غزلُ الغزلات 7
پرائمری عمر (7 تا 12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
وضاحت
یہ باب ایک محبت کے گیت کا حصہ ہے۔ دُلہا اپنی دُلہن کی تعریف کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ کتنی خوبصورت ہے۔ وہ اُس کی چال، اُس کے بال، اُس کی آنکھوں اور اُس کے پورے وجود کی تصویر کشی ایسی زبان میں کرتا ہے جو ہمارے لئے تھوڑی اجنبی لگتی ہے۔ مثلاً وہ کہتا ہے کہ اُس کی آنکھیں حسبون شہر کے تالاب جیسی ہیں اور اُس کی ناک مینارِ لبنان کی مانند ہے۔ ہمیں یہ الفاظ عجیب لگ سکتے ہیں، لیکن اُس زمانے میں یہ سب سے بڑی تعریفیں تھیں۔ وہ اُسے کھجور کے درخت، ہاتھی دانت کے مینار اور انگور کے باغ سے تشبیہ دیتا ہے۔ پرانے زمانے میں لوگ محبت کا اظہار ایسی ہی تصویروں سے کرتے تھے جو اُن کی زندگی سے جانی پہچانی تھیں، کھیت، پھل، پہاڑ اور مینار۔ باب کے آخر میں دُلہن جواب دیتی ہے۔ وہ کہتی ہے، "میں اپنے محبوب کی ہی ہوں، اور وہ مجھے چاہتا ہے" (آیت 10)۔ پھر وہ اپنے محبوب کو دعوت دیتی ہے کہ وہ دونوں دیہات میں جائیں، باغوں کو دیکھیں اور وہاں اپنی محبت کا اظہار کریں۔ وہ کہتی ہے کہ اُس نے ہر اچھی چیز اپنے محبوب کے لئے محفوظ رکھی ہے۔
اس کا کیا مطلب ہے؟
یہ گیت ہمیں بتاتا ہے کہ محبت خدا کی طرف سے ایک تحفہ ہے۔ شادی میں ایک مرد اور عورت کا آپس میں محبت کرنا، ایک دوسرے کو خوبصورت سمجھنا اور خوشی منانا کوئی گناہ نہیں بلکہ خدا کا اچھا انتظام ہے۔ بائبل میں یہ باب کسی نصیحت یا حکم کی صورت میں نہیں لکھا گیا بلکہ ایک نظم کی طرح، جیسے کوئی دل کھول کر گیت گا رہا ہو۔ یہ ایمانداری سے تسلیم کرتا ہے کہ محبت میں جسمانی کشش بھی شامل ہوتی ہے، اور بائبل اس سے شرماتی نہیں۔ اس میں کھلا پن ہے مگر بےحیائی نہیں۔ دُلہا اور دُلہن دونوں ایک دوسرے کے لئے وقف ہیں۔ آیت 10 اس پورے باب کی کلید ہے، "میں اپنے محبوب کی ہی ہوں"۔ یہ صرف جذبات کی بات نہیں بلکہ وعدے کی بات ہے، ایک عہد کی بات، یعنی ایک پکا رشتہ جس میں دو لوگ ایک دوسرے سے وفادار رہنے کا وعدہ کرتے ہیں۔
مشترکہ ربط
پوری بائبل میں خدا اپنے لوگوں سے محبت کی زبان میں بات کرتے ہیں۔ خدا اپنے آپ کو اسرائیل کا دُلہا کہتے ہیں اور اسرائیل کو اپنی دُلہن۔ نئے عہدنامے میں خداوند یسوع مسیح کو کلیسیا کا دُلہا کہا گیا ہے۔ یہ گیت کا باب اگرچہ سیدھا سیدھا ایک انسانی جوڑے کی محبت کے بارے میں ہے، لیکن یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خدا کی محبت بھی ایسی ہی گہری، ذاتی اور وفادار ہے۔ جس طرح دُلہن کہتی ہے "میں اپنے محبوب کی ہی ہوں"، خدا چاہتے ہیں کہ ہم بھی یہی کہہ سکیں، کہ ہم اُن کے ہیں اور وہ ہمیں چاہتے ہیں۔ یہ سوال چھوڑ دیتا ہے کہ اگر خدا کی محبت اتنی وفادار ہے تو ہم اکثر اُس سے دور کیوں بھاگتے ہیں؟ اس کا جواب آسان نہیں۔ یہ ایک ایسا راز ہے جسے پوری طرح سمجھنا مشکل ہے، مگر یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ محبت کبھی سرسری نہیں ہوتی، بلکہ ٹھہرے رہنے اور وفادار رہنے کی چیز ہے۔
آپ کے لئے
شاید یہ باب پڑھتے وقت آپ کو تھوڑی شرمندگی محسوس ہو، یا سوال پیدا ہو کہ یہ بائبل میں کیوں ہے۔ یہ ٹھیک ہے، ایسا سوچنا غلط نہیں۔ خدا نے محبت اور شادی کو ایک خوبصورت چیز کے طور پر بنایا ہے، ایسی چیز جسے صحیح وقت اور صحیح رشتے میں منانا چاہیے۔ آپ کی عمر میں سب سے اہم بات یہ سیکھنا ہے کہ اپنے جسم اور دل کی عزت کیسے کی جائے، اور یہ سمجھنا کہ محبت جلد بازی کی چیز نہیں بلکہ صبر اور وفاداری کی چیز ہے۔ دوستوں سے، خاندان سے بھی محبت کی بات کریں تو عزت اور سچائی سے کریں، نہ کہ مذاق میں۔ جب آپ بڑے ہوں گے، تو یہ باب آپ کو یاد دلائے گا کہ خدا کی نظر میں محبت گندی نہیں بلکہ مقدس ہے۔
بات چیت کریں
کیا آپ کو لگتا ہے کہ محبت کی باتیں بائبل میں ہونا عجیب ہے، یا یہ سمجھ آتا ہے کہ خدا نے یہ باب بھی اپنے کلام میں رکھا؟
دُلہن کہتی ہے "میں اپنے محبوب کی ہی ہوں"۔ آپ کے خیال میں خدا سے یہی بات کہنے کا کیا مطلب ہوگا؟
ملکر دعا کریں
اے خدا، آپ نے محبت کو بنایا اور یہ بہت خوبصورت چیز ہے۔ ہمیں سکھائیں کہ محبت کی عزت کیسے کریں اور صبر سے چلیں۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنے دیں کہ ہم آپ کے ہیں اور آپ ہم سے محبت رکھتے ہیں۔ یسوع مسیح کے نام میں، آمین۔
غزلُ الغزلات 7 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
غزلُ الغزلات 7 کس بارے میں ہے؟
غزلُ الغزلات 7 کیا کہتا ہے؟
غزلُ الغزلات 7 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
بچے غزلُ الغزلات 7 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
غزلُ الغزلات 7 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
مرد کی تعریف ابھی ختم بھی نہیں ہوئی کہ محبوبہ اُس کا جملہ اپنے ہاتھ میں لے لیتی ہے: "جو سیدھی میرے محبوب کے گلے میں اُترے۔" وہ خاموشی سے تعریف سنتی نہیں رہتی، جواب دیتی ہے۔ سچی محبت یک طرفہ گفتگو نہیں۔ سوچ، تیری زندگی میں کون تجھ سے محبت کے بول کہتا ہے اور تُو صرف سن کر خاموش رہ جاتا ہے؟ خدا بھی تیرے جواب کا منتظر ہے۔
غور کریں کہ پہلے وہ کہتی ہے، ”میرا محبوب میرا ہی ہے اور مَیں اُس کی ہوں۔“ لیکن یہاں وہ اپنے حق کا ذکر ہی نہیں کرتی، صرف اتنا: مَیں اُس کی ہوں، اور وہ مجھے چاہتا ہے۔ یہی پختہ محبت ہے، جب دل کو پکڑے رکھنے کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ اُسے یقین ہو گیا ہے کہ اُسے چاہا جا رہا ہے۔ کیا تُو خدا کے سامنے اِتنے سکون سے کھڑا ہو سکتا ہے؟
محبت کی تعریف یہاں چہرے سے نہیں، پاؤں سے شروع ہوتی ہے: ”اے شریف زادی، تیرے پاؤں جوتوں میں کتنے خوبصورت ہیں۔“ جو حصہ سب سے زیادہ مٹی میں چلتا ہے، وہی سب سے پہلے سراہا جاتا ہے۔ سوچ، تیری زندگی کا وہ تھکا ہوا، خاک آلود حصہ جسے تُو خود چھپاتی ہے، شاید وہی ہے جس پر تیرے محبوب کی نظر سب سے پہلے ٹھہرتی ہے۔
کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور نوجوانوں (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں