زبور 53
ابتدائی عمر (6-12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
The Explanation
یہ زبور داؤد نے لکھا ہے، اور یہ ایک عجیب سی بات سے شروع ہوتا ہے۔ داؤد کہتے ہیں کہ ”احمق دل میں کہتا ہے، اللہ ہے ہی نہیں۔“ یہاں احمق کا مطلب یہ نہیں کہ وہ شخص پڑھا لکھا نہیں یا اسکول میں کمزور ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ شخص اپنے دل میں یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ خدا کو نظر انداز کر دے، جیسے خدا واقعی موجود ہی نہ ہو۔ اور جب کوئی ایسا سوچتا ہے، تو اس کی زندگی بھی اسی طرح بگڑ جاتی ہے۔ داؤد کہتے ہیں کہ ایسے لوگوں کی حرکتیں بری ہیں۔
پھر داؤد ایک تصویر بناتے ہیں: خدا آسمان سے زمین پر نظر ڈالتے ہیں، بالکل جیسے کوئی اونچی جگہ سے نیچے دیکھے کہ آیا کوئی سمجھ دار انسان ملتا ہے جو خدا کو ڈھونڈتا ہو۔ مگر جواب افسوس ناک ہے: کوئی نہیں۔ سب صحیح راہ سے بھٹک گئے ہیں۔ یہ بہت سخت بات ہے، مگر داؤد اسے چھپاتے نہیں۔
آیت چار میں داؤد ایک خاص گروہ کی بات کرتے ہیں، جو بدی کر کے اُن کی قوم کو ”روٹی کی طرح کھا لیتے ہیں“۔ یہ تصویر ہے ایسے ظالم لوگوں کی جو دوسروں کو نقصان پہنچا کر جیسے کھانا کھا رہے ہوں، اتنی آسانی سے اور بغیر کسی افسوس کے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ خدا کو پکارتے ہی نہیں۔
مگر پھر کہانی موڑ لیتی ہے۔ آیت پانچ میں بتایا گیا ہے کہ اچانک ان بدکاروں پر ڈر اور دہشت آ جاتی ہے، ایسی جگہ جہاں پہلے کوئی خطرہ نہیں تھا۔ خدا نے انہیں رد کر دیا اور رسوا کر دیا۔ زبور آخر میں امید کے ساتھ ختم ہوتا ہے: داؤد دعا کرتے ہیں کہ صیون کے پہاڑ سے، یعنی یروشلم سے، اسرائیل کے لیے نجات آئے، اور جب خدا اپنی قوم کو بحال کریں گے تو سب خوشی سے نعرے لگائیں گے۔
What Does This Mean?
یہ زبور ہمیں ایک بہت گہری بات بتاتا ہے: جب کوئی خدا کو اپنی زندگی سے نکال دیتا ہے، تو صرف اس کی سوچ نہیں بدلتی، اس کے کام بھی بدل جاتے ہیں۔ خدا کو نظر انداز کرنا کوئی معمولی بات نہیں، یہ جڑ ہے جہاں سے بہت سی بری چیزیں نکلتی ہیں۔
مگر داؤد صرف یہ نہیں کہتے کہ باہر کے لوگ برے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں ”سب صحیح راہ سے بھٹک گئے“، یعنی اس میں وہ خود بھی شامل ہیں، اور ہم بھی۔ یہ سوچنا آسان ہے کہ بدی صرف دوسروں میں ہے، مگر یہ زبور اس آسان سوچ کو توڑ دیتا ہے۔
The Common Thread
یہ زبور خدا کو ایسا دکھاتا ہے جو آسمان سے زمین کو دیکھتا ہے اور سمجھ دار انسان کو ڈھونڈتا ہے۔ یہ ڈھونڈنا خدا کی محبت کی نشانی ہے، وہ ہمیں چھوڑ نہیں دیتے۔ نئے عہد نامے میں ہم پڑھتے ہیں کہ خدا نے اپنے بیٹے یسوع مسیح کو بھیجا، کیونکہ انسان خود اپنی طاقت سے سیدھی راہ پر نہیں چل سکتا تھا۔ یسوع مسیح وہی ہیں جو گمشدہ لوگوں کو ڈھونڈنے آئے۔
زبور کے آخر میں داؤد صیون سے نجات کی امید کرتے ہیں۔ یہ امید یسوع مسیح میں پوری ہوئی، کیونکہ وہی صحیح معنوں میں نجات لے کر آئے، ایسی نجات جو دلوں کو بدلتی ہے اور خدا کے ساتھ صلح کراتی ہے۔
For You
کبھی کبھی ہم بھی ایسا سوچ سکتے ہیں کہ خدا دور ہے، یا خدا کو بھول کر اپنی مرضی سے فیصلے کر لیتے ہیں۔ یہ زبور ہمیں پوچھنے کی دعوت دیتا ہے: کیا میں آج خدا کو اپنی زندگی سے باہر رکھ رہا ہوں؟ یہ سوال آسان نہیں، اور اس کا جواب فوراً نہیں ملتا، مگر ایمانداری سے پوچھنا ہی پہلا قدم ہے۔
اچھی بات یہ ہے کہ خدا امید کے بغیر نہیں چھوڑتے۔ وہ ڈھونڈتے ہیں، بلاتے ہیں، اور بحال کرنا چاہتے ہیں۔ اس زبور کا آخری لفظ خوشی کا نعرہ ہے، مایوسی نہیں۔
Talk About It
کیا تم نے کبھی محسوس کیا ہے کہ کوئی کام کرنا آسان لگتا ہے جب خدا کو یاد نہ رکھا جائے؟ اس وقت کیا ہوا؟
داؤد کہتے ہیں کہ سب لوگ صحیح راہ سے بھٹک گئے۔ کیا تمہیں لگتا ہے یہ بات تمہارے بارے میں بھی سچ ہے، اور اس کے بارے میں کیا سوچتے ہو؟
Praying Together
اے خدا، آپ آسمان سے ہمیں دیکھتے ہیں اور ہمیں ڈھونڈتے ہیں۔ ہمیں معاف کر دیں جب ہم آپ کو بھول جاتے ہیں۔ ہمارے دلوں کو سیدھی راہ پر رکھیں اور ہمیں وہ خوشی دیں جو آپ کی نجات سے آتی ہے۔ یسوع مسیح کے نام میں، آمین۔
زبور 53 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
زبور 53 کس بارے میں ہے؟
زبور 53 کیا کہتا ہے؟
زبور 53 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
بچے زبور 53 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
زبور 53 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
پورا زبور انسان کی خرابی گنواتا ہے، کوئی نیکی کرنے والا نہیں۔ اور پھر اچانک ایک آہ نکلتی ہے: "کاش اسرائیل کی نجات صیون سے نکل کر آئے!" داؤد حل اپنے اندر نہیں ڈھونڈتا، وہ اوپر دیکھتا ہے۔ جب تُو اپنی کمزوری کو سچ مان لیتا ہے، تب ہی یہ دعا دل سے نکلتی ہے۔ اور خدا بحال کرتا ہے، تو خوشی لوٹ آتی ہے۔
کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3-5 سال) اور نوجوانوں (13 سال اور اس سے اوپر) کے لیے الگ نسخے بھی ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں