مکاشفہ 18
ابتدائی عمر (6-12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
The Explanation
یہ باب ایک زبردست آواز سے شروع ہوتا ہے۔ ایک فرشتہ آسمان سے اُترتا ہے، اُس کے پاس بہت اختیار ہے اور اُس کے جلال سے زمین روشن ہو جاتی ہے۔ وہ پکار کر اعلان کرتا ہے کہ ایک شہر گر گیا ہے، جسے یہاں "بابل" کہا گیا ہے۔ یہ شہر صرف ایک جگہ نہیں بلکہ ایک تصویر ہے، اُس دنیا کی تصویر جو خدا کے بغیر دولت، شان اور طاقت پر کھڑی رہنا چاہتی ہے۔ بابل نے بادشاہوں اور سوداگروں کو اپنی عیاشی اور دولت میں شریک کر لیا تھا۔ پھر آسمان سے ایک اور آواز آتی ہے جو خدا کے لوگوں کو کہتی ہے کہ اُس میں سے نکل آؤ، تاکہ اُس کے گناہوں میں شریک نہ ہو جاؤ۔
بابل نے اپنے دل میں سوچا تھا، "میں رانی ہوں، میں کبھی بیوہ نہیں ہوں گی، کبھی ماتم نہیں کروں گی۔" یعنی اُس نے سوچا کہ اُسے کسی کی ضرورت نہیں، نہ خدا کی۔ لیکن ایک ہی گھنٹے میں سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ بادشاہ، سوداگر اور ملاح، جنہوں نے اُس کی دولت سے فائدہ اُٹھایا تھا، دُور کھڑے ہو کر روتے ہیں۔ اُس کا سونا، ریشم، خوشبودار لکڑی، حتیٰ کہ غلام بیچے جانے والے انسان بھی، سب کچھ ایک پل میں بیکار ہو جاتا ہے۔ آخر میں ایک طاقت ور فرشتہ ایک بڑا پتھر سمندر میں پھینک دیتا ہے اور کہتا ہے کہ بابل اِسی طرح پٹک دیا جائے گا اور دوبارہ کبھی نہیں پایا جائے گا۔ وہاں نہ موسیقی ہوگی، نہ چراغ کی روشنی، نہ دُولھا دُلھن کی خوشی۔ خاموشی ہی خاموشی۔
What Does This Mean؟
یہ باب ہمیں دکھاتا ہے کہ جو کچھ انسان اپنی طاقت اور دولت پر بنا کر فخر کرتا ہے، وہ ہمیشہ نہیں رہتا۔ بابل کا گناہ یہ نہیں تھا کہ اُس کے پاس سونا یا خوبصورت کپڑے تھے، بلکہ یہ تھا کہ اُس نے اِن چیزوں کو اپنا بھروسا بنا لیا تھا اور خدا کے لوگوں کا خون بہایا تھا۔ خدا دیکھتا ہے جب ناانصافی ہوتی ہے، جب لوگ دولت کے لئے دوسروں کو کچل دیتے ہیں۔ یہ باب یہ بھی کہتا ہے کہ خدا کی عدالت یعنی اُس کا انصافی فیصلہ، آخرکار آتا ہے، چاہے وقت لگے۔
The Common Thread
خدا نے ہمیشہ اپنے لوگوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اُنہیں بچائے گا اور اُن کے ساتھ انصاف کرے گا۔ یہی وعدہ یہاں بھی نظر آتا ہے: "اے میری قوم، اُس میں سے نکل آ۔" خدا اپنے لوگوں کو بُلاتا ہے، چھوڑتا نہیں۔ خداوند یسوع مسیح نے صلیب پر اپنی جان دے کر یہ راستہ کھولا کہ ہم دنیا کے جھوٹے بھروسوں سے آزاد ہو کر اُن کے پیچھے چلیں۔ یہ باب مشکل بھی ہے، کیونکہ یہ اِنصاف کی بات پورے زور سے کرتا ہے، اور ہمیں یہاں کچھ سوالات کے جواب خود تلاش کرنے پڑتے ہیں، مثلاً یہ انصاف کب اور کیسے پورا ہوگا، یہ ہمیں پورا پورا نہیں بتایا گیا۔
For You
تم میں سے ہر کوئی کسی نہ کسی چیز پر بھروسا کرتا ہے، چاہے وہ پیسہ ہو، تعریف ہو، یا اپنی کامیابی۔ بابل کی غلطی یہ تھی کہ اُس نے سوچا اُسے کسی کی ضرورت نہیں۔ کیا تم کبھی سوچتے ہو کہ تمہیں خدا کی ضرورت نہیں، کیونکہ سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے؟ یہ باب ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جو چیزیں نظر آتی ہیں، ایک دن ختم ہو سکتی ہیں، لیکن خدا کا پیار اور اُس کا انصاف ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ اِس لئے اپنی زندگی کو اُس پر بنانا بہتر ہے جو کبھی نہیں گرتا۔
Talk About It
کیا تم کوئی ایسی چیز جانتے ہو جس پر لوگ آج بھی بہت زیادہ بھروسا کرتے ہیں، جیسے بابل نے اپنی دولت پر کیا تھا؟
خدا کے لوگوں کو بابل سے "نکل آنے" کو کہا گیا۔ تمہارے خیال میں، آج کے دور میں اِس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟
Praying Together
اے خداوند، تُو دیکھتا ہے جب دنیا میں ناانصافی ہوتی ہے۔ ہمیں سکھا کہ ہم اپنا بھروسا پیسے یا شان پر نہ رکھیں بلکہ تجھ پر رکھیں۔ ہمیں اپنے پاس بُلا لے اور ہمیں اپنے راستے پر چلنے کی ہمت دے۔ آمین۔
مکاشفہ 18 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
مکاشفہ 18 کس بارے میں ہے؟
مکاشفہ 18 کیا کہتا ہے؟
مکاشفہ 18 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
بچے مکاشفہ 18 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
مکاشفہ 18 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
بابل کے گناہ اینٹ پر اینٹ کی طرح جمع ہوتے رہے، یہاں تک کہ ایک مینار بن گیا: "کیونکہ اُس کے گناہ آسمان تک پہنچ گئے ہیں اور اللہ کو اُس کی بدکاریاں یاد آ گئی ہیں۔" وہ شہر سمجھتا تھا کہ خاموشی کا مطلب ہے کہ کوئی دیکھ نہیں رہا۔ تیری زندگی میں کوئی ایسی چھوٹی سی اینٹ ہے جو تُو روز رکھتا ہے، یہ سوچ کر کہ کسی کو پتا نہیں؟ آج ہی اُسے مسیح کے سامنے رکھ دے، جہاں گناہ یاد نہیں رکھے جاتے بلکہ معاف کیے جاتے ہیں۔
اے میری قوم، اُس میں سے نکل آ" یہ حکم اُن لوگوں کو دیا گیا جو بابل کے اندر رہ رہے تھے، اُس کے بازاروں، اُس کی رونق اور آسائش کے عادی ہو چکے تھے۔ خدا اُنہیں دشمن نہیں کہتا، اپنی قوم کہتا ہے۔ سوچ، وہ کون سی جگہ ہے جس سے تُو نکلنا نہیں چاہتا کیونکہ وہاں آرام ملتا ہے؟ محبت کی آواز آج بھی بلا رہی ہے، اِس سے پہلے کہ تُو اُس کے انجام میں شریک ہو جائے۔
بابل کا زوال اِس لیے تکلیف دہ تھا کہ لوگوں کو اُس سے فائدہ ہو رہا تھا۔ ”زمین کے سوداگر اُس کی بےلگام عیاشی سے دولت مند ہو گئے ہیں۔“ گناہ ہمیشہ نقصان جیسا محسوس نہیں ہوتا، کبھی کبھی وہ منافع جیسا لگتا ہے۔ اِسی لیے چھوڑنا مشکل ہوتا ہے۔ آج اپنے دل سے پوچھ: کون سی چیز میں تجھے فائدہ نظر آ رہا ہے جس کی قیمت خدا سے دوری ہے؟
بابل گر گیا، اور سوداگر رو رہے ہیں۔ لیکن غور کریں کہ وہ کس لیے رو رہے ہیں: "دنیا کے سوداگر بھی اُس پر روئیں گے اور ماتم کریں گے، کیونکہ اب کوئی اُن کا مال نہیں خریدے گا۔" اُن کا غم شہر کے لیے نہیں، اپنے نفع کے لیے ہے۔ ایک لمحہ ٹھہر کر پوچھیں: میرے آنسو کس بات پر بہتے ہیں؟ کھوئے ہوئے انسان پر، یا کھوئے ہوئے فائدے پر؟
کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3-5 سال) اور نوجوانوں (13 سال اور اس سے اوپر) کے لیے الگ نسخے بھی ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں