7 سے 12 سال کے بچے کے لیے

مرقس 12

پرائمری عمر (7 تا 12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی

بائبل

The Explanation

مرقس کی انجیل کے بارہویں باب میں عیسیٰ بیت المُقدّس میں ہیں اور دینی راہنما اُنہیں پھنسانے کی کوشش کرتے ہیں۔ سب سے پہلے عیسیٰ ایک تمثیل سناتے ہیں۔ ایک آدمی نے انگور کا باغ لگایا اور اُسے مزارعوں کے سپرد کیا۔ جب فصل کا وقت آیا تو اُس نے اپنے نوکر بھیجے تاکہ حصہ لے آئیں، مگر مزارعوں نے اُنہیں مارا اور بعض کو قتل کر دیا۔ آخر میں مالک نے اپنے پیارے بیٹے کو بھیجا، مگر مزارعوں نے اُسے بھی مار ڈالا۔ دینی راہنما فوراً سمجھ گئے کہ یہ تمثیل اُن ہی کے بارے میں ہے۔

اِس کے بعد فریسی اور ہیرودیس کے پیروکار عیسیٰ سے ٹیکس کے بارے میں سوال کرتے ہیں تاکہ اُنہیں پھنسائیں۔ عیسیٰ سکے پر شہنشاہ کی تصویر دکھا کر جواب دیتے ہیں جو ہر ایک کو حیران کر دیتا ہے۔ پھر صدوقی، جو مُردوں کے جی اُٹھنے پر یقین نہیں رکھتے، ایک عجیب سوال لے کر آتے ہیں۔ عیسیٰ اُنہیں سمجھاتے ہیں کہ وہ نہ کلامِ مُقدّس کو صحیح سمجھتے ہیں نہ خدا کی قدرت کو۔ اِس کے بعد ایک عالِم پوچھتا ہے کہ سب سے بڑا حکم کون سا ہے۔ عیسیٰ جواب دیتے ہیں کہ خدا سے پورے دل سے محبت رکھنا اور پڑوسی سے اپنے جیسی محبت رکھنا۔ باب کے آخر میں عیسیٰ عالموں کے دکھاوے پر تنبیہ کرتے ہیں اور پھر ایک غریب بیوہ کو دیکھتے ہیں جو صرف دو معمولی سکے چندے میں ڈالتی ہے، مگر عیسیٰ کہتے ہیں کہ اُس نے سب سے زیادہ دیا ہے۔

What Does This Mean?

یہ باب دراصل دکھاتا ہے کہ لوگ کس طرح خدا سے بچ نکلنے کی کوشش کرتے ہیں، اور عیسیٰ کس طرح اُن کے دلوں کی اصل حالت کھول کر رکھ دیتے ہیں۔ مزارع سوچتے ہیں کہ باغ اُن کا اپنا ہے، حالانکہ وہ صرف امانت دار تھے۔ یہ ویسا ہی ہے جیسے کوئی سوچے کہ زندگی، وقت اور صلاحیتیں اُس کی اپنی ملکیت ہیں، جبکہ وہ خدا کی طرف سے امانت ہیں۔ فریسی اور صدوقی سوچتے ہیں کہ وہ اپنے سوالوں سے عیسیٰ کو پھنسا لیں گے، مگر عیسیٰ کی باتیں اُن سے کہیں گہری نکلتی ہیں۔ اور پھر وہ بیوہ آتی ہے جس کے پاس کچھ نہیں، مگر جو کچھ ہے وہ دے دیتی ہے۔ عیسیٰ کے نزدیک اصل بات رقم کی مقدار نہیں بلکہ دل کی نیت ہے۔

The Common Thread

تمثیل میں وہ بیٹا جسے مزارعوں نے قتل کر دیا، خود عیسیٰ ہیں۔ خدا باپ نے اپنے پیارے بیٹے کو بھیجا، اور لوگوں نے اُسے قبول کرنے کے بجائے رد کر دیا۔ یہی وہ پتھر ہے جسے عیسیٰ نے کلامِ مُقدّس سے کوٹ کیا، جسے بنانے والوں نے رد کیا مگر جو کونے کا بنیادی پتھر بن گیا۔ یہ عجیب بات ہے کہ جسے انسانوں نے ٹھکرایا، خدا نے اُسی کو سب سے اہم جگہ دی۔ یہ صلیب کی طرف اشارہ ہے، جہاں عیسیٰ کو مسترد کیا جائے گا مگر جہاں سے نجات کا راستہ کھلے گا۔ اور جب عیسیٰ سب سے بڑے حکم کی بات کرتے ہیں، خدا سے محبت اور پڑوسی سے محبت، وہ دراصل اپنی ہی زندگی کی تصویر پیش کر رہے ہیں، کیونکہ وہ خود اِسی محبت میں جیئے۔

For You

کبھی کبھار ہم بھی سوچتے ہیں کہ ہماری زندگی، ہماری چیزیں، ہمارا وقت مکمل طور پر ہمارا اپنا ہے، اور خدا کو اُس میں کوئی حق نہیں۔ یہ باب ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم امانت دار ہیں، مالک نہیں۔ اور جب تم کسی کے ساتھ اچھا سلوک کرنے یا خدا سے محبت رکھنے کا سوچو، یہ مت دیکھو کہ دوسرے کیا سوچیں گے یا کتنا دکھاوا ہو رہا ہے۔ وہ بیوہ کسی کو دکھانے کے لئے نہیں دے رہی تھی، اُس کے پاس بس اتنا ہی تھا اور اُس نے دل سے دیا۔ کیا تم بھی خدا کو اپنے دل کا سب سے چھوٹا حصہ دیتے ہو یا سب کچھ؟ یہ سوال آسان نہیں، اور شاید اِس کا جواب فوراً نہ ملے۔

Talk About It

تمہارے خیال میں مزارعوں نے مالک کے بیٹے کو کیوں رد کیا؟ کیا تم کبھی خدا کی بات کو نظرانداز کرنے کی وجہ سمجھ سکتے ہو؟

بیوہ نے صرف دو چھوٹے سکے دیئے مگر عیسیٰ نے کہا کہ اُس نے سب سے زیادہ دیا۔ تمہارے خیال میں خدا کے نزدیک اصل بات کیا ہوتی ہے؟

Praying Together

اے خداوند، ہمیں معاف کر دیجئے جب ہم سوچتے ہیں کہ ہماری زندگی صرف ہماری اپنی ہے۔ ہمیں ایسا دل عطا فرمائیے جو آپ سے پورے دل سے محبت رکھے اور اپنے پڑوسی سے بھی۔ ہمیں اُس بیوہ کی طرح دل سے دینا سکھائیے، نہ کہ دکھاوے کے لئے۔ آمین۔

یہ بائبل کہانی شیئر کریں

دوسرے والدین یا اساتذہ کے لیے جنہیں یہ مددگار لگ سکتا ہے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

مرقس 12 کے بارے میں سوالات

ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔

مرقس 12 کس بارے میں ہے؟
مرقس کی انجیل کے بارہویں باب میں عیسیٰ بیت المُقدّس میں ہیں اور دینی راہنما اُنہیں پھنسانے کی کوشش کرتے ہیں۔ سب سے پہلے عیسیٰ ایک تمثیل سناتے ہیں۔ ایک آدمی نے انگور کا باغ لگایا اور اُسے مزارعوں کے سپرد کیا۔ جب فصل کا وقت آیا تو اُس نے اپنے نوکر بھیجے تاکہ حصہ لے آئیں، مگر مزارعوں نے اُنہیں مارا اور بعض کو قتل کر دیا۔ آخر میں مالک نے اپنے پیارے بیٹے کو بھیجا، مگر مزارعوں نے اُسے بھی مار ڈالا۔ دینی راہنما فوراً سمجھ گئے کہ یہ تمثیل اُن ہی کے بارے میں ہے۔
مرقس 12 کیا کہتا ہے؟
اِس کے بعد فریسی اور ہیرودیس کے پیروکار عیسیٰ سے ٹیکس کے بارے میں سوال کرتے ہیں تاکہ اُنہیں پھنسائیں۔ عیسیٰ سکے پر شہنشاہ کی تصویر دکھا کر جواب دیتے ہیں جو ہر ایک کو حیران کر دیتا ہے۔ پھر صدوقی، جو مُردوں کے جی اُٹھنے پر یقین نہیں رکھتے، ایک عجیب سوال لے کر آتے ہیں۔ عیسیٰ اُنہیں سمجھاتے ہیں کہ وہ نہ کلامِ مُقدّس کو صحیح سمجھتے ہیں نہ خدا کی قدرت کو۔ اِس کے بعد ایک عالِم پوچھتا ہے کہ سب سے بڑا حکم کون سا ہے۔ عیسیٰ جواب دیتے ہیں کہ خدا سے پورے دل سے محبت رکھنا اور پڑوسی سے اپنے جیسی محبت رکھنا۔ باب کے آخر میں عیسیٰ عالموں کے دکھاوے پر تنبیہ کرتے ہیں اور پھر ایک غریب بیوہ کو دیکھتے ہیں جو صرف دو معمولی سکے چندے میں ڈالتی ہے، مگر عیسیٰ کہتے ہیں کہ اُس نے سب سے زیادہ دیا ہے۔
مرقس 12 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یہ باب دراصل دکھاتا ہے کہ لوگ کس طرح خدا سے بچ نکلنے کی کوشش کرتے ہیں، اور عیسیٰ کس طرح اُن کے دلوں کی اصل حالت کھول کر رکھ دیتے ہیں۔ مزارع سوچتے ہیں کہ باغ اُن کا اپنا ہے، حالانکہ وہ صرف امانت دار تھے۔ یہ ویسا ہی ہے جیسے کوئی سوچے کہ زندگی، وقت اور صلاحیتیں اُس کی اپنی ملکیت ہیں، جبکہ وہ خدا کی طرف سے امانت ہیں۔ فریسی اور صدوقی سوچتے ہیں کہ وہ اپنے سوالوں سے عیسیٰ کو پھنسا لیں گے، مگر عیسیٰ کی باتیں اُن سے کہیں گہری نکلتی ہیں۔ اور پھر وہ بیوہ آتی ہے جس کے پاس کچھ نہیں، مگر جو کچھ ہے وہ دے دیتی ہے۔ عیسیٰ کے نزدیک اصل بات رقم کی مقدار نہیں بلکہ دل کی نیت ہے۔
بچے مرقس 12 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
تمثیل میں وہ بیٹا جسے مزارعوں نے قتل کر دیا، خود عیسیٰ ہیں۔ خدا باپ نے اپنے پیارے بیٹے کو بھیجا، اور لوگوں نے اُسے قبول کرنے کے بجائے رد کر دیا۔ یہی وہ پتھر ہے جسے عیسیٰ نے کلامِ مُقدّس سے کوٹ کیا، جسے بنانے والوں نے رد کیا مگر جو کونے کا بنیادی پتھر بن گیا۔ یہ عجیب بات ہے کہ جسے انسانوں نے ٹھکرایا، خدا نے اُسی کو سب سے اہم جگہ دی۔ یہ صلیب کی طرف اشارہ ہے، جہاں عیسیٰ کو مسترد کیا جائے گا مگر جہاں سے نجات کا راستہ کھلے گا۔ اور جب عیسیٰ سب سے بڑے حکم کی بات کرتے ہیں، خدا سے محبت اور پڑوسی سے محبت، وہ دراصل اپنی ہی زندگی کی تصویر پیش کر رہے ہیں، کیونکہ وہ خود اِسی محبت میں جیئے۔
مرقس 12 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
کبھی کبھار ہم بھی سوچتے ہیں کہ ہماری زندگی، ہماری چیزیں، ہمارا وقت مکمل طور پر ہمارا اپنا ہے، اور خدا کو اُس میں کوئی حق نہیں۔ یہ باب ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم امانت دار ہیں، مالک نہیں۔ اور جب تم کسی کے ساتھ اچھا سلوک کرنے یا خدا سے محبت رکھنے کا سوچو، یہ مت دیکھو کہ دوسرے کیا سوچیں گے یا کتنا دکھاوا ہو رہا ہے۔ وہ بیوہ کسی کو دکھانے کے لئے نہیں دے رہی تھی، اُس کے پاس بس اتنا ہی تھا اور اُس نے دل سے دیا۔ کیا تم بھی خدا کو اپنے دل کا سب سے چھوٹا حصہ دیتے ہو یا سب کچھ؟ یہ سوال آسان نہیں، اور شاید اِس کا جواب فوراً نہ ملے۔

دوسروں نے کیا پایا

بصیرت ادارتی کو آیت 27

یسوع نے صدوقیوں کو یاد دلایا کہ خدا نے موسیٰ سے کہا تھا، ”مَیں ابراہیم کا خدا، اِضحاق کا خدا اور یعقوب کا خدا ہوں۔“ ابراہیم کو مرے صدیاں گزر چکی تھیں، پھر بھی خدا نے ”تھا“ نہیں بلکہ ”ہوں“ کہا۔ ”وہ مُردوں کا نہیں بلکہ زندوں کا خدا ہے۔“ جن اپنوں کو تُو نے قبر میں رکھا، وہ خدا کے نزدیک آج بھی زندہ ہیں۔ اُس کی محبت قبر پر ختم نہیں ہوتی۔

بصیرت ادارتی کو آیت 19

صدوقی موسیٰ کی شریعت خوب جانتے تھے۔ اُن کے الفاظ تھے، ”اُستاد، موسیٰ نے ہمیں حکم دیا کہ اگر کوئی شادی شدہ آدمی بےاولاد مر جائے تو اُس کا بھائی بیوہ سے شادی کرے۔“ آیت درست تھی، نیت نہیں۔ وہ سیکھنے نہیں، پھنسانے آئے تھے۔ کتنی بار ہم بھی کلام ہاتھ میں لیے یسوع کے پاس آتے ہیں، جواب پہلے سے تیار رکھ کر۔ کیا تُو واقعی سننا چاہتا ہے؟

بصیرت ادارتی کو آیت 1

انگور کا باغ لگانے والے نے کچھ ادھورا نہیں چھوڑا۔ اُس نے چاردیواری بنائی، رس نکالنے کا گڑھا کھودا، بُرج بھی تعمیر کیا۔ پھر "وہ اُسے مزارعوں کے سپرد کر کے بیرونِ ملک چلا گیا۔" مزارعوں کو کچھ بنانا نہیں تھا، صرف وفادار رہنا تھا۔ آپ کی زندگی بھی ایسا ہی تیار باغ ہے۔ سوال یہ نہیں کہ آپ کے پاس کیا ہے، بلکہ یہ کہ آپ اُسے کس کا سمجھتے ہیں۔

بصیرت ادارتی کو آیت 16

وہ سکہ ہاتھ میں لے کر یسوع نے سیدھا سوال کیا، ”کس کی صورت اور نام اِس پر کندہ ہے؟“ جواب آیا، ”قیصر کا۔“ سکہ اُسی کا ہے جس کی تصویر اُس پر ہے۔ اب ذرا اپنے آپ کو دیکھ۔ تجھ پر کس کی صورت کندہ ہے؟ تُو خدا کی صورت پر بنا ہے۔ پیسہ قیصر کو دے دے، لیکن اپنی جان، اپنا وقت، اپنا دل؟ وہ اُسی کا ہے جس کی مہر تجھ پر لگی ہے۔

کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟

ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور نوجوانوں (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔

بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں

For parents and teachers: 7 سے 12 سال کے ان بچوں کے لیے تحریر کردہ جو خود پڑھ سکتے ہیں۔ خاندانی عبادت اور اسکول میں بائبل کے اسباق کے لیے بہترین۔ This explanation is generated automatically by language models. While we strive for theological soundness, the software can make mistakes.

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network