7 سے 12 سال کے بچے کے لیے

یوحنا 15

پرائمری عمر (7 تا 12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی

بائبل

The Explanation

یسوع مسیح اپنے شاگردوں سے فرماتے ہیں: "میں انگور کی حقیقی بیل ہوں اور میرا باپ مالی ہے۔" ایک بیل کی جڑ سے شاخیں نکلتی ہیں، اور شاخ میں پھل صرف اُس وقت آتا ہے جب وہ بیل کے ساتھ جڑی رہے۔ جو شاخ پھل نہیں لاتی، مالی اُسے کاٹ کر پھینک دیتا ہے۔ جو پھل لاتی ہے، اُس کی وہ کانٹ چھانٹ کرتا ہے تاکہ وہ اور زیادہ پھل لائے۔ یسوع کہتے ہیں کہ اُن سے الگ ہو کر شاگرد کچھ بھی نہیں کر سکتے، بالکل جیسے ٹوٹی ہوئی شاخ سوکھ کر بےکار ہو جاتی ہے۔ پھر وہ اپنا حکم دیتے ہیں: "ایک دوسرے کو ویسے پیار کرو جیسے میں نے تم کو پیار کیا ہے۔" یسوع اپنے شاگردوں کو غلام نہیں بلکہ دوست کہتے ہیں، کیونکہ اُنہوں نے باپ سے سنی ہوئی سب باتیں اُن کے ساتھ شریک کی ہیں۔ آخر میں وہ ایک مشکل بات بھی بتاتے ہیں، یہ کہ دنیا اُن سے اور اُن کے شاگردوں سے بلاوجہ دشمنی رکھے گی۔

What Does This Mean?

یسوع یہاں ایک تصویر استعمال کرتے ہیں جو ہر کوئی سمجھ سکتا تھا، انگور کا باغ۔ لیکن اصل بات باغبانی کی نہیں، رشتے کی ہے۔ یسوع کہہ رہے ہیں کہ اُن کے ساتھ جُڑے رہنا کوئی اختیاری چیز نہیں بلکہ زندگی کی بنیاد ہے۔ جو شاخ بیل سے کٹی ہوئی ہے وہ سرسبز نظر آ سکتی ہے، لیکن وہ آہستہ آہستہ سوکھ جائے گی۔ یسوع یہ بھی صاف بتاتے ہیں کہ محبت کوئی احساس نہیں بلکہ ایک حکم ہے، ایک ایسی محبت جو اپنی جان بھی دے سکتی ہے۔ اور وہ اپنے شاگردوں کی حیثیت بدل دیتے ہیں: پہلے وہ غلام کی طرح تھے جنہیں صرف حکم ملتا تھا، اب وہ دوست ہیں جن کے ساتھ راز شریک کیے جاتے ہیں۔ یہ ایک بڑی بات ہے کہ خدا کا بیٹا انسانوں کو اپنا دوست کہے۔

The Common Thread

بائبل میں انگور کی بیل پرانے عہد نامے میں اکثر اسرائیل کی قوم کے لیے استعمال ہوتی تھی، ایک قوم جسے خدا نے لگایا تھا مگر جو اکثر پھل لانے میں ناکام رہی۔ یسوع کہتے ہیں کہ اب وہ خود وہ حقیقی بیل ہیں۔ اُن میں جُڑے رہنے کا مطلب ہے اُس عہد میں شامل ہونا جو خدا نے اپنے لوگوں سے باندھا ہے، یعنی ایک وعدہ کہ وہ اُن کے ساتھ رہے گا اور اُن سے پھل کی توقع رکھے گا۔ یسوع یہ بھی وعدہ کرتے ہیں کہ وہ ایک "مددگار" بھیجیں گے، یعنی روح القدس، جو سچائی کا روح ہے اور جو یسوع کے بارے میں گواہی دے گا۔ یوں یہ باب صرف اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ خدا کی پوری کہانی کا حصہ ہے، وہی خدا جو ہمیشہ اپنے لوگوں کے ساتھ رہنا چاہتا ہے۔

