یشوع 11
پرائمری عمر (7 تا 12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
The Explanation
یشوع 11 میں ہمیں ایک بہت بڑی جنگ کا نقشہ ملتا ہے۔ حصور کے بادشاہ یابین نے سنا کہ اسرائیل نے پہلے کئی شہروں کو شکست دی ہے۔ وہ ڈر گیا اور اُس نے شمال کے تمام بادشاہوں کو بلایا، اموری، حِتّی، فرِزّی، یبوسی، حِوّی، سب کو۔ اُن کی فوجیں اتنی بڑی تھیں کہ متن کہتا ہے وہ سمندر کے ساحل کی ریت کی مانند بےشمار تھے۔ اُن کے پاس گھوڑے اور رتھ بھی تھے، یعنی وہ زمانے کی سب سے طاقتور فوجی ٹیکنالوجی۔ یہ بادشاہ میروم کے چشمے کے پاس اکٹھے ہوئے تاکہ اسرائیل کو ایک ساتھ ختم کر دیں۔
اِس خطرناک لمحے میں خداوند یشوع سے کہتے ہیں، ڈرنا نہیں، کل تک میں یہ سب تیرے ہاتھ میں دے دوں گا۔ یشوع نے فوراً حملہ کیا، اور خداوند نے فتح دی۔ اسرائیل نے دشمن کو دور تک دھکیل دیا۔ پھر یشوع نے حصور کو، جو اُن سب بادشاہتوں کا صدر مقام تھا، مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ باقی شہروں کے ساتھ ایسا نہیں کیا، صرف حصور کو جلایا۔ باب کے آخر میں بتایا گیا ہے کہ یشوع نے پورا ملک اپنے قبضے میں لے لیا، اُسے قبیلوں میں تقسیم کیا، اور ملک میں امن قائم ہوا۔
What Does This Mean?
یہ باب پڑھنا آسان نہیں ہے۔ یہاں بہت جنگ ہے، بہت تباہی ہے۔ متن خود یہ نہیں چھپاتا کہ لوگ مارے گئے، شہر جلائے گئے۔ ہمیں یہ سوچ کر بےچینی ہو سکتی ہے، اور یہ ٹھیک ہے۔ یہ سوال پوچھنا جائز ہے کہ خدا نے ایسا حکم کیوں دیا۔ متن خود پوری وضاحت نہیں دیتا، صرف یہ کہتا ہے کہ یہ حکم موسیٰ کے ذریعے دیا گیا تھا اور یشوع نے اُسے پورا کیا۔
جو بات یہاں سب سے واضح ہے وہ یہ ہے کہ خدا نے وعدہ کیا اور خدا نے وعدہ پورا کیا۔ اسرائیل کے پاس نہ اتنے گھوڑے تھے، نہ اتنے رتھ، نہ اتنی بڑی فوج جتنی دشمن کے پاس تھی۔ اُن کے پاس صرف ایک چیز تھی جو کافی تھی، خداوند کا وعدہ کہ "کل اِسی وقت تک میں نے اُن سب کو ہلاک کر کے اسرائیل کے حوالے کر دیا ہوگا۔" یہ وعدہ سچ ثابت ہوا۔ اِس باب کی سب سے بڑی بات یہ نہیں کہ اسرائیل طاقتور تھا، بلکہ یہ کہ خداوند اپنے وعدے پر قائم رہتا ہے۔
The Common Thread
بہت پہلے خدا نے ابراہیم سے ایک وعدہ کیا تھا، ایک عہد، یعنی ایک پکا اور طویل مدتی وعدہ، کہ اُس کی اولاد کو ایک ملک ملے گا۔ صدیوں بعد یہ باب بتاتا ہے کہ وہ وعدہ پورا ہو رہا ہے۔ خدا وہ نہیں جو صرف باتیں کرتا ہے، وہ کرتا ہے جو کہتا ہے۔
مگر ہمیں یہ بھی یاد رکھنا ہے کہ خدا کا اصلی مقصد صرف زمین دینا نہیں تھا، بلکہ اپنے لوگوں کو اپنے قریب رکھنا تھا۔ آگے چل کر یہی خدا اپنے بیٹے یسوع مسیح میں انسانوں کے قریب آیا، مگر تلوار سے نہیں، صلیب سے۔ یسوع نے دشمنوں کو مارا نہیں، اُس نے اپنی جان دی۔ یہ فرق بہت اہم ہے۔ یشوع کے دنوں میں خدا نے ایک خاص وقت اور خاص حالات میں انصاف کا فیصلہ کیا جسے پوری طرح سمجھنا ہمارے لئے مشکل ہے، مگر مسیح میں ہم دیکھتے ہیں کہ خدا کا آخری راستہ محبت اور معافی کا راستہ ہے۔ یہ باب اُس بڑی کہانی کا ایک حصہ ہے جو آخر میں یسوع تک پہنچتی ہے۔
For You
جب زندگی میں کوئی بڑا مشکل معاملہ سامنے ہو، جیسے امتحان، دوستی کا مسئلہ، یا کوئی خوف جو رات کو سونے نہیں دیتا، تو یشوع کی طرح یہ یاد رکھنا کہ خدا کا وعدہ ہماری اپنی طاقت سے بڑا ہے۔ ہمیں ہر مشکل کا جواب فوراً نہیں ملتا، اور یہ باب بھی ہر سوال کا جواب نہیں دیتا۔ مگر ہم یہ سیکھ سکتے ہیں کہ خدا سے سوال پوچھنا ٹھیک ہے، اور ساتھ ساتھ اُس پر بھروسا رکھنا بھی ٹھیک ہے۔ دونوں باتیں ایک ساتھ ہو سکتی ہیں۔
Talk About It
کیا تمہیں لگتا ہے کہ اِس باب میں کوئی بات ہے جو سمجھنا مشکل ہے یا دل کو بےچین کرتی ہے؟ اُس کے بارے میں بات کرنا کیوں ضروری ہے؟
خدا نے یشوع سے کہا "ڈرنا نہیں"۔ کوئی ایسا وقت بتاؤ جب تمہیں لگا کہ خدا نے تمہیں یہی بات کہی ہو۔
Praying Together
اے خداوند، تیری کہانیاں ہمیشہ آسان نہیں ہوتیں، اور بعض دفعہ ہم سمجھ نہیں پاتے کہ تُو نے کیوں ایسا کیا۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ تُو اپنے وعدوں پر قائم رہتا ہے۔ ہمیں سکھا کہ جب ہم خوفزدہ ہوں تو تجھ پر بھروسا رکھیں، اور جب سوال ہوں تو اُنہیں تیرے سامنے کھلے دل سے رکھیں۔ ہمیں یسوع مسیح کے نزدیک لے آ، جس نے صلیب پر محبت دکھائی۔ آمین۔
یشوع 11 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
یشوع 11 کس بارے میں ہے؟
یشوع 11 کیا کہتا ہے؟
یشوع 11 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
بچے یشوع 11 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
یشوع 11 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور نوجوانوں (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں