7 سے 12 سال کے بچے کے لیے

احبار 15

پرائمری عمر (7 تا 12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی

بائبل

وضاحت

خداوند نے موسیٰ اور ہارون سے کہا کہ اسرائیلیوں کو ایک بات سمجھانی ہے۔ اگر کسی مرد کے جسم سے کوئی بیماری کا مائع نکلتا رہے، چاہے وہ بہتا رہے یا رُک جائے، تو وہ کچھ دیر کے لیے ناپاک سمجھا جائے گا۔ ناپاک کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بُرا انسان ہے، بلکہ یہ کہ ابھی وہ خدا کے مقدّس خیمے کے قریب نہیں آ سکتا۔

سوچو، ایک لڑکا اپنے بیمار چچا کے بستر کے پاس سے گزرتا ہے اور بےخبری میں اُس کی چٹائی کو چھو لیتا ہے۔ اب اُسے کیا کرنا ہوگا؟ اُسے اپنے کپڑے دھونے ہیں، نہانا ہے، اور شام تک انتظار کرنا ہے۔ جس برتن کو مریض نے چھوا ہو، اگر وہ مٹی کا ہو تو اُسے توڑ دیا جائے، اور اگر لکڑی کا ہو تو خوب دھویا جائے۔ ذرا سوچو، کتنی احتیاط! جیسے کوئی نازک بادشاہی قاعدہ ہو۔

جب مریض کو شفا مل جاتی تو وہ فوراً مقدّس خیمے میں نہیں جا سکتا تھا۔ اُسے سات دن انتظار کرنا پڑتا، پھر تازہ پانی سے نہانا پڑتا۔ آٹھویں دن وہ دو قمریاں یا دو جوان کبوتر لے کر ملاقات کے خیمے کے دروازے پر امام کے پاس جاتا۔ امام ایک پرندے کو گناہ کی قربانی اور دوسرے کو بھسم ہونے والی قربانی کے طور پر چڑھاتا۔ اِس طرح اُس شخص کا کفارہ ہو جاتا اور وہ دوبارہ پاک قرار پاتا۔

یہی اصول عورت کے مہینے کے خاص دنوں پر بھی لاگو ہوتا تھا۔ اُن دنوں وہ سات دن ناپاک سمجھی جاتی، اور جو کوئی اُس کے بستر یا کرسی کو چھوتا وہ بھی شام تک ناپاک رہتا۔ اگر خون معمول سے زیادہ دن جاری رہتا تو انتظار کے بعد وہی قربانی کا طریقہ دہرایا جاتا۔ خداوند نے آخر میں کہا: اسرائیلیوں کو ایسی چیزوں سے دُور رکھنا ہے، ورنہ میرا مقدِس جو اُن کے درمیان ہے ناپاک ہو جائے گا اور وہ ہلاک ہو جائیں گے۔

اس کا کیا مطلب ہے؟

یہ سُن کر ہمیں لگ سکتا ہے کہ خدا سخت ہے۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ خدا خود اپنے لوگوں کے بیچ خیمہ لگا کر رہتا تھا۔ وہ کوئی دُور کا بادشاہ نہیں تھا، وہ اُن کے کیمپ کے عین درمیان موجود تھا۔ اور جب کوئی اِتنے پاک بادشاہ کے پاس آنا چاہے، تو اُسے تیار ہو کر آنا ہوتا ہے۔ بیماری، خون، ٹوٹا ہوا جسم، یہ سب اِس بات کی یاد دہانی تھے کہ دنیا میں کچھ ٹوٹا ہوا ہے، گناہ کی وجہ سے۔ خدا اپنے لوگوں کو سکھا رہا تھا: میرے قریب آنے سے پہلے دھو لو، رُک جاؤ، انتظار کرو۔ یہ اُن کے بدن کی سزا نہیں تھی، بلکہ خدا کی پاکیزگی کا احترام تھا۔

سلسلہ

بہت بعد میں، ایک عورت جسے بالکل یہی خون بہنے کی بیماری تھی، بارہ سال سے تکلیف میں تھی۔ اُس نے سوچا: اگر مَیں صرف یسوع کے کپڑے کو چھو لوں تو ٹھیک ہو جاؤں گی۔ پرانی شریعت کے مطابق اُسے یسوع کو ناپاک کر دینا چاہیے تھا۔ مگر ہوا الٹا۔ اُس نے چھوا، اور فوراً وہ ٹھیک ہو گئی! یسوع ناپاک نہیں ہوئے، بلکہ اُس نے پاکیزگی پا لی۔ یہی ہے خداوند یسوع مسیح کی طاقت۔ وہ ٹوٹے ہوئے، بیمار اور شرمندہ لوگوں کے پاس آتا ہے، اور اُنہیں چھو کر صحیح کر دیتا ہے۔ اُسے قربانی کے پرندوں کی ضرورت نہیں، وہ خود ہمارا کفارہ بن گیا۔

آپ کے لیے

جب تم بیمار ہو تو ماں باپ کی بات مانو، آرام کرو، ہاتھ دھوؤ۔ یہ اچھی بات ہے۔ لیکن اِس سے بڑی بات یہ ہے: کبھی تمہارا دل بھی ٹوٹا ہوا یا میلا لگے، جیسے تم نے کچھ غلط کیا ہو، تو یاد رکھو، یسوع اُس عورت کی طرح تمہیں بھی دور نہیں دھکیلتا۔ وہ تمہیں اپنے قریب بلاتا ہے۔

اس پر بات کریں

کیا تمہیں کبھی لگا ہے کہ تم اِتنے میلے ہو کہ خدا کے قریب نہیں جا سکتے؟ اُس عورت نے یسوع کو کیوں چھوا، اور کیا تم بھی اُس پر ایسا بھروسا کر سکتے ہو؟

دعا کریں

اے خداوند یسوع، شکریہ کہ آپ ہم سے دور نہیں بھاگتے جب ہم ٹوٹے ہوئے ہوں۔ آپ نے اُس عورت کو چھو کر ٹھیک کیا، آج ہمیں بھی چھو لیں۔ ہمارے دل صاف کریں اور ہمیں اپنے قریب رکھیں۔ آمین۔

یہ بائبل کہانی شیئر کریں

دوسرے والدین یا اساتذہ کے لیے جنہیں یہ مددگار لگ سکتا ہے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

احبار 15 کے بارے میں سوالات

ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔

احبار 15 کس بارے میں ہے؟
خداوند نے موسیٰ اور ہارون سے کہا کہ اسرائیلیوں کو ایک بات سمجھانی ہے۔ اگر کسی مرد کے جسم سے کوئی بیماری کا مائع نکلتا رہے، چاہے وہ بہتا رہے یا رُک جائے، تو وہ کچھ دیر کے لیے ناپاک سمجھا جائے گا۔ ناپاک کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بُرا انسان ہے، بلکہ یہ کہ ابھی وہ خدا کے مقدّس خیمے کے قریب نہیں آ سکتا۔
احبار 15 کیا کہتا ہے؟
جب مریض کو شفا مل جاتی تو وہ فوراً مقدّس خیمے میں نہیں جا سکتا تھا۔ اُسے سات دن انتظار کرنا پڑتا، پھر تازہ پانی سے نہانا پڑتا۔ آٹھویں دن وہ دو قمریاں یا دو جوان کبوتر لے کر ملاقات کے خیمے کے دروازے پر امام کے پاس جاتا۔ امام ایک پرندے کو گناہ کی قربانی اور دوسرے کو بھسم ہونے والی قربانی کے طور پر چڑھاتا۔ اِس طرح اُس شخص کا کفارہ ہو جاتا اور وہ دوبارہ پاک قرار پاتا۔
احبار 15 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یہ سُن کر ہمیں لگ سکتا ہے کہ خدا سخت ہے۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ خدا خود اپنے لوگوں کے بیچ خیمہ لگا کر رہتا تھا۔ وہ کوئی دُور کا بادشاہ نہیں تھا، وہ اُن کے کیمپ کے عین درمیان موجود تھا۔ اور جب کوئی اِتنے پاک بادشاہ کے پاس آنا چاہے، تو اُسے تیار ہو کر آنا ہوتا ہے۔ بیماری، خون، ٹوٹا ہوا جسم، یہ سب اِس بات کی یاد دہانی تھے کہ دنیا میں کچھ ٹوٹا ہوا ہے، گناہ کی وجہ سے۔ خدا اپنے لوگوں کو سکھا رہا تھا: میرے قریب آنے سے پہلے دھو لو، رُک جاؤ، انتظار کرو۔ یہ اُن کے بدن کی سزا نہیں تھی، بلکہ خدا کی پاکیزگی کا احترام تھا۔
بچے احبار 15 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
جب تم بیمار ہو تو ماں باپ کی بات مانو، آرام کرو، ہاتھ دھوؤ۔ یہ اچھی بات ہے۔ لیکن اِس سے بڑی بات یہ ہے: کبھی تمہارا دل بھی ٹوٹا ہوا یا میلا لگے، جیسے تم نے کچھ غلط کیا ہو، تو یاد رکھو، یسوع اُس عورت کی طرح تمہیں بھی دور نہیں دھکیلتا۔ وہ تمہیں اپنے قریب بلاتا ہے۔
احبار 15 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
اے خداوند یسوع، شکریہ کہ آپ ہم سے دور نہیں بھاگتے جب ہم ٹوٹے ہوئے ہوں۔ آپ نے اُس عورت کو چھو کر ٹھیک کیا، آج ہمیں بھی چھو لیں۔ ہمارے دل صاف کریں اور ہمیں اپنے قریب رکھیں۔ آمین۔

دوسروں نے کیا پایا

بصیرت ادارتی کو آیت 27

جو بھی اُن چیزوں کو چھوئے وہ ناپاک ہو جائے گا۔ لازم ہے کہ وہ اپنے کپڑے دھو کر نہا لے، اور وہ شام تک ناپاک رہے گا۔“ ناپاکی چھونے سے پھیلتی تھی، اِسی لیے لوگ فاصلہ رکھتے تھے۔ پھر وہ عورت آئی جو بارہ سال سے خون بہنے کے مرض میں مبتلا تھی، اور اُس نے یسوع کو چھو لیا۔ اِس بار اُلٹا ہوا۔ ناپاکی اُس تک نہ پہنچی، شفا اُس تک پہنچ گئی۔ تُو کس چیز کو اپنے اندر چھپائے بیٹھا ہے جسے چھونے سے ڈرتا ہے؟

بصیرت ادارتی کو آیت 3

شریعت کہتی ہے کہ چاہے رطوبت بہتی رہے یا رُک جائے، وہ آدمی ناپاک ہی رہتا ہے۔ یعنی مسئلہ صرف وہ نہیں جو نظر آتا ہے۔ کئی بار ہمارے اندر کا رِساؤ تھم جاتا ہے اور ہم سمجھ بیٹھتے ہیں کہ سب ٹھیک ہو گیا۔ خدا جسم اور دل کی اُن باتوں کو بھی جانتا ہے جن کا ذکر ہم کسی سے نہیں کرتے۔ وہ شرمندہ نہیں کرتا، وہ پاک کرنے کا راستہ کھولتا ہے۔

بصیرت ادارتی کو آیت 31

تمہیں اسرائیلیوں کو اُن کی ناپاکی سے الگ رکھنا ہے، ورنہ وہ اپنی ناپاکی کے باعث مر جائیں گے، کیونکہ وہ میرے مسکن کو ناپاک کریں گے جو اُن کے درمیان ہے۔“ غور کرو، خدا دُور نہیں تھا۔ اُس کا خیمہ اُن کے خیموں کے بیچ میں لگا تھا۔ پاکیزگی کا یہ سارا اصرار اِسی قربت سے پیدا ہوا۔ آج بھی جو بات تُو معمولی سمجھ کر نظرانداز کرتا ہے، وہ کسی اجنبی کے سامنے نہیں بلکہ اُس کے سامنے ہے جو تیرے اندر بستا ہے۔

بصیرت ادارتی کو آیت 2

خدا اُس بات کا ذکر کرتا ہے جس کا ذکر ہم کسی سے نہیں کرتے: "جس آدمی کے جسم سے مادہ خارج ہو وہ ناپاک ہے۔" جسم کی وہ کمزوری جو شرمندگی سے چھپائی جاتی ہے، اُس پر بھی رب کی نظر ہے اور وہ منہ نہیں پھیرتا۔ ناپاکی کا مطلب یہاں گناہ نہیں، بلکہ ایک حالت ہے، اور خدا اُس حالت کے لئے بھی واپسی کا راستہ بناتا ہے۔ تیرا وہ حصہ جسے تُو کسی کو دکھانے سے ڈرتا ہے، کیا تُو نے کبھی اُسے اُس کے سامنے رکھا ہے؟

کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟

ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور نوجوانوں (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔

بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں

For parents and teachers: 7 سے 12 سال کے ان بچوں کے لیے تحریر کردہ جو خود پڑھ سکتے ہیں۔ خاندانی عبادت اور اسکول میں بائبل کے اسباق کے لیے بہترین۔ This explanation is generated automatically by language models. While we strive for theological soundness, the software can make mistakes.

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network