For You

تم بھی سوچ سکتے ہو کہ تمہاری زندگی میں پھل کیسا دکھتا ہے۔ شاید یہ صبر ہو جب کوئی تمہیں ناراض کرے، یا سچ بولنا جب جھوٹ آسان لگے، یا کسی دوست کے ساتھ محبت سے پیش آنا جسے پیار کرنا مشکل ہو۔ یسوع نہیں کہتے کہ خود کوشش کر کے پھل بناؤ، بلکہ کہتے ہیں کہ اُن میں جُڑے رہو، باقی خود بخود ہو گا۔ یہ بھی سچ ہے کہ یسوع کے ساتھ جُڑے رہنے والوں کو دنیا ہمیشہ پسند نہیں کرتی۔ اگر کوئی تمہیں ایمان کی وجہ سے چھیڑے یا الگ کرے، تو یاد رکھو کہ یسوع نے پہلے یہ سب برداشت کیا۔ تم اکیلے نہیں ہو۔

Talk About It

تمہارے خیال میں، کس چیز سے پتا چلتا ہے کہ کوئی شخص واقعی یسوع کے ساتھ "جُڑا" ہوا ہے؟

یسوع کہتے ہیں کہ دنیا شاگردوں سے دشمنی رکھے گی۔ کیا تم نے کبھی محسوس کیا ہے کہ ایمان کی وجہ سے کوئی تمہیں الگ سا سمجھتا ہے؟

Praying Together

خداوند یسوع، آپ ہی حقیقی بیل ہیں اور ہم آپ کی شاخیں ہیں۔ ہمیں اپنے ساتھ جُڑے رہنا سکھائیں، تاکہ ہماری زندگی میں ایسا پھل آئے جو باقی رہے۔ ہمیں ایک دوسرے سے ویسی محبت کرنا سکھائیں جیسی آپ نے ہم سے کی ہے۔ اور جب دنیا ہمیں سمجھ نہ پائے، تو ہمیں یاد دلائیں کہ ہم آپ کے دوست ہیں۔ آمین۔

یہ بائبل کہانی شیئر کریں

دوسرے والدین یا اساتذہ کے لیے جنہیں یہ مددگار لگ سکتا ہے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

یوحنا 15 کے بارے میں سوالات

ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔

یوحنا 15 کس بارے میں ہے؟
یسوع مسیح اپنے شاگردوں سے فرماتے ہیں: "میں انگور کی حقیقی بیل ہوں اور میرا باپ مالی ہے۔" ایک بیل کی جڑ سے شاخیں نکلتی ہیں، اور شاخ میں پھل صرف اُس وقت آتا ہے جب وہ بیل کے ساتھ جڑی رہے۔ جو شاخ پھل نہیں لاتی، مالی اُسے کاٹ کر پھینک دیتا ہے۔ جو پھل لاتی ہے، اُس کی وہ کانٹ چھانٹ کرتا ہے تاکہ وہ اور زیادہ پھل لائے۔ یسوع کہتے ہیں کہ اُن سے الگ ہو کر شاگرد کچھ بھی نہیں کر سکتے، بالکل جیسے ٹوٹی ہوئی شاخ سوکھ کر بےکار ہو جاتی ہے۔ پھر وہ اپنا حکم دیتے ہیں: "ایک دوسرے کو ویسے پیار کرو جیسے میں نے تم کو پیار کیا ہے۔" یسوع اپنے شاگردوں کو غلام نہیں بلکہ دوست کہتے ہیں، کیونکہ اُنہوں نے باپ سے سنی ہوئی سب باتیں اُن کے ساتھ شریک کی ہیں۔ آخر میں وہ ایک مشکل بات بھی بتاتے ہیں، یہ کہ دنیا اُن سے اور اُن کے شاگردوں سے بلاوجہ دشمنی رکھے گی۔
یوحنا 15 کیا کہتا ہے؟
یسوع یہاں ایک تصویر استعمال کرتے ہیں جو ہر کوئی سمجھ سکتا تھا، انگور کا باغ۔ لیکن اصل بات باغبانی کی نہیں، رشتے کی ہے۔ یسوع کہہ رہے ہیں کہ اُن کے ساتھ جُڑے رہنا کوئی اختیاری چیز نہیں بلکہ زندگی کی بنیاد ہے۔ جو شاخ بیل سے کٹی ہوئی ہے وہ سرسبز نظر آ سکتی ہے، لیکن وہ آہستہ آہستہ سوکھ جائے گی۔ یسوع یہ بھی صاف بتاتے ہیں کہ محبت کوئی احساس نہیں بلکہ ایک حکم ہے، ایک ایسی محبت جو اپنی جان بھی دے سکتی ہے۔ اور وہ اپنے شاگردوں کی حیثیت بدل دیتے ہیں: پہلے وہ غلام کی طرح تھے جنہیں صرف حکم ملتا تھا، اب وہ دوست ہیں جن کے ساتھ راز شریک کیے جاتے ہیں۔ یہ ایک بڑی بات ہے کہ خدا کا بیٹا انسانوں کو اپنا دوست کہے۔
یوحنا 15 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
بائبل میں انگور کی بیل پرانے عہد نامے میں اکثر اسرائیل کی قوم کے لیے استعمال ہوتی تھی، ایک قوم جسے خدا نے لگایا تھا مگر جو اکثر پھل لانے میں ناکام رہی۔ یسوع کہتے ہیں کہ اب وہ خود وہ حقیقی بیل ہیں۔ اُن میں جُڑے رہنے کا مطلب ہے اُس عہد میں شامل ہونا جو خدا نے اپنے لوگوں سے باندھا ہے، یعنی ایک وعدہ کہ وہ اُن کے ساتھ رہے گا اور اُن سے پھل کی توقع رکھے گا۔ یسوع یہ بھی وعدہ کرتے ہیں کہ وہ ایک "مددگار" بھیجیں گے، یعنی روح القدس، جو سچائی کا روح ہے اور جو یسوع کے بارے میں گواہی دے گا۔ یوں یہ باب صرف اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ خدا کی پوری کہانی کا حصہ ہے، وہی خدا جو ہمیشہ اپنے لوگوں کے ساتھ رہنا چاہتا ہے۔
بچے یوحنا 15 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
تم بھی سوچ سکتے ہو کہ تمہاری زندگی میں پھل کیسا دکھتا ہے۔ شاید یہ صبر ہو جب کوئی تمہیں ناراض کرے، یا سچ بولنا جب جھوٹ آسان لگے، یا کسی دوست کے ساتھ محبت سے پیش آنا جسے پیار کرنا مشکل ہو۔ یسوع نہیں کہتے کہ خود کوشش کر کے پھل بناؤ، بلکہ کہتے ہیں کہ اُن میں جُڑے رہو، باقی خود بخود ہو گا۔ یہ بھی سچ ہے کہ یسوع کے ساتھ جُڑے رہنے والوں کو دنیا ہمیشہ پسند نہیں کرتی۔ اگر کوئی تمہیں ایمان کی وجہ سے چھیڑے یا الگ کرے، تو یاد رکھو کہ یسوع نے پہلے یہ سب برداشت کیا۔ تم اکیلے نہیں ہو۔
یوحنا 15 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
تمہارے خیال میں، کس چیز سے پتا چلتا ہے کہ کوئی شخص واقعی یسوع کے ساتھ "جُڑا" ہوا ہے؟

دوسروں نے کیا پایا

بصیرت ادارتی کو آیت 10

اگر تم میرے احکام کے مطابق زندگی گزارو تو تم میری محبت میں قائم رہو گے۔“ غور کرو، یسوع یہ نہیں کہتا کہ فرمانبرداری سے تم اُس کی محبت کما لو گے۔ محبت پہلے سے موجود ہے، فرمانبرداری تو اُس میں ٹھہرے رہنے کا راستہ ہے۔ اور وہ خود اِس راہ پر چل چکا ہے۔ آج جس بات میں تُو ہچکچا رہا ہے، شاید وہی تیرے لیے اُس کی محبت میں گہرے اُترنے کا دروازہ ہو۔

بصیرت ادارتی کو آیت 25

اُنہوں نے بےسبب مجھ سے دشمنی رکھی۔“ یسوع کو نفرت کی کوئی وجہ نہیں دی گئی، اُس نے صرف شفا دی، معاف کیا، سچ بولا۔ اگر بےقصور ہونے کے باوجود اُسے ٹھکرایا گیا، تو تیری بھلائی بھی ہر دل کو نہیں جیت پائے گی۔ کبھی کبھی لوگوں کی ناراضی تیرے کسی گناہ کا ثبوت نہیں، بلکہ اِس بات کا کہ تُو کس کے پیچھے چل رہا ہے۔

کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟

ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور نوجوانوں (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔

بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں

For parents and teachers: 7 سے 12 سال کے ان بچوں کے لیے تحریر کردہ جو خود پڑھ سکتے ہیں۔ خاندانی عبادت اور اسکول میں بائبل کے اسباق کے لیے بہترین۔ This explanation is generated automatically by language models. While we strive for theological soundness, the software can make mistakes.

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network