6 تا 12 سال کے بچے کے لیے

زبور 130

ابتدائی عمر (6-12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی

بائبل

The Explanation

زبور 130 ایک "زیارت کا گیت" ہے۔ یعنی یہ گیت وہ لوگ گاتے تھے جو یروشلم کی طرف سفر کر رہے ہوتے تھے، خدا کی عبادت گاہ کی طرف جاتے ہوئے۔ لیکن یہ گیت شروع ہی بہت گہری جگہ سے ہوتا ہے۔ لکھنے والا کہتا ہے: "اے رب، مَیں تجھے گہرائیوں سے پکارتا ہوں۔" گہرائیاں کیسی جگہ ہیں؟ سوچو کہ تم کسی گہرے کنویں میں گر گئے ہو، اندھیرا ہے، اوپر سے روشنی بہت دور نظر آتی ہے۔ ایسی ہی کیفیت اس آدمی کی ہے۔ وہ کسی مشکل میں ہے، شاید اپنے گناہ کی وجہ سے پریشان ہے۔

پھر وہ ایک بہت سچا سوال پوچھتا ہے: "اگر تُو ہمارے گناہوں کا حساب کرے تو کون قائم رہے گا؟" یعنی اگر خدا ہمارے سب غلط کام، سب جھوٹ، سب بری باتیں گن کر ہم سے پوچھے، تو کوئی بھی صحیح نہیں نکلے گا۔ کوئی بھی نہیں۔ یہ بات سن کر دل تھوڑا بھاری ہو جاتا ہے، نہ؟ لیکن فوراً اگلی آیت میں امید کی روشنی آ جاتی ہے: "لیکن تجھ سے معافی حاصل ہوتی ہے۔" خدا کے پاس معافی ہے۔

اس کے بعد لکھنے والا بتاتا ہے کہ وہ کیا کرتا ہے۔ وہ انتظار کرتا ہے، رب کا انتظار، اسی طرح جیسے پہرے دار رات بھر جاگ کر صبح کا انتظار کرتا ہے۔ آخر میں وہ پورے اسرائیل سے کہتا ہے کہ وہ بھی رب کی راہ دیکھتا رہے، کیونکہ رب کے پاس شفقت اور فدیہ کا پکا بندوبست ہے۔ وہ اپنی قوم کے گناہوں کا فدیہ دے کر انہیں نجات دے گا۔

What Does This Mean?

یہ زبور ہمیں دکھاتا ہے کہ ایمان رکھنے والا آدمی بھی اندر سے پریشان ہو سکتا ہے۔ یہ کوئی ایسا بندہ نہیں جو ہر وقت خوش اور مطمئن نظر آتا ہے۔ وہ گہرائیوں میں ہے، وہ اپنے گناہ کے بارے میں سوچ کر ڈرتا ہے۔ اور یہ بات اہم ہے کہ خدا کا کلام اس ڈر کو چھپاتا نہیں، بلکہ سیدھا بیان کرتا ہے۔

لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ خوف اور معافی ساتھ ساتھ کھڑے ہیں۔ آیت 4 کہتی ہے کہ معافی اس لیے ملتی ہے "تاکہ تیرا خوف مانا جائے"۔ یہ عجیب سی بات لگتی ہے، نہ؟ ہم سوچتے ہیں کہ اگر خدا معاف کر دے تو ہم اس سے کم ڈریں گے۔ مگر زبور کہتا ہے کہ معافی ہمیں خدا کی عزت اور تعظیم کرنے کی طرف لے جاتی ہے، نہ کہ دور۔ جب کوئی ہمیں معاف کرتا ہے باوجود اس کے کہ ہم غلط تھے، تو ہمارا دل اس شخص کی طرف اور زیادہ جھکتا ہے۔

The Common Thread

یہ زبور ہمیں سیدھا یسوع مسیح کی طرف لے جاتا ہے۔ زبور نویس کو فدیے کی ضرورت تھی، یعنی کسی ایسی چیز کی جو اس کی جگہ قیمت ادا کرے تاکہ وہ گناہ سے آزاد ہو سکے۔ اس وقت یہ صرف ایک امید تھی، ایک انتظار۔ لیکن خداوند یسوع نے صلیب پر اپنی جان دے کر وہ فدیہ خود ادا کر دیا۔ وہی ہے جو ہمیں گہرائیوں سے نکالتا ہے۔ جب ہم یسوع کے پاس آتے ہیں، تو وہی سوال جو زبور نویس نے پوچھا تھا، "کون قائم رہے گا؟"، اس کا جواب بدل جاتا ہے۔ ہم خود تو قائم نہیں رہ سکتے، مگر یسوع کی وجہ سے ہم خدا کے سامنے کھڑے ہو سکتے ہیں۔

For You

کبھی تمہیں بھی ایسا لگتا ہے کہ تم کسی گہرے کنویں میں ہو، شاید کسی غلطی کی وجہ سے، یا کسی ایسی بات کی وجہ سے جو تم نے چھپائی ہوئی ہے؟ یہ زبور تمہیں سکھاتا ہے کہ ایسے وقت میں چھپنے کی ضرورت نہیں۔ تم خدا کو پکار سکتے ہو، جیسے یہ آدمی پکارتا ہے۔ اور پھر، پہرے دار کی طرح، انتظار کرنا سیکھو۔ کبھی جواب فوراً نہیں آتا۔ لیکن خدا کا کلام، یعنی بائبل، وہی ہے جس سے تم امید رکھ سکتے ہو، جیسے آیت 5 کہتی ہے۔

Talk About It

کیا تم نے کبھی محسوس کیا ہے کہ تم کسی "گہرائی" میں ہو؟ اس وقت تم نے کیا کیا؟

آیت 4 کہتی ہے کہ معافی ہمیں خدا سے ڈرنا، یعنی اس کی عزت کرنا سکھاتی ہے۔ تمہارے خیال میں ایسا کیوں ہے؟

Praying Together

اے خداوند، کبھی ہم بھی گہرائیوں میں ہوتے ہیں، جب ہم سے کوئی غلطی ہو جاتی ہے یا ہم ڈرے ہوئے ہوتے ہیں۔ تب ہمیں یاد دلانا کہ تیرے پاس معافی ہے۔ ہمیں انتظار کرنا سکھا، اور ہمارا دل یسوع کی طرف موڑ، جس نے ہمارے لیے فدیہ ادا کیا۔ آمین۔

یہ بائبل کہانی شیئر کریں

دوسرے والدین یا اساتذہ کے لیے جنہیں یہ مددگار لگ سکتا ہے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

زبور 130 کے بارے میں سوالات

ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔

زبور 130 کس بارے میں ہے؟
زبور 130 ایک "زیارت کا گیت" ہے۔ یعنی یہ گیت وہ لوگ گاتے تھے جو یروشلم کی طرف سفر کر رہے ہوتے تھے، خدا کی عبادت گاہ کی طرف جاتے ہوئے۔ لیکن یہ گیت شروع ہی بہت گہری جگہ سے ہوتا ہے۔ لکھنے والا کہتا ہے: "اے رب، مَیں تجھے گہرائیوں سے پکارتا ہوں۔" گہرائیاں کیسی جگہ ہیں؟ سوچو کہ تم کسی گہرے کنویں میں گر گئے ہو، اندھیرا ہے، اوپر سے روشنی بہت دور نظر آتی ہے۔ ایسی ہی کیفیت اس آدمی کی ہے۔ وہ کسی مشکل میں ہے، شاید اپنے گناہ کی وجہ سے پریشان ہے۔
زبور 130 کیا کہتا ہے؟
اس کے بعد لکھنے والا بتاتا ہے کہ وہ کیا کرتا ہے۔ وہ انتظار کرتا ہے، رب کا انتظار، اسی طرح جیسے پہرے دار رات بھر جاگ کر صبح کا انتظار کرتا ہے۔ آخر میں وہ پورے اسرائیل سے کہتا ہے کہ وہ بھی رب کی راہ دیکھتا رہے، کیونکہ رب کے پاس شفقت اور فدیہ کا پکا بندوبست ہے۔ وہ اپنی قوم کے گناہوں کا فدیہ دے کر انہیں نجات دے گا۔
زبور 130 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ خوف اور معافی ساتھ ساتھ کھڑے ہیں۔ آیت 4 کہتی ہے کہ معافی اس لیے ملتی ہے "تاکہ تیرا خوف مانا جائے"۔ یہ عجیب سی بات لگتی ہے، نہ؟ ہم سوچتے ہیں کہ اگر خدا معاف کر دے تو ہم اس سے کم ڈریں گے۔ مگر زبور کہتا ہے کہ معافی ہمیں خدا کی عزت اور تعظیم کرنے کی طرف لے جاتی ہے، نہ کہ دور۔ جب کوئی ہمیں معاف کرتا ہے باوجود اس کے کہ ہم غلط تھے، تو ہمارا دل اس شخص کی طرف اور زیادہ جھکتا ہے۔
بچے زبور 130 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
کبھی تمہیں بھی ایسا لگتا ہے کہ تم کسی گہرے کنویں میں ہو، شاید کسی غلطی کی وجہ سے، یا کسی ایسی بات کی وجہ سے جو تم نے چھپائی ہوئی ہے؟ یہ زبور تمہیں سکھاتا ہے کہ ایسے وقت میں چھپنے کی ضرورت نہیں۔ تم خدا کو پکار سکتے ہو، جیسے یہ آدمی پکارتا ہے۔ اور پھر، پہرے دار کی طرح، انتظار کرنا سیکھو۔ کبھی جواب فوراً نہیں آتا۔ لیکن خدا کا کلام، یعنی بائبل، وہی ہے جس سے تم امید رکھ سکتے ہو، جیسے آیت 5 کہتی ہے۔
زبور 130 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
آیت 4 کہتی ہے کہ معافی ہمیں خدا سے ڈرنا، یعنی اس کی عزت کرنا سکھاتی ہے۔ تمہارے خیال میں ایسا کیوں ہے؟

دوسروں نے کیا پایا

بصیرت ادارتی کو آیت 1

اے رب، مَیں گہرائیوں میں سے تجھے پکارتا ہوں۔" غور کر، وہ گہرائی سے نکلنے کا انتظار نہیں کرتا۔ وہیں سے، پانی کے نیچے سے، وہ آواز دیتا ہے۔ تُو بھی سوچتا ہے کہ پہلے سنبھل جاؤں، پھر دعا کروں گا؟ نہیں۔ خدا تیری ٹوٹی ہوئی آواز کو بھی اُتنی ہی صاف سنتا ہے جتنی گیت کی۔

کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟

ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3-5 سال) اور نوجوانوں (13 سال اور اس سے اوپر) کے لیے الگ نسخے بھی ہیں۔

بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں