7 سے 12 سال کے بچے کے لیے

ایوب 21

پرائمری عمر (7 تا 12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی

بائبل

The Explanation

ایوب بہت دکھی تھا۔ اُس کے دوست بار بار کہہ رہے تھے، ”جو بُرا کرتا ہے وہ ضرور سزا پاتا ہے۔“ لیکن ایوب نے کھڑے ہو کر کہا، ”دھیان سے میرے الفاظ سنو!“

ایوب نے اپنے دوستوں کی طرف دیکھا اور کہا، ”میری طرف دیکھو تو تمہارے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔“ وہ خود بھی اپنی بات سے ڈر گیا تھا۔ اُس کا سوال یہ تھا: بےدین لوگ، یعنی وہ جو خدا کو مانتے ہی نہیں، کیوں آرام سے جیتے ہیں؟

ایوب نے بتایا کہ ایسے لوگوں کے گھر محفوظ رہتے ہیں۔ اُن کے بچے صحن میں بھیڑ بکریوں کی طرح کودتے پھاندتے ہیں۔ وہ دف اور سرود بجا کر گیت گاتے ہیں۔ اُن کے برتن دودھ سے بھرے رہتے ہیں۔ اور جب وہ بوڑھے ہو کر مرتے ہیں تو بڑے سکون سے مرتے ہیں۔

یہی لوگ خدا سے کہتے تھے، ”ہم سے دُور ہو جا، ہم تیری راہوں کو جاننا نہیں چاہتے۔“ پھر بھی اُن پر کوئی مصیبت نہیں آتی تھی۔ ایوب نے پوچھا، ”کیا ہَوا اُنہیں بھوسے کی طرح اُڑا لے جاتی ہے؟ افسوس، ایسا نہیں ہوتا۔“

پھر ایوب نے ایک تصویر بنائی۔ ایک آدمی تن درست اور خوش حال مرتا ہے۔ دوسرا آدمی شکستہ حالت میں، کبھی خوشی دیکھے بغیر مرتا ہے۔ ایوب نے کہا، ”اب دونوں مل کر خاک میں پڑے رہتے ہیں، دونوں کیڑے مکوڑوں سے ڈھانپے رہتے ہیں۔“ دونوں کی قبر ایک جیسی ہوتی ہے۔

آخر میں ایوب نے اپنے دوستوں سے کہا، ”تم مجھے عبث باتوں سے کیوں تسلی دے رہے ہو؟“ اُس نے اُن کے آسان جواب کو رد کر دیا۔

What Does This Mean?

ایوب نے ایک بہت مشکل بات کہی، اور وہ سچی بات تھی۔ یہ سوچنا آسان ہے کہ ”اچھے لوگوں کو ہمیشہ اچھا ملتا ہے اور بُرے لوگوں کو ہمیشہ بُرا ملتا ہے۔“ لیکن ایوب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ دنیا ایسی سیدھی نہیں ہے۔ کبھی کبھی بےدین لوگ خوش رہتے ہیں اور نیک لوگ دکھ اُٹھاتے ہیں۔ ایوب جھوٹ نہیں بول رہا تھا، وہ اپنے دل کی تکلیف سچائی سے بیان کر رہا تھا۔

The Common Thread

ایوب کو ابھی تک پورا جواب نہیں ملا تھا۔ وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ ایک دن خداوند یسوع مسیح خود دکھ اُٹھائیں گے، باوجود اِس کے کہ وہ کبھی گناہ نہیں کرتے تھے۔ خداوند یسوع نے دکھایا کہ خدا کے نزدیک نیکی اور دکھ کا سیدھا حساب نہیں چلتا۔ لیکن مسیح کی موت کے بعد زندگی آئی۔ اِس سے ہمیں یقین ملتا ہے کہ اگرچہ دنیا میں انصاف ابھی پورا نظر نہیں آتا، خدا ایک دن سب کچھ سیدھا کر دیں گے۔

For You

جب تم دیکھو کہ کوئی بُرا کام کرنے والا بچہ سزا نہیں پاتا، یا کوئی اچھا بچہ دکھ اُٹھاتا ہے، تو حیران مت ہو۔ ایوب کی طرح خدا سے کھل کر بات کرو۔ اُنہیں بتاؤ کہ یہ مشکل لگتا ہے۔ اور یاد رکھو، خدا جانتے ہیں اور وہ آخر میں سب کچھ ٹھیک کریں گے۔

Talk About It

کیا تم نے کبھی دیکھا کہ کوئی بُرا کام کرنے والا سزا نہیں پاتا؟ تب تمہیں کیسا لگا؟

ایوب نے اپنی مشکل بات خدا کے سامنے کھل کر رکھی۔ کیا تم بھی خدا سے اپنے دل کی بات کہہ سکتے ہو؟

Praying Together

اے خداوند، دنیا میں کبھی کبھی چیزیں سیدھی نظر نہیں آتیں۔ ہمیں ایوب جیسی ہمت دیجئے کہ ہم آپ سے کھل کر بات کریں۔ ہمیں یقین دلائیے کہ آپ سب کچھ دیکھتے ہیں اور ایک دن سب کچھ ٹھیک کریں گے۔ آمین۔

یہ بائبل کہانی شیئر کریں

دوسرے والدین یا اساتذہ کے لیے جنہیں یہ مددگار لگ سکتا ہے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

ایوب 21 کے بارے میں سوالات

ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔

ایوب 21 کس بارے میں ہے؟
ایوب بہت دکھی تھا۔ اُس کے دوست بار بار کہہ رہے تھے، ”جو بُرا کرتا ہے وہ ضرور سزا پاتا ہے۔“ لیکن ایوب نے کھڑے ہو کر کہا، ”دھیان سے میرے الفاظ سنو!“
ایوب 21 کیا کہتا ہے؟
ایوب نے بتایا کہ ایسے لوگوں کے گھر محفوظ رہتے ہیں۔ اُن کے بچے صحن میں بھیڑ بکریوں کی طرح کودتے پھاندتے ہیں۔ وہ دف اور سرود بجا کر گیت گاتے ہیں۔ اُن کے برتن دودھ سے بھرے رہتے ہیں۔ اور جب وہ بوڑھے ہو کر مرتے ہیں تو بڑے سکون سے مرتے ہیں۔
ایوب 21 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
پھر ایوب نے ایک تصویر بنائی۔ ایک آدمی تن درست اور خوش حال مرتا ہے۔ دوسرا آدمی شکستہ حالت میں، کبھی خوشی دیکھے بغیر مرتا ہے۔ ایوب نے کہا، ”اب دونوں مل کر خاک میں پڑے رہتے ہیں، دونوں کیڑے مکوڑوں سے ڈھانپے رہتے ہیں۔“ دونوں کی قبر ایک جیسی ہوتی ہے۔
بچے ایوب 21 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
ایوب نے ایک بہت مشکل بات کہی، اور وہ سچی بات تھی۔ یہ سوچنا آسان ہے کہ ”اچھے لوگوں کو ہمیشہ اچھا ملتا ہے اور بُرے لوگوں کو ہمیشہ بُرا ملتا ہے۔“ لیکن ایوب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ دنیا ایسی سیدھی نہیں ہے۔ کبھی کبھی بےدین لوگ خوش رہتے ہیں اور نیک لوگ دکھ اُٹھاتے ہیں۔ ایوب جھوٹ نہیں بول رہا تھا، وہ اپنے دل کی تکلیف سچائی سے بیان کر رہا تھا۔
ایوب 21 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
جب تم دیکھو کہ کوئی بُرا کام کرنے والا بچہ سزا نہیں پاتا، یا کوئی اچھا بچہ دکھ اُٹھاتا ہے، تو حیران مت ہو۔ ایوب کی طرح خدا سے کھل کر بات کرو۔ اُنہیں بتاؤ کہ یہ مشکل لگتا ہے۔ اور یاد رکھو، خدا جانتے ہیں اور وہ آخر میں سب کچھ ٹھیک کریں گے۔

دوسروں نے کیا پایا

بصیرت ادارتی کو آیت 16

ایوب خاک پر بیٹھا ہے اور بےدین عیش میں، پھر بھی وہ کہتا ہے، ”دیکھو، اُن کی خوش حالی اُن کے اپنے ہاتھ میں نہیں ہوتی۔ بےدینوں کا منصوبہ مجھ سے دُور رہے۔“ وہ اُن کی کامیابی دیکھتا ہے مگر اُس کا راستہ نہیں چنتا۔ تجھے بھی کبھی لگتا ہے کہ غلط راہ پر چلنے والے آگے نکل گئے؟ یاد رکھ، جو اُن کے ہاتھ میں نہیں، وہ تیرا حسد کے قابل بھی نہیں۔

بصیرت ادارتی کو آیت 5

ایوب اپنے دوستوں سے دلیل نہیں مانگ رہا۔ وہ کہتا ہے، "مجھ پر نظر ڈال کر ہکا بکا رہ جاؤ اور اپنا ہاتھ منہ پر رکھو۔" یعنی مجھے سمجھانے کی کوشش چھوڑ دو، بس میرے دکھ کو دیکھو اور چپ ہو جاؤ۔

کبھی کبھی سب سے بڑی خدمت یہی ہوتی ہے کہ ہم بولنا بند کر دیں۔ جس دوست کا دل ٹوٹا ہے، اُسے تمہارے جواب نہیں، تمہاری خاموش موجودگی چاہیے۔

کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟

ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور نوجوانوں (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔

بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں

For parents and teachers: 7 سے 12 سال کے ان بچوں کے لیے تحریر کردہ جو خود پڑھ سکتے ہیں۔ خاندانی عبادت اور اسکول میں بائبل کے اسباق کے لیے بہترین۔ This explanation is generated automatically by language models. While we strive for theological soundness, the software can make mistakes.

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network