7 سے 12 سال کے بچے کے لیے

امثال 13

پرائمری عمر (7 تا 12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی

بائبل

The Explanation

باب ۱۳ حکمت کی کتاب کا ایک اور حصہ ہے جس میں سلیمان بادشاہ چھوٹے چھوٹے فقروں میں زندگی کی سچائیاں بیان کرتے ہیں۔ یہ باب مقابلوں سے بھرا ہوا ہے۔ دانش مند بیٹا اپنے باپ کی تربیت قبول کرتا ہے، مگر طعنہ زن کو کوئی ڈانٹے تو وہ پروا ہی نہیں کرتا۔ جو اپنی زبان قابو میں رکھتا ہے وہ محفوظ رہتا ہے، جو بےلگام بولتا ہے وہ تباہ ہو جاتا ہے۔ کاہل آدمی کچھ چاہتا ہے مگر کچھ نہیں پاتا، جبکہ محنتی کی خواہش پوری ہوتی ہے۔ کچھ لوگ امیر ہونے کا دکھاوا کرتے ہیں حالانکہ غریب ہیں، اور کچھ غریب دکھائی دیتے ہیں حالانکہ اصل میں امیر ہیں۔ یہ باب یہ بھی کہتا ہے کہ جو امید وقت پر پوری نہ ہو وہ دل کو بیمار کر دیتی ہے، مگر جو آرزو پوری ہو جائے وہ زندگی کے درخت جیسی ہے۔ اور آخر میں یہ سکھایا جاتا ہے کہ جو باپ اپنے بیٹے سے محبت کرتا ہے وہ وقت پر اُس کی تربیت کرتا ہے، کیونکہ تربیت نہ کرنا دراصل نفرت کی علامت ہے۔

What Does This Mean?

یہ باب ہمیں بتاتا ہے کہ حکمت کوئی الگ چیز نہیں جو صرف کتابوں میں ملتی ہے۔ حکمت روزمرہ زندگی میں نظر آتی ہے، اس بات میں کہ ہم کیسے سنتے ہیں، کیسے بولتے ہیں، اور کیسے صبر کرتے ہیں۔ ایک دانش مند بیٹا وہ نہیں جو سب کچھ جانتا ہے، بلکہ وہ جو سننے کے لئے تیار رہتا ہے، خاص طور پر جب کوئی اُسے درست بات بتائے یا اُسے ٹوکے۔ اِس باب میں بار بار ایک بات دہرائی جاتی ہے، کہ تربیت اور نصیحت قبول کرنا کمزوری نہیں بلکہ سمجھداری کی نشانی ہے۔ اور جو آرزو پوری نہیں ہوتی، اُس کا دل بیمار ہو جاتا ہے، یہ جملہ بہت ایماندار ہے۔ یہ کتاب یہ نہیں کہتی کہ ہر انتظار آسان ہے۔ کبھی انتظار سچ میں تکلیف دیتا ہے، اور یہ باب اُس درد کو چھپاتا نہیں۔

The Common Thread

آیت بارہ کہتی ہے کہ پوری ہونے والی آرزو زندگی کا درخت ہے۔ یہ تصویر ہمیں اُس درخت کی یاد دلاتی ہے جو شروع میں باغِ عدن میں تھا، وہ درخت جو ہمیشہ کی زندگی دیتا تھا۔ انسان نے اُس درخت سے دور ہو کر گناہ کی راہ اپنائی، مگر خدا نے اپنا وعدہ نہیں توڑا۔ اُس نے وقت کے پورے ہونے پر اپنے بیٹے خداوند یسوع مسیح کو بھیجا، تاکہ جو کوئی اُن پر ایمان لائے وہ دوبارہ اُس زندگی کے درخت تک پہنچ سکے۔ اور جس طرح ایک اچھا باپ اپنے بیٹے کی تربیت کرتا ہے کیونکہ وہ اُس سے محبت رکھتا ہے، اُسی طرح ہمارا آسمانی باپ بھی ہمیں سکھاتا اور راہ دکھاتا ہے، نہ اِس لئے کہ وہ ہم سے ناراض ہے بلکہ اِس لئے کہ وہ ہمیں پیار کرتا ہے۔ کبھی کبھی ہماری دعائیں فوراً پوری نہیں ہوتیں، اور یہ سوال ہر ایماندار کے دل میں آتا ہے کہ خدا انتظار کیوں کراتے ہیں۔ اِس کتاب کے پاس اِس کا کوئی آسان جواب نہیں، مگر یہ ضرور بتاتی ہے کہ خدا کی راہ پر چلنے والا آخر میں خالی ہاتھ نہیں رہتا۔

For You

اگلی بار جب کوئی، تمہارے امی ابو یا استاد، تمہیں کچھ سکھانا چاہیں یا تمہاری غلطی پر بات کریں، سوچو کہ یہ کیا واقعی نفرت کی نشانی ہے یا محبت کی؟ یہ باب کہتا ہے کہ تربیت قبول کرنا مشکل ضرور ہے مگر یہی حکمت کی پہلی سیڑھی ہے۔ اپنی زبان پر بھی غور کرو۔ کیا تمہارے الفاظ دوسروں کو سیر کرتے ہیں یا نقصان پہنچاتے ہیں؟ اور اگر کوئی خواہش پوری ہونے میں دیر لگے، مثلاً کسی دوستی کا ٹھیک ہونا یا کسی چیز کا حاصل ہونا، تو اپنے دل کے درد کو خدا کے سامنے کھل کر رکھ سکتے ہو۔ وہ سمجھتا ہے۔

Talk About It

کیا تمہیں کبھی لگا ہے کہ کسی کی نصیحت دراصل تمہارے لئے محبت کی نشانی تھی، حالانکہ سننے میں کڑوی لگی؟

آیت بارہ کہتی ہے کہ انتظار دل کو بیمار کر دیتا ہے۔ کیا تم کسی ایسی چیز کا انتظار کر رہے ہو جس کے بارے میں تم خدا سے بات کرنا چاہو؟

Praying Together

اے خداوند، ہمیں ایسا دل دے جو نصیحت سننے کے لئے تیار رہے۔ ہماری زبان کو تھام لے تاکہ ہم ایسے الفاظ بولیں جو دوسروں کو سیر کریں نہ کہ زخمی کریں۔ جب ہمارا انتظار لمبا ہو جائے تو ہمیں یاد دلا کہ تُو ہمارا بھلا چاہتا ہے۔ آمین۔

یہ بائبل کہانی شیئر کریں

دوسرے والدین یا اساتذہ کے لیے جنہیں یہ مددگار لگ سکتا ہے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

امثال 13 کے بارے میں سوالات

ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔

امثال 13 کس بارے میں ہے؟
باب ۱۳ حکمت کی کتاب کا ایک اور حصہ ہے جس میں سلیمان بادشاہ چھوٹے چھوٹے فقروں میں زندگی کی سچائیاں بیان کرتے ہیں۔ یہ باب مقابلوں سے بھرا ہوا ہے۔ دانش مند بیٹا اپنے باپ کی تربیت قبول کرتا ہے، مگر طعنہ زن کو کوئی ڈانٹے تو وہ پروا ہی نہیں کرتا۔ جو اپنی زبان قابو میں رکھتا ہے وہ محفوظ رہتا ہے، جو بےلگام بولتا ہے وہ تباہ ہو جاتا ہے۔ کاہل آدمی کچھ چاہتا ہے مگر کچھ نہیں پاتا، جبکہ محنتی کی خواہش پوری ہوتی ہے۔ کچھ لوگ امیر ہونے کا دکھاوا کرتے ہیں حالانکہ غریب ہیں، اور کچھ غریب دکھائی دیتے ہیں حالانکہ اصل میں امیر ہیں۔ یہ باب یہ بھی کہتا ہے کہ جو امید وقت پر پوری نہ ہو وہ دل کو بیمار کر دیتی ہے، مگر جو آرزو پوری ہو جائے وہ زندگی کے درخت جیسی ہے۔ اور آخر میں یہ سکھایا جاتا ہے کہ جو باپ اپنے بیٹے سے محبت کرتا ہے وہ وقت پر اُس کی تربیت کرتا ہے، کیونکہ تربیت نہ کرنا دراصل نفرت کی علامت ہے۔
امثال 13 کیا کہتا ہے؟
یہ باب ہمیں بتاتا ہے کہ حکمت کوئی الگ چیز نہیں جو صرف کتابوں میں ملتی ہے۔ حکمت روزمرہ زندگی میں نظر آتی ہے، اس بات میں کہ ہم کیسے سنتے ہیں، کیسے بولتے ہیں، اور کیسے صبر کرتے ہیں۔ ایک دانش مند بیٹا وہ نہیں جو سب کچھ جانتا ہے، بلکہ وہ جو سننے کے لئے تیار رہتا ہے، خاص طور پر جب کوئی اُسے درست بات بتائے یا اُسے ٹوکے۔ اِس باب میں بار بار ایک بات دہرائی جاتی ہے، کہ تربیت اور نصیحت قبول کرنا کمزوری نہیں بلکہ سمجھداری کی نشانی ہے۔ اور جو آرزو پوری نہیں ہوتی، اُس کا دل بیمار ہو جاتا ہے، یہ جملہ بہت ایماندار ہے۔ یہ کتاب یہ نہیں کہتی کہ ہر انتظار آسان ہے۔ کبھی انتظار سچ میں تکلیف دیتا ہے، اور یہ باب اُس درد کو چھپاتا نہیں۔
امثال 13 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
آیت بارہ کہتی ہے کہ پوری ہونے والی آرزو زندگی کا درخت ہے۔ یہ تصویر ہمیں اُس درخت کی یاد دلاتی ہے جو شروع میں باغِ عدن میں تھا، وہ درخت جو ہمیشہ کی زندگی دیتا تھا۔ انسان نے اُس درخت سے دور ہو کر گناہ کی راہ اپنائی، مگر خدا نے اپنا وعدہ نہیں توڑا۔ اُس نے وقت کے پورے ہونے پر اپنے بیٹے خداوند یسوع مسیح کو بھیجا، تاکہ جو کوئی اُن پر ایمان لائے وہ دوبارہ اُس زندگی کے درخت تک پہنچ سکے۔ اور جس طرح ایک اچھا باپ اپنے بیٹے کی تربیت کرتا ہے کیونکہ وہ اُس سے محبت رکھتا ہے، اُسی طرح ہمارا آسمانی باپ بھی ہمیں سکھاتا اور راہ دکھاتا ہے، نہ اِس لئے کہ وہ ہم سے ناراض ہے بلکہ اِس لئے کہ وہ ہمیں پیار کرتا ہے۔ کبھی کبھی ہماری دعائیں فوراً پوری نہیں ہوتیں، اور یہ سوال ہر ایماندار کے دل میں آتا ہے کہ خدا انتظار کیوں کراتے ہیں۔ اِس کتاب کے پاس اِس کا کوئی آسان جواب نہیں، مگر یہ ضرور بتاتی ہے کہ خدا کی راہ پر چلنے والا آخر میں خالی ہاتھ نہیں رہتا۔
بچے امثال 13 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
اگلی بار جب کوئی، تمہارے امی ابو یا استاد، تمہیں کچھ سکھانا چاہیں یا تمہاری غلطی پر بات کریں، سوچو کہ یہ کیا واقعی نفرت کی نشانی ہے یا محبت کی؟ یہ باب کہتا ہے کہ تربیت قبول کرنا مشکل ضرور ہے مگر یہی حکمت کی پہلی سیڑھی ہے۔ اپنی زبان پر بھی غور کرو۔ کیا تمہارے الفاظ دوسروں کو سیر کرتے ہیں یا نقصان پہنچاتے ہیں؟ اور اگر کوئی خواہش پوری ہونے میں دیر لگے، مثلاً کسی دوستی کا ٹھیک ہونا یا کسی چیز کا حاصل ہونا، تو اپنے دل کے درد کو خدا کے سامنے کھل کر رکھ سکتے ہو۔ وہ سمجھتا ہے۔
امثال 13 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
کیا تمہیں کبھی لگا ہے کہ کسی کی نصیحت دراصل تمہارے لئے محبت کی نشانی تھی، حالانکہ سننے میں کڑوی لگی؟

کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟

ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور نوجوانوں (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔

بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں

For parents and teachers: 7 سے 12 سال کے ان بچوں کے لیے تحریر کردہ جو خود پڑھ سکتے ہیں۔ خاندانی عبادت اور اسکول میں بائبل کے اسباق کے لیے بہترین۔ This explanation is generated automatically by language models. While we strive for theological soundness, the software can make mistakes.

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network