6 تا 12 سال کے بچے کے لیے

یسعیاہ 38

ابتدائی عمر (6-12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی

بائبل

The Explanation

حِزقیاہ یہوداہ کا بادشاہ تھا، اور ایک دن وہ اتنا بیمار ہوا کہ مرنے کی نوبت آ گئی۔ یسعیاہ نبی اُس کے پاس آیا اور سیدھی بات کہہ دی: ”اپنے گھر کا بندوبست کر لے، کیونکہ تجھے مرنا ہے۔“ کوئی نرم الفاظ نہیں، کوئی لپیٹ میں بات نہیں۔ حِزقیاہ نے یہ سن کر اپنا منہ دیوار کی طرف پھیر لیا اور رو رو کر دعا کی۔ اُس نے خدا سے کہا کہ وہ وفاداری اور خلوص دلی سے اُس کے سامنے چلتا رہا ہے۔

خدا نے یہ آنسو دیکھے اور یہ دعا سنی۔ اُس نے یسعیاہ کو دوبارہ بھیجا تاکہ حِزقیاہ کو بتائے کہ اُس کی زندگی میں پندرہ سال کا اضافہ کیا جائے گا، اور شہر کو بھی دشمن سے بچایا جائے گا۔ اِس وعدے کی تصدیق کے لیے خدا نے ایک انوکھا نشان دیا، دھوپ گھڑی کا سایہ دس درجے پیچھے چلا گیا، جو کہ الٹا ہی ہونا تھا۔

شفا پانے کے بعد حِزقیاہ نے ایک گیت لکھا۔ اُس میں وہ اپنی بیماری کی تکلیف کو کھل کر بیان کرتا ہے، موت کے قریب پہنچنے کا خوف، چیخ چیخ کر فریاد کرنا، آنکھوں کا نڈھال ہو جانا۔ لیکن وہ یہ بھی کہتا ہے کہ خدا کی محبت نے اُس کی جان کو بچا لیا اور اُس کے گناہوں کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا۔ آخر میں یسعیاہ نے انجیر کی ٹکی لگا کر علاج کی ہدایت دی، اور حِزقیاہ نے پوچھا تھا کہ اُسے کیسے یقین آئے کہ وہ دوبارہ خدا کے گھر جا سکے گا۔

What Does This Mean?

یہ باب ہمیں ایک بادشاہ دکھاتا ہے جو بالکل بھی بہادر نظر نہیں آتا۔ وہ خوفزدہ ہے، روتا ہے، شکایت کرتا ہے۔ اور یہی بات خاص ہے، کیونکہ خدا اُس کی اِس کمزوری سے منہ نہیں موڑتا بلکہ اُس کے آنسوؤں پر توجہ دیتا ہے۔ خدا کے سامنے اپنی تکلیف چھپانا ضروری نہیں۔

لیکن یہاں ایک سوال بھی کھڑا ہوتا ہے جس کا سیدھا جواب متن میں نہیں ملتا: خدا نے پہلے کہا کہ حِزقیاہ مر جائے گا، پھر اُس کی دعا کے بعد فیصلہ بدل دیا۔ کیا خدا کا ارادہ بدل سکتا ہے؟ یہ ایک مشکل سوال ہے۔ شاید اِس کا مطلب یہ ہے کہ دعا محض خالی رسم نہیں، خدا واقعی سنتا ہے اور اُس سے بات چیت کا تعلق حقیقی ہے، مگر یہ بھی سچ ہے کہ ہم کبھی پوری طرح نہیں سمجھ سکتے کہ خدا کیسے فیصلہ کرتا ہے۔

The Common Thread

حِزقیاہ کا گیت اِس بات پر رکتا ہے کہ مُردے خدا کی حمد نہیں گا سکتے، صرف زندہ لوگ گا سکتے ہیں۔ اُس زمانے میں موت کے پار زندگی کی روشن امید ابھی پوری طرح ظاہر نہیں ہوئی تھی۔ حِزقیاہ کے لیے زندگی کا مطلب یہی تھا کہ وہ خدا کے گھر میں دوبارہ عبادت کر سکے۔

بہت بعد میں خداوند یسوع مسیح نے دکھایا کہ موت آخری لفظ نہیں۔ جب وہ مُردوں میں سے جی اُٹھے، تو ثابت ہوا کہ خدا کی محبت صرف چند سال بڑھانے سے بڑھ کر کچھ کر سکتی ہے، وہ موت کو ہی شکست دے سکتی ہے۔ حِزقیاہ کو پندرہ سال کا تحفہ ملا، لیکن ہمیں یسوع میں ہمیشہ کی زندگی کا وعدہ ملا ہے۔ یہ وعدہ خدا کی اُسی وفاداری کی کڑی ہے جس کا ذکر حِزقیاہ اپنے گیت میں کرتا ہے، ایسی وفاداری جو باپ اپنے بچوں کو سناتے ہیں، نسل در نسل۔

For You

تمہیں بھی کبھی ایسا وقت آ سکتا ہے جب تم ڈرے ہوئے ہو، یا کچھ ایسا ہو جس سے تم روتے ہو۔ حِزقیاہ کی طرح، تم بھی خدا سے سیدھی بات کر سکتے ہو، بغیر دکھاوے کے۔ تمہیں مضبوط اداکاری کرنے کی ضرورت نہیں، نہ ہی خدا سے کچھ چھپانے کی۔

اور جب زندگی میں کوئی اچھی چیز ہو، صحت، دوستی، ایک عام دن بھی، تو یہ بھی حِزقیاہ کی طرح خدا کا شکر گزار دل پیدا کر سکتی ہے۔ ہر صبح کسی حد تک ایک تحفہ ہے جو ہمیں خود سے نہیں ملتا۔

Talk About It

خدا نے پہلے کہا کہ حِزقیاہ مرے گا، پھر اُس کی دعا کے بعد اُس کی زندگی بڑھا دی۔ تمہیں کیا لگتا ہے، دعا خدا کے فیصلوں پر کیسے اثر ڈالتی ہے؟

حِزقیاہ نے اپنی تکلیف اور خوف کو کھل کر بیان کیا۔ کیا تمہارے لیے خدا سے اپنی مشکل باتیں کہنا آسان ہے یا مشکل، اور کیوں؟

Praying Together

اے خداوند، تُو نے حِزقیاہ کے آنسو دیکھے اور اُس کی دعا سنی۔ ہمیں بھی ہمت دے کہ ہم تجھ سے سیدھی بات کریں، چاہے ہم خوفزدہ ہوں یا شکر گزار۔ ہمیں ہر دن کی زندگی کا شکر ادا کرنا سکھا، اور ہمیں یاد دلا کہ تیری محبت موت سے بھی بڑی ہے، کیونکہ یسوع مسیح جی اُٹھے۔ آمین۔

یہ بائبل کہانی شیئر کریں

دوسرے والدین یا اساتذہ کے لیے جنہیں یہ مددگار لگ سکتا ہے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

یسعیاہ 38 کے بارے میں سوالات

ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔

یسعیاہ 38 کس بارے میں ہے؟
حِزقیاہ یہوداہ کا بادشاہ تھا، اور ایک دن وہ اتنا بیمار ہوا کہ مرنے کی نوبت آ گئی۔ یسعیاہ نبی اُس کے پاس آیا اور سیدھی بات کہہ دی: ”اپنے گھر کا بندوبست کر لے، کیونکہ تجھے مرنا ہے۔“ کوئی نرم الفاظ نہیں، کوئی لپیٹ میں بات نہیں۔ حِزقیاہ نے یہ سن کر اپنا منہ دیوار کی طرف پھیر لیا اور رو رو کر دعا کی۔ اُس نے خدا سے کہا کہ وہ وفاداری اور خلوص دلی سے اُس کے سامنے چلتا رہا ہے۔
یسعیاہ 38 کیا کہتا ہے؟
شفا پانے کے بعد حِزقیاہ نے ایک گیت لکھا۔ اُس میں وہ اپنی بیماری کی تکلیف کو کھل کر بیان کرتا ہے، موت کے قریب پہنچنے کا خوف، چیخ چیخ کر فریاد کرنا، آنکھوں کا نڈھال ہو جانا۔ لیکن وہ یہ بھی کہتا ہے کہ خدا کی محبت نے اُس کی جان کو بچا لیا اور اُس کے گناہوں کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا۔ آخر میں یسعیاہ نے انجیر کی ٹکی لگا کر علاج کی ہدایت دی، اور حِزقیاہ نے پوچھا تھا کہ اُسے کیسے یقین آئے کہ وہ دوبارہ خدا کے گھر جا سکے گا۔
یسعیاہ 38 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
لیکن یہاں ایک سوال بھی کھڑا ہوتا ہے جس کا سیدھا جواب متن میں نہیں ملتا: خدا نے پہلے کہا کہ حِزقیاہ مر جائے گا، پھر اُس کی دعا کے بعد فیصلہ بدل دیا۔ کیا خدا کا ارادہ بدل سکتا ہے؟ یہ ایک مشکل سوال ہے۔ شاید اِس کا مطلب یہ ہے کہ دعا محض خالی رسم نہیں، خدا واقعی سنتا ہے اور اُس سے بات چیت کا تعلق حقیقی ہے، مگر یہ بھی سچ ہے کہ ہم کبھی پوری طرح نہیں سمجھ سکتے کہ خدا کیسے فیصلہ کرتا ہے۔
بچے یسعیاہ 38 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
بہت بعد میں خداوند یسوع مسیح نے دکھایا کہ موت آخری لفظ نہیں۔ جب وہ مُردوں میں سے جی اُٹھے، تو ثابت ہوا کہ خدا کی محبت صرف چند سال بڑھانے سے بڑھ کر کچھ کر سکتی ہے، وہ موت کو ہی شکست دے سکتی ہے۔ حِزقیاہ کو پندرہ سال کا تحفہ ملا، لیکن ہمیں یسوع میں ہمیشہ کی زندگی کا وعدہ ملا ہے۔ یہ وعدہ خدا کی اُسی وفاداری کی کڑی ہے جس کا ذکر حِزقیاہ اپنے گیت میں کرتا ہے، ایسی وفاداری جو باپ اپنے بچوں کو سناتے ہیں، نسل در نسل۔
یسعیاہ 38 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
اور جب زندگی میں کوئی اچھی چیز ہو، صحت، دوستی، ایک عام دن بھی، تو یہ بھی حِزقیاہ کی طرح خدا کا شکر گزار دل پیدا کر سکتی ہے۔ ہر صبح کسی حد تک ایک تحفہ ہے جو ہمیں خود سے نہیں ملتا۔

کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟

ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3-5 سال) اور نوجوانوں (13 سال اور اس سے اوپر) کے لیے الگ نسخے بھی ہیں۔

بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں