یسعیاہ 51
پرائمری عمر (7 تا 12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
وضاحت
یسعیاہ نبی کی یہ کتاب اُس وقت لکھی گئی جب خدا کے لوگ بہت اُداس تھے۔ اُن کا شہر یروشلم تباہ ہو چکا تھا، اور وہ اپنے ملک سے دور رہ رہے تھے۔ وہ سوچتے تھے: کیا خدا ہمیں بھول گیا ہے؟
باب ۵۱ میں خداوند اپنے لوگوں سے بات کرتا ہے، ایسے جیسے کوئی باپ اپنے پریشان بچوں کو تسلی دے۔ سب سے پہلے وہ کہتا ہے: "اُس چٹان کو یاد کرو جس سے تمہیں تراشا گیا۔" اِس چٹان سے مراد ابراہیم اور سارہ ہیں۔ خدا کہہ رہا ہے: "دیکھو، جب مَیں نے ابراہیم کو بلایا تھا، تب اُس کا کوئی بچہ نہیں تھا۔ مَیں نے ایک اکیلے آدمی سے ایک بڑی قوم بنائی۔ کیا مَیں اب تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا؟"
پھر خداوند وعدہ کرتا ہے کہ وہ صیون کو، یعنی یروشلم کو، تسلی دے گا۔ جو ویرانہ ہے وہ باغِ عدن جیسا ہو جائے گا۔ ریت اور پتھر کی جگہ درخت، پھول اور گانے کی آوازیں ہوں گی۔
اِس کے بعد خداوند ایک اہم بات کہتا ہے: آسمان اور زمین ایک دن پرانے کپڑے کی طرح گھِس جائیں گے، لیکن اُس کی نجات ہمیشہ قائم رہے گی۔ اِسی لیے اُس کے لوگوں کو اُن سے نہیں ڈرنا چاہیے جو اُن کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ ایسے لوگ گھاس کی طرح ہیں، جو جلد سُوکھ جاتی ہے۔
پھر نبی خود بولنے لگتا ہے۔ وہ خدا سے التجا کرتا ہے: "اے رب کے بازو، اُٹھ! جاگ اُٹھ!" وہ خداوند کو یاد دلاتا ہے کہ اُس نے کیسے سمندر کو خشک کر کے اسرائیلیوں کو مصر سے نکالا تھا۔ کیا وہ اب بھی وہی طاقتور خدا نہیں ہے؟
آخر میں خداوند اپنی قوم سے کہتا ہے کہ وہ اُس تلخ پیالے کو، جو غضب اور دُکھ سے بھرا تھا، اُن کے ہاتھ سے لے لے گا۔ اب وہ پیالہ اُن دشمنوں کو ملے گا جنہوں نے اُس کے لوگوں کو کچلا تھا۔
اِس کا کیا مطلب ہے؟
یہ باب ایک بڑی سچائی سکھاتا ہے: خدا اپنے لوگوں کو نہیں بھولتا، چاہے حالات کتنے ہی برے کیوں نہ ہوں۔
لیکن ایک ایماندارانہ سوال بھی سامنے آتا ہے۔ اگر خدا اُن سے محبت کرتا ہے، تو اُنہیں اِتنا دُکھ کیوں سہنا پڑا؟ متن اِس کا آسان جواب نہیں دیتا۔ متن یہ کہتا ہے کہ لوگوں نے واقعی سزا کا پیالہ پیا، مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ خداوند اُس پیالے کو دور کر دے گا۔ خدا کی محبت اور اُس کا انصاف، دونوں سچے ہیں۔
اور غور کرو کہ خداوند لوگوں سے دو کام کرنے کو کہتا ہے: پیچھے دیکھو (ابراہیم کو یاد کرو) اور اوپر دیکھو (آسمان کی طرف نگاہ کرو)۔ جب زندگی مشکل ہو، تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ خدا پہلے کیا کر چکا ہے، اور وہ کتنا بڑا ہے۔
بڑا سلسلہ
یہ باب ایک وعدے کی طرف اشارہ کرتا ہے جو یسوع مسیح میں پورا ہوا۔ خداوند کہتا ہے کہ اُس کی نجات "قریب ہی ہے" اور "قوموں کی روشنی" بنے گی۔ یسوع خود دنیا کی روشنی ہیں، اور اُن کی نجات صرف ایک قوم کے لیے نہیں بلکہ ہر قوم کے لیے ہے۔
اور وہ غضب کا پیالہ جس کا اِس باب میں ذکر ہے؟ گتسمنی کے باغ میں یسوع نے دعا کی: "اے باپ، یہ پیالہ مجھ سے ٹال دے۔" لیکن اُنہوں نے وہ پیالہ خود پیا، تاکہ ہمیں نہ پینا پڑے۔ یہ اُس محبت کی گہرائی ہے جو یسعیاہ ۵۱ میں چھپی ہوئی ہے۔
تمہارے لیے
کیا کبھی کوئی تمہارا مذاق اُڑاتا ہے کیونکہ تم خدا پر ایمان رکھتے ہو؟ شاید سکول میں کوئی ہنسے، یا کہے کہ دعا کرنا بےکار ہے۔ خداوند اِس باب میں کہتا ہے: "مت ڈرو۔" جو تمہیں تنگ کرتے ہیں وہ گھاس کی طرح ہیں، لیکن خدا کی نجات ہمیشہ قائم رہے گی۔
اور جب تم اُداس ہو، تو "پیچھے دیکھو۔" یاد کرو کہ خدا نے پہلے کیا کیا۔ شاید تمہارے دادا دادی نے بتایا ہو کہ خدا نے اُن کی زندگی میں کیسے مدد کی۔ یہ چٹان ہے جس پر تم کھڑے ہو۔
اِس پر بات کرو
۱۔ یسعیاہ کہتا ہے کہ ہمیں اُس چٹان کو یاد رکھنا چاہیے جس سے ہمیں تراشا گیا۔ تمہاری زندگی میں وہ کون سے لوگ یا لمحے ہیں جو تمہیں یاد دلاتے ہیں کہ خدا وفادار ہے؟
۲۔ خدا کہتا ہے "مت ڈرو" جب لوگ مذاق اُڑائیں۔ یہ حقیقت میں کرنا مشکل کیوں ہے؟
مل کر دعا
اے خداوند، تُو وہ چٹان ہے جس پر ہم کھڑے ہیں۔ جب ہم ڈرتے ہیں، تو ہمیں یاد دلا کہ تُو کتنا بڑا ہے۔ شکر ہے کہ یسوع نے وہ تلخ پیالہ ہمارے لیے پیا۔ ہمیں سکھا کہ تیری تسلی پر بھروسا کریں۔ آمین۔
یسعیاہ 51 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
یسعیاہ 51 کس بارے میں ہے؟
یسعیاہ 51 کیا کہتا ہے؟
یسعیاہ 51 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
بچے یسعیاہ 51 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
یسعیاہ 51 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
جس ہاتھ نے آسمان کو جگہ دی اور زمین کی بنیادیں رکھیں، وہی ہاتھ اب تیرے اوپر سایہ بنا ہوا ہے: ”مَیں نے اپنے الفاظ تیرے منہ میں ڈال کر تجھے اپنے ہاتھ کے سائے میں چھپائے رکھا۔“ سوچ، کائنات بنانے والا تجھ پر جھکا ہوا ہے۔ اور وہ فاصلے سے بات نہیں کرتا، وہ کہتا ہے، ”تُو میری قوم ہے۔“ کیا تُو آج اِسی سائے میں بیٹھنے کو تیار ہے؟
اے خُداوند کے بازو، جاگ! جاگ، اپنے آپ کو قُوّت سے مُلبّس کر!" یہ پکار اُس قوم کی ہے جو تھک چکی ہے، جو اپنے خدا کو سوتا ہوا محسوس کر رہی ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ یسعیاہ خدا سے شکایت کرنے سے نہیں ڈرتا۔ کبھی کبھی سب سے گہری دعا وہ ہوتی ہے جو کہتی ہے، "خداوند، اُٹھ! میں اب اور نہیں ٹھہر سکتا۔" کیا تُو نے کبھی ایسی دعا کی ہے؟
کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور نوجوانوں (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں