیانت دار بنایا تھا، لیکن انسان نے خود چالاکیاں ڈھونڈ نکالیں۔

What Does This Mean?

یہ باب ہمیں بتاتا ہے کہ زندگی ہمیشہ سیدھی سادھی نہیں ہوتی۔ واعظ کوئی آسان فارمولا نہیں دیتا کہ "اچھا کام کرو تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔" بلکہ وہ ایمانداری سے کہتا ہے کہ دنیا میں ایسی باتیں ہیں جن کی کوئی وضاحت نہیں ملتی۔ راست باز تکلیف اٹھاتا ہے، بےدین آرام سے رہتا ہے۔ یہ بات پڑھ کر شاید تمہارے دل میں بھی سوال اٹھے کہ یہ کیسے انصاف ہے؟ واعظ خود بھی یہی سوال اٹھاتا ہے اور صاف کہتا ہے کہ "اللہ کے کام کا ملاحظہ کر۔ جو کچھ اُس نے پیچ دار بنایا کون اُسے سلجھا سکتا ہے؟" یعنی کچھ گتھیاں ہم نہیں سلجھا سکتے۔ یہ تسلیم کرنا بھی حکمت کا حصہ ہے۔ لیکن اِس کے باوجود واعظ یہ نہیں کہتا کہ اللہ بے پروا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جو اللہ کا خوف مانے، یعنی اُس کی عزت کرے اور اُس پر بھروسا رکھے، وہ خطروں سے بچ نکلے گا۔

The Common Thread

واعظ کی باتیں سخت لگ سکتی ہیں، مگر اِن میں ایک گہری سچائی چھپی ہے جو پوری بائبل میں ملتی ہے: انسان خود کو نہیں بچا سکتا۔ واعظ لکھتا ہے، "دنیا میں کوئی بھی انسان اِتنا راست باز نہیں کہ ہمیشہ اچھا کام کرے اور کبھی گناہ نہ کرے۔" یہ بات بہت اہم ہے۔ ہم سب چاہے کتنے ہی اچھے بننے کی کوشش کریں، ہم خود کو کامل نہیں بنا سکتے۔ اِسی لیے خداوند یسوع مسیح دنیا میں آئے۔ وہ وہ واحد انسان ثابت ہوئے جو ہمیشہ راست باز رہے، اور اُنہوں نے ہماری خطاؤں کا بوجھ خود اُٹھا لیا۔ واعظ کی تلاش ادھوری رہ گئی، وہ حکمت کو پوری طرح نہ پا سکا۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ خداوند یسوع مسیح خود حکمت ہیں جو خدا کی طرف سے ہمارے پاس آئی۔ جو گتھیاں واعظ کے لیے پیچیدہ تھیں، اُن کا پورا حل تو ہمیں بھی نہیں ملتا، مگر ہمیں ایک ایسا خداوند ملتا ہے جس پر بھروسا رکھا جا سکتا ہے چاہے زندگی سمجھ میں نہ آئے۔

For You

شاید تمہاری زندگی میں بھی کبھی ایسا لگے کہ نیکی کا کوئی فائدہ نہیں، یا جو بُرا کرتا ہے وہ زیادہ خوش رہتا ہے۔ اسکول میں، دوستوں کے درمیان، گھر میں، ایسا ہو سکتا ہے کہ انصاف نظر نہ آئے۔ واعظ تمہیں جھوٹی تسلی نہیں دیتا، مگر وہ تمہیں یہ ضرور سکھاتا ہے کہ غصے میں جلدی نہ کرو، شکایت کرنے کی بجائے صبر سیکھو، اور اللہ کا خوف مانو یعنی اُس کی عزت کرتے ہوئے زندگی گزارو چاہے جواب نہ ملے۔ یہ سیکھنا کہ کچھ سوالوں کا جواب ابھی نہیں ملے گا، یہ بھی ایمان کا حصہ ہے۔ تم اللہ سے پوچھ سکتے ہو، شکایت کر سکتے ہو، مگر اُس پر بھروسا رکھنا نہ چھوڑو۔

Talk About It

کیا تمہیں کبھی ایسا لگا ہے کہ زندگی میں انصاف نہیں ہو رہا؟ اُس وقت تم نے کیا کِیا؟

واعظ کہتا ہے کہ کوئی بھی انسان ہمیشہ نیک نہیں رہ سکتا۔ تمہارے خیال میں خداوند یسوع مسیح اِس بات کو کیسے بدل دیتے ہیں؟

Praying Together

اے خداوند، ہماری زندگی میں بہت سی باتیں ہیں جو ہماری سمجھ سے باہر ہیں۔ ہمیں صبر دے، اور ہمیں یہ سکھا کہ ہم ہمیشہ تیری عزت کریں چاہے جواب نہ ملے۔ شکریہ کہ تُو نے یسوع مسیح کو بھیجا جو ہمارے لیے راست باز بنے۔ ہمیں اپنے قریب رکھ۔ آمین۔

یہ بائبل کہانی شیئر کریں

دوسرے والدین یا اساتذہ کے لیے جنہیں یہ مددگار لگ سکتا ہے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

واعظ 7 کے بارے میں سوالات

ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔

واعظ 7 کس بارے میں ہے؟
واعظ، یعنی اِس کتاب کا مصنف، اِس باب میں زندگی اور موت، حکمت اور حماقت کے بارے میں کچھ عجیب باتیں کہتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ماتم کرنے والوں کے گھر جانا ضیافت کے گھر جانے سے بہتر ہے، کیونکہ موت کو یاد رکھنا ہمیں سنجیدہ اور حقیقت پسند بنا دیتا ہے۔ غصے میں جلدی نہ کرنے، پرانے زمانے کو بہتر سمجھ کر شکایت نہ کرنے، اور حکمت کی قدر کرنے کی نصیحت بھی ملتی ہے۔ واعظ یہ بھی مانتا ہے کہ دنیا میں کچھ باتیں سمجھ سے باہر ہیں، مثلاً راست باز لوگ تباہ ہو جاتے ہیں جبکہ بےدین لمبی عمر پاتے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ نہ حد سے زیادہ نیک بننے کی کوشش کر، نہ حد سے زیادہ بُرا، بلکہ اللہ کا خوف مانتے ہوئے زندگی گزار۔ آخر میں واعظ اقرار کرتا ہے کہ اُس نے حکمت کو بہت ڈھونڈا مگر پوری طرح نہ پا سکا۔ اُسے یہ معلوم ہوا کہ اللہ نے انسان کو دیانت دار بنایا تھا، لیکن انسان نے خود چالاکیاں ڈھونڈ نکالیں۔
واعظ 7 کیا کہتا ہے؟
یہ باب ہمیں بتاتا ہے کہ زندگی ہمیشہ سیدھی سادھی نہیں ہوتی۔ واعظ کوئی آسان فارمولا نہیں دیتا کہ "اچھا کام کرو تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔" بلکہ وہ ایمانداری سے کہتا ہے کہ دنیا میں ایسی باتیں ہیں جن کی کوئی وضاحت نہیں ملتی۔ راست باز تکلیف اٹھاتا ہے، بےدین آرام سے رہتا ہے۔ یہ بات پڑھ کر شاید تمہارے دل میں بھی سوال اٹھے کہ یہ کیسے انصاف ہے؟ واعظ خود بھی یہی سوال اٹھاتا ہے اور صاف کہتا ہے کہ "اللہ کے کام کا ملاحظہ کر۔ جو کچھ اُس نے پیچ دار بنایا کون اُسے سلجھا سکتا ہے؟" یعنی کچھ گتھیاں ہم نہیں سلجھا سکتے۔ یہ تسلیم کرنا بھی حکمت کا حصہ ہے۔ لیکن اِس کے باوجود واعظ یہ نہیں کہتا کہ اللہ بے پروا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جو اللہ کا خوف مانے، یعنی اُس کی عزت کرے اور اُس پر بھروسا رکھے، وہ خطروں سے بچ نکلے گا۔
واعظ 7 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
واعظ کی باتیں سخت لگ سکتی ہیں، مگر اِن میں ایک گہری سچائی چھپی ہے جو پوری بائبل میں ملتی ہے: انسان خود کو نہیں بچا سکتا۔ واعظ لکھتا ہے، "دنیا میں کوئی بھی انسان اِتنا راست باز نہیں کہ ہمیشہ اچھا کام کرے اور کبھی گناہ نہ کرے۔" یہ بات بہت اہم ہے۔ ہم سب چاہے کتنے ہی اچھے بننے کی کوشش کریں، ہم خود کو کامل نہیں بنا سکتے۔ اِسی لیے خداوند یسوع مسیح دنیا میں آئے۔ وہ وہ واحد انسان ثابت ہوئے جو ہمیشہ راست باز رہے، اور اُنہوں نے ہماری خطاؤں کا بوجھ خود اُٹھا لیا۔ واعظ کی تلاش ادھوری رہ گئی، وہ حکمت کو پوری طرح نہ پا سکا۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ خداوند یسوع مسیح خود حکمت ہیں جو خدا کی طرف سے ہمارے پاس آئی۔ جو گتھیاں واعظ کے لیے پیچیدہ تھیں، اُن کا پورا حل تو ہمیں بھی نہیں ملتا، مگر ہمیں ایک ایسا خداوند ملتا ہے جس پر بھروسا رکھا جا سکتا ہے چاہے زندگی سمجھ میں نہ آئے۔
بچے واعظ 7 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
شاید تمہاری زندگی میں بھی کبھی ایسا لگے کہ نیکی کا کوئی فائدہ نہیں، یا جو بُرا کرتا ہے وہ زیادہ خوش رہتا ہے۔ اسکول میں، دوستوں کے درمیان، گھر میں، ایسا ہو سکتا ہے کہ انصاف نظر نہ آئے۔ واعظ تمہیں جھوٹی تسلی نہیں دیتا، مگر وہ تمہیں یہ ضرور سکھاتا ہے کہ غصے میں جلدی نہ کرو، شکایت کرنے کی بجائے صبر سیکھو، اور اللہ کا خوف مانو یعنی اُس کی عزت کرتے ہوئے زندگی گزارو چاہے جواب نہ ملے۔ یہ سیکھنا کہ کچھ سوالوں کا جواب ابھی نہیں ملے گا، یہ بھی ایمان کا حصہ ہے۔ تم اللہ سے پوچھ سکتے ہو، شکایت کر سکتے ہو، مگر اُس پر بھروسا رکھنا نہ چھوڑو۔
واعظ 7 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
کیا تمہیں کبھی ایسا لگا ہے کہ زندگی میں انصاف نہیں ہو رہا؟ اُس وقت تم نے کیا کِیا؟

دوسروں نے کیا پایا

بصیرت ادارتی کو آیت 3

ہنسنے کی نسبت رنجیدہ ہونا بہتر ہے، کیونکہ اُداس چہرہ دل کو درست کرتا ہے۔“ سلیمان خوشی کے خلاف نہیں، بلکہ اُس ہنسی کے خلاف ہے جو ہمیں اپنے آپ سے بھاگنے دیتی ہے۔ غم ہمیں ٹھہرا دیتا ہے۔ آنسوؤں میں ہم وہ سوال پوچھتے ہیں جو قہقہوں میں دب جاتے ہیں۔ شاید آج تیرا دکھ تجھے سزا نہیں، بلکہ خدا کے پاس واپس لانے والا راستہ ہے۔

بصیرت ادارتی کو آیت 29

سلیمان ساری کتاب میں ٹٹولتا رہا، اور آخر میں اُسے صرف ایک بات ملی: ”اللہ نے انسان کو سیدھی راہ پر چلنے والا بنایا، لیکن وہ طرح طرح کی ترکیبیں نکال کر غلط راہوں پر آ گئے۔“ ہمارا مسئلہ بنانے والے کی بُنت میں نہیں، ہماری اپنی ہوشیاری میں ہے۔ سوچ کر دیکھ، آج تُو نے کتنی توانائی سیدھی بات کو ٹیڑھا کرنے میں لگائی؟

بصیرت ادارتی کو آیت 11

حکمت اور میراث کو ایک ہی ترازو میں رکھا گیا ہے: "حکمت میراث جیسی ہی اچھی ہے، اُن سب کے لئے مفید جو سورج کو دیکھتے ہیں۔" فرق یہ ہے کہ میراث ہاتھ سے نکل سکتی ہے، حکمت ساتھ رہتی ہے۔ اپنے بچوں کے لئے پیسہ جوڑنا آسان ہے، اُن کے سامنے دانائی سے جینا مشکل۔ تُو اُنہیں کیا دے کر جائے گا؟

بصیرت ادارتی کو آیت 24

سلیمان کے پاس دولت تھی، وقت تھا، ہر سوال کا پیچھا کرنے کی طاقت تھی، پھر بھی اُس نے مان لیا: "جو کچھ ہے وہ دُور اور نہایت گہرا ہے۔ کون اُس کی تہہ تک پہنچ سکتا ہے؟" شاید تُو بھی کسی ایسے دُکھ کے کنارے کھڑا ہے جس کی وجہ سمجھ نہیں آتی۔ ہر بات کی تہہ تک پہنچنا تیرا کام نہیں۔ تیرا کام اُس کا ہاتھ تھامنا ہے جو تہہ میں بھی موجود ہے۔

کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟

ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3-5 سال) اور نوجوانوں (13 سال اور اس سے اوپر) کے لیے الگ نسخے بھی ہیں۔

بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں