7 سے 12 سال کے بچے کے لیے

یرمیاہ 10

پرائمری عمر (7 تا 12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی

بائبل

وضاحت

یرمیاہ نبی ایک ایسے وقت میں بول رہے تھے جب اُن کے ملک پر خطرہ منڈلا رہا تھا۔ شمال سے فوجیں آنے والی تھیں، اور لوگ خوف کے مارے ہر جگہ مدد ڈھونڈ رہے تھے۔ کچھ لوگ ستاروں کو دیکھ کر جاننا چاہتے تھے کہ آگے کیا ہوگا۔ دوسرے لکڑی اور سونے کے بُت بنا کر اُن کے سامنے جھک رہے تھے۔ یرمیاہ کے ذریعے خداوند فرماتے ہیں: ”دیگر اقوام کی بُت پرستی مت اپنانا۔“

اِس کے بعد خدا ایک بہت ہی سادہ سی بات کرتے ہیں، اور یہ بات تھوڑی مزاحیہ بھی ہے۔ ذرا سوچو: جنگل میں ایک درخت کاٹا جاتا ہے۔ ایک کاری گر اُسے چھینی سے تراشتا ہے۔ پھر لوگ اُس پر سونا چاندی چڑھاتے ہیں، اُسے قرمزی اور ارغوانی رنگ کے کپڑے پہناتے ہیں، اور آخر میں اُسے کیلوں سے کہیں جڑ دیتے ہیں تاکہ وہ گر نہ جائے۔ خدا فرماتے ہیں کہ ایسا بُت اُس پُتلے جیسا ہے جو کھیرے کے کھیت میں پرندے بھگانے کے لیے کھڑا کیا جاتا ہے۔ ”نہ وہ بول سکتے، نہ چل سکتے ہیں، اِس لئے لوگ اُنہیں اُٹھا کر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔“ ایک خدا جسے تم خود اُٹھا کر لے جاؤ؟ ایسے خدا سے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں۔

پھر یرمیاہ کا لہجہ بدل جاتا ہے۔ اب وہ دعا کرنے لگتے ہیں: ”اے رب، تجھ جیسا کوئی نہیں ہے۔“ خداوند زندہ خدا اور ابدی بادشاہ ہیں۔ اُنہیں کسی نے نہیں بنایا، بلکہ اُنہوں نے ہی زمین کو خلق کیا، آسمان کو خیمے کی طرح تان لیا، اور بادل، بجلی اور ہَوا اُن کے حکم پر چلتے ہیں۔ ایک ایسا خدا جو تمہارے ہاتھ میں نہیں سماتا، مگر جس کے ہاتھ میں پوری دنیا ہے۔

پھر باب کا تیسرا حصہ آتا ہے، اور یہ حصہ بھاری ہے۔ خدا کہتے ہیں کہ اِس بار وہ اپنی قوم کو ملک سے باہر پھینک دیں گے۔ یرمیاہ کے منہ سے درد نکلتا ہے: ”ہائے، میرا زخم بھر نہیں سکتا۔“ وہ اپنے شہر کو ایک ٹوٹے ہوئے خیمے کی طرح دیکھتے ہیں، جس کے رسّے کٹ گئے ہیں اور کوئی نہیں بچا جو اُسے دوبارہ لگائے۔ کیوں ہوا یہ سب؟ اِس کی ایک وجہ صاف بتائی گئی ہے: قوم کے گلہ بان، یعنی راہنما، ”احمق ہو گئے ہیں، اُنہوں نے رب کو تلاش نہیں کیا۔“ چرواہے راستہ بھول گئے، اِس لیے پورا ریوڑ بکھر گیا۔

آخر میں یرمیاہ پھر دعا کرتے ہیں، اور بہت ایمانداری سے۔ ”اے رب، مَیں نے جان لیا ہے کہ انسان کی راہ اُس کے اپنے ہاتھ میں نہیں ہوتی۔“ اور پھر: ”میری تنبیہ کر، لیکن مناسب حد تک۔“ یعنی: مجھے سدھارنا، مگر مجھے ختم نہ کر دینا۔

اِس کا مطلب کیا ہے؟

اِس باب میں دو چیزوں کا آمنا سامنا ہے: وہ چیزیں جو ہم خود بناتے ہیں، اور وہ خدا جس نے ہمیں بنایا۔ بُت خوبصورت لگ سکتے ہیں، مہنگے بھی، مگر اُن میں دم نہیں۔ خدا اُنہیں ”مضحکہ خیز“ کہتے ہیں، یعنی ہنسنے کے لائق۔ اور جو چیز ہنسنے کے لائق ہے، اُس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔

مگر باب یہ بھی نہیں چھپاتا کہ خدا کی ناراضی سچی ہے۔ جب لوگ اُس زندہ خدا کو چھوڑ کر لکڑی کے ٹکڑوں پر بھروسا کرتے ہیں، تو نتیجہ تباہی ہوتا ہے۔ یرمیاہ اِس پر خوش نہیں ہوتے، وہ روتے ہیں۔ خدا کے نبی کا دل پتھر کا نہیں تھا۔

اور ایک سوال باقی رہ جاتا ہے جس کا جواب یہ باب پورا نہیں دیتا: کون اُس ٹوٹے ہوئے خیمے کو دوبارہ کھڑا کرے گا؟ یرمیاہ کہتے ہیں، ”کوئی نہیں ہے۔“ مجھے یہ خلا ایماندارانہ لگتا ہے۔ کبھی کبھی بائبل ہمیں انتظار میں چھوڑ دیتی ہے۔

سنہری ڈور

اُس انتظار کا جواب بہت بعد میں آیا۔ جہاں یرمیاہ کہتے ہیں کہ چرواہوں نے خدا کو تلاش نہیں کیا اور ریوڑ بکھر گیا، وہاں خداوند یسوع مسیح آ کر فرماتے ہیں کہ وہی اچھا چرواہا ہیں جو بکھری ہوئی بھیڑوں کو ڈھونڈنے نکلتے ہیں۔ وہ زندہ خدا ہیں جو انسان بن کر ہمارے درمیان آئے، ایسا خدا جسے کسی کاری گر نے نہیں بنایا اور جسے کیلوں سے باندھنا ضروری نہیں تھا۔ اور پھر بھی، عجیب بات ہے، اُنہیں کیلوں سے باندھا گیا، مگر اپنی مرضی سے، تاکہ یرمیاہ کی دعا پوری ہو: تنبیہ ہو، مگر ہم بھسم نہ ہوں۔

تمہارے لیے

آج ہمارے گھروں میں لکڑی کے بُت نہیں کھڑے، لیکن سوال وہی ہے: تم کس چیز کے بغیر اپنے آپ کو نامکمل محسوس کرتے ہو؟ کوئی موبائل، کوئی گیم، کسی گروپ میں شامل ہونا، اپنے نمبر؟ اِن میں سے کوئی چیز بُری نہیں، مگر اِن میں دم نہیں۔ یہ تمہیں سنبھال نہیں سکتیں۔

اور یرمیاہ کی وہ دعا تم بھی کر سکتے ہو: ”اے رب، مَیں نے جان لیا ہے کہ انسان کی راہ اُس کے اپنے ہاتھ میں نہیں ہوتی۔“ یہ ہار ماننا نہیں ہے۔ یہ اُس کے ہاتھ میں ہاتھ دینا ہے جس نے آسمان کو خیمے کی طرح تان لیا۔

اِس پر بات کریں

ایک بُت وہ چیز ہے جس پر تم خدا سے زیادہ بھروسا کرتے ہو۔ تمہاری زندگی میں ایسی کوئی چیز ہے؟ ایمانداری سے سوچو۔

یرمیاہ نے کہا، ”میری تنبیہ کر، لیکن مناسب حد تک۔“ تم خدا سے کیسے ایمانداری سے بات کر سکتے ہو جب تمہیں کوئی بات مشکل لگے؟

مل کر دعا

اے خداوند، آپ جیسا کوئی نہیں۔ آپ زندہ ہیں، آپ بولتے ہیں، آپ نے سب کچھ بنایا۔ مجھے معاف کیجیے جب مَیں چھوٹی چیزوں پر آپ سے زیادہ بھروسا کرتا ہوں۔ میرا ہاتھ پکڑیے، کیونکہ میری راہ میرے اپنے ہاتھ میں نہیں ہے۔ آمین۔

یہ بائبل کہانی شیئر کریں

دوسرے والدین یا اساتذہ کے لیے جنہیں یہ مددگار لگ سکتا ہے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

یرمیاہ 10 کے بارے میں سوالات

ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔

یرمیاہ 10 کس بارے میں ہے؟
یرمیاہ نبی ایک ایسے وقت میں بول رہے تھے جب اُن کے ملک پر خطرہ منڈلا رہا تھا۔ شمال سے فوجیں آنے والی تھیں، اور لوگ خوف کے مارے ہر جگہ مدد ڈھونڈ رہے تھے۔ کچھ لوگ ستاروں کو دیکھ کر جاننا چاہتے تھے کہ آگے کیا ہوگا۔ دوسرے لکڑی اور سونے کے بُت بنا کر اُن کے سامنے جھک رہے تھے۔ یرمیاہ کے ذریعے خداوند فرماتے ہیں: ”دیگر اقوام کی بُت پرستی مت اپنانا۔“
یرمیاہ 10 کیا کہتا ہے؟
پھر باب کا تیسرا حصہ آتا ہے، اور یہ حصہ بھاری ہے۔ خدا کہتے ہیں کہ اِس بار وہ اپنی قوم کو ملک سے باہر پھینک دیں گے۔ یرمیاہ کے منہ سے درد نکلتا ہے: ”ہائے، میرا زخم بھر نہیں سکتا۔“ وہ اپنے شہر کو ایک ٹوٹے ہوئے خیمے کی طرح دیکھتے ہیں، جس کے رسّے کٹ گئے ہیں اور کوئی نہیں بچا جو اُسے دوبارہ لگائے۔ کیوں ہوا یہ سب؟ اِس کی ایک وجہ صاف بتائی گئی ہے: قوم کے گلہ بان، یعنی راہنما، ”احمق ہو گئے ہیں، اُنہوں نے رب کو تلاش نہیں کیا۔“ چرواہے راستہ بھول گئے، اِس لیے پورا ریوڑ بکھر گیا۔
یرمیاہ 10 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
مگر باب یہ بھی نہیں چھپاتا کہ خدا کی ناراضی سچی ہے۔ جب لوگ اُس زندہ خدا کو چھوڑ کر لکڑی کے ٹکڑوں پر بھروسا کرتے ہیں، تو نتیجہ تباہی ہوتا ہے۔ یرمیاہ اِس پر خوش نہیں ہوتے، وہ روتے ہیں۔ خدا کے نبی کا دل پتھر کا نہیں تھا۔
بچے یرمیاہ 10 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
آج ہمارے گھروں میں لکڑی کے بُت نہیں کھڑے، لیکن سوال وہی ہے: تم کس چیز کے بغیر اپنے آپ کو نامکمل محسوس کرتے ہو؟ کوئی موبائل، کوئی گیم، کسی گروپ میں شامل ہونا، اپنے نمبر؟ اِن میں سے کوئی چیز بُری نہیں، مگر اِن میں دم نہیں۔ یہ تمہیں سنبھال نہیں سکتیں۔
یرمیاہ 10 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
یرمیاہ نے کہا، ”میری تنبیہ کر، لیکن مناسب حد تک۔“ تم خدا سے کیسے ایمانداری سے بات کر سکتے ہو جب تمہیں کوئی بات مشکل لگے؟

دوسروں نے کیا پایا

بصیرت ادارتی کو آیت 1

اے اسرائیل کے گھرانے، وہ کلام سنو جو رب تم سے کرتا ہے!“ بُتوں کے خلاف پوری دلیل سے پہلے رب صرف ایک بات مانگتا ہے، کہ تُو سنے۔ کیونکہ بُت گونگے ہیں، وہ کبھی تجھ سے بات نہیں کریں گے۔ جو چیزیں تیرے دل پر قبضہ کر لیتی ہیں، اُن کی آواز نہیں ہوتی، مگر تیرا خدا بولتا ہے۔ آج تُو کس کی سن رہا ہے؟

کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟

ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور نوجوانوں (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔

بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں

For parents and teachers: 7 سے 12 سال کے ان بچوں کے لیے تحریر کردہ جو خود پڑھ سکتے ہیں۔ خاندانی عبادت اور اسکول میں بائبل کے اسباق کے لیے بہترین۔ This explanation is generated automatically by language models. While we strive for theological soundness, the software can make mistakes.

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network