نحمیاہ 9
پرائمری عمر (7 تا 12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
The Explanation
نحمیاہ کی کتاب کے اِس باب میں ہم اسرائیلی قوم کو ایک عجیب حالت میں دیکھتے ہیں۔ یروشلم کی دیوار بن چکی ہے، لوگ واپس آ گئے ہیں، لیکن اب وہ خوشی کا میلہ نہیں منا رہے۔ وہ ٹاٹ کے کپڑے پہن کر، سر پر خاک ڈال کر روزہ رکھتے ہیں۔ یہ سوگ اور شرمندگی کی علامتیں ہیں۔ تین گھنٹے وہ کھڑے ہو کر خدا کی شریعت، یعنی خدا کی ہدایات سنتے ہیں، اور پھر تین گھنٹے اپنے اور اپنے باپ دادا کے گناہوں کا اقرار کرتے ہیں۔
پھر لاوی، یعنی خدا کی خدمت کے لئے چنے گئے لوگ، ایک لمبی دعا کرتے ہیں۔ یہ دعا دراصل پوری تاریخ کا خلاصہ ہے۔ وہ یاد کرتے ہیں کہ خدا نے آسمان اور زمین بنائے، ابراہیم کو چنا، مصر سے نکالا، سمندر کو دو حصوں میں کیا، کوہِ سینا پر شریعت دی، اور ریگستان میں چالیس سال تک اپنی قوم کو کھلایا پلایا۔ لیکن اِس دعا میں ایک اور بات بھی بار بار آتی ہے: قوم نے بار بار خدا سے منہ پھیرا۔ سونے کا بچھڑا بنایا، نبیوں کو قتل کیا، شریعت کو نظرانداز کیا۔ اور پھر بھی، ہر بار جب وہ مصیبت میں چلائے، خدا نے آسمان سے اُن کی سنی۔ آخر میں لوگ اقرار کرتے ہیں: "جو مصیبت ہم پر آئی اُس میں تُو راست ثابت ہوا ہے، تُو وفادار رہا ہے، گو ہم قصوروار ٹھہرے ہیں۔" اور وہ ایک نیا عہد، یعنی خدا کے ساتھ ایک تحریری وعدہ، باندھنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔
What Does This Mean?
یہ باب ہمیں ایک ایماندار قوم دکھاتا ہے۔ وہ اپنی تاریخ کو سنہری رنگ میں پیش نہیں کرتے۔ وہ صاف کہتے ہیں کہ اُن کے باپ دادا مغرور اور ضدی تھے، اور یہ بھی مان لیتے ہیں کہ وہ خود بھی اُسی راستے پر چلے۔ یہ کوئی آسان بات نہیں۔ اکثر ہم اپنی غلطیوں کو چھپانا چاہتے ہیں، لیکن یہاں پوری قوم کھڑی ہو کر کہتی ہے: ہم نے غلطی کی۔
اِس دعا کی سب سے حیران کن بات یہ نہیں کہ لوگ کتنی بار گِرے، بلکہ یہ کہ خدا کتنی بار صبر کرتا رہا۔ آیت 17 میں لکھا ہے کہ خدا "معاف کرنے والا، مہربان اور رحیم" ہے۔ یہ لفظ بار بار دہرائے جاتے ہیں۔ خدا نے قوم کو ریگستان میں تنہا نہیں چھوڑا، حالانکہ اُنہوں نے سونے کا بچھڑا بنا کر بہت بڑا کفر کیا تھا۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ خدا کی محبت ہماری وفاداری سے زیادہ گہری ہے۔
The Common Thread
یہ لمبی دعا دراصل خدا کے "عہد" کی کہانی ہے۔ عہد یعنی خدا کا پکا وعدہ جو وہ کبھی نہیں توڑتا، چاہے انسان کتنی بار بھی توڑے۔ خدا نے ابراہیم سے وعدہ کیا، اور اُس وعدے پر قائم رہا۔ اُس نے اپنی قوم کو سزا دی جب وہ سرکش ہوئے، لیکن اُنہیں پوری طرح ترک نہیں کیا۔ یہی وہ رحمت ہے جو پوری بائبل میں چلتی ہے اور جس کی انتہا ہمیں یسوع مسیح میں نظر آتی ہے۔ جب لوگ بار بار ناکام ہوئے اور خدا سے دور بھاگے، خدا نے آخرکار اپنے بیٹے کو بھیجا تاکہ وہ ہمیشہ کے لئے معافی اور نئی زندگی دے۔ نحمیاہ کے زمانے کے لوگ ابھی اِس مکمل معافی کو نہیں جانتے تھے، لیکن اُن کی دعا میں ہم اُس محبت کی جھلک دیکھتے ہیں جو بعد میں صلیب پر پوری طرح ظاہر ہوئی۔
For You
شاید تم کبھی سوچتے ہو کہ اگر میں بار بار ایک ہی غلطی کروں تو خدا مجھ سے تھک جائے گا۔ یہ باب تمہیں کچھ اور بتاتا ہے۔ خدا صبر کرتا ہے، سنتا ہے، اور معاف کرتا ہے، نہ صرف ایک بار بلکہ بار بار۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ گناہ کوئی بڑی بات نہیں، بلکہ یہ کہ خدا کے پاس واپس آنا ہمیشہ ممکن ہے۔ جب تم کوئی غلطی کرو، اُسے چھپانے کی کوشش نہ کرو۔ اِس قوم کی طرح، سچائی کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ اور کہو: میں نے غلطی کی۔ اور پھر یاد رکھو کہ خدا کا دروازہ بند نہیں ہوا۔
Talk About It
کیا تم کبھی سوچتے ہو کہ خدا تمہاری کسی بار بار ہونے والی غلطی سے تھک گیا ہوگا؟ اِس باب سے تمہیں اِس بارے میں کیا جواب ملتا ہے؟
قوم نے کھلے عام اپنے باپ دادا کی غلطیوں کا اقرار کیا۔ کیا یہ آسان ہوتا اگر تم اپنی کسی غلطی کے بارے میں کھل کر کسی سے بات کرو؟
Praying Together
اے خدا، تُو کتنا صبر کرنے والا اور رحیم ہے۔ ہم بھی کبھی تیری باتیں نہیں سنتے، اپنی مرضی سے چلتے ہیں۔ ہمیں معاف کر دے اور ہمیں اپنی طرف واپس بلا۔ ہمیں سکھا کہ ہم ایماندار رہیں اور اپنی غلطیوں کو تیرے سامنے کھل کر مان لیں۔ آمین۔
نحمیاہ 9 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
نحمیاہ 9 کس بارے میں ہے؟
نحمیاہ 9 کیا کہتا ہے؟
نحمیاہ 9 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
بچے نحمیاہ 9 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
نحمیاہ 9 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
یہ اقرار کرنے والے لاوی اپنی قوم کی شاندار تاریخ نہیں، بلکہ اپنی ناکامیوں کی داستان سنا رہے تھے۔ اور پھر بھی ہر ناکامی کے بعد یہ جملہ آتا ہے: ”جب وہ مصیبت میں تجھ سے فریاد کرنے لگے تو تُو نے آسمان پر سے اُن کی سنی۔“ غور کریں، مصیبت خود اُن کی بغاوت کا نتیجہ تھی، مگر خدا نے پھر بھی سنا۔ آپ کی وہ تکلیف جو آپ کے اپنے فیصلوں سے پیدا ہوئی، وہ بھی آسمان تک پہنچتی ہے۔
قوم نے اپنے گناہ کا اقرار کرتے وقت کسی کو باہر نہیں رکھا: "ہمارے بادشاہوں، رئیسوں، اماموں اور باپ دادا نے نہ تیری شریعت پر عمل کیا، نہ تیرے احکام پر توجہ دی۔" وہ بادشاہوں پر الزام لگا کر خود بری نہیں ہوئے، بلکہ اُن کے ساتھ کھڑے ہو کر کہا، ہم سب قصوروار ہیں۔ کیا تُو بھی اپنے گھر، اپنی کلیسیا کی کمزوری کا بوجھ ایسے اُٹھا سکتا ہے، بغیر اُنگلی اُٹھائے؟
نحمیاہ 9 باب میں لاوی بنی اسرائیل کی تاریخ دہرا رہے ہیں۔ بیابان کے چالیس سال۔ بھوک، پیاس، بغاوت۔ اور اسی درمیان یہ آیت: "تُو نے اپنی نیک روح بھی اُنہیں سکھانے کو دی، اور اپنا من اُن کے مُنہ سے باز نہ رکھا، اور اُن کی پیاس کے لئے اُنہیں پانی دیا۔"
غور کرو، من اُس وقت بھی گرتا رہا جب لوگ سونا پگھلا کر بچھڑا بنا رہے تھے۔ خدا نے کھانا بند نہ کیا۔ اُس کی روح سکھاتی رہی، حالانکہ وہ سننا نہیں چاہتے تھے۔
آج تیری زندگی میں بھی شاید ایسا ہی ہے۔ تُو ناشکرا ہے، پھر بھی سانس چل رہی ہے۔ روٹی مل رہی ہے۔ یہ اتفاق نہیں، یہ اُس کا نہ رُکنے والا رحم ہے۔
کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور نوجوانوں (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں