6 تا 12 سال کے بچے کے لیے

یرمیاہ 51

ابتدائی عمر (6-12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی

بائبل

وضاحت

یرمیاہ نبی نے بابل شہر کے بارے میں ایک بڑا پیغام لکھا تھا۔ بابل وہ طاقت ور سلطنت تھی جس نے یروشلم کو تباہ کیا اور یہوداہ کے لوگوں کو قید کر کے اپنے ملک لے گئی تھی۔ اب خدا کہتے ہیں کہ بابل کا وقت ختم ہونے والا ہے۔ وہ شہر جو سونے کے پیالے کی طرح چمکتا تھا اور ساری دنیا کو اپنی طاقت کا نشہ پلاتا تھا، اب خود ٹوٹ کر گرے گا۔ خدا دوسری قوموں کو بلاتے ہیں تاکہ وہ بابل کی فصیلوں پر حملہ کریں۔ شہر کے دریا خشک ہو جائیں گے، اس کے دروازے جل جائیں گے، اور آخر میں وہاں صرف گیدڑ ہی رہیں گے۔

اس باب میں ایک بہت دلچسپ بات کہی گئی ہے۔ بابل نے خود کو خدا کا "ہتھوڑا" بتایا ہے، یعنی خدا نے بابل کو استعمال کیا تاکہ وہ دوسری قوموں کو سزا دے، لیکن اب بابل نے خود ظلم میں حد کر دی ہے، اس لئے اب اسی کی باری آ گئی ہے۔ ساتھ ہی خدا اسرائیل کے لوگوں سے کہتے ہیں کہ بابل سے نکل آؤ، بھاگ جاؤ، اپنی جان بچاؤ۔ باب کے آخر میں یرمیاہ نبی اپنے دوست سرایاہ کو یہ پوری کتاب دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسے پڑھ کر ایک پتھر کے ساتھ باندھ کر دریائے فرات میں پھینک دینا، جیسے بابل بھی ڈوب جائے گا۔

اس کا کیا مطلب ہے؟

یہ باب ہمیں ایک مشکل مگر اہم سچائی بتاتا ہے، خدا انصاف کرتے ہیں۔ وہ طاقت ور سلطنتوں کو بھی اس کا حساب دینا پڑتا ہے جو انہوں نے دوسروں کے ساتھ کیا۔ بابل نے سوچا تھا کہ وہ ہمیشہ کے لئے مضبوط رہے گا، لیکن خدا کے سامنے کوئی سلطنت ہمیشہ کے لئے نہیں رہتی۔ یہ صرف بابل کی کہانی نہیں بلکہ ایک اصول ہے، جو قوم یا شخص ظلم کرتا ہے، خدا اسے دیکھتے ہیں، اور ایک دن حساب ہوتا ہے۔

یہ بات دلچسپ ہے کہ خدا نے بابل کو "اپنا ہتھوڑا" کہا، یعنی ایک برے کام کرنے والی طاقت کو بھی خدا اپنے مقصد کے لئے استعمال کر سکتے ہیں، بغیر اس کے کہ وہ خود اس کام کی برائی کو منظور کریں۔ یہ سمجھنا آسان نہیں، اور یرمیاہ بھی اس بات کو پوری طرح نہیں کھولتے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ خدا کی حکمت ہماری سمجھ سے اونچی ہے۔

سلسلہ

اس پورے باب میں ایک وعدہ چپکے سے چھپا ہوا ہے۔ خدا کہتے ہیں کہ اسرائیل اور یہوداہ کو اکیلا نہیں چھوڑا گیا، ان کا خدا انہیں ترک نہیں کرتا، چاہے ان کا قصور کتنا بھی سنگین ہو۔ یہ وہی عہد ہے جو خدا نے اپنی قوم سے باندھا تھا، یعنی ایک پکا وعدہ کہ وہ ہمیشہ ان کا خدا رہے گا۔ بابل کی سزا دراصل اسرائیل کی بحالی کی خوشخبری کا دوسرا رخ ہے۔ جب ظالم گرتا ہے تو مظلوم کو امید ملتی ہے۔

یہ وہی خدا ہیں جو صدیوں بعد خداوند یسوع مسیح میں پوری طرح ظاہر ہوئے، ایک ایسا بادشاہ جس نے طاقت سے نہیں بلکہ صلیب پر اپنی جان دے کر لوگوں کو آزاد کیا۔ بابل کی تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دنیا کی طاقتیں آتی جاتی ہیں، مگر خدا کا وعدہ قائم رہتا ہے۔

آپ کے لئے

شاید تمہیں کبھی لگے کہ کوئی طاقت ور بچہ یا بڑا شخص ہمیشہ اپنی مرضی چلائے گا، اور اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ یہ باب کہتا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ خدا دیکھتے ہیں کہ ہر کوئی دوسروں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔ تم بھی اپنے سکول یا گھر میں دیکھو، کبھی کسی کو زیادہ طاقت یا مرضی مل جاتی ہے، سوال یہ ہے کہ تم اس طاقت کا استعمال کیسے کرتے ہو۔ خدا سے وفادار رہنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہم کمزوروں کو دباتے نہیں بلکہ ان کا خیال رکھتے ہیں، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ خدا ایک دن ہر چیز کا حساب لیں گے۔

بات چیت کریں

کیا تمہیں لگتا ہے خدا کا بابل جیسی بڑی سلطنتوں پر قابو رکھنا آسان ہے یا مشکل؟ کیوں؟

بابل کو خدا نے "اپنا ہتھوڑا" کہا، پھر بھی اسے سزا دی۔ اس سے تمہیں خدا کی انصاف پسندی کے بارے میں کیا سمجھ آتا ہے؟

ساتھ دعا کریں

اے خداوند خدا، تو ہی سچا اور انصاف کرنے والا خدا ہے۔ تو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کوئی بھی طاقت تیرے سامنے ہمیشہ قائم نہیں رہتی۔ ہمیں سکھا کہ ہم اپنی طاقت یا مرضی کو دوسروں کو دبانے کے لئے استعمال نہ کریں۔ ہمیں اپنے وعدے پر بھروسہ کرنا سکھا، کیونکہ تو نے کبھی اپنی قوم کو ترک نہیں کیا۔ یسوع مسیح کے نام میں آمین۔

یہ بائبل کہانی شیئر کریں

دوسرے والدین یا اساتذہ کے لیے جنہیں یہ مددگار لگ سکتا ہے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

یرمیاہ 51 کے بارے میں سوالات

ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔

یرمیاہ 51 کس بارے میں ہے؟
یرمیاہ نبی نے بابل شہر کے بارے میں ایک بڑا پیغام لکھا تھا۔ بابل وہ طاقت ور سلطنت تھی جس نے یروشلم کو تباہ کیا اور یہوداہ کے لوگوں کو قید کر کے اپنے ملک لے گئی تھی۔ اب خدا کہتے ہیں کہ بابل کا وقت ختم ہونے والا ہے۔ وہ شہر جو سونے کے پیالے کی طرح چمکتا تھا اور ساری دنیا کو اپنی طاقت کا نشہ پلاتا تھا، اب خود ٹوٹ کر گرے گا۔ خدا دوسری قوموں کو بلاتے ہیں تاکہ وہ بابل کی فصیلوں پر حملہ کریں۔ شہر کے دریا خشک ہو جائیں گے، اس کے دروازے جل جائیں گے، اور آخر میں وہاں صرف گیدڑ ہی رہیں گے۔
یرمیاہ 51 کیا کہتا ہے؟
یہ باب ہمیں ایک مشکل مگر اہم سچائی بتاتا ہے، خدا انصاف کرتے ہیں۔ وہ طاقت ور سلطنتوں کو بھی اس کا حساب دینا پڑتا ہے جو انہوں نے دوسروں کے ساتھ کیا۔ بابل نے سوچا تھا کہ وہ ہمیشہ کے لئے مضبوط رہے گا، لیکن خدا کے سامنے کوئی سلطنت ہمیشہ کے لئے نہیں رہتی۔ یہ صرف بابل کی کہانی نہیں بلکہ ایک اصول ہے، جو قوم یا شخص ظلم کرتا ہے، خدا اسے دیکھتے ہیں، اور ایک دن حساب ہوتا ہے۔
یرمیاہ 51 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
اس پورے باب میں ایک وعدہ چپکے سے چھپا ہوا ہے۔ خدا کہتے ہیں کہ اسرائیل اور یہوداہ کو اکیلا نہیں چھوڑا گیا، ان کا خدا انہیں ترک نہیں کرتا، چاہے ان کا قصور کتنا بھی سنگین ہو۔ یہ وہی عہد ہے جو خدا نے اپنی قوم سے باندھا تھا، یعنی ایک پکا وعدہ کہ وہ ہمیشہ ان کا خدا رہے گا۔ بابل کی سزا دراصل اسرائیل کی بحالی کی خوشخبری کا دوسرا رخ ہے۔ جب ظالم گرتا ہے تو مظلوم کو امید ملتی ہے۔
بچے یرمیاہ 51 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
شاید تمہیں کبھی لگے کہ کوئی طاقت ور بچہ یا بڑا شخص ہمیشہ اپنی مرضی چلائے گا، اور اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ یہ باب کہتا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ خدا دیکھتے ہیں کہ ہر کوئی دوسروں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔ تم بھی اپنے سکول یا گھر میں دیکھو، کبھی کسی کو زیادہ طاقت یا مرضی مل جاتی ہے، سوال یہ ہے کہ تم اس طاقت کا استعمال کیسے کرتے ہو۔ خدا سے وفادار رہنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہم کمزوروں کو دباتے نہیں بلکہ ان کا خیال رکھتے ہیں، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ خدا ایک دن ہر چیز کا حساب لیں گے۔
یرمیاہ 51 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
اے خداوند خدا، تو ہی سچا اور انصاف کرنے والا خدا ہے۔ تو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کوئی بھی طاقت تیرے سامنے ہمیشہ قائم نہیں رہتی۔ ہمیں سکھا کہ ہم اپنی طاقت یا مرضی کو دوسروں کو دبانے کے لئے استعمال نہ کریں۔ ہمیں اپنے وعدے پر بھروسہ کرنا سکھا، کیونکہ تو نے کبھی اپنی قوم کو ترک نہیں کیا۔ یسوع مسیح کے نام میں آمین۔

کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟

ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3-5 سال) اور نوجوانوں (13 سال اور اس سے اوپر) کے لیے الگ نسخے بھی ہیں۔

بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں