6 تا 12 سال کے بچے کے لیے

یرمیاہ 26

ابتدائی عمر (6-12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی

بائبل

The Explanation

یرمیاہ نبی تھے۔ خدا نے اُنہیں ایک مشکل کام دیا۔ اُنہیں رب کے گھر یعنی ہیکل کے صحن میں کھڑے ہو کر لوگوں سے بات کرنی تھی، اُن لوگوں سے جو یہوداہ کے مختلف شہروں سے سجدہ کرنے آئے تھے۔ خدا نے فرمایا کہ یرمیاہ ایک بات بھی نہ چھوڑیں، پورا پیغام سنائیں۔ پیغام یہ تھا، اگر لوگ اپنی بُری راہوں سے واپس نہ آئے تو رب کا یہ گھر بھی تباہ ہو جائے گا، بالکل اُسی طرح جیسے پہلے سَیلا کا مقدِس تباہ ہوا تھا۔ یروشلم شہر بھی ملبے کا ڈھیر بن جائے گا۔

یہ سن کر امام، نبی اور باقی تمام لوگ غصے میں آ گئے۔ اُنہوں نے یرمیاہ کو پکڑ لیا اور کہا، تجھے مرنا ہی ہے۔ اُن کے خیال میں یرمیاہ نے خدا کے گھر اور شہر کے خلاف ایسی بات کہہ کر بہت بڑا گناہ کیا تھا۔ معاملہ یہوداہ کے بزرگوں تک پہنچا۔ اُنہوں نے یرمیاہ کی عدالت شروع کی۔ یرمیاہ نے خوفزدہ ہوئے بغیر جواب دیا، رب نے خود مجھے بھیجا ہے۔ اگر آپ مجھے مار ڈالیں تو ایک بےقصور کا خون اپنے اوپر لے لیں گے۔

کچھ بزرگوں کو یاد آیا کہ بہت پہلے نبی میکاہ نے بھی ایسی ہی بات کہی تھی، اور بادشاہ حِزقیاہ نے اُسے نہیں مارا بلکہ خدا کے سامنے جھک گیا تھا۔ اِس وجہ سے یرمیاہ کی جان بچ گئی۔ مگر کہانی میں ایک اور نبی کا ذکر بھی ہے، اُوریاہ کا۔ اُس نے بھی وہی باتیں کہیں جو یرمیاہ نے کہیں، مگر بادشاہ یہویقیم نے اُسے مروا دیا۔ یرمیاہ بچ گئے کیونکہ ایک آدمی، اخی قام، اُن کے حق میں کھڑا ہوا۔

What Does This Mean?

یہ باب ہمیں دکھاتا ہے کہ سچ بولنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، خاص طور پر جب سچ لوگوں کو پسند نہ آئے۔ یرمیاہ کو معلوم تھا کہ اُن کا پیغام کسی کو اچھا نہیں لگے گا۔ پھر بھی اُنہوں نے وہی کہا جو خدا نے کہنے کو فرمایا تھا، نہ کم نہ زیادہ۔

یہاں ایک بات بہت ضروری ہے جسے ہم آسانی سے بھول جاتے ہیں۔ خدا نے فرمایا کہ اگر لوگ توبہ کریں تو وہ "پچھتا کر" سزا نازل نہیں کرے گا۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ خدا غلطی کرتا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کا دل سزا دینے کے لئے بےچین نہیں، بلکہ وہ لوگوں کے واپس آنے کا انتظار کرتا ہے۔ یہ بات حیران کن ہے، اور شاید پوری طرح سمجھ میں نہ آئے۔ کیوں ایک نبی، میکاہ، بچ جاتا ہے اور دوسرا، اُوریاہ، مارا جاتا ہے؟ متن خود اِس سوال کا جواب نہیں دیتا۔ کبھی کبھی زندگی ایسی ہی ہوتی ہے، اور بائبل اِسے چھپاتی نہیں۔

The Common Thread

یرمیاہ کی کہانی میں ہمیں ایک ایسا آدمی نظر آتا ہے جو سچ بولنے کی وجہ سے مارا جا سکتا تھا، مگر بچ گیا۔ بہت عرصے بعد ایک اور شخص آئے گا جو سچ بولنے کی وجہ سے واقعی مارا جائے گا، اور کوئی اُس کے حق میں کھڑا نہیں ہوگا۔ وہ خداوند یسوع مسیح ہیں۔ اُنہوں نے بھی ہیکل کے بارے میں سخت باتیں کہیں، اور لوگوں نے اُن پر بھی غصہ کیا۔ مگر اُن کے لئے کوئی اخی قام نہیں تھا جو بچا لے۔ یسوع مسیح نے وہ سزا اپنے اوپر لے لی جو ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہم پر آنی تھی۔ یرمیاہ کا بچ جانا ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خدا اپنے وفادار بندوں کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا، چاہے راستہ کتنا ہی خطرناک ہو۔

For You

کبھی کبھار سچ کہنا مشکل ہوتا ہے، خاص کر جب دوست ناراض ہو سکتے ہیں یا تمہارا مذاق اُڑا سکتے ہیں۔ یرمیاہ کی ہمت سے سیکھنے والی بات یہ ہے کہ خدا کی بات کو چھپانا نہیں، چاہے دل ڈرتا ہو۔ ساتھ ہی یہ بھی سوچنے کی بات ہے، کیا تم کبھی کسی کے حق میں کھڑے ہوئے ہو جب سب اُس کے خلاف تھے؟ اخی قام بننا آسان نہیں، مگر یہی وہ کام ہے جو خدا کو پسند آتا ہے۔

Talk About It

کیا تم کبھی ایسی صورت حال میں رہے ہو جہاں سچ کہنا خطرناک لگا؟ تم نے کیا کیا؟

میکاہ بچ گئے اور اُوریاہ نہیں بچے۔ تمہارے خیال میں یہ کیوں ایسا ہوا؟ کیا اِس کا کوئی آسان جواب ہے؟

Praying Together

اے خداوند، ہمیں یرمیاہ جیسی ہمت دیجئے کہ ہم آپ کی سچائی کہنے سے نہ ڈریں۔ ہمیں ایسا دل بھی دیجئے جو اُن کے حق میں کھڑا ہو جو تنہا رہ جاتے ہیں۔ شکریہ کہ آپ نے یسوع مسیح کو بھیجا جنہوں نے ہمارے لئے سب کچھ سہا۔ آمین۔

یہ بائبل کہانی شیئر کریں

دوسرے والدین یا اساتذہ کے لیے جنہیں یہ مددگار لگ سکتا ہے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

یرمیاہ 26 کے بارے میں سوالات

ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔

یرمیاہ 26 کس بارے میں ہے؟
یرمیاہ نبی تھے۔ خدا نے اُنہیں ایک مشکل کام دیا۔ اُنہیں رب کے گھر یعنی ہیکل کے صحن میں کھڑے ہو کر لوگوں سے بات کرنی تھی، اُن لوگوں سے جو یہوداہ کے مختلف شہروں سے سجدہ کرنے آئے تھے۔ خدا نے فرمایا کہ یرمیاہ ایک بات بھی نہ چھوڑیں، پورا پیغام سنائیں۔ پیغام یہ تھا، اگر لوگ اپنی بُری راہوں سے واپس نہ آئے تو رب کا یہ گھر بھی تباہ ہو جائے گا، بالکل اُسی طرح جیسے پہلے سَیلا کا مقدِس تباہ ہوا تھا۔ یروشلم شہر بھی ملبے کا ڈھیر بن جائے گا۔
یرمیاہ 26 کیا کہتا ہے؟
کچھ بزرگوں کو یاد آیا کہ بہت پہلے نبی میکاہ نے بھی ایسی ہی بات کہی تھی، اور بادشاہ حِزقیاہ نے اُسے نہیں مارا بلکہ خدا کے سامنے جھک گیا تھا۔ اِس وجہ سے یرمیاہ کی جان بچ گئی۔ مگر کہانی میں ایک اور نبی کا ذکر بھی ہے، اُوریاہ کا۔ اُس نے بھی وہی باتیں کہیں جو یرمیاہ نے کہیں، مگر بادشاہ یہویقیم نے اُسے مروا دیا۔ یرمیاہ بچ گئے کیونکہ ایک آدمی، اخی قام، اُن کے حق میں کھڑا ہوا۔
یرمیاہ 26 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یہاں ایک بات بہت ضروری ہے جسے ہم آسانی سے بھول جاتے ہیں۔ خدا نے فرمایا کہ اگر لوگ توبہ کریں تو وہ "پچھتا کر" سزا نازل نہیں کرے گا۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ خدا غلطی کرتا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کا دل سزا دینے کے لئے بےچین نہیں، بلکہ وہ لوگوں کے واپس آنے کا انتظار کرتا ہے۔ یہ بات حیران کن ہے، اور شاید پوری طرح سمجھ میں نہ آئے۔ کیوں ایک نبی، میکاہ، بچ جاتا ہے اور دوسرا، اُوریاہ، مارا جاتا ہے؟ متن خود اِس سوال کا جواب نہیں دیتا۔ کبھی کبھی زندگی ایسی ہی ہوتی ہے، اور بائبل اِسے چھپاتی نہیں۔
بچے یرمیاہ 26 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
کبھی کبھار سچ کہنا مشکل ہوتا ہے، خاص کر جب دوست ناراض ہو سکتے ہیں یا تمہارا مذاق اُڑا سکتے ہیں۔ یرمیاہ کی ہمت سے سیکھنے والی بات یہ ہے کہ خدا کی بات کو چھپانا نہیں، چاہے دل ڈرتا ہو۔ ساتھ ہی یہ بھی سوچنے کی بات ہے، کیا تم کبھی کسی کے حق میں کھڑے ہوئے ہو جب سب اُس کے خلاف تھے؟ اخی قام بننا آسان نہیں، مگر یہی وہ کام ہے جو خدا کو پسند آتا ہے۔
یرمیاہ 26 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
اے خداوند، ہمیں یرمیاہ جیسی ہمت دیجئے کہ ہم آپ کی سچائی کہنے سے نہ ڈریں۔ ہمیں ایسا دل بھی دیجئے جو اُن کے حق میں کھڑا ہو جو تنہا رہ جاتے ہیں۔ شکریہ کہ آپ نے یسوع مسیح کو بھیجا جنہوں نے ہمارے لئے سب کچھ سہا۔ آمین۔

کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟

ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3-5 سال) اور نوجوانوں (13 سال اور اس سے اوپر) کے لیے الگ نسخے بھی ہیں۔

بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں