7 سے 12 سال کے بچے کے لیے

یوحنا 3

پرائمری عمر (7 تا 12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی

بائبل

The Explanation

رات کا وقت تھا۔ شہر میں سب لوگ سو چکے تھے، مگر ایک آدمی چپکے سے گھر سے نکلا۔ اُس کا نام نیکدیمس تھا۔ وہ فریسی تھا، یعنی ایک بڑا عالم اور یہودی عدالت کا رُکن۔ وہ خداوند یسوع کے پاس آیا، مگر دن میں نہیں، رات کے اندھیرے میں۔ شاید وہ ڈرتا تھا کہ لوگ اُسے دیکھ لیں۔

اُس نے کہا، ”اُستاد، ہم جانتے ہیں کہ آپ اللہ کی طرف سے آئے ہیں۔“ خداوند یسوع نے سیدھا جواب دیا، ”جو نئے سرے سے پیدا نہ ہو، وہ اللہ کی بادشاہی کو دیکھ ہی نہیں سکتا۔“

نیکدیمس حیران رہ گیا۔ ”کیا مطلب؟“ اُس نے پوچھا۔ ”کیا بوڑھا آدمی دوبارہ اپنی ماں کے پیٹ میں جا سکتا ہے؟“ یہ سوچ کر وہ خود بھی اُلجھن میں پڑ گیا۔

خداوند یسوع نے سمجھایا کہ یہ نئی پیدائش جسم کی نہیں بلکہ روح کی ہے۔ پھر آپ نے ہَوا کی مثال دی: ”ہَوا جہاں چاہے چلتی ہے۔ تُو اُس کی آواز سنتا ہے، مگر یہ نہیں جانتا کہ وہ کہاں سے آتی اور کہاں جاتی ہے۔“ خدا کا روح بھی ایسا ہی ہے، تم اُسے دیکھ نہیں سکتے، مگر اُس کا کام محسوس کر سکتے ہو۔

پھر خداوند یسوع نے ایک پرانا واقعہ یاد دلایا۔ جب بنی اسرائیل ریگستان میں تھے، موسیٰ نے ایک پیتل کا سانپ لکڑی پر لٹکا کر اونچا کیا تھا۔ جو بھی اُسے دیکھتا، بچ جاتا۔ خداوند یسوع نے کہا کہ ویسے ہی ابنِ آدم کو بھی اونچے پر چڑھایا جائے گا، تاکہ جو بھی اُس پر ایمان لائے، ہمیشہ کی زندگی پائے۔

What Does This Mean?

نیکدیمس بڑا عالم تھا، مگر پھر بھی خدا کی بادشاہی میں داخل نہ ہو سکتا تھا، جب تک خدا کا روح اُس میں نئی زندگی نہ ڈالے۔ یہ ہم سب کے لیے بھی سچ ہے۔ اچھا ہونا، نماز پڑھنا، سمجھدار ہونا، یہ کافی نہیں۔ ہمیں خدا کی طرف سے بالکل نئی زندگی چاہیے، جیسے کوئی پودا نئے سرے سے اُگے۔

The Common Thread

یہاں سب سے خوبصورت بات یہ ہے: ”اللہ نے دنیا سے اِتنی محبت رکھی کہ اُس نے اپنے اکلوتے فرزند کو بخش دیا، تاکہ جو بھی اُس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ابدی زندگی پائے۔“ خدا نے ہمیں سزا دینے کے لیے نہیں، بلکہ بچانے کے لیے خداوند یسوع کو بھیجا۔ جیسے وہ پیتل کا سانپ اونچا کیا گیا تھا، ویسے ہی خداوند یسوع صلیب پر اونچے کیے گئے۔ جو بھی اُن کی طرف دیکھے، یعنی اُن پر ایمان لائے، بچ جاتا ہے۔

بعد میں یحییٰ نبی نے بھی یہی بات کہی۔ لوگ خداوند یسوع کے پاس جانے لگے تھے، اور کچھ یحییٰ سے پوچھتے، کیا وہ ناراض ہیں؟ یحییٰ نے خوشی سے کہا، ”لازم ہے کہ وہ بڑھتا جائے، جبکہ مَیں گھٹتا جاؤں۔“ یحییٰ کو اپنی عزت نہیں چاہیے تھی، اُسے صرف خوشی تھی کہ لوگ خداوند یسوع کے پاس جا رہے ہیں۔

For You

کیا تم کبھی رات کو کسی سوال سے پریشان ہوئے ہو؟ نیکدیمس بھی ایسا ہی تھا۔ اچھی بات یہ ہے کہ خداوند یسوع نے اُسے بھگایا نہیں، بلکہ محبت سے جواب دیا۔ تم بھی اپنے سوال لے کر خدا کے پاس آ سکتے ہو، چاہے دن ہو یا رات۔ اور جب تم کسی کو بتاؤ کہ خدا نے تمہیں کتنا پیار کیا، یاد رکھو، یہ یحییٰ کی طرح ہے: اصل بات یہ نہیں کہ لوگ مجھے دیکھیں، بلکہ یہ کہ وہ خداوند یسوع کو دیکھیں۔

Talk About It

نیکدیمس رات کو کیوں آیا ہوگا؟

خدا نے اپنے بیٹے کو کیوں بھیجا، سزا دینے کے لیے یا بچانے کے لیے؟

Praying Together

اے خدا، آپ نے ہم سے اِتنی محبت کی کہ اپنا بیٹا بھیج دیا۔ ہمیں نئی زندگی دیں، جیسے روح سے نیا جنم۔ ہمیں خداوند یسوع پر بھروسا کرنا سکھائیں۔ آمین۔

یہ بائبل کہانی شیئر کریں

دوسرے والدین یا اساتذہ کے لیے جنہیں یہ مددگار لگ سکتا ہے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

یوحنا 3 کے بارے میں سوالات

ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔

یوحنا 3 کس بارے میں ہے؟
رات کا وقت تھا۔ شہر میں سب لوگ سو چکے تھے، مگر ایک آدمی چپکے سے گھر سے نکلا۔ اُس کا نام نیکدیمس تھا۔ وہ فریسی تھا، یعنی ایک بڑا عالم اور یہودی عدالت کا رُکن۔ وہ خداوند یسوع کے پاس آیا، مگر دن میں نہیں، رات کے اندھیرے میں۔ شاید وہ ڈرتا تھا کہ لوگ اُسے دیکھ لیں۔
یوحنا 3 کیا کہتا ہے؟
نیکدیمس حیران رہ گیا۔ ”کیا مطلب؟“ اُس نے پوچھا۔ ”کیا بوڑھا آدمی دوبارہ اپنی ماں کے پیٹ میں جا سکتا ہے؟“ یہ سوچ کر وہ خود بھی اُلجھن میں پڑ گیا۔
یوحنا 3 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
پھر خداوند یسوع نے ایک پرانا واقعہ یاد دلایا۔ جب بنی اسرائیل ریگستان میں تھے، موسیٰ نے ایک پیتل کا سانپ لکڑی پر لٹکا کر اونچا کیا تھا۔ جو بھی اُسے دیکھتا، بچ جاتا۔ خداوند یسوع نے کہا کہ ویسے ہی ابنِ آدم کو بھی اونچے پر چڑھایا جائے گا، تاکہ جو بھی اُس پر ایمان لائے، ہمیشہ کی زندگی پائے۔
بچے یوحنا 3 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
یہاں سب سے خوبصورت بات یہ ہے: ”اللہ نے دنیا سے اِتنی محبت رکھی کہ اُس نے اپنے اکلوتے فرزند کو بخش دیا، تاکہ جو بھی اُس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ابدی زندگی پائے۔“ خدا نے ہمیں سزا دینے کے لیے نہیں، بلکہ بچانے کے لیے خداوند یسوع کو بھیجا۔ جیسے وہ پیتل کا سانپ اونچا کیا گیا تھا، ویسے ہی خداوند یسوع صلیب پر اونچے کیے گئے۔ جو بھی اُن کی طرف دیکھے، یعنی اُن پر ایمان لائے، بچ جاتا ہے۔
یوحنا 3 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
کیا تم کبھی رات کو کسی سوال سے پریشان ہوئے ہو؟ نیکدیمس بھی ایسا ہی تھا۔ اچھی بات یہ ہے کہ خداوند یسوع نے اُسے بھگایا نہیں، بلکہ محبت سے جواب دیا۔ تم بھی اپنے سوال لے کر خدا کے پاس آ سکتے ہو، چاہے دن ہو یا رات۔ اور جب تم کسی کو بتاؤ کہ خدا نے تمہیں کتنا پیار کیا، یاد رکھو، یہ یحییٰ کی طرح ہے: اصل بات یہ نہیں کہ لوگ مجھے دیکھیں، بلکہ یہ کہ وہ خداوند یسوع کو دیکھیں۔

دوسروں نے کیا پایا

بصیرت ادارتی کو آیت 4

نیکدیمس پوچھتا ہے، ”بوڑھا آدمی کس طرح نئے سرے سے پیدا ہو سکتا ہے؟“ اُس کے سوال میں صرف الجھن نہیں، ایک تھکن بھی ہے۔ جیسے کہہ رہا ہو کہ میری عمر گزر چکی، میرا سانچہ بن چکا، اب کیا بدلے گا؟ شاید تُو بھی کبھی یہی سوچتا ہے۔ لیکن یسوع نے اُس کی عمر نہیں گنی، اُسے نئی پیدائش کی دعوت دی۔ خدا کے پاس دیر نہیں ہوتی۔

بصیرت ادارتی کو آیت 16

نیکدیمس رات کے اندھیرے میں آیا تھا، اور یسوع نے اُسے ریگستان کے اُس سانپ کی یاد دلائی جسے موسیٰ نے اُونچا لٹکایا۔ ڈسے ہوئے لوگوں کو کچھ کرنا نہیں تھا، صرف نظر اُٹھانی تھی۔ پھر یہ لفظ آتے ہیں: "اللہ نے دنیا سے اِتنی محبت رکھی کہ اُس نے اپنے اکلوتے فرزند کو بخش دیا۔" تُو بھی آج زخمی ہے اور تھکا ہوا۔ اپنی حالت سنوارنے کی کوشش چھوڑ، صرف اُس کی طرف دیکھ جو تیرے لئے اُونچا کیا گیا۔

بصیرت ادارتی کو آیت 36

یوحنا بپتسمہ دینے والے کی آخری گواہی ہے، اور غور کریں کہ وہ کیا کہتا ہے: ”جو فرزند پر ایمان رکھتا ہے ابدی زندگی اُس کی ہے۔“ ابھی ہے، بعد میں نہیں۔ آپ کو مرنے تک انتظار نہیں کرنا۔ جس لمحے آپ نے یسوع پر بھروسا کیا، وہ زندگی آپ کے اندر شروع ہو چکی۔ سوال یہ نہیں کہ آپ کہاں جائیں گے، بلکہ یہ کہ آج آپ کس کے ساتھ جی رہے ہیں۔

بصیرت ادارتی کو آیت 33

یوحنا بپتسمہ دینے والا کہتا ہے، ”جس نے اُس کی گواہی قبول کی اُس نے تصدیق کی ہے کہ اللہ سچا ہے۔“ سوچنے کی بات یہ ہے کہ تیرا ایمان اللہ کو سچا نہیں بناتا، وہ تو پہلے ہی سچا ہے۔ لیکن تیرا قبول کرنا تیری زندگی پر ایک مہر ہے، ایک گواہی کہ اُس کی بات پر بھروسا کیا جا سکتا ہے۔ آج تیری زندگی کس بات کی تصدیق کر رہی ہے؟

کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟

ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور نوجوانوں (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔

بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں

For parents and teachers: 7 سے 12 سال کے ان بچوں کے لیے تحریر کردہ جو خود پڑھ سکتے ہیں۔ خاندانی عبادت اور اسکول میں بائبل کے اسباق کے لیے بہترین۔ This explanation is generated automatically by language models. While we strive for theological soundness, the software can make mistakes.

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network