ہوسیع 7
پرائمری عمر (7 تا 12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
The Explanation
خدا اسرائیل کے لوگوں سے باتیں کر رہے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں، "میں تمہیں شفا دینا چاہتا ہوں۔" مگر جب وہ شفا دینے کی کوشش کرتے ہیں، تو اسرائیل کا قصور صاف نظر آ جاتا ہے۔ چور رات کو گھروں میں نقب لگاتے ہیں۔ ڈاکو گلیوں میں لوگوں کو لوٹتے ہیں۔ لوگ جھوٹ بولتے ہیں اور بادشاہ کو خوش کرنے کے لیے بری باتیں کرتے ہیں۔
خدا ان کے دلوں کا حال ایک گرم تنور سے بتاتے ہیں۔ تنور وہ جگہ ہے جہاں روٹی پکائی جاتی ہے۔ یہ تنور اتنا گرم ہے کہ نان بائی کو اسے مزید آگ لگانے کی ضرورت نہیں۔ لوگوں کے دل بھی ایسے ہی جل رہے ہیں، غصے اور بری خواہشوں سے۔ رات کو ان کا غصہ سوتا رہتا ہے، مگر صبح ہوتے ہی وہ آگ کی طرح بھڑک اٹھتا ہے۔
یہ آگ آخر میں ان کے اپنے بادشاہوں کو بھی کھا جاتی ہے۔ ایک کے بعد ایک بادشاہ گر جاتا ہے۔ اور سب سے دکھ کی بات یہ ہے، کوئی بھی خدا کو نہیں پکارتا۔
خدا اسرائیل کو ایک اور تصویر سے سمجھاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں اسرائیل اس روٹی کی طرح ہے جو توے پر صرف ایک طرف سے پکی ہے۔ دوسری طرف ابھی تک کچی ہے۔ یعنی ان کی زندگی آدھی ادھوری ہے۔ غیر قوموں نے ان کی طاقت چپکے چپکے کھا لی ہے، اور ان کے بال سفید ہو گئے ہیں، مگر انہیں خبر ہی نہیں۔
پھر خدا ایک اور تصویر دکھاتے ہیں، ایک کبوتر کی۔ یہ کبوتر بہت سیدھا سادھا ہے، آسانی سے بھٹک جاتا ہے۔ کبھی مصر کی طرف اڑتا ہے مدد کے لیے، کبھی اسور کی طرف۔ مگر وہ کبھی خدا کی طرف نہیں اڑتا۔
خدا فرماتے ہیں، میں ان پر جال ڈالوں گا اور انہیں نیچے لاؤں گا، جیسے پرندوں کو پکڑا جاتا ہے۔ کیونکہ وہ مجھ سے بھاگ گئے ہیں۔ جب مشکل آتی ہے، تو وہ اپنے بستر پر لیٹے روتے ہیں، چلّاتے ہیں، مگر دل سے خدا کو نہیں پکارتے۔
خدا نے خود انہیں سکھایا، خود انہیں طاقت دی۔ مگر وہ خدا کے خلاف منصوبے بناتے ہیں۔ آخر میں وہ کمان کی طرح ہو گئے ہیں جو ڈھیلی پڑ گئی ہو، جس سے تیر سیدھا نہیں جا سکتا۔
What Does This Mean?
یہ کہانی ہمیں ایک دکھ بھری بات بتاتی ہے۔ خدا اسرائیل کو شفا دینا چاہتے تھے۔ وہ انہیں ٹھیک کرنا چاہتے تھے، جیسے کوئی ماں اپنے بیمار بچے کو ٹھیک کرنا چاہتی ہے۔ مگر لوگوں نے خدا کی طرف منہ نہیں کیا۔ انہوں نے چوری کی، جھوٹ بولا، اور جب مصیبت آئی تو دوسری قوموں سے مدد مانگی، خدا سے نہیں۔
سب سے بڑی بات یہ ہے: خدا نے خود کہا، "ایک بھی مجھے نہیں پکارتا۔" کیا تم سوچ سکتے ہو، سب مشکل میں ہیں، مگر کوئی بھی خدا کو آواز نہیں دیتا؟ یہی اصلی مسئلہ تھا۔
The Common Thread
یہ باب ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان اپنی طاقت سے خود کو نہیں بچا سکتا۔ اسرائیل کبوتر کی طرح اِدھر اُدھر بھاگتا رہا، مگر کوئی راستہ نہیں ملا۔ بہت بعد میں، خدا نے ایک اور راستہ بھیجا: اپنے بیٹے خداوند یسوع مسیح کو۔ یسوع نے کہا، "میرے پاس آؤ۔" وہی ہمیں حقیقی شفا دے سکتے ہیں، وہ شفا جو اسرائیل نہیں مانگ سکا۔ ہمیں بھاگنے کی ضرورت نہیں، ہم سیدھا خداوند یسوع کے پاس جا سکتے ہیں۔
For You
جب تم سے کوئی غلطی ہو جائے، کیا تم چھپاتے ہو یا خدا سے معافی مانگتے ہو؟ اسرائیل نے چھپایا، بھاگا، اور مدد ادھر ادھر مانگی۔ تم ایسا نہ کرو۔ جب تم ڈرے ہوئے ہو یا تمہیں مدد کی ضرورت ہو، سیدھا خداوند سے بات کرو۔ اسے بتاؤ جو دل میں ہے۔ وہ سننا چاہتے ہیں۔
Talk About It
کبوتر کبھی مصر کی طرف، کبھی اسور کی طرف اڑتا تھا۔ تمہارے خیال میں وہ خدا کی طرف کیوں نہیں اڑا؟
کیا تمہیں کوئی وقت یاد ہے جب تم نے کوئی مشکل خود چھپانے کی کوشش کی، بجائے اس کے کہ خدا کو بتاؤ؟
Praying Together
پیارے خدا، آپ ہمیں شفا دینا چاہتے ہیں، جیسے آپ اسرائیل کو دینا چاہتے تھے۔ ہمیں معاف کریں جب ہم چھپاتے ہیں یا بھاگتے ہیں۔ ہمیں سکھائیں سیدھا آپ کی طرف آنا، نہ کہ کسی اور طرف۔ آمین۔
ہوسیع 7 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
ہوسیع 7 کس بارے میں ہے؟
ہوسیع 7 کیا کہتا ہے؟
ہوسیع 7 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
بچے ہوسیع 7 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
ہوسیع 7 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
افرائیم دیگر اقوام کے ساتھ گھل مل جاتا ہے۔ افرائیم اُس روٹی کی مانند ہے جسے پلٹایا نہیں گیا۔“ ایک طرف سے جلی ہوئی، دوسری طرف سے کچی۔ یہی ہمارا حال ہوتا ہے جب اتوار کو دل گرم اور باقی ہفتہ ٹھنڈا رہے۔ خدا تجھے پھینک نہیں رہا، وہ تجھے پلٹنا چاہتا ہے، تاکہ تیری زندگی کا وہ حصہ بھی پک جائے جسے تُو نے اب تک آگ سے چھپا رکھا ہے۔
اُن کے تمام بادشاہ گر گئے ہیں، لیکن اُن میں سے کوئی بھی مجھے نہیں پکارتا۔“ سب کچھ ٹوٹ رہا تھا اور پھر بھی کسی نے خدا کا نام نہ لیا۔ یہی سب سے بڑا المیہ ہے: مصیبت تو ہمیں ہلا دیتی ہے، مگر ضروری نہیں کہ جھکا بھی دے۔ سوچ، تیری پریشانی تجھے بےچین کر رہی ہے یا دعا میں لا رہی ہے؟
وہ دل سے مجھے نہیں پکارتے بلکہ اپنے بستروں پر پڑے واویلا کرتے ہیں۔“ خدا یہ نہیں کہتا کہ وہ خاموش تھے۔ وہ چیخ رہے تھے، روتے تھے، مگر اناج اور مَے کے لئے، اُس کے لئے نہیں جو اناج دیتا ہے۔ اپنی دعاؤں کو ذرا غور سے سن۔ کیا تُو خدا کو چاہتا ہے، یا صرف وہ چیزیں جو وہ دے سکتا ہے؟ کبھی کبھی سب سے اونچی آواز والی دعا بھی دل سے بہت دور ہوتی ہے۔
پردیسیوں نے اُس کی طاقت کھا لی ہے، لیکن اُسے معلوم نہیں۔ اُس کے بال سفید ہونے لگے ہیں، لیکن اُسے پتا ہی نہیں۔“ افرائیم ایک ہی رات میں کمزور نہیں ہوا۔ یہ دھیرے دھیرے ہوا، اِتنی آہستگی سے کہ اُسے خبر تک نہ ہوئی۔
سب سے خطرناک زوال وہی ہے جو محسوس نہ ہو۔ دعا میں تھوڑی سی سستی، کلام سے تھوڑی سی دوری، اور ایک دن دل ٹھنڈا پڑا ملتا ہے۔ آج ذرا ٹھہر کر خود سے پوچھ: کیا مَیں واقعی وہیں کھڑا ہوں جہاں پہلے تھا؟
کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور نوجوانوں (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں