6 تا 12 سال کے بچے کے لیے

احبار 11

ابتدائی عمر (6-12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی

بائبل

The Explanation

خدا نے موسیٰ اور ہارون سے کہا کہ وہ اسرائیلیوں کو بتائیں کہ وہ کون سے جانور کھا سکتے ہیں اور کون سے نہیں۔ زمین کے جانوروں میں سے صرف وہی جائز تھے جن کے کُھر پورے طور پر چِرے ہوئے ہوں اور جو جگالی بھی کرتے ہوں، یعنی جو اپنا کھانا دوبارہ چباتے ہیں، جیسے گائے۔ اونٹ، بِجُو، خرگوش اور سؤر منع تھے، کیونکہ اُن میں یہ دونوں نشانیاں اکٹھی نہیں تھیں۔ سمندر اور دریا کے جانوروں میں سے صرف وہی جائز تھے جن کے پَر اور چھلکے ہوں، یعنی عام مچھلیاں۔ پرندوں کی ایک لمبی فہرست دی گئی جو کھانے کے لئے منع تھی، جیسے عقاب، گِدھ اور اُلّو کی مختلف قسمیں۔ اُڑنے والے کیڑوں میں سے صرف ٹڈے جیسے کیڑے جائز تھے، باقی منع تھے۔ اِس کے علاوہ بتایا گیا کہ اگر کوئی شخص کسی ناپاک جانور کی لاش کو چھوئے، یا اگر ایسی لاش کسی برتن، کھانے، پانی یا بیج پر گر جائے، تو وہ چیز یا شخص ایک خاص وقت کے لئے ناپاک شمار ہوتا تھا۔ آخر میں خدا نے وجہ بتائی، فرمایا، ”مَیں رب تمہارا خدا ہوں۔ لازم ہے کہ تم اپنے آپ کو مخصوص و مُقدّس رکھو، کیونکہ مَیں قدوس ہوں۔“

What Does This Mean?

یہ باب پہلی نظر میں عجیب لگتا ہے۔ کیا واقعی اُلّو کھانا اتنا بڑا مسئلہ تھا؟ لیکن اصل بات کھانے کی فہرست نہیں تھی۔ اصل بات یہ تھی کہ اسرائیل کی قوم ایک الگ قوم بنے، ایسی قوم جو ہر چھوٹے سے چھوٹے کام میں بھی یاد رکھے کہ اُن کا خدا قدوس ہے، یعنی وہ بالکل پاک اور دوسروں سے الگ ہے۔ کھانے کی میز پر بھی، روزمرہ کی زندگی میں بھی، اسرائیلیوں کو سوچنا تھا کہ ہم خدا کی قوم ہیں۔ یہ فرق پاک اور ناپاک کے درمیان ایک سبق تھا جو ہر کھانے کے وقت یاد دلاتا تھا کہ زندگی میں کچھ چیزیں خدا کی طرف لے جاتی ہیں اور کچھ اُس سے دور۔ یہ ضروری نہیں کہ ہم آج ہر وجہ سمجھ سکیں کہ خاص جانور ہی کیوں چنے گئے، متن خود بھی یہ وجہ پوری طرح نہیں بتاتا۔ لیکن یہ صاف ظاہر ہے کہ خدا چاہتا تھا کہ اُس کی قوم اُس کی مرضی پر عمل کر کے اُس کے قریب رہے۔

The Common Thread

یہ باب عہد کی کہانی کا حصہ ہے، یعنی اُس وعدے کا جو خدا نے اپنی قوم سے باندھا تھا۔ خدا نے فرمایا، ”مَیں تمہیں مصر سے نکال لایا ہوں تاکہ تمہارا خدا بنوں۔“ یہ قوانین اُس رشتے کی یاد دہانی تھے، نہ کہ محض سخت حکم۔ بعد میں خداوند یسوع مسیح نے یہ سکھایا کہ انسان کو ناپاک نہیں کرتا جو باہر سے اندر جاتا ہے، بلکہ وہ جو دل سے نکلتا ہے۔ یسوع مسیح نے اپنی جان دے کر وہ راستہ کھول دیا جس سے ہر قوم کے لوگ، بغیر کھانے کی فہرست کے، خدا کے قریب آ سکتے ہیں۔ لیکن پاک رہنے کی بات ختم نہیں ہوئی، صرف اُس کی شکل بدل گئی۔ آج بھی خدا کے لوگ الگ رہنے کے لئے بلائے گئے ہیں، مگر اب یہ فرق کھانے میں نہیں، دل اور زندگی کے انداز میں دکھایا جاتا ہے۔

For You

شاید تم سوچو کہ یہ سب قوانین تم پر لاگو نہیں ہوتے، اور یہ سچ ہے کہ تمہیں اب یہ فہرست یاد کرنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن ایک سوال باقی رہتا ہے، کیا تمہاری روزمرہ زندگی میں بھی، چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی، یہ یاد رہتا ہے کہ تم خدا کی اولاد ہو؟ کھانے کی میز پر نہیں، مگر شاید اُن باتوں میں جو تم دیکھتے ہو، جو تم کہتے ہو، جن کاموں کو تم چنتے ہو۔ قدوس ہونا مشکل لفظ لگتا ہے، مگر اصل میں اِس کا مطلب ہے خدا کے لئے الگ رہنا، اُس کی طرف جھکنا جب دنیا کوئی اور راستہ دکھائے۔

Talk About It

کیا تمہیں لگتا ہے خدا نے ہر جانور کی وجہ ضرور بتائی تھی، یا کچھ باتیں صرف اعتماد سے ماننے کے لئے تھیں؟

آج ہمارے لئے "الگ رہنا" کس طرح نظر آ سکتا ہے، جب ہمارے پاس کھانے کی ایسی فہرست نہیں ہے؟

Praying Together

اے خداوند، تو قدوس ہے اور تُو نے ہمیں اپنی اولاد بنایا ہے۔ ہمیں سکھا کہ ہم چھوٹی باتوں میں بھی تیری طرف دیکھیں اور تیرے لئے الگ رہیں۔ ہمیں یسوع مسیح کے راستے پر چلنے کی ہمت دے۔ آمین۔

یہ بائبل کہانی شیئر کریں

دوسرے والدین یا اساتذہ کے لیے جنہیں یہ مددگار لگ سکتا ہے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

احبار 11 کے بارے میں سوالات

ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔

احبار 11 کس بارے میں ہے؟
خدا نے موسیٰ اور ہارون سے کہا کہ وہ اسرائیلیوں کو بتائیں کہ وہ کون سے جانور کھا سکتے ہیں اور کون سے نہیں۔ زمین کے جانوروں میں سے صرف وہی جائز تھے جن کے کُھر پورے طور پر چِرے ہوئے ہوں اور جو جگالی بھی کرتے ہوں، یعنی جو اپنا کھانا دوبارہ چباتے ہیں، جیسے گائے۔ اونٹ، بِجُو، خرگوش اور سؤر منع تھے، کیونکہ اُن میں یہ دونوں نشانیاں اکٹھی نہیں تھیں۔ سمندر اور دریا کے جانوروں میں سے صرف وہی جائز تھے جن کے پَر اور چھلکے ہوں، یعنی عام مچھلیاں۔ پرندوں کی ایک لمبی فہرست دی گئی جو کھانے کے لئے منع تھی، جیسے عقاب، گِدھ اور اُلّو کی مختلف قسمیں۔ اُڑنے والے کیڑوں میں سے صرف ٹڈے جیسے کیڑے جائز تھے، باقی منع تھے۔ اِس کے علاوہ بتایا گیا کہ اگر کوئی شخص کسی ناپاک جانور کی لاش کو چھوئے، یا اگر ایسی لاش کسی برتن، کھانے، پانی یا بیج پر گر جائے، تو وہ چیز یا شخص ایک خاص وقت کے لئے ناپاک شمار ہوتا تھا۔ آخر میں خدا نے وجہ بتائی، فرمایا، ”مَیں رب تمہارا خدا ہوں۔ لازم ہے کہ تم اپنے آپ کو مخصوص و مُقدّس رکھو، کیونکہ مَیں قدوس ہوں۔“
احبار 11 کیا کہتا ہے؟
یہ باب پہلی نظر میں عجیب لگتا ہے۔ کیا واقعی اُلّو کھانا اتنا بڑا مسئلہ تھا؟ لیکن اصل بات کھانے کی فہرست نہیں تھی۔ اصل بات یہ تھی کہ اسرائیل کی قوم ایک الگ قوم بنے، ایسی قوم جو ہر چھوٹے سے چھوٹے کام میں بھی یاد رکھے کہ اُن کا خدا قدوس ہے، یعنی وہ بالکل پاک اور دوسروں سے الگ ہے۔ کھانے کی میز پر بھی، روزمرہ کی زندگی میں بھی، اسرائیلیوں کو سوچنا تھا کہ ہم خدا کی قوم ہیں۔ یہ فرق پاک اور ناپاک کے درمیان ایک سبق تھا جو ہر کھانے کے وقت یاد دلاتا تھا کہ زندگی میں کچھ چیزیں خدا کی طرف لے جاتی ہیں اور کچھ اُس سے دور۔ یہ ضروری نہیں کہ ہم آج ہر وجہ سمجھ سکیں کہ خاص جانور ہی کیوں چنے گئے، متن خود بھی یہ وجہ پوری طرح نہیں بتاتا۔ لیکن یہ صاف ظاہر ہے کہ خدا چاہتا تھا کہ اُس کی قوم اُس کی مرضی پر عمل کر کے اُس کے قریب رہے۔
احبار 11 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یہ باب عہد کی کہانی کا حصہ ہے، یعنی اُس وعدے کا جو خدا نے اپنی قوم سے باندھا تھا۔ خدا نے فرمایا، ”مَیں تمہیں مصر سے نکال لایا ہوں تاکہ تمہارا خدا بنوں۔“ یہ قوانین اُس رشتے کی یاد دہانی تھے، نہ کہ محض سخت حکم۔ بعد میں خداوند یسوع مسیح نے یہ سکھایا کہ انسان کو ناپاک نہیں کرتا جو باہر سے اندر جاتا ہے، بلکہ وہ جو دل سے نکلتا ہے۔ یسوع مسیح نے اپنی جان دے کر وہ راستہ کھول دیا جس سے ہر قوم کے لوگ، بغیر کھانے کی فہرست کے، خدا کے قریب آ سکتے ہیں۔ لیکن پاک رہنے کی بات ختم نہیں ہوئی، صرف اُس کی شکل بدل گئی۔ آج بھی خدا کے لوگ الگ رہنے کے لئے بلائے گئے ہیں، مگر اب یہ فرق کھانے میں نہیں، دل اور زندگی کے انداز میں دکھایا جاتا ہے۔
بچے احبار 11 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
شاید تم سوچو کہ یہ سب قوانین تم پر لاگو نہیں ہوتے، اور یہ سچ ہے کہ تمہیں اب یہ فہرست یاد کرنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن ایک سوال باقی رہتا ہے، کیا تمہاری روزمرہ زندگی میں بھی، چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی، یہ یاد رہتا ہے کہ تم خدا کی اولاد ہو؟ کھانے کی میز پر نہیں، مگر شاید اُن باتوں میں جو تم دیکھتے ہو، جو تم کہتے ہو، جن کاموں کو تم چنتے ہو۔ قدوس ہونا مشکل لفظ لگتا ہے، مگر اصل میں اِس کا مطلب ہے خدا کے لئے الگ رہنا، اُس کی طرف جھکنا جب دنیا کوئی اور راستہ دکھائے۔
احبار 11 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
کیا تمہیں لگتا ہے خدا نے ہر جانور کی وجہ ضرور بتائی تھی، یا کچھ باتیں صرف اعتماد سے ماننے کے لئے تھیں؟

دوسروں نے کیا پایا

بصیرت ادارتی کو آیت 12

پانی میں رہنے والے جن جانوروں کے پَر اور چھلکے نہیں ہیں وہ سب تمہارے لئے مکروہ ہیں۔“ غور کریں: پَر مچھلی کو بہاؤ کے خلاف تیرنے کی طاقت دیتے ہیں، اور چھلکے اُسے ڈھانپ کر محفوظ رکھتے ہیں۔ خدا اپنے لوگوں سے بھی یہی چاہتا تھا کہ وہ زمانے کے دھارے میں بےبس بہتے نہ جائیں۔ آپ آج کس سمت تیر رہے ہیں؟ دھارے کے ساتھ یا اپنے خدا کی طرف؟

بصیرت ادارتی کو آیت 25

مُردہ جانور کو اُٹھانا گناہ نہیں تھا، پھر بھی موت کو چھونے والا نشان چھوڑ جاتی ہے: ”جو اُن کی لاش کا کوئی حصہ اُٹھائے وہ اپنے کپڑے دھو لے، وہ شام تک ناپاک رہے گا۔“ جو کچھ تُو نے اُٹھایا ہے، وہ تجھ سے چمٹ جاتا ہے۔ مگر دیکھ، خدا نے حد بھی مقرر کی، شام تک۔ ناپاکی ہمیشہ کے لئے نہیں۔ دھو لے، اور نئی صبح کا انتظار کر۔

بصیرت ادارتی کو آیت 34

جو چیز خشک تھی وہ بچی رہی، مگر جس پر ناپاک برتن کا پانی پڑ گیا، وہ ناپاک ٹھہری۔ نمی ہی وہ راستہ تھی جس سے ناپاکی اندر تک اُتر گئی۔ سوچ کر دیکھ، تیرا دل کب سب سے زیادہ کھلا ہوتا ہے؟ تھکن میں، تنہائی میں، محبت کی بھوک میں۔ اُنہی لمحوں میں یہ بھی دیکھ کہ کون سا ہاتھ تجھے چھو رہا ہے۔ جہاں تُو نرم ہے، وہیں تُو سب سے جلد بدلتا ہے۔

کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟

ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3-5 سال) اور نوجوانوں (13 سال اور اس سے اوپر) کے لیے الگ نسخے بھی ہیں۔

بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں