حزقی ایل 7
پرائمری عمر (7 تا 12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
The Explanation
خدا کے نبی حزقی ایل کو ایک بہت سخت پیغام ملتا ہے۔ خداوند اُن سے فرماتے ہیں کہ اسرائیل کا ملک، جس میں اُس زمانے کے لوگ رہتے تھے، تباہ ہونے والا ہے۔ یہ کوئی چھوٹی سی سزا نہیں ہے۔ خدا کہتے ہیں کہ اُن کا انجام قریب ہے، اُن کا ستیاناس ہونے والا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ لوگوں نے مکروہ حرکتیں کیں، یعنی ایسے کام جو خدا کی نظر میں گھنونے تھے۔ اُنہوں نے اپنی چاندی اور سونے سے بُت بنائے اور اُن کی پرستش کی، حالانکہ یہ چیزیں خدا نے اُنہیں برکت کے طور پر دی تھیں۔ اُنہوں نے ظلم کیا، ناانصافی کی، اور اُن کے شہر تشدد سے بھر گئے۔
حزقی ایل بتاتے ہیں کہ جنگ، بھوک اور بیماری ایک ساتھ آئیں گی۔ باہر تلوار ہو گی، اندر کال اور مہلک وبا۔ لوگ اپنی چاندی گلیوں میں پھینک دیں گے کیونکہ وہ جان لیں گے کہ دولت اُنہیں نہیں بچا سکتی۔ بادشاہ، رئیس اور عام لوگ سب خوفزدہ ہوں گے۔ نبی سے کوئی جواب نہیں ملے گا، امام تعلیم نہیں دے سکیں گے، بزرگ مشورہ نہیں دے سکیں گے۔ یہ ایک ایسی تصویر ہے جس میں ہر سہارا ختم ہو جاتا ہے۔
اور پھر ایک جملہ بار بار آتا ہے، تقریباً ایک ریفرین کی طرح: ”تب تم جان لو گے کہ مَیں ہی رب ہوں۔“ یہ الفاظ اِس پورے باب کی چابی ہیں۔
What Does This Mean?
یہ باب پڑھنا آسان نہیں۔ کوئی نرمی نہیں دکھائی جاتی، کوئی میٹھی بات نہیں کہی جاتی۔ خدا خود فرماتے ہیں، ”نہ مَیں تجھ پر ترس کھاؤں گا، نہ رحم کروں گا۔“ یہ سن کر شاید تمہارے دل میں سوال اُٹھے: کیا خدا اتنا سخت ہو سکتا ہے؟
جواب یہ ہے کہ خدا انصاف پسند ہیں۔ جب لوگ سالوں تک ظلم کرتے رہیں، غریبوں کو دباتے رہیں، بُتوں کی پوجا کرتے رہیں اور خدا کی بات کو نظرانداز کرتے رہیں، تو ایک وقت آتا ہے جب خدا کہتے ہیں، ”بس اب کافی ہے۔“ یہ سزا اچانک نہیں آئی، بلکہ لوگوں کے اپنے چال چلن کا نتیجہ تھی۔ متن خود کہتا ہے کہ ”تیری مکروہ حرکتوں کا بیج تیرے درمیان ہی اُگ کر پھل لائے گا۔“ یعنی جو بویا گیا، وہی کاٹا جائے گا۔
مگر یہاں ایک بات بھی نہیں چھپائی جانی چاہیے: یہ باب پڑھ کر دل بھاری ہو جاتا ہے۔ حزقی ایل بھی شاید یہی پیغام سناتے ہوئے روتے ہوں گے۔ خدا کی پاکیزگی اور خدا کا غم دونوں اِس متن میں ملتے ہیں۔
The Common Thread
اِس باب میں کوئی سیدھی خوشخبری نہیں لکھی، لیکن ایک دھاگا ضرور ملتا ہے۔ خدا بار بار کہتے ہیں، ”تب تم جان لو گے کہ مَیں ہی رب ہوں۔“ خدا سزا اِس لئے نہیں دیتے کہ اُنہیں غصہ نکالنا ہے، بلکہ اِس لئے کہ لوگ اُنہیں دوبارہ پہچانیں۔ خدا چاہتے ہیں کہ اُن کے لوگ سچائی سے اُن کی طرف لوٹیں۔
یہی وہ کہانی ہے جو پوری بائبل میں چلتی ہے۔ انسان دور بھٹکتا ہے، خدا سے منہ موڑتا ہے، اور خدا اُسے واپس بلاتے رہتے ہیں۔ صدیوں بعد خداوند یسوع مسیح آئے، اور اُنہوں نے وہ سزا اپنے اوپر لے لی جو ہمارے گناہوں کا نتیجہ تھی۔ حزقی ایل کے زمانے میں لوگوں کو معلوم نہیں تھا کہ خدا کا انصاف اور خدا کی محبت ایک دن مسیح میں مل جائیں گے۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے ہم آج بھی خدا کے پاس آ سکتے ہیں۔
For You
شاید تمہیں لگے کہ یہ باب تمہارے لئے نہیں، کیونکہ تم بُت نہیں بناتے۔ لیکن ذرا سوچو، کیا کوئی ایسی چیز ہے جسے تم خدا سے زیادہ اہم سمجھتے ہو؟ پیسہ، شہرت، یا اپنی مرضی؟ یہ باب ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمارے فیصلے بےمعنی نہیں ہوتے۔ جو ہم بوتے ہیں، وہی ہم کاٹتے ہیں۔
لیکن یہ خوف کی بات نہیں، بلکہ ایمانداری کی دعوت ہے۔ خدا چاہتے ہیں کہ ہم اُن کی طرف رجوع کریں، پہلے سے، سزا کے آنے سے پہلے۔ آج ہی خدا سے پوچھو کہ کیا تمہارے دل میں کوئی ایسی چیز ہے جسے تم چھوڑنا نہیں چاہتے، حالانکہ خدا اُسے دیکھ رہے ہیں۔
Talk About It
کیا تمہارے خیال میں خدا کے لئے سزا دینا مشکل تھا؟ متن سے کوئی اشارہ ملتا ہے؟
کیوں خدا بار بار کہتے ہیں ”تب تم جان لو گے کہ مَیں ہی رب ہوں“؟ اُن کے لئے یہ اتنا اہم کیوں ہے؟
Praying Together
اے خداوند، یہ باب پڑھنا آسان نہیں تھا۔ ہمیں سمجھ دے کہ تیرا انصاف کیوں ضروری ہے، اور ہمیں یہ بھی یاد رکھنے میں مدد دے کہ تُو ہم سے محبت کرتا ہے۔ ہمارے دلوں کو دیکھ اور ہمیں دکھا اگر ہم کسی چیز کو تیری جگہ رکھ رہے ہیں۔ ہمیں سچائی سے تیری طرف لوٹنے کی ہمت دے۔ آمین۔
حزقی ایل 7 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
حزقی ایل 7 کس بارے میں ہے؟
حزقی ایل 7 کیا کہتا ہے؟
حزقی ایل 7 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
بچے حزقی ایل 7 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
حزقی ایل 7 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور نوجوانوں (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں