غزلُ الغزلات 6
پرائمری عمر (7 تا 12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
تشریح
غزل الغزلات کے اس چھٹے باب میں محبوبہ کی سہیلیاں پوچھتی ہیں کہ اُس کا محبوب کہاں گیا ہے۔ وہ جواب دیتی ہے کہ وہ اپنے باغ میں گیا ہے، سوسن کے پھولوں کے پاس، اور کہتی ہے، "مَیں اپنے محبوب کی ہی ہوں، اور وہ میرا ہی ہے۔" پھر محبوب خود بولنے لگتا ہے۔ وہ اپنی محبوبہ کی تعریف کرتا ہے، اُس کی آنکھوں، بالوں، دانتوں اور گالوں کا ذکر کرتا ہے، بالکل اُسی طرح جیسے اُس نے پچھلے باب میں بھی کیا تھا۔ وہ کہتا ہے کہ باقی سب عورتوں میں بھی وہ لاثانی ہے، یعنی اُس جیسا کوئی نہیں۔ باب کے آخر میں محبوب باغ میں جاتا ہے تاکہ دیکھے کہ انگور کی کونپلیں اور انار کے پھول نکلے ہیں یا نہیں۔ اچانک وہ اپنی محبوبہ کے پاس پہنچ جاتا ہے، اور لوگ اُسے بلاتے ہیں، "اے شولمیت، لوٹ آ، لوٹ آ!" وہ حیران ہے کہ لوگ اُسے دیکھنا کیوں چاہتے ہیں۔
اس کا کیا مطلب ہے؟
یہ باب محبت کی ایک تصویر ہے جو تلاش، پہچان اور تعلق سے بھری ہے۔ محبوبہ کو معلوم ہے کہ اُس کا محبوب کہاں گیا، کیونکہ وہ اُسے جانتی ہے۔ یہ جملہ، "مَیں اپنے محبوب کی ہی ہوں، اور وہ میرا ہی ہے،" ایک عہد کی زبان ہے۔ عہد کا مطلب ہے ایک مضبوط وعدہ جو دونوں طرف سے قائم رہتا ہے۔ یہ صرف جوش و جذبات کی بات نہیں، بلکہ ایک ایسا تعلق ہے جس پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔
محبوب کی تعریف بھی غور طلب ہے۔ وہ کہتا ہے کہ بادشاہ کی بہت سی بیویاں اور داشتائیں ہیں، لیکن اُس کی محبوبہ اُن سب سے الگ اور لاثانی ہے۔ اِس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سچی محبت کسی کو خاص اور بےمثل سمجھتی ہے، نہ کہ ایک فہرست میں سے ایک۔
مشترکہ دھاگہ
بائبل میں محبت اور عہد کا موضوع بار بار آتا ہے۔ خدا نے اپنی قوم اسرائیل سے ایک عہد باندھا تھا، اور وہ اُنہیں اپنی دلہن کی طرح پیار کرتا رہا، چاہے وہ کبھی بےوفا بھی ہوئے۔ نئے عہد نامے میں خداوند یسوع مسیح کو کلیسیا کا دولہا کہا گیا ہے۔ اِس باب میں محبوبہ کا یہ کہنا، "مَیں اپنے محبوب کی ہی ہوں، اور وہ میرا ہی ہے،" ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خدا کا اپنے لوگوں سے تعلق بھی ایسا ہی مستحکم ہے۔ خدا اپنے لوگوں کو تلاش کرتا ہے، انہیں پہچانتا ہے، اور انہیں اپنا کہتا ہے۔ یہ متن براہِ راست یسوع مسیح کا ذکر نہیں کرتا، لیکن یہ سوال چھوڑ جاتا ہے کہ کیا انسانی محبت کی یہ گہرائی ہمیں اُس عظیم محبت کی جانب اشارہ نہیں کرتی جو خدا کی طرف سے آتی ہے؟ اِس کا کوئی سیدھا جواب نہیں دیا گیا، اور یہ سوچنے کے لیے کھلا چھوڑ دیا گیا ہے۔
آپ کے لیے
تم شاید سوچو کہ محبت کی یہ باتیں تمہارے لیے نہیں، کیونکہ ابھی تم چھوٹے ہو۔ لیکن اِس باب سے ایک بات ضرور سیکھی جا سکتی ہے: سچا تعلق وہ ہے جس میں دونوں طرف سے وفاداری ہو، محض جذبات نہیں۔ دوستی میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ کیا تم اپنے دوستوں کو ایسا محسوس کراتے ہو کہ وہ خاص ہیں، یا تم اُنہیں دوسروں سے موازنہ کرتے رہتے ہو؟ یہ سوچنا اچھا ہے کہ خدا بھی ہر ایک کو ایسے ہی دیکھتا ہے، جیسے کوئی دوسرا نہ ہو۔
بات چیت کے لیے
کیا تم کبھی کسی کو یہ احساس دلا سکے ہو کہ وہ تمہارے لیے خاص ہے، بغیر کسی سے موازنہ کیے؟
محبوبہ کہتی ہے، "مَیں اپنے محبوب کی ہی ہوں، اور وہ میرا ہی ہے۔" تمہارے خیال میں خدا کے ساتھ ہمارا تعلق کن باتوں میں ایسا ہو سکتا ہے؟
ساتھ دعا کریں
اے خدا، تُو ہمیں جانتا ہے اور ہمیں خاص سمجھتا ہے۔ ہمیں سکھا کہ ہم بھی اپنے دوستوں اور گھر والوں سے سچی محبت کریں، ایسی محبت جو موازنہ نہیں کرتی۔ ہمیں یقین دلا کہ تُو ہمیں کبھی نہیں بھولے گا۔ آمین۔
غزلُ الغزلات 6 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
غزلُ الغزلات 6 کس بارے میں ہے؟
غزلُ الغزلات 6 کیا کہتا ہے؟
غزلُ الغزلات 6 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
بچے غزلُ الغزلات 6 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
غزلُ الغزلات 6 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
دولھا وہی تعریف دہراتا ہے جو وہ پہلے کر چکا تھا: "تیرے دانت ابھی ابھی نہلائی ہوئی بھیڑوں جیسے ہیں۔" درمیان میں دوری آئی، تلاش ہوئی، مگر اُس کی نظر بدلی نہیں۔ اور غور کر، وہ گنتی کرتا ہے کہ ایک بھی کمی نہیں۔ کیا تُو یقین کر سکتا ہے کہ خدا تجھے یوں دیکھتا ہے؟ ادھورا نہیں، بلکہ پورا اور محبوب۔
مَیں اپنے محبوب کی ہوں اور میرا محبوب میرا ہی ہے۔“ باغ کے دنوں میں اُس نے کہا تھا، میرا محبوب میرا ہے اور مَیں اُس کی ہوں۔ لیکن جدائی اور ڈھونڈنے کے بعد ترتیب بدل گئی۔ اب پہلا خیال یہ نہیں کہ وہ میرا ہے، بلکہ یہ کہ مَیں اُس کی ہوں۔ کیا آپ نے دیکھا؟ دُکھ ہمیں سکھاتا ہے کہ حق جتانے سے پہلے سونپ دینا سیکھیں۔
کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور نوجوانوں (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں